ہوئے مر کے ہم جو رسوا

السلام علیکم ورحمتہ اللہ وبرکاتہ
تمام فیس بکیوں کو ہماری طرف سے صبح بخیر ۔
فیس بکی بہنو اور ان کے بھائیو، آج ہم آپ کو اپنا ایک واقعہ سناتے ہیں، حالانکہ شاعر نے تو کہا تھا کہ جو ہم پہ گزرتی ہے ستاروں سے پوچھیے۔
مگر ہم آپ کو خود ہی بتا دیتے ہیں ، پتہ نہیں آپ کی سمجھ میں ستاروں کی بات آئے یا نہ آئے۔ چلیں تو سنیں۔
ہم اپنے چھ فٹے بیڈ پہ دراز خواب خرگوش کے مزے لے رہے تھے کہ اچانک ہی سانس میں رکاوٹ سی ہوئی اور گلے سے خرخر کی آواز آنے لگی۔ سارے جسم کی جان کھنچ کے جیسے پھیپھڑوں میں سما گئی۔ سخت تکلیف کا عالم تھا۔ سب سوئے بلکہ مرے پڑے تھے کوئی اٹھ کے بھی نہ آیا اور ہم اکیلے ہی بستر پہ ہاتھ پاؤں پٹختے رہ گئے۔ پھر اچانک کیا ہوا کہ سکون سا آگیا۔ یوں لگا جیسے ہم آزاد ہو گئے۔ جی جی ہم نے خود کو بلندی پہ ہوا میں تیرتے دیکھا۔مگر عجیب بات یہ ہوئی کہ کہ ہم بستر پہ بھی پڑے ہیں اور ہوا میں تیر رہے ہیں۔
پھر کیا دیکھا کہ ہمارے میاں جی ہم کو آواز دے رہے ہیں۔ ارے بھئی اٹھو نماز کا وقت نکل رہا ہے۔ ہم نے کہا کہ ہم تو اوپر ہیں مگر یہ کیا وہ تو ہماری آواز سن ہی نہیں رہے اور بدستور ہمیں ہلا جلا کے اٹھانے کی کوشش میں لگے ہیں۔ اب تو ہمیں بڑی تشویش ہوئی کہ الٰہی یہ ماجرا کیا ہے۔ یہ اوپر کیوں نہیں دیکھ رہے۔ اگر دیکھتے تو ہم فوراً اشارہ کر دیتے کہ ہم تو ادھر ہیں۔ خیر جی ہم اوپر سے دیکھ رہے تھے کہ میاں جی نے بھوں بھوں کرکے رونا شروع کردیا۔ افففففف کتنے برے لگ رہے تھے وہ روتے ہوئے۔ حالانکہ ہماری بڑی خواہش تھی کہ کبھی ہم ان کو رلائیں۔ مگر آج جب دیکھا تو ہماری تو ہنسی ہی نکل گئی۔ حیرت کہ وہ ہنسی کی آواز بھی نہیں سن سکے۔ اب تو ہمیں پکا یقین ہوگیا کہ وہ ان کی قوتِ سماعت مکمل طور پہ چلی گئی ہے ، مگر یہ کیا۔ اب وہ اور بچوں کو پکارنے لگے۔ بچے بھی دوڑے چلے آئے اور ہمارے میاں جی تو بچوں کی سب باتیں سن رہے تھے تو یہ آخر ہماری ہی کیوں نہیں سن رہے۔ حیرت در حیرت ، خیر انھوں نے پہلے ہماری کب سنی تھی جو اب سنتے ۔ تو جناب ہم نے اوپر تیراکی کے مزے لیتے ہوئے دیکھا سب رو رہے تھے۔ ہماری بیٹی ہم سے لپٹ گئی اور بیٹا بھی اور رو رو کے کہنے لگے مما ہمیں چھوڑ کے چلی گئیں۔ اف ہم نے کہا فری میری جان اوپر تو دیکھو ہم تو ادھر ہیں مگر کوئی بھی نہیں سن رہا تھا۔ ہم نے اسامہ کو بلانا چاہا ، اسامہ ہمارا اکلوتا لاڈلا بیٹا جس کی آنکھوں میں آنسو دیکھنا دنیا کا سب سے مشکل کام ہے، وہ رو رہا تھا۔ ہم نے نیچے اترنا چاہا مگر ناکام رہے۔ ہمارے بچے تڑپ تڑپ کے رونے لگے۔ میاں جی الگ بھوں بھوں کر رہے تھے (خیر ان کو تو رونے دو، اچھا ہے۔ کہتے ہیں رونے سے آنکھوں کی صفائی ہوجاتی ہے)۔
اب ہماری سمجھ میں کچھ کچھ آگیا کہ ہم مر گئے ہیں اور یہ اوپر ہم نہیں ہماری روح ہے اور جسم بستر پہ پڑا ہے۔ اچھا تو یہ بات ہے۔ اب سمجھ میں آئی۔۔۔۔
پھر کیا ہوا
باقی اگلی قسط میں پڑھیے

  • merkit.pk
  • merkit.pk

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

Leave a Reply