پانامہ کیس میں وکلاء کی ‘دُرگت’

پانامہ کیس کا ہنگامہ جاری ہے۔ ایک عدالت ہر روز سپریم کورٹ کے کورٹ روم میں لگتی ہے اور ایک عدالت سپریم کورٹ کی عمارت کے باہر لگتی ہے۔ کورٹ روم میں لگنے والی عدالت کیا فیصلہ دے گی، اس کے بارے میں ابھی کچھ نہیں کہا جا سکتا البتہ سپریم کورٹ کے باہر لگنے والی عدالت میں ہر روز مخالفین ایک دوسرے کے خلاف فیصلہ سنا دیتے ہیں۔ مقدمے میں بنیادی طور پر تین وکیل ہیں جو اپنے اپنے مؤکل کی طرف سے پیش ہوتے ہیں جن میں ایک تحریکِ انصاف کے وکیل، دوسرے جماعتِ اسلامی کے وکیل اور تیسرے شریف خاندان کے وکیل ہیں۔ انصاف کی بات یہ ہے کہ تینوں ہی فاضل وکلاء نے بھرپور کوشش کی ہے کہ مخالف فریق کی بجائے اپنے مؤکل کو عدالت سے بے عزت کرایا جائے، مجھے نہیں معلوم کہ وہ اپنے اپنے مؤکلین کے ساتھ کون کون سے پرانے بدلے اتارنا چاہتے ہیں۔
جس دن سے جماعتِ اسلامی کے وکیل جناب توفیق آصف نے اپنے دلائل دینے شروع کیے ہیں، اُس دن سے سوشل میڈیا پر فاضل جج صاحبان کے توفیق آصف صاحب پر برہم ہونے کے چرچے ہو رہے ہیں حالانکہ اِس سے پہلے عدالت اسی طرح اور کچھ پہلوؤں سے اِس سے بھی زیادہ برہمی کا اظہار تحریکِ انصاف کے وکیل جناب نعیم بخاری اور شریف خاندان کے وکیل جناب مخدوم علی خان پر بھی کر چکی ہے۔ لیکن یہ بات تسلیم کرنے کی ہے کہ تینوں ہی وکلاء کے دلائل میں کوئی وزن نہیں ہے جو عدالت کو ایک قطعی فیصلہ لینے میں مددگار ہو سکیں۔ نعیم بخاری صاحب کی جو دُرگت عدالت میں بنتی رہی اُس کو وہ اپنی مخصوص حسِ مزاح کے کی بدولت ہنسی مذاق میں اڑانے میں کامیاب رہے، جناب مخدوم علی خان کے ساتھ جو کچھ عدالت میں ہوتا رہا اُس کا بدلہ ن لیگ کے “درباری” وزراء سپریم کورٹ کے باہر مخالفین پر غصہ اتار کر لیتے رہے اور اب جو کچھ جناب توفیق آصف کے ساتھ ہو رہا ہے اُس پر تنقید میری نظر سے تو بہت کم گزری ہے لیکن جماعتِ اسلامی کے اپنے کارکنان سوشل میڈیا پر مخالفین کی تنقید کا بھرپور جواب اپنے وکیل کے بھرپور دفاع کی صورت میں دے رہے ہیں جس سے مجھے محسوس ہوا کہ وہ بھی خاصی تنقید کی زد میں ہیں۔ میری اپنی نظر میں بھی جماعتَ اسلامی کے وکیل کی کارکردگی توقع سے کہیں کم رہی ہے اور جس شدت سے جماعت کے کارکنان اپنے مخالفین کی تنقید کا جواب دے رہے ہیں وہ بھی اس بات کا ثبوت ہے کہ توفیق آصف صاحب کے دلائل واقعی کمزور ہیں لہٰذا ان دلائل کے دفاع میں مزید دلائل کی ضرورت پڑ رہی ہے۔ جماعتِ اسلامی کی قیادت اور جماعت کے “جذباتی” کارکنان کو میرا مشورہ ہے کہ یہ ضروری نہیں ہے کہ الیکشن میں امیدوار اور عدالت میں وکیل جماعت کے رکن کو ہی کھڑا کیا جائے۔ اں کو یہ سمجھنا چاہیے کہ غلطیوں کو تسلیم کرنے میں ہی عافیت ہوتی ہے ورنہ غلطی پر ڈٹ جانا آیندہ مزید غلطیوں کا پیش خیمہ ثابت ہوتا ہے۔
پانامہ کا مقدمہ ہی بنیادی طور پر کمزور ہے۔ سپریم کورٹ کوئی تحقیقاتی ادارہ نہیں ہے اور نہ ہی ٹرائل کورٹ اور نہ ہی عدالت کے پاس اور نہ ہی وکلاء کے پاس کوئی ایسے ٹھوس شواہد ہیں کہ جن کی بنیاد پر مقدمہ کسی قطعی فیصلے کی طرف جا سکے۔ اِس کیلیے ضروری تھا کہ ایک اعلیٰ سطح کا بااختیار تحقیقاتی کمیشن قائم کیا جاتا جس کی ذمہ داری ہوتی کہ وہ ثبوتوں تک پہنچنے کیلیے تحقیقاتی اداروں کو استعمال میں لا سکتا اور اچھی شہرت والی بین الاقوامی آڈٹ فرمز کی خدمات بھی حاصل کر سکتا۔ یہ بات بہت سننے کو ملتی ہے کہ کمیشنز کی تاریخ اور تجربہ کبھی بھی اچھا نہیں رہا حالانکہ میری نظر میں ماضی میں بننے والے تقریباً تمام ہی کمیشنز نے ہمیشہ اپنا کام مکمل کر کے رپورٹس جمع کروائی ہیں۔ ان رپورٹس کو منظزِ عام پر لانا اور عملدرآمد کروانا کبھی بھی کمیشنز کی ذمہ داری نہیں ہوتی کہ اُن کو موردِالزام ٹھہرایا جا سکے، یہ ذمہ داری بنیادی طور پر انتظامیہ کی ہے اور انتظامیہ کی ناکامی کو کمیشنز کی ناکامی پر محمول نہیں کیا جانا چاہیے۔ کمیشن کی رپورٹ پر اگر عملدرآمد نہ بھی ہوتا تو بھی کم ازکم وہ سارے ثبوت ضرور سامنے آجاتے جن سے قوم مجرموں کو پہچان سکتی۔ کمیشن کے قیام پر تمام فریقین اور سپریم کورٹ بھی متفق تھی لیکن خان صاحب کی ہٹ دھرمی ہمیشہ کی طرح آڑے آ گئی اور ملکی تاریخ کے اہم ترین مقدمے میں اب کم از کم مجھے کوئی ٹھوس فیصلہ ہوتا نظر نہیں آ رہا اور اِس ساری صورتِحال کا فائدہ شریف خاندان بالخصوص اور پوری کرپٹ اشرافیہ بالعموم اٹھائے گی اور اِس کی ذمہ داری، کوئی تسلیم کرے یا نہ کرے، خان صاحب کی ہٹ دھرم طبیعت پر عائد ہو گی۔

محمد ہارون الرشید ایڈووکیٹ
محمد ہارون الرشید ایڈووکیٹ
میں جو محسوس کرتا ہوں، وہی تحریر کرتا ہوں

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *