اسلام، سیکولرازم اور نئے چیلنجز۔منصور ندیم

مذہب ، سیاست، معیشت، معاشرت , اخلاقی اقدار ، ثقافت ایک انسانی زندگی کے بنیادی پہلو ہیں۔ کسی بھی معاشرے میں انفرادی اور اجتماعی زندگی کا جو بھی مقصد ہے یا ہو گا، وہ کسی نہ کسی بیان کی صورت میں موجود ہوتا ہے۔ یہ بیان انسانی  نظریہ، دیومالا ئی  یا الہامی و تصوراتی مذہب کی صورت میں موجود ہوتا ہے۔

انسان ہونا فطری ہے اور مسلمان یا سیکولر  یا لبرل حتی کہ لا دین  ہونا سب ارادی ہے ، یعنی انسان ہونا اپنی ہستی میں آفاقی اور مشترک ہے جبکہ حیات میں مختلف ہے۔ بلا تفریق رنگ، زبان، نسل اور مذہب، انسان ہونا تقدیری صورتحال میں مشترک ہے جبکہ تاریخی صورتحال میں مختلف ہے یعنی انسان being میں ایک ہے اور becoming میں مختلف ہے۔ مذہبی فرق کے باوجود، تقدیری صورتحال میں انسان کے فطری اشتراکات کو نظر انداز کرنا نادانی اور محرومی کی بات ہے۔ ان فطری اشتراکات میں اخلاقی اعمال اور رویے لازماً شامل رہتے ہیں۔ بطور علمی اصطلاح ”انسان“ کا لفظ ایک خالی ظرف کی طرح ہے۔ انسانوں کے تقدیری اشتراکات کو نظر انداز کیے بغیر، ہر تصورِ حیات اور ہر مذہبی اور لادینی نظریہ رکھنے والے انسان ہونے کی مراد کو اپنے خاص تناظر میں متعین کرتا ہے۔

مذہب کی تعریف یا اجتماعی معاشرتی    نظریات :

دنیا کا ہر مذہب یا ہر تصورِ حیات تاریخ میں اجتماعی سطح پر بہت متعین مظاہر رکھتا ہے جو عموماً چار ہیں۔ اگر کوئی مذہب یا تصور حیات اجتماعی سطح پر یہ چار مظاہر نہیں رکھتا تو وہ تہذیبی اور آفاقی ہونا  کوالیفائی نہیں کرتا:

(۱) سیاسی نظام؛

(۲) معاشی نظام؛

(۳) علم:

(۴) کلچر اور جمالیاتی مظاہر۔

مذہب یا کسی بھی  معاشرتی  ریاستی یا اجتماعی تصور حیات کے یہ تاریخی مظاہر ہی اس کی تہذیب قرار پاتے ہیں۔ورنہ وہ مذہب  ہونے  کے یا کسی معاشرتی و ریاستی   نظریے کے دعویٰ  پر قابل عمل نہیں ہوتا ۔

مذہب:          کسی بھی مذہب کا پیروکار، خواہ مسلم ہو یا مسیحی، یہودی ہو یا ہندو یا کسی روحانی سلسلے پر کاربند ہو، جیسا کہ بدھ مت، جین مت، کسی فکر کا پابند ہو، جیسے کنفیوشس ازم وغیرہ۔ ان سب میں سے وہ  مذہب  پرست قرار دیا جاتا ہے جو اپنے عقیدے یا نظریے کی روایات کا پابند ہو،مذہبی تعلیمات اور ایمانیات سے انحراف گناہ تصور کرتا ہو،حق اور باطل ،اچھے اور بُرے، حلال و حرام کا پابند ہو  ،اس میں نوعیت، شدت اور درجے کا فرق ہو سکتا ہے۔اپنے مذہبی، روحانی، اعتقادی یا نظری رویوں، اعتقادات اور اظہار میں وقت کے ساتھ تبدیلی نہ لاتا ہو۔دنیا کے بارے میں اس کا نقطۂ نظر یہ ہو کہ اسے صرف ایمان یا نظریے سے ہی دیکھا اور برتا جاسکتا ہے۔ اس کا ایک مخصوص انجام ہونا ہے۔ اس میں بھی کمی بیشی اور ردوبدل کی گنجائش نہیں ہے۔

اجتماعی معاشرتی    نظریات :  انسانی زندگی ضرورتوں میں گھری رہتی ہے اور انسان انفرادی اور اجتماعی سطح پر ان ضرورتوں کو پورا کرنے کی کوشش میں مصروف رہتا ہے۔ انسانی ضرورتیں زیادہ تر مادی اور معاشی ہوتی ہیں  ۔ ضرورتوں کی حیثیت عموماً جبری ہوتی ہے، اور ضرورت کا جبر  انسانی  عمل کا محرک بنتا ہے۔ ایک اور سوال ہے جس کا جواب ہر انسان کو مطلوب ہے، اور وہ اس کا جواب دیتا بھی ہے، اور اس کا جواب ہی اس کی زندگی کی انفرادی اور اجتماعی شناخت اور عمل بن جاتا ہے۔ وہ سوال یہ ہے کہ انسانی زندگی کا مقصد کیا ہے؟

ضرورت کا تعلق جسم اور جبر سے ہے، اور اس سے مفر نہیں۔ لیکن مقصد کا سوال اور اس کے جواب کا تعلق جسم کی ضرورت اور جبر سے نہیں ہے، اختیار سے ہے۔ اس سوال کا جواب شعور نے دینا ہے اور ارادے نے اختیار کرنا ہے، اس لیے یہ جبر نہیں ہے۔ ضرورت کا تعلق جبر سے ہے اور نظریے اور اقدار کا تعلق ارادے سے ہے۔ نظریہ اس سوال کا جواب دیتا ہے کہ انفرادی اور اجتماعی زندگی کا کیا مقصد ہے۔  ضرورت ہی مقصد ہے، اور یہ ضرورت دنیا ہے۔ یعنی فرد اور معاشرے کی جسمانی اور طبعی ضرورت ہی انسانی زندگی کا مقصد ہے۔ جدید نظریات اور سیاسی عمل اسی ضرورت کا پھیلاؤ ہے۔ جب ضرورت ہی مقصد ہو تو وہ تفصیل حاصل کر لیتی ہے۔

ایسی صورت میں ضرورت کا پورا ہونا غیراہم ہوتا ہے، اور ضرورت کو نظریہ بنانا، ضرورت کو علم بنانا، ضرورت کو قدر بنانا، ضرورت کو کلچر بنانا اور ضرورت کو سیاسی اور معاشی عمل بنانا اہم ہوتا ہے۔ ضرورت کا پھیلاؤ جتنا بھی ہو، اس کی سطح مادی ہی رہتی ہے، اور ساری دنیا کھپ کر بھی اس ضرورت کو  پورا  نہیں   کر سکتی۔ آج کی دنیا میں ضرورت ہی مقصد ہے اور ہر انفرادی اور اجتماعی عمل اسی کے گرد گھومتا ہے۔اس طرح مذہب ، سیاست، معیشت، معاشرت پر نئے افکارونظریات نے تبدیلیوں کے راستے کھولے۔ یہ تبدیلیاں تعمیر و تخریب کی دوہری صفات کی حامل تھیں۔ فرد کی سطح پر تعلیم، تربیت، شخصیت اور کردار متاثر ہوئے تو رویوں میں بھی کشمکش ، نئے پن اور پرانے پن میں فاصلوں، مخالفت، حتیٰ   کہ ہمہ گیر تبدیلیوں کو جس انقلاب نے جنم دیا، صورت دی یا وہ ان تبدیلیوں کا جواز ٹھہرا، وہ ’لبرل ازم‘  اورسیکولرزم کا ابھرنا ہے۔

’لبرل ازم‘ نے بادشاہت اور پاپائیت کی جنگ سے جنم لیا تھا۔ اس طرح جنگ ، کشمکش، تصادم اور تبدیلی اس کی پیدائشی صفات تھیں۔ سب کچھ تبدیل کرنے والا ’لبرل ازم‘ اپنی ان صفات سے کبھی بھی پیچھا نہیں چھڑا سکا۔ آج بھی لبرل حکومتوں کا ریکارڈ انھی صفات سے بھرا پڑا ہے۔’لبرل ازم‘ نے ان صفات میں سے تبدیلی کی صفت سے انسانیت اور معاشرے کو ہمہ گیر طور پر متاثر کیا ہے۔ یہ اعتراف کرنا ناانصافی ہوگی کہ ’لبرل ازم‘ نے یورپ کو تاریک دور سے نکالا اور اس کے دور خوش حالی اور روشن خیالی کا ایک نیا باب تحریر کیا۔

سیکولرازم  کی موجودہ بالمجموع   کیفیت  دنیا  کے تناظر میں:

سیکولرازم بنیادی طور پر ایک سیاسی فکر ہے، اور اس کا عمومی دائرہ معاشرے اور تاریخ میں سیاسی طاقت کی تشکیل، یعنی ریاست اور معاشی نظام کے قیام سے براہ راست متعلق ہے۔ یہ دائرہ ریاست، فرمانروائی، قانون، حقوق انسانی، معاشی ترقی، اظہار آزادی وغیرہ تک پھیلا ہوا ہے اور اس کا جھنڈا ترقی ہے۔ ضمناً اس میں سارے کے سارے سماجی علوم اور ثقافتی دروس  بھی شامل ہیں تاکہ فاتحانہ جنگ آزما سیکولرازم کی زرہ میں کوئی چھید کہیں باقی نہ رہنے پائے۔ اس پہلو سے سیکولرزم ان علوم اور پالیسیوں کا مجموعہ ہے جن کا تعلق انسانی اجتماع سے ہے۔

سیکولرازم جن اجتماعی اقدار پر کھڑا ہے، اور ان کی جو فکری تشکیلات رکھتا ہے، ان میں خلافت، دینی قوانین اور دینی معاشرت وغیرہ کی کوئی گنجائش سرے سے ہی نہیں ہے- ضرورت سیکولر فکر کو دلائل سے رد کرنے کی ہے اور یہ وہ کام ہے جس میں ہماری تیاری ابھی مبتدیانہ درجے میں ہے۔ سیکولر فکر کے پیچھے اس وقت ایک غالب اور عالمگیر تہذیب کھڑی ہے، جو وعظ سننے کے موڈ میں نہیں ہے۔ اس میں عالمگیر سطح پر رد و قبول کی جو شرائط طے ہو چکی ہیں، ہم نے بھی وہیں کھڑے ہو کر بات کرنی ہے۔ ایسا نہیں ہے کہ وہاں ہمیں کوئی بات نہیں کرنے دیتا، اصل بات یہ ہے کہ ہمارے پاس کرنے کی کوئی بات نہیں ہے اور نہ کوئی تیاری ہے۔ یہ سیکولر فکر کا وہ دائرہ ہے جہاں عقیدہ زیر بحث نہیں، بلکہ اجتماعی سیاسی عمل اور اس کی تشکیلات عقلی اور فکری بنیادوں پر زیر بحث لائی جا رہی ہیں۔

مذہب اسلام  کی موجودہ بالمجموع   کیفیت  دنیا  کے تناظر میں:

بطور مذہب اسلام چونکہ  ہمارے ایمان و خیال سے حق کا نمائندہ ہے، اس لیے اسلامی تناظر میں ”انسان“ کی حتمی معنویت، مراد اور مطالبہ uncompromising ہے اور جسے ”عبد“ سے تعبیر کیا جاتا ہے۔ ”عبد“ ہونے سے انسان کے انفرادی، سماجی اور تاریخی مظاہر مختلف ہو جاتے ہیں، اور تقدیری صورت حال کے بارے میں اس کا موقف تبدیل ہو جاتا ہے۔ اور موقف کی اس تبدیلی کے باوجود دیگر انسانوں سے ”عبد“ کے تقدیری اشتراکات پھر بھی باقی رہتے ہیں۔

صورت حال یہ ہے کہ اس وقت عالم گیر سطح پر اسلام کے سیاسی، معاشی اور علمی مظاہر معدوم ہیں اور کلچر اور جمالیاتی مظاہر کمزور اور عالمی تناظر میں غیر اہم ہیں۔ ان چاروں پہلوؤں سے اسلامی ممالک اور معاشرے مغربی تہذیب کے دست نگر ہیں اور انہوں نے اپنے معاشروں کی پوری جدید تشکیل ادھار کے نظام اور مانگے کے علم سے کی ہے۔ ہمارے کلچر اور دینی معاشرت کے نمونے بھی بہت تیزی سے غائب ہو رہے ہیں۔

دوسری طرف آج کی دنیا میں اسلام کے طاقتور اور مؤثر ترین تہذیبی مظاہر تحریک طالبان پاکستان، داعش، بوکوحرام  ، الشباب اور خادم حسین رضوی کی لبیک یا رسول اللہ    وغیرہ ہیں۔ یہ دہشت گرد تنظیمیں یا شدت پسند تنظیمیں  اپنے زعم میں اسلام کی ایک خاص تعبیر کی داعی ہیں اور مسلم دنیا کا بڑا حصہ ان کے موقف کو مسترد کرتا ہے۔ لیکن ہمارا رد اتنا کمزور ہے کہ ہم خود بھی اسے نہیں سن پاتے، کوئی کیا سنے گا، کیونکہ ان تنظیموں کے رد میں ہمارے اندر بھی ایک گہرا دوغلا پن پایا جاتا ہے۔ ہمیں ان کا نعرہ اچھا لگتا ہے، لیکن عمل سے ڈر آتا ہے۔ ان دہشت گرد تنظیموں نے جدید دنیا میں اسلام کی اجتماعی اور عالمی نمائندگی کے جملہ حقوق بالجبر اپنے نام منتقل کر لیے ہیں۔

ان کا موقف یقیناً غلط ہے لیکن اس وقت اسلام اپنے جو بھی تہذیبی مظاہر رکھتا ہے، وہ ان تنظیموں کی صورت میں سامنے آ رہے ہیں۔ اس میں کیا شک ہے کہ یہ تنظیمیں خالص ترین بربریت کی نمائندہ ہیں۔ عموماً ”انسانیت“ کی جو بات کی جاتی ہے اس کے پس منظر میں اشارہ اسی بربریت کی طرف ہوتا ہے، اور جو درست بھی ہے کیونکہ انسان ہونے کا کوئی بھی معروف تصور بھلے وہ مذہبی ہو یا غیر مذہبی، اس بربریت کو نہ درست قرار دے سکتا ہے نہ قبول کر سکتا ہے۔ہمارے علم اور عمل سے انسان غائب ہے۔

ہمارے ہاں جو انسان دینی ہدایت پر کاربند ہے، اس کا بیان بھی غائب ہے، یعنی وہ ایک فرضی مخلوق ہے اور اس کے انسانی، سماجی، تاریخی اور تہذیبی خدوخال ہمارے علم سے خارج ہیں۔ یہی صورت حال اس انسان کی ہے جو اس کا ممکنہ مخاطب ہے، یعنی عصر حاضر میں جو انسان اس ہدایت کا مخاطب ہے، اس کی شناخت بھی ہمیں قطعی نامعلوم ہے۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ ہمارے علم اور عمل کا مدار انسان کا عمل نہیں رہا ہے، اس کا عقیدہ بن گیا ہے، حالانکہ انسان ظاہر پہلے ہے اور باطن بعد میں ہے۔ ہماری آنکھ ارد گرد جس انسان کو دیکھتی ہے، وہ معاشرے اور تاریخ میں نہیں ہے، ہمارے پسماندہ ذہن کی بنائی ہوئی کوئی ادھوری تصویر ہے۔

انسان کے عمل کا انکار کر دینا، انسان، معاشرے اور تاریخ کا بیک وقت انکار ہے۔ انسان کے انکار سے خدا کی معنویت بھی باقی نہیں رہتی۔ اس موقف پر انسان اور تاریخ دونوں فکشن بن جاتے ہیں۔ ہماری یہی وہ حالت انکار ہے جس میں اب ہمیں کوئی راستہ سجھائی نہیں دے رہا۔ اگر ہم انسان ہونے کی کوئی معنویت باقی نہیں رکھ پا رہے تو مسلمان ہونے کی کسی معنویت کا دفاع کرنا بھی ممکن نہیں رہتا۔

سیکولرازم  اور مذہب اسلام کا فکری تقابلی جائزہ:

اسلام اب بھی دنیا اور مسلم معاشروں میں طاقتور اور لاتعداد انفرادی، خانگی اور سماجی مظاہر رکھتا ہے جو زیادہ تر عباداتی اور اخلاقی نوعیت کے ہیں۔ لیکن نہایت افسوس کے ساتھ کہنا پڑتا ہے کہ اسلام کے جو تہذیبی مظاہر عمل اور علم میں سامنے آ رہے ہیں وہ علی العموم نہایت تشویشناک ہیں۔ اب ہمارے مذہبی عمل اور مذہبی علم میں صرف دو بڑے تہذیبی مظاہر باقی رہ گئے ہیں۔ مذہبی عمل میں یہ داعشی طرز کی دہشت گردی ہے جو سوائے بربریت کے اور کچھ نہیں۔ مذہبی علم میں یہ آفاقی تکفیریت ہے جو انسان کشی کے علاوہ کچھ نہیں۔ مسلمانوں کی اکثریت اس سے متفق نہیں، لیکن ہمارے ان شدید، مذہب دشمن اور انسان دشمن تہذیبی مظاہر نے عامۃ المسلمین کے اختلاف کو بھی بے معنی کر دیا ہے۔

ظاہر ہےکہ ہمارے دین کے انفرادی، خانگی، جمالیاتی، تعلیمی اور معاشرتی مظاہر اب بھی بے شمار ہیں لیکن تہذیبی مظاہر کے سامنے ان کی حیثیت فطری طور پر کم ہے اور ان کا دائرہ بھی مختلف ہے۔ اس کا بہت سادہ مطلب یہ ہے اگر ہم خلافت راشدہ کی مذہبی تعلیمات کی کوئی فکری تشکیل نہیں کر پاتے اور اس کے علمی اور فکری دفاع کے اہل نہیں ہیں تو ہم اپنی اخلاقیات کو بھی نہیں بچا سکیں گے۔ یہ عمل ادھورا نہیں رہتا، پورا ہوتا ہے۔ ہم نے بہت تیزی سے زندگی کے سارے سلیقے فراموش کر دیے ہیں۔ دہشت گردی اور تکفیریت کے عالمگیر تہذیبی مظاہر میں ہماری اپنی دینداری اور انسانیت بھی اب داؤ پہ لگی ہوئی ہے۔ آج کے دور میں ہمیں اپنے مسلمان ہونے کی معنویت کو زندہ رکھنے کے ساتھ ساتھ اپنے انسان ہونے کی معنویت کو باقی رکھنے کا چیلنج بھی درپیش ہے۔

تاریخی دائرے میں سیکولر فکر خلافت، الوہی قانون اور دینی معاشرت کے لیے کوئی جگہ نہیں رہنے دیتی، اسی طرح جدید فلسفیانہ فکر اپنے پورے کے پورے قضایا اور نتائج میں عقیدے کے لیے کوئی گنجائش نہیں رہنے دیتی۔ محولہ بالا قضایا پر غور کرنے کے بعد جدید فلسفیانہ فکر جن نتائج تک پہنچتی ہے وہ تمام کے تمام ہماری دینی اور روحانی اقدار کی ضد ہیں۔ الحاد اور اباحیت کا مسئلہ اسی دائرے سے پھوٹتا ہے۔ سیکولرزم کا بامعنی مقابلہ اور اس کا رد کرنے کے لیے ہمیں جدید فلسفیانہ فکر کی مطلوبہ علمی سطح پر تفہیم اور اس کا رد بیش از بیش درکار ہے۔

ہم نے ماضی قریب کی صدیوں میں اپنے دین کی جو ”علمی“ تعبیرات کی ہیں ان کی وجہ سے اسلام اور مغرب کی سیکولر فکر میں ایک طرح کی عینیت پیدا ہو گئی ہے۔ یعنی اقدار میں ہمارا موقف ہے کہ یہ مغربی اقدار سے الگ، ممیز اور متضاد ہیں، اور علمی بات شروع ہو تو ہم یہ پوزیشن لیتے ہیں کہ مغربی تہذیب پیدا ہی اسلامی تعلیمات و افکار سے ہوئی ہے، یعنی ”وہاں اسلام ہے مسلمان نہیں ہیں۔“ استعماری صدیوں میں سامنے آنی والی متجددانہ تعبیرات قلبِ دین میں اترے ہوئے خنجر کی طرح ہیں۔ ان تعبیرات کی وجہ سے ہمارا ذہن دین کی طرف یکسو نہیں رہ سکا اور ایک طرف متجددانہ تعبیرات غالب آ گئیں اور دوسری طرف فرقہ واریت دین کا عمومی تعارف بن گئی۔ دین کی تمام نئی تعبیرات دراصل سیکولر ہیں اور ان کا صرف نقاب مذہبی ہے۔

میرے خیال میں دین کی جدید تعبیرات ایک ایسی خطرناک پوزیشن ہے  جہاں کھڑے ہو کر سیکولرازم سے کوئی جنگ نہیں لڑی جا سکتی اور نہ دین کا دفاع ممکن ہے۔دیکھنا یہ ہے کہ ہم کیا فیصلہ کرتے ہیں۔ اور اگر ہم نے فیصلہ کر لیا ہے اور یہ فیصلہ وہی ہے جس کے تہذیبی مظاہر نے ہمیں چاروں طرف سے گھیر لیا ہے، تو ہمیں اپنے ملی مستقبل کے بارے میں ازسرنو سوچنے کی ضرورت ہے۔یہاں دینداری کے ساتھ ساتھ، محنت اور تیاری کا سوال پھر کھڑا ہو جاتا ہے، جس کے بغیر یہ کام ممکن نہیں۔ اور بغیر تیاری کے یہ کام کرنا رسوائی کا یقینی راستہ ہے جو اس وقت ہمارا روزمرہ کا تجربہ ہے۔

 

 

 

 

 

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *