پانسہ پلٹنے والا ہے؟۔۔اسلم اعوان

تیزی سے بدلتے سیاسی حالات نے نہایت سرعت کے ساتھ موجودہ نظام کے داخلی تضادات عریاں کردیا،جس سے2018 کا بندوبست پراگندہ اور مملکت کا انتظامی ڈھانچہ کم و بیش غیر فعال ہو کے رہ گیا،اپنی کم مائیگی کی بدولت حکمراں جماعت ایسی ہمہ جہت نفسیاتی پسپائی کی طرف مائل ہے،جو اسے سیاسی عمل کے پاتال تک پہنچا سکتی ہے،حیرت انگیز طور پہ ہمیشہ جارحانہ روش ا پنانے والی پی ٹی آئی کی صفوں پہ سکوت مرگ طاری ہے، کورس کی شکل میں چہچہانے والی وہ توانا آوازوں ڈوب رہی ہیں،جو اپوزیشن کو لوٹ کھسوٹ اور بدعنوانی کی تہمت دیکر ہمہ وقت کٹہرے میں کھڑا رکھتی تھیں۔

امر واقعہ بھی یہی ہے کہ عمرانی گورنمنٹ کے مالیاتی ترقی کے تمام دعوے دھرے رہ گئے،سیاسی اصلاحات اور بدعنوانی کے خاتمہ کے بلند آہنگ نعروں کی گونج مدہم اورگرتی ہوئی معیشت کو سنبھالنے کے لئے اقتصادی ٹیموں کی پوری مساعی بیکار ثابت ہوئی۔مئی 2021 میں جب ہمارے نازاں وزیر خزانہ،شوکت ترین،نے یہ دعوی کیا کہ حکومت روزگار کے وسیع مواقع پیدا کرنے کے علاوہ ترقی کے عمل کو تیزتر بنانے کی خاطر تقریباً 6 بلین ڈالر خرچ کرے گی تو اُس وقت امید کی کرن پھوٹتی دکھائی دی تھی،ان کا مقصد جی ڈی پی کی شرح نمو میں 5 فیصد سے زاید اضافہ حاصل کرنا تھا لیکن اکتوبر میں وزیر خزانہ نے واشنگٹن میں سامعین کو بتایا کہ معاشی خطرات کو عملی شکل اختیار کرنے سے روکنے کے لئے ترقی کی رفتارکو”اعتدال“میں رکھنا پڑے گا گویا پاکستان تیزی سے معاشی ترقی کا متحمل نہیں ہو سکتا،یہ کایا کلپ صرف معیشت تک محدود نہیں تھی بلکہ اس میں سیاسی و سماجی اصلاحات کے عمل کو التوا میں رکھنے کی سکیم بھی شامل تھی۔

FaceLore Pakistan Social Media Site
پاکستان کی بہترین سوشل میڈیا سائٹ: فیس لور www.facelore.com

افغانستان کی سرحد سے ملحقہ شمال مغربی علاقوں میں ابھرتی ہوئی مرکزگریز تحریکوں،مرکزی دھارے کی اپوزیشن پارٹیوں کی مہنگائی کے خلاف احتجاجی مہم اور دو صوبوں میں بڑھتی ہوئی دہشت گردی نے صورت حال کو زیادہ پیچیدہ بنا دیا،یہی ہمہ گیر تضادات حکومت کے خلاف ایسا مہیب طوفان اٹھانے کا محرک بنے،جو 2023 کے عام انتخابات میں وزیر اعظم عمران خان کے دوبارہ منتخب ہونے کے امکانات کو معدوم کر سکتا ہے۔اگرچہ زیادہ تر قریب المدت معاشی عدم استحکام عالمی اجناس کی قیمتوں میں اضافے کی وجہ سے پیدا ہوا تاہم یہ تسلیم کرنا پڑے گا کہ گورنمنٹ کی معاشی ٹیم کی کمزوریوں کی بدولت مہنگائی کے طوفان نے ملک کو لپیٹ میں لےکر دیگر ہم پلہ معیشتوں کے مقابلے میں کہیں زیادہ خطرناک صورت اختیار کر لی،جنوری 2020 سے دسمبر2021 تک ملک میں اشیائے خوردونوش کی قیمتوں میں تقریباً 20 فیصد اضافہ دیکھنے کو ملا اس کے برعکس سرحد پار بھارت میں اشیاءضروریہ کی قیمتیں 6 فیصد سے زیادہ نہیں بڑھیں۔

ماہرین کے مطابق اس تفاوت کا زیادہ تر تعلق پاکستان میں زرعی پالیسیوں کے فقدان اور گندم جیسی اہم جنس کی غیر فعال مارکیٹنگ تھی،جہاں حکومت ہر وقت ویلیو چین میں مداخلت کی مرتکب ہوتی رہی۔مہنگائی کی لہروں کو وبائی مرض کے دوران عائد کردہ سماجی پابندیوں اورغیرمحدود تجارتی لاک ڈاون نے زیادہ مہلک بنا دیا،جس میں ملکی معیشت نے 0.4 فیصد کی منفی شرح نمو کو چھو لیا،وباءسے پہلے کی کفایت شعاری کی پالیسی نے بھی کروڑوں شہریوں کی قوت خرید کومتاثر کیا۔اب منی بجٹ کے بوجھ نے تین سال سے زیادہ مدت کی تکالیف کے ستائے شہریوں کو مزید مشکلات سے دوچار کرکے سیاسی و سماجی اضطراب کو بڑھا دیا کیونکہ قیمتوں میں ایڈجسٹمنٹ کا تازہ ترین مرحلہ معیشت کے ذریعے اپنا اثر دیکھانے والاہے،آنے والے ہفتوں میں آئی ایم ایف کے پروگرام کی متوقع بحالی حکومت کے ہاتھوں کو مزید جکڑ لے گی،جس کے نتیجے میں بجلی وگیس کے نرخوں میں اضافہ اور انتہائی غیر مقبول کفایت شعاری جیسے اقدامات کی واپسی اجتماعی حیات کا قافیہ زیادہ تنگ کر دے گی۔

بلند سطح کی مہنگائی اور کم معاشی نمو کے زہریلے امتزاج نے ایک بار پھر اپوزیشن جماعتوں کو حکومت مخالف تحریک برپا کرنے کا موقعہ فراہم کیا،پی ڈی ایم نے پہلے ہی عمرانی حکومت کے خلاف احتجاج کا اعلان کر رکھا ہے،اب پیپلزپارٹی جیسی ان کی خفیہ سہولت کارجماعت بھی رائے عامہ کی توجہ حاصل کرنے کے لئے لانگ مارچ شروع کرنے پہ اتر آئی،ممکن ہے اگلے چند ہفتوں میں ٹی ایل پی جیسی دیگر سکہ بند مذہبی جماعتیں حکومت مخالف احتجاج میں شمولیت اختیار کرکے حکمراں اشرافیہ کی دشواریاں بڑھا دیں۔وزیر اعظم اور اسٹیبلشمنٹ کے درمیان ابھرتی ہوئی دراڑوں جیسی تیز قیاس آرائیاں صورت حال کو مزید پیچیدہ بنانے کا محرک بنیں۔اگرچہ گزشتہ چند دنوں سے جو کچھ ہوا اس کے بارے میں متضاد خبریں سامنے آئیں لیکن وضاحت کی کمی نے یہی تاثر پیدا کیا کہ چیف اور خان صاحب اب اُس ایک پیج کے محاورے پہ پورا نہیں اترتے،جس پر حکومتی وزراءکبھی فخر کیا کرتے تھے۔اس وقت اسلام آباد اور راولپنڈی کے مابین کیا چل رہا ہے اس کے بارے میں اگرچہ ابھی جامع توضیح پیش کرنا ناممکن ہے تاہم ایک حساس ادارے میں کمانڈ کی تبدیلی کو 2018 کے عام انتخابات کے بعد پیدا ہونے والے سیاسی استحکام کے خاتمہ کی علامت سمجھاگیا۔

اس کا مطلب یہ ہے کہ طاقت کی تکون کے مابین بدلتی ہوئی سوچ نہ صرف پی ٹی آئی حکومت کے مستقبل کے لئے بلکہ جاری معاشی ناکامیوں کے عمل پہ بھی دور رس اثرات مرتب کرے گی۔تاہم ان تمام تر پیچیدگیوں کے باوجود وسیع تناظر میں ملک 2007-8 سے شروع ہونے والے جس جمہوری تجربہ سے گزر رہا ہے،اس میں سرنگ کے دوسرے سرے پہ سیاسی استحکام کی جھلک ابھرتی دیکھائی دیتی ہے،اگرچہ تیزی سے آگے بڑھتے ہوئے جمہوری عمل میں کئی گداز عناصر کچلے بھی جائیں گے،جیسے کہنہ مشق پیپلزپارٹی کا مستقبل اورحکمراں جماعت کی جمہوری ساکھ زیادہ متاثر ہو سکتی ہیں لیکن اپوزیشن جماعتوںکی سیاسی پیش قدمی کو قومی سطح کے اتحاد میں اضافہ اور وسیع تر سیاسی شراکت کے طور پر دیکھا جا سکتا ہے،خاصکر جنگ دہشتگردی سے متاثرہ صوبہ خیبرپختون خوا اور بلوچستان،جہاں جے یو آئی نے پامال شدہ قبائلی معاشروں اور نفسیاتی طور پہ ٹوٹے ہوئے نوجوانوں کو جمہوری آزادیوں کے حصول کی امید دیکر قومی دھارے سے مربوط کرکے نفرتوں اور گریز کی دلدل میں گرنے سے بچا لیا۔

ہرچند کہ یہ سب کچھ ایسے وقت میں پیش آیا جب سابق قبائلی علاقوں میں انتظامی بحران اور دہشت گردانہ حملے بڑھ رہے ہیں تاہم پھر بھی یہی صحتمند سرگرمی ہمیں بے یقینی کے قعرمذلت میں گرنے سے بچا سکتی ہے۔تحریک طالبان پاکستان کے کچھ دھڑوں کے ساتھ بات چیت کی شروعات کرنے والے عمران خان کے سیاسی تبصروں نے بھی کئی الجھن پیدا کیں جس کے باعث سکیورٹی فورسز پر ٹی ٹی پی کے حملوں میں اضافہ ہوا۔مغربی میڈیا میں ایسی رپوٹس چھپ رہی ہیں،امریکہ اور پاکستان پھر ایسے معاہدے تک پہنچنے کی کوشش کر رہے ہیں جس کے تحت امریکہ پاکستان کی فضائی حدود کو استعمال کرنے کی اجازت حاصل کرے گا،یہ اور ایسی دیگر پیش رفتیں پی ٹی آئی حکومت کے مستقبل پر نحوست کے سائے ڈالنے ایک ساتھ آ رہی ہیں۔

ابھی چند ہفتے قبل، حکومتی بیانیہ 2022 میں معیشت کو تیزی سے ترقی دینے، عوام میں دوبارہ مقبولیت پیدا کرنے اور آئندہ عام انتخابات جیتنے کے لئے ادارہ جاتی اتفاق رائے کو برقرار رکھنے کی صلاحیت کا پرچار کر رہا تھا،گورنمنٹ کے ترجمان بڑے اعتماد سے یہ بتاتے پھرتے تھے کہ ریاست کے پاس واحد قابل عمل آپشن خان کی پی ٹی آئی ہے اس لئے وزیراعظم 2023 میں بھاری مینڈیٹ کے ساتھ اقتدار میں واپس آئیں گے لیکن اب یہ احمقانہ اعتماد نفس ختم ہوتا دیکھائی دیتا ہے۔اگرچہ اب بھی کچھ حکومتی نمائندے محتاط امید کا اظہار کرنے سے نہیں ہچکچاتے لیکن حقیقت یہ ہے کہ پی ٹی آئی کے لئے آزمائش کی گھڑی قریب آن پہنچی ہے۔کمر توڑ مہنگائی بڑے پیمانے پر عدم اطمینان کو ہوا دے رہی ہے،خاصکر شہروں کے متوسط طبقات،جو پی ٹی آئی کے لئے اہم ووٹر کی حیثیت رکھتے ہیں،میں حکومت کے خلاف غصہ اور مایوسی بڑھتی جا رہی ہے۔ملک کی روایتی سیاسی اشرافیہ،خاص طور پر وہ الیکٹیبلز جنہوں نے ہر دور میں راولپنڈی کی بدلتی ہواؤں کو پڑھ کر اپنے کیرئیر کو ترقی دی،وہی موقع  شناس اب اپنے سیاسی ریڈار کو تیزی کے ساتھ ری ایڈجسٹ کرنے میں مصروف ہیں۔حزب اختلاف کے رہنما بلوچستان میں گارڈز کی تبدیلی سے خوش ہیں،جہاں حکومت کے اتحادی وزیراعلیٰ کو زبردستی نکال کے 2018 کے اتحاد میں دراڑیں ڈال دیں گئیں۔

Advertisements
julia rana solicitors

ہوسکتا ہے، حکومتی ترجمان بالکل درست ہوں کہ یہ کسی بھی چیز کے بارے میں بہت زیادہ بیزاری کی نفسیاتی علامات ہیں اور پی ٹی آئی جلد ان ہنگامہ خیز حالات سے نکلنے کی راہ نکال لے گی،اس لئے کہ متبادل سیاسی انتخاب کوئی زیادہ قابل قبول نہیں ہو گا لیکن جو لوگ پاکستان کی تاریخ سے بخوبی واقف ہیں وہ یہ استدلال کرتے ہیں کہ ہمیشہ عارضی واقعات نے تاریخی طور پر چند مہینوں کے اندر جمود کو ختم کرکے ایسی زبردست تبدیلیوں کی راہ نکالی جنہیں اقتدار کے گلیاروں میں بہت سے لوگوں نے تصورکے طور پر بھی تسلیم کرنے سے انکار کر کر دیا تھا۔یعنی اسٹبلشمنٹ مخالف سمجھی جانے والی نواز لیگ کے دوبارہ صریرآراءاقتدار ہونے کا امکان لیکن حالات اور وقت کے تقاضے اسی انہونی کو ممکن بنانے کی اہتمام کر چکے ہیں۔

  • julia rana solicitors
  • julia rana solicitors london
  • FaceLore Pakistan Social Media Site
    پاکستان کی بہترین سوشل میڈیا سائٹ: فیس لور www.facelore.com
  • merkit.pk

Aslam Awan
اس وقت یبوروچیف دنیا نیوز ہوں قبل ازیں پندرہ سال تک مشرق کا بیوروچیف اور آرٹیکل رائٹر رہاں ہوں،سترہ سال سے تکبیر میں مستقل رپوٹ لکھتا ہوں اور07 اکتوبر 2001 سے بالعموم اور 16مارچ 2003 سے بالخصوص جنگ دہشتگردی کو براہ راست کور کر رہاں ہوں،تہذیب و ثقافت اور تاریخ و فلسفہ دلچسپی کے موضوعات ہیں،

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

Leave a Reply