کشمیریوں کا المیہ۔۔اسلم اعوان

افغانستان میں طالبان کی بالادستی کے بعد نہ صرف پاکستان کے صوبہ بلوچستان سمیت سرحدی پٹی میں شورشوں کی لہریں مدہم ہوئیں اور علیحدگی پسندی کے رجحان میں نمایاںکمی آئی بلکہ اسی ڈیویلپمنٹ کی بدولت مجموعی طور جنوبی ایشیا میں سیاسی استحکام اوراقتصادی خوشحالی کی راہیں بھی کشادہ ہو جائیں گی،تاہم کشمیر میں لائن آف کنٹرول پر تشدد کے بڑھتے ہوئے واقعات کو روکنے اور مستقبل قریب میں تنازع  کشمیر کے حل کی اگر سنجیدہ کوشش نہ ہوئی تو جنوبی ایشیا پائیدار امن اور اقتصادی خوشحالی کی منزل نہیں پا سکے گا،جنگی تنازعات کو دیکھنے والی عالمی تنظیموں نے 2016 میں مشہور کمانڈ برہان وانی کی شہادت کے بعد ہندوستان کے خلاف بھڑک اٹھنے والے پُر تشدد احتجاج کا مہینوں مشاہدہ کرنے کے بعد کشمیر کی اندرونی صورت حال کے مزید بگڑنے کی پیشگوئی کے علاوہ پاک بھارت سرحدات پہ تناؤ  بڑھنے کا اندیشہ ظاہر کرتے ہوئے 2022 میں کشمیر ایشو کو یمن،میانمار،ایتھوپیا،آرمینیا اور آذربائیجان جیسے ان 10خطرناک تنازعات میں شمار کیا جو جنگ کا سبب بن سکتے ہیں۔

ہندوستان جیسی طاقتورکی طرف سے بڑے پیمانہ پہ ریاستی قوت کے استعمال کے باوجود کشمیر میں آزادی کی تحریکوں پہ قابو پایا جا سکا نہ وادی میں وظائف زندگی کو معمول پہ لانے میں کامیاب ملی،خاص کر 5 اگست 2019 میں مودی سرکارکی طرف سے آئین کے آرٹیکل 370 میں ترمیم کے ذریعے جموں و کشمیر کی خود مختار حیثیت کو ختم کرکے اسے مرکز کے تابع دو مختلف انتظامی یونٹس میں منقسم کرنے کے فیصلہ نے مقامی آبادی کوبھڑکانے اہم کردار ادا کیا۔اگرچہ پاکستانی ریاست نے بوجوہ اس پیش دستی پہ کوئی غیرمعمولی ردعمل نہیں دیا لیکن ہمیشہ کی طرح بھارت نے عسکریت پسندی میں اضافہ کو پاکستان کے زیر کنٹرول کشمیر میں مقیم جہادی گروپوں سے منسوب کرنے کی تکرار جاری رکھی،حالانکہ 5 اگست کے بھارتی اقدام سے پیدا ہونے والے مایوسی اور غصہ نے کشمیری نوجوانوں کو جس فیصلہ کن مزاحمت کی راہ دیکھائی اس کی ذمہ دار بھارتی قیادت غاصبانہ سوچ تھی۔

FaceLore Pakistan Social Media Site
پاکستان کی بہترین سوشل میڈیا سائٹ: فیس لور www.facelore.com

پاک بھارت تنازع  کا کربناک پہلو یہ بھی ہے کہ افغانستان میں امریکی جارحیت سے فائدہ اٹھانے کی خاطر بھارت نے عالمی طاقتوں کی تزویری ضرورتوں کی آڑ لیکر پاکستان کی مغربی سرحدی صوبوں میں علیحدگی کی تحریکوں کی آبیاری کے علاوہ مشرقی بارڈر پہ بھی دباؤ  برقرار رکھا،امریکی فورسز کے انخلاءسے کچھ ماہ پہلے جس وقت پاکستانی مقتدرہ انسانی تاریخ کی مہیب ترین جنگ کی بساط لپٹنے کے مشکل ترین مرحلہ سے گزر رہی تھی،عین اسی وقت بھارت نے کشمیر جیسے متنازع  علاقوں کو ضم کرکے خطہ کے دیرینہ جغرافیائی تنازعات کو زیادہ پیچیدہ بنا دیا۔کشمیری فریڈم فائٹرزکی سرگرمیوں میں ممکنہ اضافہ کا ایک اور محرک نیا شہریت ایکٹ اور زمین کی خرید و فروخت کے وہ متنازع  قوانین بنے جو باہر کے لوگوں کو جموں اور کشمیر میں مستقل سکونت کا حق دینے کے علاوہ خارجی عناصر کو یہاں زمین خریدنے کی اجازت دیتے ہیں،اِن قوانین کا مطلب مقامی آبادی میں مسلمانوں کے تناسب کو کم کرنا لیاگیا اور اسی پیش دستی نے نفسیاتی طور پہ کشمیری مسلمانوں کو اپنی بقاءکے مسئلہ سے دوچار کیا۔

5 اگست سے قبل کشمیر میں صرف مقامی ہندو،مسلم اور بدھ باشندوں کو یہ حق حاصل تھا کہ وہ یہاں زمین کی خرید و فروخت کر سکتے تھے لیکن اب اسی جاری مشق کے ذریعے مقامی قانون ساز اسمبلی کے حلقوں کو دوبارہ ترتیب دیکر طاقت کے توازن کو ہندو اکثریت والے جموں خطہ کی طرف منتقل کرنے کی شعوری کوشش کئی جا رہی ہے۔پچھلے تیس سالوں میں بھارتی ریاست کی طرف سے کشمیری مسلمانوں کو سیاسی،معاشی اور سماجی طور پہ پسماندہ رکھنے کی حکمت عملی کے نتائج بھی تباہ کن برآمد ہوئے،اسی تفریق نے کشمیر میں بسنے والے سماجی طبقات اور مذہبی گروپوںمیں نفرتوں کے بیج بو کر پورے بھارت کی مخلوط آبادیوں کو مضطرب کر دیا۔

پچھلے 30 سالوں کی شورش میں عسکریت پسندوں نے کھانے پینے کی دکانوں اور ہندوؤں کے ذریعہ چلائے جانے والے کئی دوسرے کاروباروں کو کبھی نشانہ نہیں بنایا تھا لیکن اب کشمیری حریت پسندکسی بھی بیرونی شخص کو کشمیر میں بسانے کی منصوبہ بندی کو اپنا اصل ہدف سمجھنے لگے ہیں،چنانچہ داخلی خودمختاری کے خاتمہ کے بعد سے حریت پسندوں نے گیارہ کے لگ بھگ ایسے غیرکشمیریوں کو نشانہ بنایا جنہیں ریاستی سرپرستی میں یہاں مستقل آباد کرنے کی کوشش کی جا رہی تھی۔بظاہر یہی لگتا ہے کہ موجودہ ہندوستانی حکومت نے جارحانہ پالیسی کے ذریعے مفاہمت کے تمام امکانات کوختم کر دیا،بھارتی مقتدرہ کی ہٹ دھرمی خطہ میں تشدد کو مزید فروغ دینے کا وسیلہ بنے گی۔جموں و کشمیر کے پولیس ریکارڈ کے مطابق 2020 کے آخری دنوں میں مختلف واقعات میں یہاں 225 عسکریت پسند،38 عام شہری اور 16 پولیس افسران کے علاوہ فوج اور نیم فوجی دستوں کے 44 جوان مارے گئےتشدد کے ۔

بڑھتے ہوئے انہی واقعات نے بے یقینی اور عدم تحفظ کے احساس کو بڑھایا،خوفزدہ کشمیری اب خود کوغیر محفوظ سمجھتے ہیں،قدم قدم پہ پولیس ناکوں اور غیر معمولی پابندیوں کے نفاذ نے وادی کو عملاً بڑے قید خانہ میں بدل دیا،شدید گھٹن کا یہی ماحول کسی بھی وقت صورتحال کو دھماکہ خیز بنا سکتا ہے۔مودی سرکار نے کشمیر کی جدگانہ حیثیت کو ختم کرکے جہاں ایک طرف کشمیریوں کو ناممکن صورتحال سے دوچار کیا وہاں دوسری جانب پاکستان کو سائیڈ لائن کرنے کی کوشش میں لائن آف کنٹرول پہ کشیدگی بھی بڑھائی،حالانکہ کشمیر کی کسی بھی قرارداد میں پاکستان کے کردار کو بین الاقوامی سطح پہ تسلیم کیا جاتا ہے۔لاریب، پانچ اگست کے فیصلے نے علاقائی استحکام کو بُری طرح متاثر کیا،جس کے منفی اثرات دیر تک خود بھارتی ریاست کو وقف اضطراب رکھیں گے۔کچھ تجزیہ کار پچھلے سال کی چین،بھارت سرحدی جھڑپوں کو بھی کشمیر کی سیاسی حیثیت تبدیل کرنے سے جوڑتے ہیں۔کیونکہ چین نے بھی کہا تھا”بھارت کا یہ فیصلہ غیر قانونی، باطل اور چین کی خودمختاری کو چیلنج کرتا ہے“۔

بھارت نے 5 اگست کے فیصلہ کو مسئلہ کشمیر کے مستقل حل کے دعویٰ پہ محمول کیا تھا لیکن عملاً صورت حال اس کے برعکس نکلی اور 5 اگست کے بعد دنیا نے کشمیر کو ایک اور فلسطین کے طور پہ دیکھنا شروع کر دیا۔کشمیر کی تشویشناک صورتحال کی وجہ سے پڑوس میں بسنے والوں کے علاوہ دنیا بھر میں پھیلے مسلمانوں میں شدت پسندی بڑھے گی۔بھارت کے ان دعوؤں کے برعکس کہ”خود مختاری ختم کرنے سے امن ملنے کے علاوہ علیحدگی پسندی کا بھی خاتمہ ہوگا“غلط ثابت ہوا۔انڈیا کی اسی پیشقدمی کی بدولت مسئلہ کشمیر کے پُرامن حل کے حامی کشمیری نوجوان بھی عسکریت پسند تنظیموں سے جڑنے لگے ہیں۔صرف پچھلے سال،کشمیر پولیس نے عسکریت پسندوں کے 635 مبینہ حامیوں کو گرفتار کیا جنہیں پبلک سیفٹی ایکٹ کے تحت حراست میں لیکر جیل بھیج دیا گیا۔ایمنسٹی انٹرنیشنل کے مطابق پبلک سیفٹی ایکٹ کے ذریعے انتظامیہ سینکڑوں کشمیریوں کو بغیر کسی مقدمے کے چھ ماہ تک حراست میں رکھنے کے علاوہ نہتے شہریوں کی نظر بندی کو مسلسل دہرا سکتی ہے۔

پولیس کے مطابق 635 شہریوں کی گرفتاری 1990 میں عسکریت پسندی کے بھڑکنے کے بعد کسی بھی سال میں سب سے بڑی گرفتاریوں میں شمار ہو گی۔ 2020 میں مودی سرکار نے خطہ میں بھارت نواز سیاست کو فروغ دیتے ہوئے مذاکرات کے مواقع گنوانے کے علاوہ کشمیر پر کنٹرول مزید سخت کرنے پر توجہ مرکوز کئے رکھی۔پچھلے دو سالوں میں بھارتی فورسز نے انٹیلی جنس جمع کرنے اورحریت پسندوں کے خلاف انسدادی کارروائیوں کو تیز کرنے کے لئے کورونا وائرس لاک ڈاؤن  کا استعمال بھی کیا۔پاکستان نے بھارت کے ساتھ دو طرفہ جنگ بندی معاہدے پر مسلسل شکوک کا اظہار کرتے ہوئے بین الاقوامی سفارتی فورمز پر کشمیر میں انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں کو اجاگر کرنے کے ساتھ ساتھ لائن آف کنٹرول کے قریب تشدد کو ہوا دینے جیسے اقدامات کا موثرجواب دیا۔چونکہ اس وقت دونوں ممالک عدم تعاون پر مبنی عسکری حکمت عملی اپنائے بیٹھے ہیں اس لئے مسقتبل قریب میں تنازع  کشمیر کے دوطرفہ حل کا امکان معدوم رہے گا۔

Advertisements
julia rana solicitors london

ہندوستان اور پاکستان دونوں کشمیر پہ کامل دعویٰ رکھتے ہیں تاہم کشمیر کی چھوٹی سی پٹی چین کے تصرف میں بھی ہے،جو ابھرتی ہوئی چینی مملکت کو بھی اس جغرافیائی تنازعہ کا موثر فریق بنانے کے لئے کافی ہے۔جموں اور کشمیر میں درجنوں کشمیری گروپ پاکستان کے ساتھ الحاق کے تصور کو عملی جامہ پہنانے کی خاطر ہندوستانی قبضہ کے خلاف برسرپیکار ہیں۔انسانی حقوق کی تنظیموں کے مطابق 1989 سے ابھرنے والی پاکستان نواز مزاحمتی تحریکوں کو کچلنے کی کوشش کے دوران بھارتی فورسز کے ہاتھوں اب تک ہزاروں کشمیری مارے جا چکے ہیں۔

  • julia rana solicitors london
  • merkit.pk
  • julia rana solicitors
  • FaceLore Pakistan Social Media Site
    پاکستان کی بہترین سوشل میڈیا سائٹ: فیس لور www.facelore.com

Aslam Awan
اس وقت یبوروچیف دنیا نیوز ہوں قبل ازیں پندرہ سال تک مشرق کا بیوروچیف اور آرٹیکل رائٹر رہاں ہوں،سترہ سال سے تکبیر میں مستقل رپوٹ لکھتا ہوں اور07 اکتوبر 2001 سے بالعموم اور 16مارچ 2003 سے بالخصوص جنگ دہشتگردی کو براہ راست کور کر رہاں ہوں،تہذیب و ثقافت اور تاریخ و فلسفہ دلچسپی کے موضوعات ہیں،

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

Leave a Reply