بیت الغزل ؟۔۔گُل بخشالوی/نامکمل

اردو ادب کی شان ا ساتذہ فرماتے ہیں کہ غزل کے سب سے بہترین شعر کو بیت الغزل کہتے ہیں۔ غزل کا لفظ غزال سے نکلا ہے اور غزال ہرن کو کہتے ہیں۔غزل اس آواز کو کہا جاتا ہے جو ہرن کے حلق سے اس وقت نکلتی ہے جب وہ شیر کے خوف سے بھاگ رہی ہوتی ہے۔ غزل کے لغوی معنی عورتوں سے یا عورتوں سے متعلق باتیں کرنا یا عشق و محبت کا ذکر کرنا بھی بتایا گیا ہے۔ایک غزل کو تین حصوں میں تقسیم کیا جاتا ہے پہلے حصے کو مطلع کہا جاتا ہے جس میں دو مصرے ہوتے ہیں پہلے مصرع کو مصرع اولیٰ اور دوسرے مصرع کو مصرع ثانی کہتے ہیں مطلع کے دونوں مصروں میں قافیہ اور ردیف ا ستعمال ہوتا ہے لیکن کسی غزل میں ردیف لازی جز نہیں ہے قافیہ کے بعد اگر ردیف نہ بھی لکھا جائے تو کوئی قید نہیں۔

غزل کے دوسرے حصے کو مقطع کہا جاتا ہے جس کے پہلے مصرعے یعنی مصرع اولیٰ میں اکثر شاعر اپنا تخلص ا ستعمال کرتا ہے اور دوسرے مصرعے یعنی مصرع ثانی میں قافیہ اور ردیف استعمال ہوتا ہے ۔غزل کے تیرے حصے کو اشعار کہا جاتا ہے یعنی مطلع اور مقطع کے درمیاں والے مصروں کو اشعار کہتے ہیں،غزل کے کم از کم اشعار کی تعداد پانچ ہوتی ہے اس سے زیادہ اشعار لکھنے کی کوئی قید نہیں لیکن 11 اشعار موزوں جانے جاتے ہیں غزل کا ایک مطلع ہوتا ہے جس کے دو نوں مصرعے ہم قافیہ اور ہم ردیف ہوتے ہیں۔ اس کے بعد غزل کے ہر شعر کا دوسرا مصرع مطلع کے قافیے اور ردیف سے متعلق ہوتا ہے۔ اس طرح یہ سلسلہ جاری رہتا ہے۔ اور پھر آخری شعر میں شاعر اپنا تخلص استعمال کرتا ہے اور اسے مقطع کہا جاتا ہے۔ غزل کے اشعار میں موضوع کے حوالے سے کوئی ربط نہیں ہوتا اور ہر شعر کا موضوع اور مطلب الگ الگ ہوتا ہے۔

FaceLore Pakistan Social Media Site
پاکستان کی بہترین سوشل میڈیا سائٹ: فیس لور www.facelore.com

غزل اردو ادب میں کامیابی اور پسندیدگی کی بنیادی وجہ یہ ہے کہ غزل ہر دور میں ہمارے ساتھ چلتی رہی ہے۔ ہمارے مزاج اور ہمارے انفرادی اور اجتماعی حالات اور ہمارے تہذیبی رویوں کے ساتھ غزل نے ہمارا ساتھ نہیں چھوڑا، غزل اپنے مزاج میں ہماری تہذیبی روایات ، حالات اور بدلتے ہوئے مزاج کے باطن میں بیٹھی رہی۔ غزل نے اگرہمیں نہیں چھوڑا تو ہم شاعروں نے بھی غزل کو نہیں چھوڑا۔ بہت سی اصناف مثلاً قصیدہ، مرثیہ اور مثنوی وغیرہ کو ہم لوگوں نے چھوڑ دیا لیکن غزل ابھی تک ہمارے ساتھ چل رہی ہے۔ اس لئے کہ شاعری کی جان غزل ہے!

غزل کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ اس کا سب سے بڑا نمائندہ جس نے اس کو باقاعدہ رواج دیا تھا۔ وہ ولی دکنی تھے۔ لیکن ولی سے غزل کاآغاز نہیں ہوتا اس سے پہلے ہمیں دکن کے بہت سے شعراءکے ہاں غزل ملتی ہے۔ مثلاً قلی قطب شاہ، نصرتی، غواصی، ملا وجہی۔ البتہ ولی دکنی نے پہلی بار غزل میں تہذیبی قدروں کو سمویا۔ عام فہم زبان میں غزل ایک پابند منظوم صنف ہے غزل کے کسی بھی شعر کے خیال کا اس سے اگلے شعر میں تسلسل ضروری نہیں ہوتا۔ایک غزل کے اشعار کے درمیان مرکزی یکسانیت کچھ الفاظ کے صوتی تاثر یا چند الفاظ کا ہر شعر کے دوسرے مصرعے میں تکرار سے ہوتا ہے۔ لیکن اس سے ہٹ کر بھی کسی غزل کے ایک سے زیادہ اشعار کسی ایک ہی خیال کو مرکزی ظاہر کر سکتے ہیں۔لیکن ہر شعر اپنی جگہ منظوم قواعد و ضوابط کا پابند ہونا ہے۔جن غزلوں میں ایک سے زائد اشعار ایک ہی مرکزی خیال لئے ہوتے ہیں ان کو نظم یا نظم نما غزل بھی کہا جا سکتا ہے کیونکہ ارودو زبان میں لفظ نظم کا واضح مطلب جملوں کے اختتام پر وزن اور صوتی اثر کا یکساں ہونا ہے۔ ۔

Advertisements
julia rana solicitors

ابوالاعجاز حفیظ صدیقی اپنی تالیف ” ادبی اصطلاحات میں لکھتے ہیں کہ غزل کے خوبصورت ترین شعر کو ” بیت الغزل “ کہتے ہیں اس لئے کہ بیت الغزل ، غزل کے ساتھ مخصوص ہے جب کہ ” شاہ بیت “ وسیع تر مفہوم ادا کرنے والی اصطلاح ہے کسی قصیدے ، نعت اور حمد کے بہترین شعر کو شاہ بیت کہتے ہیں لیکن اسے

  • merkit.pk
  • julia rana solicitors london
  • FaceLore Pakistan Social Media Site
    پاکستان کی بہترین سوشل میڈیا سائٹ: فیس لور www.facelore.com
  • julia rana solicitors

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

Leave a Reply