دھڑ انسان کا ، دل سور کا۔۔سعید چیمہ

دھڑ انسان کا ، دل سور کا۔۔سعید چیمہ/سورہ بقرہ اور انعام میں بڑی تفصیل سے بتایا گیا ہے کہ کھانے کے معاملے میں چاری چیزیں حرام ٹھہرائی گئی ہیں، مردہ جانور، خون، سور کا گوشت، اور وہ چیزیں جن پر اللہ کے سوا کسی کا نام لیا جائے۔ ان آیات سے عام طور پر یہی سمجھ لیا گیا کہ چوں کہ یہ چیزیں کھانے کے لیے حرام ہیں اس لیے ناپاک (نجس) بھی ہیں۔ در آں حالے کہ یہ بہت بڑی غلط فہمی تھی جس کو دور کرنا علما  کی ذمہ داری تھی، مگر ہمارے علما  فقہی بحثوں میں اس قدر الجھے ہیں کہ کسی اور طرف متوجہ ہی نہیں ہوتے۔ جہاں تک حرام جانوروں سے فائدہ اٹھانے کی بات ہے، رسالت مآبﷺ نے توجہ دلائی ہے کہ ان سے فائدہ اٹھایا جائے۔ ایک حدیث ملاحظہ ہو۔

عبداللہ بن عباس بیان کرتے ہیں ام المومنین سیدہ میمونہ کی باندی کو جو بکری کسی نے صدقہ میں دی تھی وہ مری ہوئی دیکھی۔ اس پر آپﷺ نے فرمایا کہ تم لوگ اس کے چمڑے کو کام میں کیوں نہیں لاتے۔ لوگوں نے کہا کہ یہ تو مردہ ہے۔ آپﷺ نے فرمایا کہ حرام تو صرف اس کا کھانا ہے (بخاری، 1492)۔ بخاری و مسلم کی احادیث سے ہی یہ بات پتہ چلتی ہے کہ رسالت مآبﷺ اکثر گدھے پر سفر فرمایا کرتے تھے۔ یعنی ان چیزوں کو صرف کھانا حرام ہے، فائدہ اٹھانے کی ممانعت نہیں۔ اسی طرح اس بات پر بھی اکثر حیرانگی کا اظہار کیا جاتا ہے کہ اونٹ کا پیشاب حلال کیوں ہے اور رسالت مآبﷺ نے لوگوں کو یہ پیشاب پینے کی ہدایت کیوں کی تھی۔

FaceLore Pakistan Social Media Site
پاکستان کی بہترین سوشل میڈیا سائٹ: فیس لور www.facelore.com

اسلام نے جسمانی طہارت اور باطنی پاکیزگی کی طرف خاص توجہ دلائی ہے تو پھر کیسے ممکن ہے کہ کسی جانور کے پیشاب کو حلال کر دیا جاتا اور ویسے بھی بول براز سے انسانی فطرت کراہت محسوس کرتی ہے۔ جن لوگوں کو اونٹ کا پیشاب استعمال کرنے کو کہا گیا تھا ان کو مدینہ آ کر جِلد کی بیماری لاحق ہو گئی تھی اور ان کے پیٹ پھول گئے تھے۔ اب یہ خاص صورتحال بن گئی تھی اور مخصوص حالات میں حرام چیز بھی حلال ہو جاتی ہے، اسی لیے ان کو اونٹ کا دودھ اور پیشاب استعمال کرنے کا کہا گیا۔ اونٹ کے پیشاب کے استعمال پر خاص طور پر ملحد بھی اعتراض کرتے ہیں۔ ایسوں کو جواب یہ ہے کہ پری میرن(Premarin) نامی ایک دوا ہے جو حاملہ گھوڑی کے پیشاب سے تیار کی جاتی ہے۔

جانوروں کے حقوق کی عالمی تنظیم پیٹا (PETA)کے مطابق ہر سال ساڑھے سات لاکھ گھوڑیوں کو حاملہ کروایا جاتا ہے تا کہ ان کے پیشاب سے یہ دوا تیار کی جا سکی۔ اس لیے یہ اعتراض درست معلوم نہیں ہوتا کہ حرام چیزوں سے بیماریوں کے علاج کی اجازت کیوں دی گئی ہے۔ اس ضمن میں دوسری بات یہ ہے کہ انسانی جان کی حرمت بہت زیادہ ہے۔ ایک انسان کی جان بچانے کو انسانیت بچانے سے تشبیہ دی گئی ہے۔ ایک قول سیدنا عمر کی کی نسبت سے بیان کیا جاتا ہے کہ اگر ایک بے گناہ شخص کے قتل میں دنیا کے تمام انسان ملوث ہوں تو میں سب کو قتل کروا دوں گا۔ اس سے اندازہ ہوتا ہے کہ انسانی جان بچانے کے لیے کسی بھی حد تک جایا جا سکتا ہے، چاہے اونٹ کا پیشاب استعمال کرنا پڑے یا سور کا دل ٹرانسپلانٹ کرنا پڑے۔ اس سلسلے میں ڈاکٹر خورشید ندیم نے اپنے کالم میں ایک سوال اٹھایا ہے کہ سور کا دل ٹرانسپلانٹ کرنے سے اگر انسان میں جینیاتی تبدیلی آتی ہے تو کیا پھر بھی اس چیز کی اجازت ہو گی کہ یہ دل  ٹرانسپلانٹ کروایا جا سکے۔

Advertisements
julia rana solicitors london

لیکن اصل سوال یہ ہے کہ کس قسم کی جینیاتی تبدیلی؟ کیا انسان کیچڑ میں رہنا شروع کر دے گا یا جیسا کہ بتایا جاتا ہے جنسی طور پر بے راہ روی کا شکار ہو جائے گا؟ ایسا تو ممکن نہیں ہو گا کہ انسان کیچڑ میں رہنا شروع کر دے۔ بہرطور صفائی کی جبلت انسان میں ودیعت کی گئی ہے۔ اور جہاں تک جنسی بے راہ روی کا تعلق ہے تو حضرتِ انسان اس معاملے میں پہلے ہی سور سے کوسوں سے آگے ہے۔ ہماری ایک کلاس فیلو بتا رہی تھیں کہ وہ آج کل فری لانسنگ کر رہی ہیں۔ لوگ کام کی بات کرنے کے بجائے یہ پوچھنا شروع کر دیتے ہیں کہ آپ کے بہن بھائی کتنے ہیں؟ ماما پاپا کیا کرتے ہیں؟ آپ کی عمر کتنی ہے وغیرہ۔ یعنی ہر چیز سے جنسی تلذذ حاصل کرنے کی لت۔سو یہ سوال تو چھوڑ ہی دیجیے۔

  • julia rana solicitors
  • julia rana solicitors london
  • FaceLore Pakistan Social Media Site
    پاکستان کی بہترین سوشل میڈیا سائٹ: فیس لور www.facelore.com
  • merkit.pk

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

Leave a Reply