افغانستان سنبھل رہا ہے؟۔۔اسلم اعوان

افغانستان تاریخی اعتبار سے سیاسی،اقتصادی اور سفارتی طور پہ کبھی خود مختیار مملکت یا منظم قوم کی حیثیت سے شناخت حاصل نہیں کر سکا،یہاں صدیوں تک ایسی متنوع قبائیلیت پروان چڑھتی رہی جس کی مہیب عصبیتوں نے انہیں کبھی بھی صحتمند سماج میں ڈھلنے یا ہم آہنگ سوچ کی حامل متحد قوم بننے کی مہلت نہ دی،اسی جمود پرور کلچرکی بدولت افغانستان میں کسی عہد میں کوئی پروفشنل آرمی استوار ہو سکی نہ آئین کی حکمرانی پہ مشتمل کوئی ایسا انتظامی ڈھانچہ تشکیل پایا جو مملکت کے ارتقاءکو ریگولیٹ کرتا،یہاں ہمیشہ تلوار کے زور پہ قائم ہونے والی ایک نوع کی علامتی امارتیں بنتی ٹوٹتی رہیں جن کی حکمرانی کی حدود کابل سے باہر نہیں نکل سکتی تھیں،تاہم پھر بھی جفاکیش افغانی محبت اور لڑائی جھگڑوں کے ذریعے اپنے روزمرہ کو دلچسپ بنا لیتے تھے۔بلاشبہ افغانستان قبائیلی عصبتوں میں منقسم ایسا گداز ملک تھا جسے،جس نے،جب چاہا مسخر کر لیا لیکن انیسویں صدی کی گریٹ گیم کے بعد برطانوی سامراج نے افغانستان کو شورشوں کا جہنم بنا کے گرم پانیوں تک روس کی پیشقدمی تو روک لی لیکن یہاں سے ابھرنے والی اضطراب کی لہروں نے جنوبی ایشیا سمیت پوری دنیا کو ہلا کے رکھ دیا چنانچہ نائن الیون کے بعد مغربی قوتیں یہاں مربوط ریاستی ڈھانچہ اور جدید معاشرے کے قیام کی خاطر بے رحم جنگی مشین کے علاوہ اربوں ڈالرز اور ابلاغی ٹیکنالوجی کا بیدریغ استعمال کرنے کے باوجود اِسے جمہوری تمدن اور مغربی تہذیب کے رنگ میں رنگ نہ سکے۔

دو سو سالوں پہ پھیلے اس طویل جدلیاتی عمل اور بیس سالوںپہ محیط مہیب جنگی تطہیر کے بعد بھی افغانستان نادر شاہ افشار کے عہد زوال جیسی مشکلات میں پھنسا دکھائی دیتا ہے۔وہاں آج بھی ریاستی ڈھانچہ کی تشکیل عالمی طاقتوں کے مابین پیکار میں الجھی نظرآتی ہے،آج بھی افغانیوں کو دنیا میں منظم قوم اور مربوط مملکت بن کے ابھرنے جیسے چیلنجز درپیش ہیں،تاہم بے پناہ رکاوٹوں کے باوجود اب پہلی بار طالبان کی قیادت بتدریج سماج پہ اپنی گرفت مضبوط کرکے اس لینڈ لاک مملکت کو سیاسی اور اقتصادی لحاظ سے اپنے پاؤں پہ کھڑا کرنے کی کوشش میں مصروف ہے۔تمام تر اشتعال انگیزیوں کے الرغم کابل کے نئے حکمرانوں نے ایران کے دارالحکومت تہران میں شمال سے تعلق رکھنے والے مخالفیں سے بات چیت کرکے جس ذہنی لچک کا مظاہرہ کیا اس کے بغیر وسیع تر قومی اتفاق رائے کا حصول ممکن نہیں تھا،یہ اپنی نوعیت کا پہلا اجلاس تھا،جس میں طالبان کی جانب سے سیاسی مخالفین کو امور مملکت میں شمولیت کی فراغ دلانہ پیشکش کے علاوہ وطن واپسی کی صورت میں تحفظ کی ضمانت دی گئی۔قومی مزاحمتی محاذ کے نام سے بنائے گئے اس اتحاد کی قیادت سابق جنگجو کمانڈراحمد شاہ مسعود کے بیٹے احمد مسعود کر رہے ہیں،جوکابل پہ طالبان کے قبضہ کے بعد افغانستان سے فرار ہو کے علامتی مزاحمتی محاذ بنا کے اُن اجڑے ہوئے مغربی ممالک کی حمایت ڈھونڈتے پھرتے ہیں،جنہیں طویل جنگ نے مضمحل کردیا، ان بدلے ہوئے حالات میں محدود سفارتی تعاون کے سوا مغرب کی موقع شناس اشرافیہ ان کی مزاحمتی سوچ کو مادی مدد نہیں دے پائے گی،اس لئے یہ زخم خوردہ گروہ اپنے لئے باعزت واپسی کی راہیں تلاش کرنے میں بھی سرگرداں ہے۔ طالبان نے اگست میں افغان دارالحکومت کابل پر قبضے کے بعد دباو بڑھا کے شمالی علاقوں میں ایسی کسی مسلح موومنٹ کو ابھرنے نہیں دیا،جیسی 1995 میں نجیب حکومت کے خاتمہ پہ احمدشاہ مسعود کی قیادت میں اٹھی تھی۔افغانستان سے امریکی اور نیٹو افواج کے انخلاءکے آخری دنوں میں طالبان مخالف جنگجوؤں کو شمال کی طرف پنجشیر کی وادی میں اڈے قائم کرنے کی سہولت دی گئی لیکن امریکی آشیر واد کے باوجود وہ اپنے حامیوں میں طالبان کے خلاف لڑنے کا عزم پیدا نہیں کر سکے،مغربی میڈیا اسی پنجشیری الائنس کو طالبان مخالف دھڑوں کی ریڑھ کی ہڈی کے طور پہ پیش کرتا رہا لیکن طالبانی مقتدرہ نے اپنی بہترین تزویری کوشش سے کابل سے پہلے ہی مسخر کر لیا تھا۔

FaceLore Pakistan Social Media Site
پاکستان کی بہترین سوشل میڈیا سائٹ: فیس لور www.facelore.com

تہران میں طالبان اور ان کے مخالفین کے درمیان میل جول ان پہلی علامتوں میں سے ایک ہے جن سے مملکت پہ طالبان کے مو ثر قبضہ کی توثیق ہوئی۔امر واقعہ یہ ہے کہ مغربی میڈیا کے منفی پروپگنڈہ کے برعکسسابق صدر حامد کرزئی اور قومی مصالحتی کونسل کے سابق سربراہ عبداللہ عبداللہ سمیت سابقہ افغان حکومتوں کے کئی سرکردہ رہنما طالبان کے زیر تصرف کابل میں معمول کی زندگی گزار رہے ہیں۔یہی وجہ ہے جو اردگرد کی ہمسایہ مملکتیں طالبان سے سفارتی تعلقات استوار کرنے کی طرف بڑھ رہی ہیں،اگرچہ ایران نے سرکاری طور پر ابھی طالبان حکومت کو تسلیم نہیں کیا تاہم ایرانی وزارت خارجہ کے ترجمان سعید خطیب زادہ نے کہا ہے کہ طالبان وفد سے مذاکرات مثبت رہے،افغانستان کی موجودہ صورتحال اسلامی جمہوریہ ایران کے لئے باعث تشویش رہی،افغان وفد کا دورہ انہی خدشات کے دائروں پہ محیط تھا۔اگست میں امریکہ کی زیرقیادت نیٹو افواج کے انتشار انگیز انخلاءکے بعد طالبان وفد کا یہ پہلا باضابطہ دورہ ایران تھا۔زوال کابل کے فوری بعد سے طالبان اور ایران کے درمیان فعال روابط استوار ہو گئے تھے تاہم ایران کا سرکاری مو قف یہی رہا کہ وہ طالبان کو اس صورت تسلیم کریں گے جب وہ معاشرے کے تمام طبقات کی نمائندہ حکومت کی تشکیل میں کامیاب ہو جائیں گے،اسی پس منظر میں ایران کے خصوصی ایلچی حسن کاظمی نے حالیہ مہینوں میں افغانستان کے کئی دورے کئے،جن میں خطہ کی مجموعی صورت حال کے علاوہ سفارتی تعلقات کو ہموار بنانے جیسے امور پہ تبادلہ خیال کیا گیا،اتوار کی ملاقات سے پہلے بھی فریقیں نے کہا،وہ سیاسی، اقتصادی، راہداری اور پناہ گزینوں کے مسائل پر بات چیت کرنا چاہتے ہیں۔ایرانی وزیرخارجہ امیرعبداللہیان نے ملاقات کے دوران افغانستان میں امریکی پالیسیوں کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا”امریکہ کو انسانی ہمدردی کی بنیاد پر افغانستان سے پابندیاں ہٹا کے افغان عوام کی مشکلات کے ازالہ میں مدد کرنی چاہیے۔

انہوں نے اس عزم کا اعادہ بھی کیا کہ ایران اپنے پڑوسی ملک کے عوام کو انسانی امداد بھیجتا رہے گا۔امیرمتقی کا حوالہ دیتے ہوئے کہا گیا کہ اتوار کے اجلاس کے دوران نئی افغان حکومت نے اس نکتے پر زور دیا کہ وہ کسی پڑوسی ملک کے خلاف اپنی سرزمین استعمال نہیں ہونے دے گی۔ادھر طالبان کے کابل پر قبضہ کرنے سے پہلے ہی چین نے جولائی میں طالبان وفد کی میزبانی کرتے ہوئے سفارتی تعلقات کی استواری کا اشارہ دے دیا تھا،چینی حکام نے کہا ہے کہ بیجنگ افغانوں کے اپنے مستقبل کا فیصلہ کرنے کے حق کا احترام کرتا ہے،جس کا واضح مطلب یہی تھا کہ طالبان کی جیت دراصل عوام کی مرضی کی عکاسی کرتی ہے۔جنوبی ایشیائی سیاست کے ماہرین کہتے ہیں کہ طالبان کے ساتھ بیجنگ کے تعلقات دوہرے ہوں گے،پہلے یہ محض تجارتی ہوں گے جن کے تحت چین افغانستان کے اندر کاروباری منصوبوں کو بحال کرنے کی کوشش کرے گا،جس کی ممکنہ طور پر طالبان کو ضرورت بھی ہو گی کیونکہ غیرملکی سرمایہ کاری انہیں اچھی مطلوبہ آمدنی فراہم کرے گی۔افغان معیشت کمزور اور مغربی ڈونرز کی غیر ملکی امداد پر بہت زیادہ انحصار رکھتی ہے،جو اگلے چند مہینوں تک یقینی طور پر منقطع ہو جائے گی۔لہٰذا کسی بھی قسم کی سرمایہ کاری خاص طور پر اگر اس کے ساتھ انسانی حقوق پر لیکچرز نہ ہوں تو طالبان کی طرف سے اس کا خیر مقدم کیا جائے گا۔امارات اسلامی کے سربراہ ملا عبدالغنی برادر اور چینی وزیر خارجہ وانگ یی کی جولائی 2021 میں تیانجن میں ہونے والی ملاقات میں یہی طے ہوا تھا کہ باہمی تعلقات کا انحصار اس امر پہ ہوگا کہ فریقین ایک دوسرے کے اندرونی معاملات میں مداخلت نہیں کریں گے،بظاہر یہی لگتا ہے کہ طالبان کے ماتحت افغانستان چین کا بہترین ساتھی بن جائے گا۔چینی حکومت کے افغانستان میں معاشی مفادات اہم اور فیصلہ کن ہیں،افغانستان کے پاس خام مال کے اگرچہ چند ذرائع ہیں لیکن وہ ایک غیر معمولی مارکیٹ کا حامل ہے جو چین کو وسطی ایشیائی ریاستوں کے تیل کے ذخائر اور مشرقی یورپ کی مارکیٹوں تک زمینی رسائی کی سہولت دے سکتا ہے۔افغانستان میں چینی بہت سے پراجیکٹس پر کام کرنا چاہیں گے لیکن تاحال ان کا دائرہ اس لئے محدود ہوگا کہ افغانستان ایک مستحکم ملک کے طور پر بہت سے چینی منصوبے، بشمول بیلٹ اینڈ روڈ انشیٹو،سے استفادہ کے قابل ہو جائے۔

Advertisements
julia rana solicitors

لہٰذا اس بات کا امکان موجود ہے کہ اگلے چند سالوں میں چین افغانستان میں سرمایہ کاری کا جادوگر بن کے ابھرے۔شاید سب سے اہم بات یہ ہے کہ افغانستان میں چین کی مصروفیت دوسرے ممالک کو دکھا سکتی ہے کہ چین کس طرح قوموں اور مملکتوں کی تعمیر میں مدد کرتا ہے۔بلاشبہ چین افراتفری کے انخلاءکو امریکی زوال کی مثال کے طور پہ پیش کرنا چاہیے گا؟اگرچہ چینی سیاست مبہم ہے لیکن چینی حکمرانوں کے اہم دھڑے کا خیال ہے کہ امریکہ اور مغرب تدریجی زوال کا شکار ہیں،سوچ کی یہ لائن چینی تھنک ٹینکس، اکیڈمی اور حکومت میں گہرائی تک پائی جاتی ہے۔مغرب کے لئے یہ بھی چیلنج ہے کیونکہ افغانستان میں امریکہ کے ساتھ تعاون کرنے والے ممالک بھی کمزور ہوئے ہیں،اس لئے چین سمیت ایشیائی ممالک مغرب کو زوال کی طرف ڈھلکتا دیکھتے ہیں،جس سے ان کے حوصلے مزید بڑھ رہے ہیں۔چین کے لئے یہ ثابت کرنا بھی آسان ہو جائے گا کہ جب ہاتھ جھٹکنے پر آتا ہے تو امریکہ ناقابلِ بھروسا ہوجاتا ہے، وہ ابتداءمیں اچھی باتیں کرتا ہے لیکن جب اس کی دلچسپی ختم ہو جائے تو وہ تیزی سے پیچھے ہٹ جاتا ہے۔

  • julia rana solicitors london
  • FaceLore Pakistan Social Media Site
    پاکستان کی بہترین سوشل میڈیا سائٹ: فیس لور www.facelore.com
  • julia rana solicitors
  • merkit.pk

Aslam Awan
اس وقت یبوروچیف دنیا نیوز ہوں قبل ازیں پندرہ سال تک مشرق کا بیوروچیف اور آرٹیکل رائٹر رہاں ہوں،سترہ سال سے تکبیر میں مستقل رپوٹ لکھتا ہوں اور07 اکتوبر 2001 سے بالعموم اور 16مارچ 2003 سے بالخصوص جنگ دہشتگردی کو براہ راست کور کر رہاں ہوں،تہذیب و ثقافت اور تاریخ و فلسفہ دلچسپی کے موضوعات ہیں،

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

Leave a Reply