بول کی سرپرستی کرنے والے، ہوشیار باش۔سید عارف مصطفیٰ

بول چینل اور عامر لیاقت کے مابین تنازع کی وجوہات جو بھی ہوں لیکن ایک بات جو نہایت تشویشناک ہے وہ یہ ہے کہ اس کی وجہ سے قومی سلامتی  کے  اداروں کا باوقار اور بردبار امیج داؤ پہ لگ گیا ہے کیونکہ عامر لیاقت نے بول چینل کے گندے کپڑے چوک پہ دھو ڈالے ہیں اوران سے اٹھنے والی سڑاند نے ہر وضعدار اور مخلص پاکستانی کو بے  چین کرکے رکھ دیا ہے اور عوام حیران ہیں کہ یہ سب کیا غلاظت ہے۔ کل جس شعیب شیخ کو وہ عظمت و کردار میں کوہ ہمالیہ ثابت کرنے پہ تلے ہوئے تھے اب اسے کٹی پہاڑی کے برابر بھی نہیں بتارہے بلکہ کوہ مری کی کھائی جتنے پاتال کی مانند بتارہے ہیں اور جوبلی کے کریمنل کا خصوصی لقب بھی دے ڈالا ہے۔

لیکن اسی سلسلہ  خرافات کا ایک پہلو اور بھی ہے جو نہایت سنگین اور تشویشناک ہے کیونکہ یہ ماجرا سبھی نے کھلی آنکھوں سے دیکھا ہے کہ کسی اور نے نہیں خود بول کے سابق ایگزیکیٹو پریذیڈنٹ عامر لیاقت نے  دو ٹوک انداز میں بتایا ہے کہ بول نے یہ بھرپور تاثر دے کے کہ قومی سلامتی کے ادارے اس کی پشت پہ ہیں اور قومی سلامتی کے اداروں کا نام استعمال کر کے شعیب شیخ نے لوگوں کو دھمکیاں دلوائیں ، اس کا یہ بھی کہنا ہے کہ اداروں کے افسران کو معلوم بھی نہیں ہے کہ اُن کے نام پر کیا کیا کھیل کھیلا جاتا رہا اور ایک اور ٹوئیٹ میں عامر لیاقت نے سپریم کورٹ سے یہ مطالبہ بھی کیا ہے کہ سپریم کورٹ مجھے طلب کرے تاکہ میں بول کی عمارت  میں ہونے والی خوف ناک کہانیاں جنہیں سن کر لہو سرد ہوجائے سنا سکوں ۔

اور یہی نہٰیں بلکہ عامر لیاقت نے ایک ٹوئیٹ میں اس افسر کا نام بھی پوچھا ہے کہ جب اس طاقتور فرد نے پیمرا کے دفتر فون کرکے بول کو پانچ منٹ میں کھلوانے کی دھمکی آمیز کال کی تھی اور جس کی ریکارڈنگ ٹیپ  پیمرا کے چیئرمین ابصار عالم نے اپنی پریس کانفرنس میں سنائی تھی ۔ اس کے علاوہ انہوں نے شعیب شیخ سے یہ اہم سوالات بھی پوچھے ہیں کہ۔۔
قوم کو جواب دیا جائے کہ ملازمین کو کیش میں تنخواہیں کیوں ملتی تھیں؟ کیش کہاں سے آتا تھا؟ برہنہ فلموں کو بنانے والا کون ہے ؟ کن بڑے (ریٹائرڈ) افسران نے جرائم پر پردے ڈالے ۔

عامر لیاقت کے اس استفسار سے بہت واضح ہورہا ہے کہ وہ یہ باتیں محض بلیک میلنگ کے طور پہ طنزیہ پوچھ رہے ہیں ورنہ بول کے سابق پریذیڈنٹ ہونے کے ناطے یہ کیسے معلوم نہ ہوگا کہ  کیا کیا ہوتا رہا ہے   اور کون چھپا ہوا ہے اس پردہء  زنگاری میں ۔ اور یہ سب سوالات تو محض تکلف ہی ہیں ورنہ تو یہ وہ باتیں ہیں کہ  جو اب بول سے باہر بھی بہتیروں کے لبوں پہ ہیں، کیونکہ پہلے خو د عامر لیاقت بھی اپنے پروگرام “ایسے نہیں چلے گا” میں بار بار اپنی لنترانیوں سے یہی تاثر دیتا رہا ہے اور اسی  پہلو سے ڈرا ڈرا کے اس نے اپنے ناقدین کی زبان بندی میں کسی حد تک کامیابی بھی حاصل کی۔ لیکن اس کے باوجود پھر بھی یقین نہیں آتا کہ  ایسےغلیظ اور برے کردار کے حامل لوگوں کو میڈیا کنگ بنانے کی کوشش کی گئی کہ جن کا ماضی بھی   مشتبہ ہے اور حال بھی مشکوک۔

ہر باخبر فرد جانتا ہے کہ بول سے متعلق اندر کی متعدد داستانیں کبھی کی باہر آچکی ہیں اور بہتیری ایسی ہیں کہ ابھی باہر آنا باقی ہیں اور مجھے یقین ہے کہ وہ باقی ماند ہ ا ہم کہانیاں جب کبھی چوک چوباروں تک پہنچیں گی تب میڈیا کی دنیا میں ایک زلزلہ سا گونج جائے گا۔ لیکن اس کا کریڈٹ بہرحال ڈیکلین والش ہی کو جائے گا کہ اس کی نقاب کشائی کی ابتدا  عالمی شہرت کے حامل نیویارک ٹائمز کے اسی مشہور صحافی نے کی تھی کہ جب اس نے بول کے اساسی ادارے ایگزیکٹ کے بارے میں بتایا تھا کہ  اس نے ۱۹۵ ممالک کے پونے دو لاکھ افراد کو جعلی ڈگریاں فروخت کی ہیں اور اب تو یہ جرم نہ صرف امریکی عدالت میں ثابت  بھی ہوچکا ہے بلکہ وہاں اس کے نائب صدر عمیر حامد کو اعتراف جرم کے بعد ۱۳ ماہ قید کی سزا سنادی گئی ہے اور وہاں کمائے گئے ۵۳ لاکھ ڈالرز کو بھی ضبط کرلیا گیا ہے۔

لیکن بڑے افسوس کی بات ہے کہ ہمارے اہم اداروں میں بیٹھے ارباب بست و کشاد نے اس سب گند کے باوجود بول کو گود لے لیا اور بظاہر یہ سرپرستی اب بھی جاری و ساری ہے  اور یہی سبب ہے کہ گو پہلے نیویارک ٹائمز کی اس رپورٹ کی اشاعت کے بعد پاکستان میں ایف آئی اے بھی حرکت میں آگئی تھی اور بہت سی گھناؤنی باتیں منظر عام پہ آنے کو تھیں کہ لیکن پھراچانک تھوڑے سے عرصے میں ایف آئی کے کئی تفتیش کار بدلتے چلے گئے اور معاملات دھندلاتے چلے گئے اور الٹا اسے واپسی کا رستہ دینے کی تیاریاں ہوتی دکھائی دینے لگیں ۔۔ اور پھر سب کچھ تبدیل ہوکر رہ گیا،

اور اب تو نوبت یہ ہے کہ شعیب شیخ اور بول کو بری کرنے والے ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن جج پرویز میمن نے اس فیصلے کی مد میں اپنا جرم تسلیم کرلیا ہے اور اس ضمن میں ہونے والی ڈیپارٹمنٹل انکوائری کنڈکٹ کرنے والےاسلام آباد ہائیکورٹ کے دو معزز ججوں کے سامنے یہ اقرار بھی کرلیا ہے کہ انہوں نے شعیب شیخ سے ۵۰ لاکھ روپے رشوت لے کر اس کے حق میں فیصلہ دیا تھا لیکن اس گھناؤنی حقیقت کے سامنے آنے کے باوجود تا حال بول نامی لاڈلے کوخسروان عصر نے اپنی گود سے اتارا نہیں ہے۔

لیکن بول سے متعلق اب گھر کے بھیدیوں کی جانب سے ہی لنکا ڈھائے جانے کے بعد اس کے سرپرستوں کو اپنی اداؤں پہ غور کرنا ہوگا  کیونکہ اب جبکہ خود بول کے گھر کا بھیدی عامر لیاقت ہی اس نکتے کو اٹھا رہا ہے تو اس کی باتوں کو کوئی بھی نظرانداز نہیں کرسکتا۔ یہ الگ بات ہے کہ جب بول کے مشکوک ماضی اور مشتبہ ذرائع آمدن کے بارے میں میڈیا کے کچھ عناصر کی جانب سے سوالات اٹھائے جاتے تھے تو یہی عامر لیاقت اچھل اچھل کے منہ سے جھاگ نکال کے ایسے ناقدین کی عزت اچھالتا دکھائی دیتا تھا اور اب چونکہ وقت بدل گیا ہے تو اسے اچانک حق اور سچ کے سبھی بھولے بسرے اسباق یاد آنے لگ گئے ہیں ۔

لیکن اس طرح کی بری حرکات سے جو خرابی ہونی تھی وہ ہوکے رہی اور اگر کسی کو اس خرابے میں نقد نقصان ہوا تو وہ ہمارے دفاعی ادارے ہیں کہ جنکے امیج کو شدید زک پہنچی ہے۔ یہاں میں یہ کہے بغیر نہیں رہ سکتا کہ قوم اس معاملے میں متعلقہ ذمہ داروں کے احتساب کا حق رکھتی ہے اور یہ پوچھنے میں حق بجانب ہے کہ بول سے جڑی گفتنی و نا گفتنی کہانیوں کی تسلی بخش وضاحت یش نہ کیے جانے اور اس کے بے لگام پروگراموں اور اینکروں کی مفسدانہ زبان و بیان نے اس کے مبینہ سرپرستوں کے امیج کو بری طرح سے گہنا دیا ہے اور یقینناً اب انہیں اپنے حسن انتخاب پہ شرمسار ہونے کی سطح تک پہنچا دیا ہے۔

اس صورتحال سے سبق سیکھا جانا چاہیے اور اب ہمارے قومی سلامتی کے اداروں کو آئندہ اس قسم کے جھگڑالو فسادی اور عقل سے پیدل اوربلیک میلر حمایتیوں کی پشت پناہی کرنے کا تاثر قائم ہونے کے چلن کو یکسر ترک کرنا ہوگا کیونکہ اس قسم کے بدنام زمانہ لوگ جو خود اپنے لیے کوئی عزت و تکریم پانے میں ناکام رہے ہوں وہ بھلا کسی کی توقیر کی کیا حفاظت کرسکتےہیں ؟؟

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *