کیا واقعی کچھ ہونے والا ہے؟۔۔اسلم اعوان

پشاور میں پی ڈی ایم کے صوبائی چیپٹر کے ہنگامی اجلاس کے بعد مولانا فضل الرحمن کی پریس سے گفتگو میں”پارلیمنٹ کے اندر اپنی قوت کے اظہار“کے بیان کو لیکر الیکٹرانک میڈیا میں اِس کی کئی زاویوں سے تشریح کی جاتی رہی،ایک بڑے نجی ٹی وی چینل نے اِسے بلآخر بلاول بھٹو زرداری کی اِن ہاؤس تبدیلی کی تجویز کی غیراعلانیہ پیروی سے مماثل قرار دینے کی پھبتی بھی کَسی، تاہم مولانا فضل الرحمن نے نہایت محتاط انداز میں ان نشریاتی قیاس آرائیوں کی وضاحت کرتے ہوئے کہا کہ”اُس وقت بلاول بھٹو کی بات بے وقت کی راگنی تھی،پی ڈی ایم کے اجلاسوں میں معروضی سیاسی صورت حال کو سامنے رکھ کر تمام تنقیحات کا تجزیہ کیا جاتا ہے،چنانچہ پاکستان ڈیموکریٹک موومنٹ آج کی بدلتے حالات کے تقاضوں کے مطابق اپنی حکمت عملی ترتیب دینے جا رہی ہے،جیسے اسمبلیوں سے استفعے ایک قسم کا سیاسی ہتھیار ہیں،اسے کب اور کیسے استعمال کرنا ہے یا پھر اس سے بہتر کوئی اور آپشن بروکار لانا ہے،اس کا فیصلہ صرف فضل الرحمن نے نہیں کرنا ہوتا بلکہ پہلے بھی اور آج بھی پی ڈیم کے تمام فیصلے اور پالیسیسز اجتماعی دانش کے ذریعے تشکیل پاتی ہیں،ہمارے میڈیا کارکنان اپنے کہے ہوئے الفاظ کے نتائج کی ذمہ داری تو نہیں لیتے البتہ ایسی بعید از حقائق قیاس آرائیوں کے ذریعے مزے ضرور لیتے ہیں“۔

ایوان اقتدار اور اپوزیشن کے مابین لڑکھڑاتی پیپلزپارٹی کے طرز عمل سے قطع نظر خیبر پختون خوا کے آزادنہ بلدیاتی الیکشن کے نتائج اور بعض دیگر عوامل اس امر کی توضیح کے لئے کافی ہیں کہ ریاستی مقتدرہ مقبول سیاسی قیادت کی طرف سے برپا کی گئی مزاحمتی جدلیات کو ریگولیٹ کرنے کے لئے اپوزیشن جماعتوں کوہموار سیاسی عمل کے ذریعے آگے بڑھنے کی راہ دینے میں سنجیدہ دکھائی دیتی ہے،چنانچہ اِسی گداز ماحول سے فائدہ اٹھا کر،حکمراں اتحاد سے جڑی،چھوٹی علاقائی جماعتیں بھی اپویشن سے روابط بڑھانے میں مشغول نظر آتی ہیں،جس کی تازہ مثال کراچی کی پاک سرزمین پارٹی کے سربراہ مصطفے کمال کی مولانا فضل الرحمن سے اعلانیہ ملاقات میں ملکی اور بالخصوص سندھ کی سیاسی صورت حال پہ مشاورت کو بھی بدلتے ہوئے سیاسی موسموں کی غماضی سمجھا گیا،اس سے قبل پی ڈی ایم میں شامل دو بڑی جماعتوں کے پیپلزپارٹی سمیت چھوٹے پارلیمانی گروپوں سے خفیہ رابطوں کی خبریں بھی مل رہی تھیں،جس سے عمومی طور پہ یہی تاثر لیا جا سکتا ہے کہ اپوزیشن کی راہ میں حائل وہ آہنی رکاوٹیں ہٹا دی گئی ہیں جو انہیں ہموار سیاسی عمل کے ذریعے آگے بڑھنے یا پیچھے ہٹنے سے روک کے ٹکراو اور مزاحمتی طرز عمل اپنانے پہ مجبور کر رہی تھیں،چنانچہ اس وقت ہماری قومی سیاست میں برسرپیکاراپوزیشن کی لیڈرشپ کے طرز عمل میں پیدا ہونے والاایک قسم کا ٹھہراو اور توازن اِنہی تبدیل ہوتے حقائق کی تصدیق کرتا ہے،اس لئے اب اس امر کا امکان ہر وقت موجود رہے گا کہ اپوزیشن اگلے ایک ڈیڑھ ماہ میں کسی بھی لمحہ وزیراعظم عمران خان کے خلاف آئینی طریقہ کار کے مطابق عدم اعتماد کی تحریک لاسکتی ہے۔سطح کے نیچے پنپنے والے ان تغیرات کی بھنک گورنمنٹ کو بھی ضرور پڑگئی ہو گی چنانچہ اپوزیشن کی سیاسی پیش دستی کے علاوہ مریم نواز کی ہائی کورٹ میں اخراج مقدمہ کی درخواست اور الیکشن کمشن میں زیرسماعت فارن فنڈنگ کیس کی سیکروٹنی کمیٹی کی رپوٹ جیسے واقعات سے اثر لیکر وزیراعظم عمران خان نے اپنی کابینہ کے اجلاس میں سابق وزیراعظم میاں نوازشریف کی ڈیل کے تحت واپسی کے خدشات پہ کھل کے بات کر ڈالی جس کے بعد ڈی جی آئی ایس پی آر کو باقاعدہ پریس کانفرنس کرکے مبینہ ڈیل کے اس حساس معاملہ کی وضاحت کرنا پڑی۔

FaceLore Pakistan Social Media Site
پاکستان کی بہترین سوشل میڈیا سائٹ: فیس لور www.facelore.com

تاہم یہ دونوں باتیں،کابینہ کے اجلاس میں مبینہ ڈیل کی بازگشت اور آئی ایس پی آر کی جوابی وضاحت،بجائے خود اس امر کا ثبوت تھیں کہ اقتدار کی غلام گردشوں میں بھی اپوزیشن کی سیاسی چالوں کے اثرات کو شدت سے محسوس کیا جانے لگا ہے،بلاشبہ سیاست کے مقاصد کے لئے اتنا کافی ہوتا ہے کہ ہم ان مشاہدات کو حقیقی سمجھیں جن کے متعلق مختلف لوگ اور متضاد واقعات ایک جیسی شہادت دے رہے ہوں۔تاہم اب اچانک پیپلزپارٹی کے سربراہ بلاول بھٹو زرداری کی جانب سے 27 فروری کو عمران خان کی حکومت کے خلاف کراچی سے اسلام آباد تک لانگ مارچ کے اعلان سے بظاہر یہی تاثر ابھرا کہ اپوزیشن مربوط انداز میں آئینی طریقوں کو بروکار لاکے رجیم بدلنے کے معاملہ پہ ابھی پوری طرح متفق نہیں ہو سکی،یہ بھی عین ممکن ہے کہ حزب اختلاف کی جماعتیں اپنے خفیہ منصوبوں کو کیموفلاج کرنے کے لئے اس طرح کی متضاد مساعی کے ذریعے حکومت کو اپنے دفاع میں ریاستی وسائل اور طاقت کے استعمال کا موقعہ دینے سے روکنا چاہتی ہوں۔

بہرحال،اس میں تو کوئی شبہ نہیں کہ پیپلزپارٹی کی لیڈر شپ سیاسی تنہائی سے نکلنے کی خاطر کچھ کر گزرنے کے آشوب میں بُری طرح مبتلا ہے لیکن اس کے پاس مستقبل کا کوئی واضح لائحہ عمل ہے نہ اتنی سیاسی استعداد کے وہ تنہا قومی سیاست میں کوئی مو¿ثر سیاسی کردار ادا کر سکے،اس لئے وہ اپنی سیاسی بقاءاسٹلشمنٹ اور بڑی اپوزیشن جماعتوں کے مابین سمجھوتہ کرانے میں تلاش کر رہی ہے،اسی تناظر میں مسٹر آصف علی زراداری کی پٹاری میں اب بھی کئی ایسی مہمل تجاویز موجود ہوں گی جن کا مقصد معروف آئینی طریقوں کے ذریعے عوام کی نمائندہ گورنمنٹ تشکیل دینے کے برعکس طاقت کے مراکز کے ساتھ خفیہ ڈیل کے ذریعے ایسی کمزور حکومت کا قیام شامل ہو گا جس سے نہ صرف دوہزار اٹھارہ کے متنازعہ انتخابات کو وسیع سیاسی توثیق ملے بلکہ پی ٹی آئی گورنمنٹ کی ناکامیوں کا سارا ملبہ بھی اپوزیشن (اقتدار کی حریص)کے کاندھوں پہ آ گرے گا،ایسی ہر مساعی دراصل ہمارے سیاسی تمدن کے مروجہ اسٹیٹس کو برقرار رکھنے کی کوششوں کے مترادف ہو گی،اگرچہ اب سوشل میڈیا کی طلسماتی ابلاغی ٹیکنالوجی کی وسعت اور عالمی سطح پہ رونما ہونے والے کئی غیرمعمولی واقعات کی بدولت ہمارے سماج اور سیاستدانوں کی سوچ میںکئی جوہری تبدیلیاں واقع ہو چکی ہیں۔

اس لئے ماضی کے سیاسی جمود کے تسلسل کو برقرار رکھنا ممکن نہیں ہوگا،ہماری کہنہ مشق لیڈر شپ نے جمہوری آزادیوں اور شفاف انتخابی عمل کے حصول کا جو ہدف متعین کیا اسے پانے کی بجائے اگر دوبارہ سودا بازی کی اسی فرسودہ سیاست کی طرف پلٹنے کی غلطی کی تو انکی قربانیاں اور پوری جدوجہد رائیگاں چلی جائے گی،جس سے دنیا بھر میں اس عظیم قوم کی انسانی ساکھ کو ناقابل تلافی نقصان پہنچے گا۔لاریب،تمام تر داعوی کے باوجود پی ٹی آئی گورنمنٹ خود تو کوئی مثبت تبدیلی لانے میں کامیاب نہیں ہو سکی لیکن اسی پارٹی کے جارحانہ کلچر نے قومی سیاست میں ایسے بے حجاب مزاحمتی رجحانات کی داغ بیل ڈالی جو بلآخر یہاں بنیادی سیاسی تبدیلیوں کا محرک بن گئے۔بہرحال،اس میں بھی کوئی شک نہیں کہ آصف علی زرداری اس وقت تحریک انصاف کی ناکامیوں کے آسیب سے جان چھڑانے کے لئے میدان کار زار میں مزاحمت کرنے والی اپوزیشن جماعتوں کی اعانت کے طلبگار ہیں لیکن پیپلزپارٹی کی قیادت نے دوہزارہ اٹھارہ کے سیاسی بندوبست کی بڑی بینیفشری بن کے اپنے سیاسی مستقبل کو خود پی ٹی آئی کی سیاست کے ساتھ یوں وابستہ کر لیا کہ دونوں جماعتوں کو یکساں انجام سے کوئی نہیں بچا پائے گا۔

Advertisements
julia rana solicitors

پیپلزپارٹی کا مخمصہ بھی یہی ہے کہ وہ منصفانہ الیکشن کے نتیجہ میں وفاقی حکومت حاصل کر سکتی ہے نہ شفاف انتخابی عمل کے ذریعے بلاول بھٹوزرادی کے وزیراعظم بننے کا کوئی امکان موجود ہے،اس لئے وہ مقامی اور عالمی اسٹبلشمنٹ کے ساتھ سمجھوتوں کے ذریعے ایوان اقتدار تک رسائی کے خواہشمند ہیں لیکن بدقسمتی سے فی الوقت انکی سودا بازی کی پوزیشن اسقدر کمزور ہے کہ یہاں طاقتور سیاسی گروپوں کی موجودگی میں ملکی و عالمی مقتدرہ انہیں اتنا کچھ دینے کی روادار نہیں ہو سکتی جتنی پی پی پی کی توقعات ہیں،چنانچہ اسی ناموافق ماحول سے اُکتا کے آصف علی زرداری کبھی کبھی سندھ کارڈ استعمال کرنے کی دھمکیاں دینے پہ بھی اتر آتے ہیں لیکن سندھ میں قوم پرستی کی سیاست کرنے والے گروہوں کے پیپلزپارٹی کے ساتھ مراسم اتنے خوشگوار کبھی نہیں رہے کہ وہ مسٹر بلاول بھٹو زرداری کی دم توڑتی سیاست کو کندھا فراہم کرنے کو تیار ہو جائیں،پچھلے چالیس سالوں میں پیپلزپارٹی نے سندھی قوم پرستی کی بیخ کنی کی قیمت پہ دو بار وفاق میں بے اختیار گورنمنٹ حاصل کرنے کے علاوہ گزشتہ تیرہ سالوں سے سندھ میں بلاشرکت غیرے لیلائے اقتدار سے ہم آغوش رہنے کے مزے لوٹ رہی ہے،اس لئے یہ بھی ممکن ہے آئندہ الیکشن میں ایم کیوایم کے تمام دھڑوں سمیت پیر آف پگاڑہ کا جئے سندھ ڈیموکریٹک الائنس بھی مولانا فضل الرحمن کی جماعت جے یو آئی کے ساتھ مل کے اندرون سندھ کی سیاست پہ پیپلزپارٹی کے طویل سیاسی قبضہ کو تحلیل کرنے میں کامیاب ہو جائیں۔

  • julia rana solicitors
  • julia rana solicitors london
  • merkit.pk
  • FaceLore Pakistan Social Media Site
    پاکستان کی بہترین سوشل میڈیا سائٹ: فیس لور www.facelore.com

Aslam Awan
اس وقت یبوروچیف دنیا نیوز ہوں قبل ازیں پندرہ سال تک مشرق کا بیوروچیف اور آرٹیکل رائٹر رہاں ہوں،سترہ سال سے تکبیر میں مستقل رپوٹ لکھتا ہوں اور07 اکتوبر 2001 سے بالعموم اور 16مارچ 2003 سے بالخصوص جنگ دہشتگردی کو براہ راست کور کر رہاں ہوں،تہذیب و ثقافت اور تاریخ و فلسفہ دلچسپی کے موضوعات ہیں،

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

Leave a Reply