کشمکش آخری مرحلہ میں داخل ہو گئی ؟۔اسلم اعوان

جس سرعت سے سیاسی ماحول میں انتشار بڑھ  رہا ہے،اس سے تو یہی لگتا ہے کہ سویلین اور مقتدرہ کے درمیان ستّر سالوں سے جاری کشاکش کسی فیصلہ کن مرحلہ میں داخل ہونے والی ہے،بدھ کے روز مسلم لیگ نون نے پانامہ نظرثانی کیس کے فیصلہ کے خلاف ردعمل میں سپریم کورٹ کے ذیشان ججز کی جانب سے عدالتی حکم نامہ میں نواز شریف بارے دیے گئے ریمارکس کو مسترد کر کے ملک کے مقبول ترین لیڈر اور تین بار وزیراعظم منتخب ہونے والے شخص کے خلاف استعمال کی گئی زبان کو عدالتی معیار سے پست قرار دیتے ہوئے جس طرح ماضی کی عدالتی تاریخ کا احاطہ کیا اس کی مثال ملنا مشکل ہو گا۔

بلاشبہ واقعات کا تناظر ہی حقائق کے ادارک کا واحد طریقہ ہے اور پانامہ کیس کو ماضی کے عدالتی فیصلوں کے تناظر میں دیکھنا ایک فطری امر تھا،اب سپریم کورٹ کا تین رکنی بنچ عمران خان اور جہانگیرترین کے کسیز کا جو بھی فیصلہ دے گا اسے پانامہ کیس فیصلہ کے میعار پہ پرکھا جائے گا،دلچسپ امر یہ ہے کہ چیف جسٹس ثاقب نثارکی قیادت میں قائم سپریم کورٹ کے تین رکنی بنچ نے اگر عمران کے حق میں فیصلہ دیا تو عدالتی فیصلوں میں امتیاز کی لکیر مزید گہری ہو گی اور اگر فیصلہ خلاف آیا تو عدالتیں پی ٹی آئی کی پاپولر سپورٹ سے محروم ہو جائیں گی،پی پی پی اور لیگی قیادت تو پہلے ہی عدالتوں سے شاکی تھیں اب اگر پی ٹی آئی بھی جوڈیشل ایکٹیوازم کا شکار ہوئی تو اعلی عدلیہ کے لئے ساکھ کو بچانا دشوار ہو جائے گا۔

بیشک ہماری سیاسی تاریخ عدالتی دانش کے ہاتھوں مغلوب رہی اور نظریہ ضرورت پہ محمول عدلیہ کے متنازعہ فیصلوں نے ہمیشہ قومی سیاست کے بہتے دھارے کا رخ موڑ کے زندگی کی بوقلیمونی کو پا بازنجیر رکھا لیکن سچ پوچھیے تو نواز شریف اس وقت جس کارزار میں اترنے جا رہے ہیں وہ حیات اجتماعی کے اسی فطری تلّون کا اظہار ہے جسے زیادہ دیر تک منجمد رکھنا ممکن نہیں تھا،ہمارے سیاسی نظام میں وقفہ وقفہ سے تصادم کے جو شعلے بھڑک اٹھتے ہیں وہ دراصل نادیدہ قوتوں   کی جانب سے سیاست کو کنٹرول کرنے کی گھٹن کا ردعمل ہوتے ہیں۔

اس وقت بھی حقائق کو نظرانداز کر کے مرضی کی سیاسی صف بندی کی کوششیں سماجی انتشار کو بڑھانے کا سبب بن رہی ہیں،ایم ایم اے کی بحالی اورکراچی میں ایم کیو ایم کے تراشیدہ دھڑوں کو ایک مخصوص کردار میں ڈھالنے کی مساعی مملکت کو تباہ کن انتشارکے دلدل میں دھکیل دے گی،رومی دانشور کہتے تھے کہ زندگی کے کھیل میں کچھ قوانین ایسے ہونے چاہییں جنہیں وہ بھی تسلیم کریں جو ان کی خلاف وردی کرتے ہیں،اس لئے بہتر ہو گا سیاسی نظم و ضبط کو اپنے فطری رجحانات کے تحت ارتقاء پذیر ہونے کا  موقع  دیا جائے۔

تمام تر قانونی جکڑبندیوں کے باوجود آزادی سے سوچنا ہمیشہ شخصی اور اجتماعی زندگی کا محور رہا اور آج بھی یہی خواہش زیست کی چھپی ہوئی بنیاد ہے۔ مملکت اس وقت جن مشکل حالات سے گزر رہی ہے اس میں سیاسی نظم و ضبط کے تقاضے زیادہ ناگزیر ہو گئے ہیں،انسانوں کو یہ احساس ملنا چاہیے کہ انہیں کوئی خارجی مقاصد کے لئے استعمال نہیں کر رہا اور قدم قدم پہ انہیں موت کا سامنا نہیں کرنا پڑے گا۔

عمومی مشاہدہ سے اس حقیقت کو سمجھا جا سکتا ہے کہ قانونی تادیب کے باوجود نواز شریف کی بڑھتی ہوئی مقبولیت اسی جمود پرور سوچ کے استرداد کا اظہار ہے کیونکہ ایک مدت سے عوام کی اکثریت کسی ایسے مزاحمتی کردار کی متلاشی تھی جو انہیں اس افسردہ کن جمود سے باہر نکالے جس نے ستّر سالوں سے ہمارے اجتماعی شعورکو لپیٹ میں لے رکھا ہے،پچھلی سات دہائیوں میں ایک ہی بیانیہ اور ایک جیسے الزامات کی تکرار نے معاشرے پہ اکتاہٹ طاری کر رکھی ہے،ٹوٹتی بنتی حکومتوں کا مایوس کن کھیل معاشرے کو پراگندہ اور مملکت کو ہر آن استحکام سے دور لے گیا،چنانچہ تنگ آمد بجنگ آمد کے مصداق پوری سوسائٹی کسی پائیدار سیاسی استحکام کی امید پر اس جنگ میں کودنے کو تیار ہو چکی ہے، جسے نواز شریف اب شروع کرنے والے ہیں۔

قرائین بتاتے ہیں کہ مسلم لیگ کی کہنہ مشق قیادت داخلی اختلافات کے آشوب اور اپوزیشن جماعتوں کے ہوائی حملوں میں الجھے بغیر اپنی توجہ کو سپریم کورٹ کے ججز اور مقتدرہ کو ہدف تنقید بنانے پہ مرتکز رکھنا چاہتی ہے۔چند دن قبل نواز شریف نے لاہور میں وکلاء کنونشن سے خطاب میں ریاستی اشرافیہ کے سامنے جو بارہ سوالات رکھے ان کا اشارہ،طاقت اور عدلیہ کا اتصال تھا۔چنانچہ اب پانامہ کیس فیصلہ کے خلاف نواز شریف کی مزاحمتی تحریک،دوسو کیس سے لے کر حنّا جیلانی، ذوالفقار علی بھٹو کی پھانسی اور ظفرعلی شاہ کیس کے تناظر کو جذب کر لے گی،سیاستدانوں کی تازہ مزاحمت دراصل آزاد عدلیہ کی بحالی اور ایک صحت مند معاشرے کے قیام کی وہی صدائے بازگشت ہے جسے ساٹھ سال قبل نظریہ ضرورت نے خاموش کرا دیا تھا،یہ ایک ابدی اصول ہے کہ جو چیز ابھرتی ہے وہ گرتی بھی ضرور ہے ۔

سیاسی آزادیوں کے حصول کے لئے کسی بھی سیاستدان کی مزاحمتی جدوجہدکو ذاتی منفعت قرار دے کر فکری مغالطوں پیدا کرنے جیسا روایتی الزام اب کار آمد نہیں رہا۔ماضی گواہ ہے کہ عوامی خواہشات کی نمائندگی کرنے والے سیاستدانوں نے ہمیشہ باہمی کھنچاتانی میں سماجی انصاف اور بنیادی آزادیوں کے حصول کی منزل گنوا کے خود کو تاریخ کے عبرت کدوں کی سامان بنایا لیکن اب کی بار صورت حال قدرے مختلف دکھائی دیتی ہے،پیپلز پارٹی سمیت تمام جمہوریت پسند سیاستدان حیات اجتماعی کی حقیقتوں کو فراموش کر کے پاور پالیٹکس کے تقاضوں کے مفید فریب میں مبتلا نہیں ہوں گے،جیمز سٹیفن نے کہا تھا،سیاسی طاقت فقط شکل بدلتی ہے اپنی فطرت نہیں بدلتی”۔

کراچی میں ایم کیو ایم کو پاک سرزمین پارٹی کے ساتھ ملوث کر کے انتشار میں مبتلا کرنے کی حکمت عملی کامیاب نہیں ہو سکی،جس کے  ردعمل میں فاروق ستار پہلی بار ایک ساورن مہاجر لیڈر کے طور پر ابھر کے سامنے آئے،ایم کیو ایم کے بانی الطاف حسین نے اپنی جماعت میں کبھی دوسرے درجہ کی لیڈر شپ کو ابھرنے کا موقع  نہ دیا اور وہ ممبران اسمبلی سمیت رابطہ کمیٹی کے اراکین کو ہمشہ کارکنوں کے ہاتھوں بے آبرو کرا کے متبادل قیادت کے امکانات کو محدود کرتے رہے،اسی نفسیاتی پس منظر میں جب ایم کیو ایم کو الطاف حسین سے جدا کر کے فاروق ستار کے حوالے کیا گیا تو ممبران اسمبلی اور رابطہ کمیٹی سمیت مہاجروں کی اکثریت فاروق ستار کو ذہنی طور پہ لیڈر تسلیم نہ کر سکی،

لیکن پی ایس پی سے اتحاد کے بعد پیدا ہونے والے تنازعات کے نتیجہ میں جب فاروق ستار مستعفی ہوئے تو ایم کیو ایم کے ممبران اسمبلی اور مقامی لیڈرشپ کو ان کی اہمیت کا احساس ملا انہوں نے منت سماجت کر کے انہیں متحدہ کی قیادت سنبھالنے پر آمادہ کیا تو فاروق ستار پہلی بار ایک بااعتماد مہاجر لیڈر بن کر سامنے آئے اور اسی احساس نے انہیں شہداء قبرستان کے تالے توڑنے کی ہمت عطا کی،اگلے مرحلہ میں فاروق ستار کی ایم کیو ایم نائن زیرہ کے تالے توڑ کے سب کو حیران کرسکتی ہے لیکن اسی طریق کے تحت ایم ایم اے کی بحالی مولانا فضل الرحمٰن کے سیاسی مستقبل کو مخدوش کر دے گی،ایم ایم اے کی نو کاغذی جماعتوں میں جماعت اسلامی اور جے یو آئی کے سوا کوئی پارٹی ایسی نہیں جس کا اپنا ووٹ بنک ہو۔

جماعت اسلامی خود بھی فطری زوال کا شکار بن کے معدوم ہونے والی ہے، لاہور کے حلقہ این اے 120 اور پشاور کے این اے 4 میں جماعت اسلامی نے نوزائیدہ لبیک پارٹی سے کم ووٹ حاصل کر کے اپنی کمزوری کو عریاں کر دیا۔مسلم لیگ نواز اور پی ٹی آئی سمیت ملک کی کوئی بڑی پارٹی جماعت اسلامی سے اتحادکو تیار نہیں تھی ،ایسے میں مولانا فضل الرحمٰن جیسے زیرک سیاستدان نے ایم ایم اے کی بحالی کی آڑ میں جماعت اسلامی سمیت دیگر کاغذی جماعتوں کا وبال اپنے سر لے کر اپنی متنوع سیاست کی موت کے اسباب پیدا کئے،چنانچہ دوہزار اٹھارہ کا الیکشن مولانا فضل الرحمٰن کا رومال چرانے کا میلہ ثابت ہو گا،ہمارے خیال میں ایم ایم اے بحالی کی بجائے مولانا فضل الرحمٰن اگر مسلم لیگ نواز، اے این پی،پیپلزپارٹی اور قومی وطن پارٹی سے سیٹ ایڈجسٹمنٹ کرتے تو اسے عام انتخابات میں بہتر نتائج مل جائیں گے۔

Aslam Awan
Aslam Awan
اس وقت یبوروچیف دنیا نیوز ہوں قبل ازیں پندرہ سال تک مشرق کا بیوروچیف اور آرٹیکل رائٹر رہاں ہوں،سترہ سال سے تکبیر میں مستقل رپوٹ لکھتا ہوں اور07 اکتوبر 2001 سے بالعموم اور 16مارچ 2003 سے بالخصوص جنگ دہشتگردی کو براہ راست کور کر رہاں ہوں،تہذیب و ثقافت اور تاریخ و فلسفہ دلچسپی کے موضوعات ہیں،

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *