گورننس اور نوکر شاہی کا رویہ۔۔اسلم اعوان

خیبرپختون خوا میں گورننس کے مسائل اسقدرگھمبیر ہیں جنہیں مینیج کرنا روزبروز ناممکنات سے قریب تر ہوتا جا رہا ہے،بلا سوچے سمجھے نت نئے قوانین متعارف کرانے کے نتیجہ میں چین آف کمانڈ مفقود ہوگئی،اس لئے اب یہاں مربوط حکومتی اتھارٹی کا کوئی وجود نظر نہیں آتا،بظاہر ہم ایک قسم کی طوائف الملوکی کے نزدیک آن پہنچے ہیں،جہاں ضلعی سطح کے تمام سرکاری محکمہ جات مطلق العنانی سے لطف اندوز ہوتے دکھائی دیتے ہیں،سرکاری اہلکارکسی چین آف کمانڈ کی کامل اطاعت یا قوائد و ضوابط کے تحت اجتماعی مساعی کے برعکس نہایت دیدہ دلیری سے من مانی کرکے سماجی نظم و ضبط کو اُدھیڑنے میں مشغول ہیں۔ڈپٹی کمشنر کا وہ ادارہ جو کبھی سرکار خاطر مدار کی حیثیت سے گورنمنٹ کا چہرہ اور قومی املاک کے کسٹوڈین کے طور پہ ضلعی سطح کے تمام وفاقی و صوبائی محکموں کو مینیج کرتا تھا،اب اپنے وسیع کردار سے دستبردار ہو کے خود کو چھوٹے موٹے ترقیاتی کاموں کی”موثر نگرانی“ تک محدود کر بیٹھا ہے،چنانچہ اعلی ترین سرکاری اہلکار آمور مملکت کی انجام دہی پہ غور و فکر کی بجائے ہر وقت اپنی تنخواہوں اور مرعات میں اضافہ کے جھنجھٹ میں سرگرداں رہتے ہیں،وہ کسی مشکل اسائنمنٹ میں ہاتھ ڈالنے یا اپنی صلاحیتوں کو آزمانے سے دانستہ گریز میں عافیت تلاش کرتے ہیں چنانچہ ہزاروں اہلکاروں اور درجنوں سرکاری محکموں کی موجودگی کے باوجود معاشرے میں بدامنی اور تشدد کا محرک بننے والے پریشر گروپوں کے باغیانہ رویے،بازاروں اور شاہراہوں پہ تیزی سے بڑھتے تجاوزات،شہری علاقوں میں صحت و صفائی کی ابتر صورت حال،ٹریفک جام اور گراں فروشی و ملاوٹ جیسے مہلک مسائل کو کنٹرول کرنے والی کوئی اتھارٹی دکھائی نہیں دیتی۔بجلی کی طویل غیراعلانیہ بندش کے نتیجہ میں پیدا ہونے والے معاشی اورسماجی مسائل کو ڈسٹرک لیول پہ سنبھالنے کا خیال کسی کو نہیں رہا،یہاں اندرون شہر کے گنجان آباد علاقوں میں راتوں کو دس دس گھنٹے بجلی غائب اور اٹھارہ سے بیس گھنٹے کی غیر قانونی لوڈشڈنگ کے باوجود کمشنر اورڈپٹی کمشنر کے کان پہ جُوں تک نہیں رینگتی۔پولیس کی طرف سے چوری کی ایف آئی آر کے اندراج سے گریز کی وجہ سے چوریوں سمیت اسٹریٹ کرائم کی واردتیں روز افزوں ہیں،حالت با این جا رسیدکہ پشاور جیسے شہر میں رکشہ ڈرائیور تک ٹریفک پولیس کی پرواہ نہیں کرتا،ہر مسئلہ کے حل کےلئے مجبور شہریوں کو پُرتشدد مظاہرے کرکے وزیراعظم اور وزیراعلی کی توجہ حاصل کرنا پڑتی ہے۔ابھی حال ہی میں کمشنر کی سطح کے ایک اعلی آفیسر کی توجہ اربوں روپے کی سرکاری اراضی پہ ایک مذہبی تنظیم کے اعلانیہ قبضہ کی طرف مبذول کرائی گئی تو ان کا جواب تھا ”Let the sleeping dog is lie “یعنی سرکاری افیسر قومی املاک کے تحفظ اور شہریوں کی زندگی کو متاثر کرنے والے مسائل کو حل کرنے کے لئے اپنی اتھارٹی اور اُن ذہنی صلاحیتوں کو بروکار لانے کو تیار نہیں جن کے عوض انہیں لامحدود اختیارات اورغیرمعمولی مراعات مل رہی ہیں،وہ فرض کی ادائیگی کی بجائے معمول کے مسائل کو قالین کے نیچے چھپا کر زیادہ مہلک بنانے میں جھجھک محسوس نہیں کرتے،اِسی مشق ستم کیش کی بدولت لاینحل مسائل کے انبار ہمارے ریاستی ڈھانچہ کی مجموعی استعداد سے بڑھ گئے ہیں،ستم بالائے ستم یہ ہے کہ اب بھی پولیس اور بیوروکریسی مغربی بارڈر پہ چالیس سالوں سے جاری جنگ کے نتیجہ میں پیدا ہونے والے پیچیدہ مسائل کونمٹانے کی بجائے بدستور انہیں ڈمپ کرنے کی پالیسی پہ عمل پیرا ہیں۔ہمارے روزمرہ مسائل کی پیچیدگیاں بڑھنے سے گورننس کمزور اور ناقص تعامل کے اسباب دوچند ہوتے جا رہے ہیں،اب اگر پشاور اور ڈیرہ اسماعیل خان میں کوئی آشفتہ سر تجاوزات کو ہٹانے کی جسارت کرے تو بپھرے ہوئے لوگ بغاوت پہ اتر آتے ہیں،ابھی چند روز قبل انتظامیہ نے بھکر کی حدود میں واقع خیبرپختون خوا کے محکمہ سی اینڈ ڈبلیو کی ہزاروں ایکڑ اراضی واگزار کرنے کی کوشش کی تو مقامی ممبران اسمبلی کی پشت پناہی کے حامل قابضین نے سرکاری عملہ پہ فائرنگ کرکے آپریشن ناکام بنا دیا،اس معاملہ کا وزیراعظم کو نوٹس لینا پڑا لیکن اب بھی عملاً صورت حال جُوں کی تُوں ہے۔اعمال حکومتی کی کم ہمتی اورگریز پائی نے سرکاریٍ اداروں اور شہریوں کے درمیان اعتماد کے رشتوں کوکمزور کردیا،جب قومی وسائل پہ چند طاقتور افراد کا قبضہ ہو،تمام تر اثر و رسوخ،عہدے اوردولت انہی میں مرتکز ہوتی جا رہی ہو توعام لوگ قومی تعمیر و ترقی میں کردار ادا کرنے کی بجائے اپنی قیمتی زندگیوں کو دیگر لوگوں کی تفریح طبع میں ضائع کرنے کے لئے آمادہو جاتے ہیں،بلاشبہ ایک مضبوط حکومت ہی ہمیں امن اور بہترین نظم و ضبط فراہم کر سکتی ہے۔بادی النظری میں یہی لگتا ہے کہ ملک کے مشکل جغرافیہ کے علاوہ چاروں صوبوں کی مضبوط نسلی شناخت سے جڑے ہوئے سیاسی تعصبات کے اثرات انتظامی ڈھانچہ تک سرایت کرگئے ہیں جس کی تطہیر کا عمل زیادہ پیچیدہ اور دشوار ہو گا کیونکہ معاشرے کو منظم کرنے والی سیاسی پارٹیوں کی کمزوریوں نے قوم کو منقسم کرکے مملکت کے لئے ایسے چیلنجز پیداکئے جن سے نمٹنے اور قومی سلامتی کی ضمانت حاصل کرنے کے لئے ریاست کو مذہبی گروہوںکو متحد کرنے والے عنصر کو فروغ دینا پڑا،جس کے نتیجہ میں مجموعی سیاسی عمل زیادہ پراگندہ ہوتا گیا۔دور افتادہ علاقوں میں عسکریت پسندوں کے اثرات پہ قابو پانے کے لئے فورسز کے استعمال کے باعث بھی ضلعی سطح کا انتظامی ڈھانچہ بُری طرح متاثر ہو رہا ہے،جنگجو گروپوں کی جارحانہ کارروائیوں کی وجہ سے دو ملین کے لگ بھگ قبائلی نقل مکانی کرکے شہروں میں آ بسے،جہاں پہلے سے بجلی،پانی اورمکانات کی ناکافی تعداد کے باعث کئی سماجی و نفسیاتی مسائل جنم لینے لگے ہیں،اس لئے سکون آور ادویات کا استعمال بڑھ گیا،خودکشی اور گھریلو تشدد کے واقعات میں غیر معمولی اضافہ دیکھنے کو ملا۔ ان حالات میں پنجاب، سندھ، خیبرپختون خوا اور بلوچستان کے ہنماؤں کو مشترکہ قومی تعمیر پر غور کرنے کی ضرورت تھی لیکن کئی نادیدہ قوتیں ان سماجی اکائیوں کو باہم جڑنے سے روکتی ہیں۔اگست 2001میں تین درجوں پہ مشتمل لوکل گورنمنٹ سسٹم کے نافذ کی اصل منشا بھی ریاستی ڈھانچہ کو زیادہ فعال اور انٹرایکٹو بنانا تھی تاکہ سیاسی، مالیاتی اور انتظامی اتھارٹی کو نچلی سطح تک منتقل کرکے مقامی طور پر انتظام،سروسز اور وسائل کی ترسیل کی بہتر سہولت فراہم کرنے کے علاوہ عام لوگوں کو فیصلہ سازی کے عمل میں شراکت کا احساس دیا جائے، تاہم ناراض بیوروکریسی نے ان تجربات کی توثیق کی بجائے نوزائیدہ نظام کو حالات کے رحم و کرم پہ چھوڑ کر ایسا انتظامی خلاءپیدا کیا،جس کے نتیجہ میں نئے مسائل ابھر کر سامنے آئے، جیسے سیاسی بنیادوں پراختیارات کی منتقلی،میرٹ کی بنیاد پر بھرتی کا فقدان،عملہ کی تعداد اور وسائل کی تقسیم جیسے تنازعات کھڑے کر دیئے گئے،افسوس کہ کوشش بسیار کے باوجود گورنمنٹ معاشرے سے اپنے روابط کو مضبوط کرنے میں ناکام رہی،چنانچہ افراتفری ناگزیر عمل بن کے ہمارا تعاقب کرنے لگی،جس نے سسٹم کے قلیل مدتی استحکام کے اثرات کو بھی کند بنا دیا۔اسی سرگرانی کی بدولت گزشتہ 30 سالوں میں حکومت، معاشرے اور ٹیکنالوجی کے درمیان کوئی مفید ربط پیدا نہیں ہو سکا لیکن عملی طور پر زیادہ تر پیشرفت تشویش کے مختصر طور پر بیان کردہ زمرہ جات جیسے کہ حکومتی تنظیم، شہری خدمات، باہمی انحصار، یا ذاتی رازداری کے عہد و پیماں کے فقدان کی صورت میں سامنے آئی،اس لئے مستقبل میں زیادہ پیچیدہ اور متحرک چیلنجز سامنے آنے کا اندیشہ بڑھ گیا ہے،جو زیادہ مربوط اور لچکدار نقطہ نظر کا طلب گار ہو گا۔ مستقبل کے ڈیجیٹل دور میں حکومتی نظم و نسق کی مسلسل ترقی کے لئے رجال کار کے گہرے انہماک اور مناسب انفراسٹرکچر کی ضرورت پڑے گی،لاریب،سی پیک منصوبہ مستقبل کے انہی تقاضوں کو پورا کر سکتا تھا لیکن یہ قیمتی مساعی بھی ہماری خارجہ پالیسی کی حرکیات کی نظر ہو گئی۔یہی فریم ورک متحرک سماجی تکنیکی نظام کی عکاسی کرتا ہے،جس میں سماجی رجحانات، انسانی عناصر، بدلتی ہوئی ٹیکنالوجی، انفارمیشن مینجمنٹ، تعامل، پیچیدگی اور حکومت کے مقصد اور کردار کے درمیان عمل کی نوعیت کی توضیح کی جانی تھی لیکن سوال یہ ہے کہ ہمارے ارباب بست و کشاد مستقبل میں ہمارے سماج کی فطری اساس کو برقرار رکھ پائیں گے؟ مغربی ماہرین کے مطابق جدید معاشرے کے طاقتور اوزار ایک قسم کا تکنیکی عزم پیدا کرتے ہیں جو قدرتی دنیا کی تفہیم کو مصنوعیت سے بدل دیتا ہے،جس سے انسان کی فطری آزادی خطرات سے دوچار ہو سکتی ہے۔ ان کے خیال میں،یہ سافٹ ویئر کی تکنیکی مداخلتیں مختلف معاشی اور سماجی اصولوں کے مطابق چلنے والی ٹیکنالوجی کی نئی صورتوں پراقدارکی پرانی شکلوں کا اطلاق نہیں کر سکتیں جس کے نتیجہ میں ایک نئی قسم کا معاشرہ ابھر رہا ہے، جو پیدواری عمل کی بجائے ڈیجیٹل خدمات پر مبنی ہو گا اور جس کے میکنزم میں اخلاقیات کی دھجیاں اڑانے کے بعد پورا سماج ایک بے شناخت ہجوم کا لبادہ اوڑھ لے گا۔

  • FaceLore Pakistan Social Media Site
    پاکستان کی بہترین سوشل میڈیا سائٹ: فیس لور www.facelore.com
  • julia rana solicitors
  • julia rana solicitors london
  • merkit.pk

Aslam Awan
اس وقت یبوروچیف دنیا نیوز ہوں قبل ازیں پندرہ سال تک مشرق کا بیوروچیف اور آرٹیکل رائٹر رہاں ہوں،سترہ سال سے تکبیر میں مستقل رپوٹ لکھتا ہوں اور07 اکتوبر 2001 سے بالعموم اور 16مارچ 2003 سے بالخصوص جنگ دہشتگردی کو براہ راست کور کر رہاں ہوں،تہذیب و ثقافت اور تاریخ و فلسفہ دلچسپی کے موضوعات ہیں،

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

Leave a Reply