کیا محمد بن سلمان کے برے دن شروع ہونے والے ہیں؟

امریکی سفارتی ذرائع کا کہنا ہے کہ واشنگٹن نے سعودی عرب کے ولی عہد کے استثنیٰ کی مخالفت کی ہے۔

سعودی لیکس ویب سائٹ کے مطابق ریاض سعد الجباری کیس میں سعودی عرب کے ولی عہد کے کردار کے بارے میں بہت فکر مند ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ ریاض نے واشنگٹن سے بن سلمان سے استثنیٰ کا مطالبہ کیا ہے جس کی امریکی سخت مخالفت کر رہے ہیں۔

FaceLore Pakistan Social Media Site
پاکستان کی بہترین سوشل میڈیا سائٹ: فیس لور www.facelore.com

سفارتی ذرائع کا کہنا ہے کہ سعودی عرب کے ولی عہد شہزادہ محمد بن سلمان نے اپنے مفاد میں امریکی عدالت میں فیصلہ آنے کے مقصد سے کوششیں شروع کر دی ہیں۔

انہوں نے اس کام کے لیے ’پریشر گروپس‘ بھی بنائے ہیں۔سعودی کابینہ نے امریکا میں پریشر گروپس کو استعمال کرنے کے لیے بڑی رقم کی منظوری دے دی ہے۔ یہ سب کچھ اس لیے کیا جا رہا ہے کہ بن سلمان کے خلاف سعد الجبری کی شکایت کو بے اثر کر دیا جائے۔

بتایا جا رہا ہے کہ الجباری کے پاس کچھ ایسے شواہد ہیں جو سعودی عرب کے لیے مشکل مشکلات پیدا کر سکتے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ محمد بن سلمان کافی عرصے سے سعد الجباری کو پوری صلاحیت کے ساتھ سعودی عرب کے حوالے کرنے کے عمل میں مصروف ہیں۔

قابل ذکر ہے کہ کینیڈا میں مقیم سعودی عرب کے سابق وزیر نے سعودی عرب کے ولی عہد کی جانب سے خود کو قتل کروانے کی بات کہی ہے۔

سعد بن خالد الجبری نے ایک انٹرویو میں کہا تھا کہ محمد بن سلمان مجھے کسی بھی وقت قتل کر سکتے ہیں۔ 2017 میں سعودی عرب سے فرار ہو کر کینیڈا میں جلاوطنی کی زندگی گزارنے والے سعد الجباری نے کہا کہ سعودی عرب کے ولی عہد شہزادہ محمد بن سلمان نے وہاں میرے بچوں کو یرغمال بنا رکھا ہے اور وہ مجھے مارنے کی کوشش کر رہے ہیں۔

Advertisements
julia rana solicitors

بتایا جا رہا ہے کہ سعد الجباری اس وقت سعودی ولی عہد محمد بن سلمان کے لیے ایک پیچیدہ مسئلہ بن چکے ہیں۔ وہ اس وقت انتہائی سخت حفاظتی انتظامات کے تحت کینیڈا میں مقیم ہیں۔

  • FaceLore Pakistan Social Media Site
    پاکستان کی بہترین سوشل میڈیا سائٹ: فیس لور www.facelore.com
  • merkit.pk
  • julia rana solicitors
  • julia rana solicitors london

خبریں
مکالمہ پر لگنے والی خبریں دیگر زرائع سے لی جاتی ہیں اور مکمل غیرجانبداری سے شائع کی جاتی ہیں۔ کسی خبر کی غلطی کی نشاندہی فورا ایڈیٹر سے کیجئے

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

Leave a Reply