• صفحہ اول
  • /
  • کالم
  • /
  • اعلیٰ تعلیمی اداروں کا ارتقائی ماحول۔۔اسلم اعوان

اعلیٰ تعلیمی اداروں کا ارتقائی ماحول۔۔اسلم اعوان

چند دن قبل اسلامیہ یونیورسٹی آف بہاولپور کی انتظامیہ نے پنجاب اور ملحقہ علاقوں سے تعلق رکھنے والے چند کالم نویسوں کو جنوبی پنجاب کی اُس ابھرتی ہوئی جامعہ کا مطالعاتی وزٹ کرایا،جہاں ہمیں علم و آگاہی کی متضاد جہتوں کو سمجھنے کا نادر موقع  ملا،بلاشبہ اسلامیہ یونیورسٹی آف بہاولپور،عہد ِجدید کے تقاضوں سے ہم آہنگ ایسے متنوّع تعلیمی ماحول کی نمائندگی کرنا چاہتی ہے جو نہ صرف علم و تحقیق کے عالمی سرچشموں سے وابستہ ہو بلکہ اپنے سماج کی اجتماعی دانش اور مقامی تہذیب و ثقافت کی آبیاری کا دوطرفہ فریضہ بھی سرانجام دے سکے۔تیرہ سو ایکڑ پہ محیط اس عظیم مادرِ علمی نے اپنی آغوش میں 53 ہزار سے زائد طلبہ کوسنبھالا  ہوا ہے،یہاں ساڑھے بارہ سو ایسے ماہر اساتذہ ہمہ وقت محو تعلیم و تدریس ہیں،جنہیں عملی زندگی میں بھی اپنی صلاحیتوں کو آزمانے کی خصوصی اجازت دی گئی تاکہ یونیورسٹی کی فیکلٹی کو صرف کتابی علم ہی نہیں بلکہ زندگی کے عملی تجربات سے استعفادہ کے مواقع بھی مل سکیں ۔

بلاشبہ،حقیقی سائنس کا منصب یہی ہے کہ وہ شعور کو عملی زندگی کے مختلف پہلوؤں پہ عائد کرنے کے طریقے بتائے۔البتہ اسلامیہ یونیورسٹی میں پی ایچ ڈی ،ایم فِل اور بی ایس ڈگری کے پروگراموں میں پڑھنے والے طلبہ کے تعلیمی معیار کی نگرانی کے طریقہ کار بارے کسی میکانزم کی نشاندہی نہیں کی گئی،اگرچہ اعلیٰ تعلیم کے کثیر جہتی معیار کی پیچیدگیوں کو محض ایک نشست میں سمجھنا ممکن نہ تھا تاہم فی الوقت دنیا بھر میں اعلیٰ تعلیم کے معیارات کی نگرانی کے اصولوں پہ بحث جاری ہے تاکہ تیزی سے بدلتی دنیا میں تعلیمی معیار پر توجہ مرکوز رکھنے کے سسٹم میں تبدیلی ممکن بنائی جا سکے۔یہ دلیل بھی دی گئی کہ معیار کی نگرانی کے دوران سٹوڈنٹ کی تعلیم متاثر ہوئی اس لئے بہت سی خوبیوں کے باوجود اعلیٰ  تعلیم کی کوالٹی مینجمنٹ کا کالجوں اور یونیورسٹیوں پر بہت کم اثر پڑا،نئے طریقہ کار میں اکیڈمی کو درپیش سب سے اہم سوالات کو نظر انداز کردیا گیا،جس میں فیکلٹی کی مدت، نصاب، ٹیوشن اور اسکالرشپ کی مدد سے متعلق فیسوںکا تعین شامل ہے،ہمارے ماہرین کے پاس ان ایشوز بارے کہنے کوکچھ نہیں،چنانچہ تعلیمی ثقافت کی نوعیت اور اعلیٰ تعلیم کی صحیح وضاحت میں دشواری کی وجہ سے کئی مسائل جنم لینے لگے،عالمی سطح پر اعلیٰ تعلیم میں جس نوع کی تبدیلیاں آرہی ہیں اُن کا باریک بینی سے تجزیہ درکارتھا لیکن ہماری جامعات میں علمی حوالوں سے تنقیدی رجحان کی حوصلہ افزائی نہیں کی گئی۔

FaceLore Pakistan Social Media Site
پاکستان کی بہترین سوشل میڈیا سائٹ: فیس لور www.facelore.com

اسلامیہ یونیورسٹی نے پہلی بار یہاں نرسنگ مینجمنٹ سائنسز کا ایسا منفرد پروگرام متعارف کرایا،جس میں عالمی معیار کا پیرامیڈیکل اسٹاف تیار کرنے کی کوشش کی جائے گی،نرسنگ ڈیپارٹمنٹ کی بریفنگ کے دوران بتایا گیا کہ بین الاقومی معیارکے مطابق ایک ڈاکٹرکے ساتھ 5 نرسسز درکار ہیں،مجموعی طور پہ ہمیں 10 لاکھ پیرامیڈیکس کی ضرورت ہے لیکن ملک بھر میں سالانہ 30 ہزار ڈاکٹرز اورصرف 5 ہزار نرسسز تیار ہو پاتی ہیں،مڈل ایسٹ میں چین اور انڈیا نرسنگ اسٹاف کی فراہمی کے ذریعے بھاری زر مبادلہ کما رہا ہے۔بلاشبہ،نرسنگ بھی ان تبدیلیوں سے مستثنیٰ نہیں،جنہیں عالمی مارکیٹ میں مسابقتی ہونے کے لئے اپنانا ضروری ہے۔نرسنگ کے تعلیمی عمل کی پیچیدگیوں اور اس کی ارتقائی تبدیلیوں کو حل کرنے کے لئے بھی مزید تحقیق کی ضرورت پڑے گی۔مجموعی طور پر، نرسوں یا طالب علم نرسوں کے علم اور مہارت سے متعلق ای لرننگ اور روایتی طریقوں سے سیکھنے کے درمیان کوئی شماریاتی فرق تو نہیں تاہم، ای لرننگ تعلیم کا ایسا متبادل طریقہ پیش کرتی ہے جس سے مستقبل کے اقدامات کا انتخاب کرتے وقت مواد کے واضح تصور کے ساتھ موزونیت کے تعین میں بھی سہولت ملتی ہے۔اسلامیہ یونیورسٹی میں تعلیم و تعلّم کے علاوہ معاشرتی اصلاحات اور طلبہ کے سیرت و کردار کی تعمیر کے لئے50 سے زیادہ سٹوڈنٹس سوسائیٹیز متعارف کرائی گئیں،جن میں آداب زندگی سے لیکر آرٹ،کلچر اور فنون لطیفہ کے عہد حاضر کے تقاضوں کے مطابق مختلف زاویوں سے فلسفیانہ تجزیہ کی مشق کرائی جاتی ہے۔

ہرچند کہ اسلامیہ یونیورسٹی بہاولپور رینکنگ میں پاکستان کی بارہویں یونیورسٹی ہے تاہم آئی ٹی سافٹ ویئر سالوشن اور نالج بیس اکانومی کی استواری کے ذریعے موجودہ انتظامیہ اسے دنیا کی پہلی100یونیورسٹیز کی فہرست میں جگہ دلانے کی تگ و دو میں سرگرداں ہے۔فی الوقت اسلامیہ یونیورسٹی کا سالانہ آپریشنل بجٹ 07 ارب روپے ہے،جس میں سے52 فیصد گورنمنٹ دیتی ہے،کم و بیش 75فیصد اخراجات یونیورسٹی خود مہیاکرتی ہے،انتظامیہ کے مطابق اگلے سال تک یونیورسٹی کا آپریشنل بجٹ 10 ارب تک پہنچ جائے گا،امسال وفاقی اور صوبائی حکومتوں کی طرف سے یونیورسٹی 8 ارب روپے کی اضافی گرانٹ بھی فراہم کی گئی۔لاریب،دور افتادہ تعلیمی ادارے کی اتنی وسیع پیمانے پہ مالی معاونت جنوبی پنجاب کی محرومیوں کے تاثرکا ازالہ کر سکتی ہے۔وائس چانسلر نے بتایا کہ دور دراز سے آئے طلبہ کے لئے رہائش کی مناسب گنجائش کے علاوہ یونیورسٹی انتظامیہ نے نجی سیکٹر میں بنائے گئے ایسے ہاسٹلزمیں طلبہ کو رہائش کی اچھی سہولیات دلانے کا ایسا بندوبست بھی کر رکھا ہے جن میں طعام و قیام کی معیاری سروسیسز فراہم کی جاتی ہیں،وہاں سے پک اینڈ ڈراپ سروس یونیورسٹی خود دیتی ہے،صرف اِسی سے1800مقامی افراد کو روزگار بھی میسر آیا۔مادر علمی کے 8 ہزار طلبہ کو احساس پروگرام کے علاوہ برٹش کونسل اور یو ایس ایڈ سے وظائف مل رہے ہیں۔مقامی صحافیوں نے بتایا کہ بہترین علمی خدمات کی بدولت ستارہ امتیاز کا اعزا پانے والے اسلامیہ یونیورسٹی کے وائس چانسلر ڈاکٹر اطہر محبوب فلوریڈا سے الیکٹرنکس میں پی ایچ ڈی کی ڈگری حاصل کرنے کے علاوہ دوہزار پانچ میں ابن خلدون سسٹم کی بنیاد رکھنے والے پہلے ماہر تعلیم ہیں۔

یونیورسٹی نے تقسیم ہند سے قبل اسی جامعہ اسلامیہ(جسے 1973یونیورسٹی کا درجہ دیا گیا)کی بنیاد رکھنے والے نواب آف بہاولپور صادق عباسی کے نام سے چیئر منسوب کراکے ریاست بہاولپور کی درخشدہ سی  روایات اور عباسی خاندان کے طرز حکمرانی کی علامتی صورتوں کو محفوظ بنانے کی گنجائش پیدا کر لی،ڈاکٹر اطہرمحبوب ایسے فعال اور پروگریسو منتظم واقع ہوئے ہیں،جنہوں نے تھوڑے عرصہ میں اس ادارے کو علمی،انتظامی اور معاشی طور پہ اسقدر منظم کر لیا کہ اگلے چند سالوں میں یہی یونیورسٹی جنوبی پنجاب کی تمدنی،سیاسی اور اقتصادی حرکیات کو بدل دے گی۔ابھی حال ہی میں اسلامیہ یونیورسٹی نے گجرات انڈسٹریزکے ساتھ مل کر یہاں سستی ماہر لیبر کی فراہمی کے ذریعے انڈسٹریل بوم لانے کے ایم و یوز پہ دستخط کئے۔جنوبی پنجاب کے دور افتادہ خطہ کی تیزی سے ترقی پاتی اس عظیم درس گاہ کو پھلتا پھولتا دیکھ کے اتنی بات ضرور سمجھ آئی کہ محرومیوں کا واویلا کرنے کی بجائے اگر مقصد کا شعور،کام کرنے کی لگن اور زندگی کے میدان میں آگے بڑھنے کی صلاحیت موجود ہو تو انسان نہ صرف اپنا حق لے لیتا ہے بلکہ ترقی کی دوڑ میں دوسروں سے آگے بھی نکل سکتا ہے،بیشک، انسانی کامیابیوں کا مدار اسکی اپنی آرزوں کی توانائی میں مضمر ہوتا ہے،محض محرومیوں کا رونا رونے یا پھر اپنی ناکامیوں کا دوش دوسروں کو دینے سے مظلومیت کا طوق تو مل جائے گا،حقوق نہیں ملتے،امر واقعہ بھی یہی ہے کہ ہر ترقی یافتہ قوم نے دنیا میں عزت کا مقام قوت بازو سے حاصل کیا۔

کنفیوشس کہتے ہیں،فطرت کوئی دعویٰ  کئے بغیر اپنا فرض نبھاتی ہے،اگر تمہیں دانش و امن چاہیے تو فطرت کی مانند خاموشی سے کام کرنے کی عادت اپنائیں“۔اس حقیقت سے بھی انکار ممکن نہیں کہ جنوبی پنجاب کے جاگیردانہ تمدن میں انتھک محنت کرنے والے پروگریسو ذہن جِلا نہیں پا سکے بلکہ اس مغموم خطہ میں مدت سے ایک افسردہ کن غلامانہ ذہنیت پروان چڑھتی رہی،وسیب میں جنم لینے زرخیز دماغ گھٹن کے ماحول کو ترک کرکے لاہور،کراچی یا اسلام آباد جا براجے،پیچھے فقط یاسیت پسند شاعر،حالات کا ماتم کرنے والے مایوس سیاسی کارکن یا پھر وہ ہوشیار وڈیرے رہ گئے،جو عام لوگوں کو تعصبات کی افیون کھلا کے بیکار بناتے رہے۔سپائی نواز نے کہا تھا”کسی سے نفرت دراصل اپنی کم مائیگی کا اعتراف ہے،عالی ظرف اور بلند فکر رکھنے والے ہمیشہ عفو ودرگزر کی صفات سے بہرور رہتے ہیں“۔

Advertisements
julia rana solicitors

بلاشبہ روح کی رفعت اس وقت مرجھا کے ذلت و خواری میں غرق ہو جاتی ہے،جب انسان فانی اور ناپائیدار دلچسپیوں کی لذتوں میں محو ہوکے لافانی قوتوں کی نشو و نما کو بالائے طاق رکھ دے۔تاریخی دلچسپی کے لئے یہاں اس بات کا تذکرہ بھی ضروری ہے کہ سابق وزیراعظم ذولفقار علی بھٹو نے اپنے عہد حکومت میں جن تین یونیورسٹیز کا سنگ بنیاد رکھا،ان میں ڈیرہ اسماعیل خان کی گومل یونیورسٹی کے علاوہ بہاوالدین ذکریا یونیورسٹی ملتان اور اسلامیہ یونیورسٹی بہاوپور شامل تھیں،بدقسمتی سے ملتان اور ڈیرہ اسماعیل خان کی یونیورسٹیز تو روز اول ہی سے لسانی کشمکش کا اکھاڑہ بن کے انتظامی اور معاشی بحرانوں میں الجھ گئیں تاہم اسلامیہ یونیورسٹی بہاولپور کے منتظم نے اپنی بہترین صلاحیتوں سے اس مادر علمی کو ترقی کی راہ پہ گامژن کرکے خطہ کی تقدیر اور مقامی سماج کی پوری سوچ بدل ڈالی۔

  • julia rana solicitors
  • FaceLore Pakistan Social Media Site
    پاکستان کی بہترین سوشل میڈیا سائٹ: فیس لور www.facelore.com
  • merkit.pk
  • julia rana solicitors london

Aslam Awan
اس وقت یبوروچیف دنیا نیوز ہوں قبل ازیں پندرہ سال تک مشرق کا بیوروچیف اور آرٹیکل رائٹر رہاں ہوں،سترہ سال سے تکبیر میں مستقل رپوٹ لکھتا ہوں اور07 اکتوبر 2001 سے بالعموم اور 16مارچ 2003 سے بالخصوص جنگ دہشتگردی کو براہ راست کور کر رہاں ہوں،تہذیب و ثقافت اور تاریخ و فلسفہ دلچسپی کے موضوعات ہیں،

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

Leave a Reply