لبرل یا اسلامی پاکستان

لبرل یا اسلامی پاکستان
راجہ کاشف علی
پاکستان میں اس بحث میں شدت آتی جارہی ہے کہ قائد اعظم محمد علی جناح کے نظریات کے مطابق ریاست ِ پاکستان میں طرز حکومت کے بنیادی خدوخال کیا تھے؟کیا جناح ایک اسلامی جمہوری ریاست چاہتے تھے یا لبرل سیکولر جمہوری ریاست؟
قائد اعظم محمد علی جناح کی مختلف تقاریر کو بطور حوالہ پیش کیا جاتا ہے کہ فلاں موقع پر جناح نے یہ کہا تھا اور فلاں موقع پر وہ کہا تھا۔اس بات سے قطع نظر کہ جناح نے کیا کہا تھا اور کیا نہیں کہا تھا سوال یہ بھی ہے کہ کانگریس ہندوستان میں کون سا طر زحکومت چاہتی تھی؟یقیناً جواب تو یہی ہے جو نظر بھی آتا ہے اورآج کا ہندوستان اس کا برملا اظہار بھی کرتا ہے کہ وہ دنیا کی سب سے بڑی لبرل سیکولر جمہوری ریاست ہے۔تو پھر جناح کس قسم کی لبرل سیکولر جمہوری ریا ست چاہتے تھے؟ اگر یہی مطالبہ کانگریس بھی کر رہی تھی تو جناح کو بھی ایسا ہی مطالبہ کیوں کرنا پڑا؟قائد اعظم محمدعلی جناح نے سیاست کا آغاز کانگریس سے کیا تھا اور عرصہ تک ہندو مسلم اتحاد کے علم بردار بھی رہے تھے،تو کچھ ایسا ہو ا ہوگا کہ جناح آل انڈیا مسلم لیگ میں شامل ہو گئے ؟
یقیناً کانگریسی رویوں نے جناح کو مجبور کیا ہوگا کہ وہ آل انڈیا مسلم لیگ میں شامل ہوجائیں۔
آل انڈیا مسلم لیگ کیا چاہتی تھی؟آل انڈیا مسلم لیگ کے قیام کے مقصد کیا تھے؟یہی کہ انگریزی راج میں مسلم اقلیت کے حقوق سلب کیا جارہے ہیں۔ ہر میدان میں ہندوستان کے مسلمانوں کے ساتھ امتیازی سلوک کیا جارہاہے ،تو ان کے حقوق کے تحفظ کے لئے ان کی اپنی نمائندہ جماعت ہونی چاہئے!
1916 میں آل انڈیا مسلم لیگ اور کانگریس کے درمیان ہونے والا میثاق ِ لکھنؤ وہ پہلی دستاویز تھی جس میں ہندوستانی مسلمانوں کے حقوق تسلیم ہوئے۔
1927 میں تاج برطانیہ نے ہندوستان میں آئینی اصلاحات کے لئے سائمن کمیشن بنایا جسے ہندوستانی قیادت نے مسترد کردیا ۔کانگریس کی جانب سے 19 مئی 1928 میں نہرو رپورٹ شائع ہوئی اور یہ رپورٹ کیا کہتی ہے؟ اگر کانگریس اتنی لبرل اور سیکولر تھی تو میثاقِ لکھنؤ کی نفی اس رپورٹ میں کیا معنی رکھتی تھی؟نہرو رپورٹ کے ردِعمل میں مارچ 1929کو قائداعظم نے اپنے مشہورِ زمانہ 14 نکات پیش کئے یہ 14 نکات کس بات کا اعلان کرتے ہیں ؟اس وقت پاکستان کے تو کوئی خدوخال موجود نہیں تھے۔قائد اعظم کے یہ 14 نکات نہ صرف مسلمانوں بلکہ پورے ہندوستان میں بسنے والی تمام اقلیتوں کے حقوق کے تحفظ کا مطالبہ تھے۔
1930 میں آل انڈیا مسلم لیگ کا سالانہ اجلاس الہ آباد میں ہوا ، اس میں علامہ محمد اقبال کا صدارتی خطاب ہندوستانی مسلمانوں کے مستقبل کی راہ متعین کردیتا ہے۔علامہ اقبال نے اس خطاب میں کسی لبرل یا سیکولر ریاست کی بات نہیں کی ۔ایک اسلامی ریاست کی بات کی اور یہی وہ بات تھی جو ہندوستان کے عام مسلمانوں کےدل کی آواز بن گئی ۔یہ بات کسی مدرسے کے مولوی یاکسی مسجد کے پیش امام نے نہیں کی تھی بلکہ ہندوستانی مسلمانوں کی مقبول لیڈر شپ نے کی تھی۔گو کہ اس وقت ہندوستان میں دینی جماعتوں کا وجود بھی تھا لیکن یہ خاکہ آل انڈیا مسلم کے صدرڈاکٹر علامہ محمد اقبال کی طرف سے آیا تھا۔یہ بات ایسے ہی کھڑے کھڑے نہیں کردی گئی ہوگی اس کے پیچھے ایک مشاورت بھی ہوگی۔ایک ایسی جماعت جو ہندوستانی مسلمانوں کی واحد نمائندہ جماعت ہونے کا دعویٰ بھی کرتی ہو اور اس کا صدر ایک جلسہ عام میں دل لگی کے لئے تو یہ بات نہیں کرے گا۔
23 مارچ 1940 کو قراردادِ پاکستان کا پیش ہونا اور عوام میں مقبول ہونا کیا ظاہر کرتا ہے؟
اور وہ مقبول عوامی نعرے ۔۔؟
مسلم ہے تو مسلم لیگ میں آ۔۔!
پاکستان کا مطلب کیا؟ لاالہ الااللہ۔!کیا یہ سب ایک مذاق تھا؟آل انڈیا مسلم لیگ کی قیادت نے مسلمانوں کے دینی جذبات کا فائدہ اُٹھایا؟ہندوستان کے طول و عرض میں جہاں یہ قائدین جاتے عوامی سیلاب اُمنڈ آتا۔کیا یہ سب ڈرامہ ہو رہا تھا؟یا ہندوستانی مسلمانوں کو غلط فہمی ہوگئی تھی؟اور وہ دو قومی نظریہ ۔!
کیا یہ کوئی سازشی تھیوری تھی؟تحریک پاکستان کے وہ تمام رہنما جو شاعر بھی تھے، ناول نگار بھی تھے، افسانہ نگار بھی تھے، محقق اور تاریخ دان بھی تھے!وہ ساری زندگی کیا لکھتے رہے؟کسی نے کسی لبرل سیکولر ریاست کا نام نہیں لیا !ہر کسی نے کسی نہ کسی طور اپنا مدعا بیان کرنے کے لئے مثالیں ریاست ِ مدینہ ہی کی دیں!اور یہ بڑی عجیب منظق ہوگی کہ کوئی مثالیں تو تاریخ اسلام سے دے اور مطالبہ ایک سیکولر ریاست کا کردے۔
یا تو وہ اسلام اور اسلامی نظام کو نہیں سمجھتا یا سیکولرزم اور لبرلزم کو نہیں سمجھتا۔قیام پاکستان کا مقصد اس کے سوا کوئی اور ہو ہی نہیں سکتا تھا کہ ہندوستانی مسلمانوں کے لئے ایک آزاد اسلامی ریاست قائم کی جائے۔
اب وہ “اسلامی ریاست”قیام پاکستان کے بعد قائم کیوں نہیں ہوسکی یہ ایک الگ بحث ہےجو پھر کبھی سہی لیکن ستر سالوں سے جو نظام ریاست پاکستان کو چلانےکے لئے استعمال کیا جارہاہے وہ تو ناکام ہے ۔اس سے تو مثبت نتائج برآمد نہیں ہو پا رہے!تو عوامی نظریں اسلام پسند قوتوں کی طرف اُٹھنے کے ڈرسے اسلام پسند قوتوں کو نہ صرف گندا کیا جاتا ہے بلکہ اسی کی آڑ میں اسلام اور اسلامی نظام پر بھی کیچڑ اچھالا جاتا ہے۔کبھی اسلام کا تعلق دہشت گردی سے جوڑنے کی کوششوں کی ہمنوائی کی جاتی ہے تو کبھی یہ ثابت کرنے کی کوشش کی جاتی ہے کہ پاکستان کا مطالبہ ہی ایک لبرل سیکولر ریاست کا تھا۔ تو بھئی ستر سالوں سے آپ یہی سیکولریا لبرل نظام ہی تو چلا رہے ہیں ۔آئین پاکستان کی اسلامی شقیں عملی طور پر تو معطل ہیں ۔ان پر تو سختی سے کبھی بھی عمل نہیں ہوا ۔
تو آپ کا محبوب سیکولر اور لبرل نظام کیوں ناکام ہے؟

Avatar
راجہ کاشف علی
سیاسی اور سماجی تجزیہ نگار، شعبہ تعلیم سے وابستہ

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *