• صفحہ اول
  • /
  • نگارشات
  • /
  • آپ ﷺ کا مبارک ذکر،مولانا ابو الحسن علی ندوی کی چند تحریروں کی روشنی میں

آپ ﷺ کا مبارک ذکر،مولانا ابو الحسن علی ندوی کی چند تحریروں کی روشنی میں

آپ ﷺ عالم انسانیت پر رب کریم کا سب سے بڑا انعام و احسان ہیں۔اگر اللہ تعالی آپ ﷺ کی بعثت کے بعد بھی انسانیت سے لاتعلق ہو جاتا تو بھی اس  کی ربوبیت اپنی پوری  شان و شوکت کے  ساتھ قائم رہتی۔یہ بات تو اب تسلیم شدہ ہے کہ دنیا میں جیسی تبدیلی آپ ﷺ لے کر آئے وہ بے مثال اور ناقابل یقین ہے اور یہ تبدیلی آپ ﷺ تک محدود نہیں تھی آپ ﷺ نے دنیا کو حضرت ابو بکر،عمر،عثمان،علی رضی اللہ عنہم جیسے تربیت یافتہ اصحاب دیے  جنہوں نے   انسانیت کو ایک  نئی  روشنی  عطا کی،پھر ان اصحاب  کے تربیت یافتہ لوگوں میں امام ابو حنیفہ ،امام زید بن علی،امام باقر ،امام مالک،خواجہ حسن بصری جیسے لوگ دیئے جنہوں نے علم ،تقوی ،زہد اور میدان جہاد میں ثابت کیا کہ وہ اس وقت روئے زمین کے بہترین لوگوں میں سے تھے۔

کسی بھی مصلح کی لائی ہوئی اصلاح کاصحیح  ا ندازہ  اس  وقت  تک نہیں ہو سکتا جب تک  ہم  کو  یہ  معلوم  نہ   ہو  کہ اس مصلح کے آنے سے پہلے کہ کیا حالات تھے۔اس طرح آپ ﷺ جو کہ  فقط  ایک  مصلح  نہیں بلکہ ایک کامل رسول ﷺ تھے ،مولانا ابو الحسن علی ندوی کی کتاب پڑھ رہا تھا کہ اس دور کی  منظر کشی سامنے  آئی جب ابھی دنیا آپ ﷺ کے پیغام سے ناواقف تھی ۔مولانا لکھتے ہیں۔

“ذرا 14  سو برس پہلے  کی  دنیا  پر  نظر ڈالیے، زندگی  کے سمندر  میں بڑی مچھلی  چھوٹی  مچھلی  کو  کھائے  جا  رہی  تھی، انسانیت  کے  جنگل میں شیر اور چیتے ،سور اور بھیڑیے بکریوں اور بھیڑوں کو پھاڑنے  کھا رہے تھے،بدی نیکی پر،رذالت شرافت پر خواہشات عقل پر،پیٹ کے تقاصے روح کے تقاضوں پر غالب آ چکے تھے ،لیکن اس صورتحال کے خلاف  اتنی  لمبی  چوڑی  زمین  پر  کہیں  احتجاج  نہ تھا، انسانیت  کی  چوڑی  پیشانی  پر  غصہ  کی  کوئی  شکن نظر نہیں آتی تھی، ساری دنیا نیلام کی ایک منڈی بن چکی تھی،بادشاہ وزیر،امیر و غریب اس منڈی میں سب کے دام لگ رہے تھے اور سب کوڑیوں میں بک رہے ،کسی کو ان میں تنگی اور گھٹن محسوس نہیں ہوتی تھی اور کسی میں اس سے زیادہ وسیع تر انسانیت کا تصور باقی نہیں رہا۔

انسانیت کی سطح پر ایک خود رو جنگل اگ آیا تھا،ہر طرف جھاڑیاں تھیں جن میں خونخوار درندے اور زہریلے کیڑے تھے،یا دلدلیں تھیں جس میں جسم سے لپٹ  جانے والی اور خون چوسنے والی جونکیں تھیں اس جنگل میں ہر طرح کا خوفناک جانور ہرطرح کا شکاری پرندہ اور ان دلدلوں میں ہر قسم کی جونک پائی جاتی تھی لیکن آدم زاد اس بستی میں کوئی آدمی نظر نہیں آتا تھا،جو آدمی تھے وہ غاروں کے اندر،پہاڑوں کے اوپر اور خانقاہوں اور عبادت گاہوں کی خلوتوں میں چھپے ہوئے تھے اور اپنی خیر منا رہے تھے۔” (اصلاحیات)

ممکن ہے کہ کسی کو مولانا ندوی کی اس منظر کشی میں لفاظیت یا مبالغہ آرائی نظر آئے تو اس کے لیے حضرت سیدنا جعفر طیار رضی اللہ عنہما کے اس خطبے کو پڑھ کر تصدیق کی جا سکتی ہے جو انھوں نے حبشہ میں نجاشی کے دربار میں دیا تھا،بلکہ حقیقی حالات تو اور زیادہ پست نظر آتے ہیں۔حضرت جعفر رضی اللہ عنہما کی تقریر ملاحظہ کریں،جس کو علامہ عبدالمصطفی اعظمی ؒ نے اپنی سیرت کی کتاب میں نقل کیا ہے

“اے بادشاہ: ہم ایک جاہل قوم تھے-شرک و بت پرستی کرتے تھے،لوٹ مار،چوری ،ڈکیتی،ظلم و ستم اور طرح طرح کی بدکاریوں اور بد اعمالیوں میں مبتلا تھے۔اللہ تعالی نے ہماری قوم میں ایک شخص کو اپنا رسول بنا کر بھیجا،جس کے حسب و نسب،صدق و دیانت کو ہم پہلے سے جانتے تھے،اس رسول نے ہم کو شرک و بت پرستی سے روک دیا اور صرف ایک خدائے واحد کی عبادت کا حکم دیا اور ہر قسم کے ظلم و ستم اور تمام برائیوں اور بدکاریوں سے ہم کو منع کیا،ہم اس رسول پر ایمان لائے اور شرک  و  بت  پرستی چھوڑ کر تائب ہوگئے۔بس یہ ہی ہمارا قصور ہے جس کی وجہ سے ہماری قوم ہماری دشمن ہوگئی اور ہم کو اتنا ستایا کہ ہم اپنے وطن کو خیر آباد کہی کر آپ کی سلطنت کے زیر سایہ پر امن زندگی بسر کر رہے ہیں۔اب یہ لوگ ہمیں مجبور کر رہے ہیں کہ ہم پھر اسی پرانی گمراہی میں واپس لوٹ جائیں” (سیرت مصطفی ﷺ)

تو یہ تھے حقیقی حالات  جن  میں  آپ ﷺ کی بعثت ہوئی اور ایسی مشکل ترین قوم کی تربیت کا فریضہ آپﷺ کو سونپا گیا،یہ کام فقط آپ ﷺ کا خاصہ تھا کہ آپ ﷺ نے اسی قوم کے بدکرداروں کی جب تقدیر بدلی تو وہ اعلیٰ اخلاق کے نمونے بن گئے اور جو دنیا پر بوجھ تھے وہ آپ ﷺ کی نظر کرم سے رہتی دنیا کے لیے مشعل راہ بن گئے۔تو پھر کہ کہنا بھی ہرگز مبالغہ آرائی نہیں کہ آپ ﷺ کا ہر ہر صحابی رضی اللہ عنہم آپ ﷺ کا معجزہ تھا۔پھر جب آپ ﷺ کی دنیا میں تشریف آوری ہوئی تو اس تبدیلی کو مولانا ابو الحسن علی ندوی کچھ اس طرح بیان کرتے ہیں ۔

“دفعتاً  انسانیت  کے  اس سرد جسم میں گرم خون کی ایک رو دوڑی نبض میں حرکت اور جسم میں جنبش پیدا ہوئی،جن پرندوں نے اس کو مردہ سمجھ کر اس کے بے حس جسم کی ساکن سطع پر بسیرا کر رکھا تھا ان کو اپنے گھر ہلتے ہوئے اور اپنے جسم لرزتے ہوئے محسوس ہوئے،انسانیت کی اس اندرونی حرکت سے اس کی بیرونی سطح میں اضطراب پیدا ہوا،اس کی ساکن و بے حرکت سطح پر جتنے کمزور اور بودے قلعے بنے ہوئے تھے ان میں زلزلہ آیا،مکڑی کا ہر جالا ٹوٹتا اور تنکوں کا ہر گھونسلہ بکھرتا نظر آیا،زمین کی اندرونی حرکت سے اگر سنگین عمارت اور آہنی برج خزاں کے پتوں کی طرح بھڑ سکتے ہیں،تو پیغمبر ﷺ کی آمد سے کسری و قیصر کے خود ساختہ نظاموں میں تزلزل کیوں نہ ہوگا؟انسانی زندگی کی جڑیں اور اس کے جھوٹے قصر کی بنیادیں کبھی اس زور سے نہیں ہلائی گئیں جیسی اس پیغام (کلمہ طیبہ) کے اعلان سے ہلائی گئیں” (اصلاحیات)

جب آپ ﷺ نے شرک کی اعلانیہ مزاحمت شروع کی تو ہم دیکھتے ہیں کہ کفار کا ایک وفد آتا ہے اور یہ پیش کش کرتا ہے کہ ہم آپ ﷺ کو مال و دولت ،سرداری،بادشاہت یا عش و عشرت سے نوازتے ہیں،یعنی یہ ان لوگوں کی ذہنی پستی کا عالم تھا کہ وہ یہ سوچ رہے تھے کہ آپ ﷺ کی یہ دعوت کسی ذاتی غرض سے ہے (معاذ اللہ)۔ان لوگوں کا ذہن عالم محسوسات اور پیٹ کی حدود سے باہر سوچنے کی صلاحیت ہی نہیں رکھتا تھا ،وہ شاید اس حد درجہ تک یقین کرچکے تھے کہ ان میں کوئی شخص بلند اور گہری سوچ والا آ نہیں سکتا۔یہ وفد دراصل قریش کی ذہنی پستی کا بدترین المیہ تھا،اگر آپ ﷺ کے علاوہ کوئی اور ہستی ہوتی تو شاید اس پر ہی اپنے پیغام کے ابلاغ کے لیے متبادل جگہ اور لوگ تلاش کرتی مگر یہ آپ ﷺ کا ان پر احسان تھا جو اس کے باوجود استقامت کے ساتھ تلقین حق کرتے رہے اور پھر یہ ہی لوگ جن کی سوچ پیٹ اور مادیات کے بھنور میں پھنسی ہوئی تھی ،اپنے خالق کے مطلوب ترین انسان بنے اور انہیں کی بدلی ہوئی سوچ اب انسان کی بھلائی اور فلاح کی ضمانت ہے۔اس تبدیلی کو مولانا ندوی نے بہت خوبصورت الفاظ میں لکھا ہے جس کو نقل کرکے اپنی بات ختم کروں گا۔

“آپ ﷺ اپنے لیے دنیا میں کوئی مصنوعی جنت بنانے کے خواہشمند نہیں بلکہ،جنت سے نکالے ہوئے انسان کو حقیقی جنت میں ہمیشہ کے لیے داخل کرنا چاہتے ہیں،آپﷺ اپنی سرداری کے لیے کوشاں نہیں بلکہ تمام انسانوں کو انسان کی غلامی سے نکال کر بادشاہ حقیقی کی غلامی میں داخل کرنا چاہتے ہیں”

الصلوۃ وسلام علیک یا رسول اللہ ﷺ

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *