افغانوں کی احسان فراموشی اور وقت کے تقاضے۔سید عارف مصطفیٰ

 چند یار لوگوں کوافغانستان کے ساتھ تجارت کم ہوجانے کی بڑی تکلیف ہو رہی ہے کیونکہ سرحدی جھڑپوں اور کشیدہ حالات کے تسلسل کے بعد اب پاک افغان سرحد کی گزرگاہ اکثر خطرے میں رہنے لگی ہے اور اب افغانستان کی تجارت کا زیادہ  بڑا  مرکز  بھارت بن گیا ہے جو کہ چاہ  بہار کی ایرانی بندرگاہ کے رستے وہاں اپنے قدم جما رہا ہے۔ یار لوگوں کی دلیل یہ ہے کہ اب افغان مارکیٹوں کے شیلف  بھارتی مال سے بھر گئے ہیں اور اس کے مقابل ہمیں ڈٹ جانا چاہیے اور افغان مارکیٹوں کو اپنے مال سے بھر دینا چاہیے۔ لیکن کیا یہ دوست یہ نہیں جانتے کہ گزشتہ ستر برس تک تو افغانستان کی ہر مارکیٹ میں پاکستان ہی کا مال بھرا رہتا تھا اور انڈیا تو وہاں آج پہنچا ہے ۔ لیکن چونکہ لمبے رستے کی وجہ سے اس کا مال مہنگا بھی ہے اور تازہ بھی نہیں رہتا اس وجہ سے افغانوں کے ایجنٹوں کے پیٹ میں ان کے درد کا مروڑ اٹھ رہا ہے۔

وہ یہ کیوں بھول گئے کہ افغان اس قدر احسان فراموش ہیں کہ ان کی وجہ سے اپنے ملک کو عالمی تماشہ بنادینے والے اس ہمسائے یعنی پاکستان نے اس کے برے دنوں میں آگے بڑھ کے اس کا کس قدر ساتھ دیا ہے لیکن اب بدلے ہوئے حالات میں نہ صرف اس کی حکومت بلکہ عوام کا بھی پاکستان سے  کس  قدر ذلت آمیز رویہ ہے اور جسے اس حقیقت کا علم نہ ہو ، وہ ذرا ہمارے صحافی دوست فیض اللہ خان کی کتاب” ڈیورنڈ لائن کے قیدی” پڑھ لے کہ جس میں انہوں نے اپنے  افغانستان کے دورے اور اپنی قید وبند کی داستان بیان کی ہے اور افغان معاشرے کی پاکستان کے لیے شدید نفرت اور بیزاری کے متعدد ایسے واقعات بیان کیے ہیں کہ جنہیں پڑھ کر انتہائی کوفت ہوتی ہے اور انہیں پناہ دے کر برسہابرس ان کی میزبانی کرنے پہ شدید افسوس ہونے لگتا ہے۔

افغان معاشرے کی اسی عمومی نفرت کا مظہرافغان صدر و وزیراعظم اور اس کے وزراء  کا رویہ ہے کہ وہ آئے روز اکثرعالمی فورموں پہ پاکستان کی بیحد و بے حساب تذلیل کرتے ہیں اور اب ہر طرح سے اس بھارت کا ساتھ دیتے نظر آتے ہیں کہ جو ان کے تاریخی بحران کے دنوں میں جارح یعنی روس کا سب سے بڑا دوست بنا ہوا تھا ۔ افغانوں کی اس برادر کشی اور احسان فراموشی کی یہ پہلی مثال نہیں ہے ۔۔ ۱۹۱۸ میں جب مولانا محمودالحسن ااور مولانا عبیداللہ سندھی کی ایماء  پہ ہندوستان کو دارالحرب قرار دے کر  قریبی دارالسلام یعنی اسلامی ملک افغانستان ہجرت کرنے کی تحریک برپا کی گئی تھی تو تیس ہزار کے لگ بھگ افراد نے اپنے گھربار چھوڑ کے افغانستان کا رخ کیا تھا لیکن وہاں افغانیوں نے ان کے ساتھ اس قدر سفاکانہ اور وحشیانہ سلوک کیا کہ زیادہ تر وہیں مرکھپ گئے اور بہت ہی کم زندہ واپس آسکے تھے۔

لیکن سرحد کے اس پار بسنے والوں کی کشادہ دلی دیکھیے کہ جب افغانوں پہ برا وقت پڑا اور ان کی سرزمین پہ روسی قابض ہوگئے تو انہوں نے افغانوں کے ماضی کے بھیانک اور تاریخی جرائم فراموش کرکے انہیں اپنے یہاں پناہ دینے کا عظیم قدم اٹھایا اور اس کی وجہ سے اس ملک میں ہیروئن اور کلاشنکوف کلچر در آیا ، لیکن ان کا چالیس پچاس لاکھ افغانوں کو لگ بھگ چالیس سال پناہ دینے والے برادر اسلامی ہمسائے سے یہ سلوک ہے تو پھر کوئی ضرورت نہیں ہے کہ ہم اس مکار ملک کے ساتھ تجارت کریں ۔

ویسے بھی ان کے ساتھ تجارت کی وجہ سے افغان ٹرانزٹ ٹریڈ کی آڑ میں زبردست اسمگلنگ ہوتی ہے اور ہمارے ملک کو محصولات کی مد میں اربوں کا نقصان ہوتا ہے اور اس کی سزا ہمارے عوام کی ترقی و بہبود کے منصوبوں کو ملتی ہے جو کہ محصولات میں کمی کے سبب خاطر خواہ کثیر وسائل کی قلت کے سبب درمیان ہی میں دم توڑتے رہتے ہیں ۔ لہٰذا بہتر یہی ہے کہ اب افغانوں کو ان کے حال پہ چھوڑدیا جائے اور اب ان کے ساتھ تجارت نہ ہونے کے غم میں دبلا نہ ہوا جائے۔

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *