او آئی سی : سب سے پہلے پاکستان؟۔۔آصف محمود

کہاں وہ وقت کہ پچھلے تین سال پاکستان مسلم دنیا کی منتیں کرتا رہ گیا کہ کشمیر پر او آئی سی کے وزرائے خارجہ کی ایک کانفرنس بلا لی جائے لیکن کسی نے پاکستان کی درخواست کو اس قابل نہ سمجھا اور کہاں یہ عالم کہ آج اسی پاکستان کی میزبانی میں اسی او آئی سی کی وہی وزرائے خارجہ کانفرنس ہو گی ہے مگر اس کا موضوع افغانستان ہے۔ بطور پاکستانی مجھے خوشی بھی ہے کہ اس کانفرنس کی میزبانی میرا ملک کر رہا ہے۔

کہاں وہ وقت کہ بھارت نے پاکستان میں سارک کی کانفرنس بھی نہیں ہونے دی تھی اور اس کے دباؤ  پر کچھ سارک ممالک نے پاکستان آنے سے انکار کر دیا تھا اور کہاں یہ وقت کہ دنیا بھر کے مسلم ممالک اور پی فائیو اس وقت پاکستان میں ہونے والی اس کانفرنس میں شریک ہیں۔پاکستان اب خطے کی سیاست میں تنہا نہیں ، اس کا محور ہے۔لیکن اس خوشی کے ساتھ ساتھ یہ بھی سچ ہے کہ دیوار دل سے بہت سارے سوالات بھی آن لگے ہیں۔ پاکستان کی درخواست پر او آئی سی کا اجلاس تو خیر کیا ہی بلانا تھا ، بے نیازی کا عالم یہ تھا کہ گذشتہ سال جب او آئی سی کے وزرائے خارجہ کی کانفرنس ہوئی تو اس کے طویل ایجنڈے میں فلسطین سے لے کر انتہا پسندی ، دہشت گردی ، توہین مذہب ، اسلامو فوبیا، عالمی عدالت میں روہنگیا کے کیس کے لیے فنڈ ریزنگ جیسے کئی موضوعات زیر بحث آئے لیکن کشمیر کا کہیں ذکر نہ تھا۔ لیکن مسرت اور خوشی کے اس موقع پر یہ سوال بھی ساتھ ہی کہیں کھڑا ہے کہ او آئی سی کے وزرائے خارجہ کا اجلاس ہونے یا نہ ہونے کا پیمانہ کیا ہے؟

FaceLore Pakistan Social Media Site
پاکستان کی بہترین سوشل میڈیا سائٹ: فیس لور www.facelore.com

مسلم دنیا کا یہ سب سے بڑا اور سب سے معتبر فورم ہے۔ اس کے قوانین اور ضابطے اس باب میں کیا رہنمائی فرماتے ہیں ۔یہ فیصلہ کس قانون کے تحت ہوتا ہے کہ کشمیر پر او آئی سی کے وزرائے خارجہ کی کانفرنس کا انعقاد نہیں ہو گا اور افغانستان پر ہو جائے گا۔ کچھ سمجھ تو آئے کہ معاملہ کیا ہے کہ کل ہم کشمیر پر گلی گلی دہائی دے رہے تھے کہ اے امت مسلمہ ایک اجلاس ہی منعقد کر لیجیے اور امت مسلمہ اس کے لیے تیار نہ تھی اور آج ہم اتنے معتبر ہو گئے کہ اسی او آئی سی کے افغانستان پر ہونے والے اجلاس کی میزبانی کر رہے ہیں۔ معاشی محرومی قومی وجود سے لپٹ جائے تو اقوام عالم میں تو بے بسی نوشتہ دیوار ہوتی ہے لیکن کیا یہ اس محرومی کی وجہ سے ایک مسلمان ملک خود اُمہ میں بھی اتنا بے توقیر ہو جاتا ہے؟

اس سوال کے جواب سے زمینی حقائق بھلے نہ بدل سکیں لیکن سماج کو معاملے کی تفہیم ہی ہو جائے تو یہ گھاٹے کا سودا نہیں۔ اگلے روز سابق سیکرٹری خارجہ جناب شمشاد احمد اور سابق سفیر جناب نجم الثاقب کے ساتھ بات چیت ہو رہی تھی اور ایسے ہی سوالات ز یر بحث تھے۔نجم الثاقب صاحب کا کہنا تھا کہ کشمیر اور افغانستان میں ایک فرق ہے۔ کشمیر بلا شبہ بہت بڑا مسئلہ ہے لیکن یہ او آئی سی کے ایک رکن پاکستان کا مسئلہ ہے۔کشمیر خود او آئی سی کا رکن ملک نہیں ہے۔ جب کہ افغانستان او آئی سی کا رکن ہے۔ اس لیے او آئی سی کے ہاں اپنے رکن ملک کے لیے زیادہ حساس ہونا ایک فطری امر ہے۔ میں نے عرض کی کہ یہ فطری حساسیت بھی جنگ کے پورے عشرے میں بیدار نہ ہو سکی۔ بموں کی ماں سے لے کر ڈرون تک استعمال ہوتے رہے اور اس پر خود مغربی میڈیا چیختا رہا کہ یہ بین الاقوامی قانون کی خلاف ورزی ہو رہی ہے لیکن اس سارے دورانیے میں او آئی سی کو کبھی خیال نہ آیا کہ اس کے ایک رکن ملک پر کیا بیت رہی ہے۔ یہ حساسیت اب ہی بیدار ہوئی ہے تو اس کی حقیقی شان نزول کیا ہے؟

نجم الثاقب صاحب بس اتنا کہہ کر مسکرا دیے کہ آپ مشکل باتیں کر رہے ہیں۔ میں نے عرض کی کہ طالب علم ہوں ، سمجھنے کے لیے پوچھ رہا ہوں۔ شمشاد احمد صاحب نے کہا کہ آصف میں آپ کی ذہنی کیفیت سمجھ رہا ہوں اس لیے میں آپ کے سوال کا جواب دیتا ہوں۔ وہ بتانے لگے کہ ایک بار او آئی سی کے اجلاس کے انتظامات وغیرہ کو وہ دیکھ رہے تھے اور اس میں کشمیر کا مسئلہ بھی ایجنڈے میں شامل تھا تو فلسطین کے سفیر محترم ان سے ملے اور کہا کہ کشمیر کا مسئلہ آپ نے ایجنڈے میں کیوں رکھا ہے ، ہم اس مسئلے پر آپ سے متفق نہیں ہیں۔شمشاد صاحب نے پوچھا کہ یاسر عرفات مرحوم نے کبھی کشمیر پر آپ کی حمایت کی ہو تو بتائیے۔ میں نے عرض کی کہ پھر امت مسلمہ کہاں ہے؟ شمشاد احمد صاحب نے کہا کہ یہ صرف شاعروں کی شاعری میں ہے ۔ اقوام عالم کی سیاست میں امت نام کی کوئی چیز نہیں ہے۔ یہاں صرف مفاد دیکھا جاتا ہے اور مفاد کی روشنی میں فیصلے ہوتے ہیں۔

نجم الثاقب صاحب نے اس نکتے کو مزید واضح کرتے ہوئے کہا کہ او آئی سی اگر کوئی قرارداد لے بھی آئے تو اس کی کیا اہمیت ہے؟ ان کا خیال تھا کہ دنیا کی فیصلہ سازی میں او آئی سی کے کسی فیصلے یا کسی قرارداد کی سرے سے کوئی حیثیت نہیں ہے۔ کیونکہ دنیا کے فیصلے اصول کی بنیاد پر نہیں طاقت کی بنیاد پر ہوتے ہیں۔ اسی طرح او آئی سی پاکستان کی اہمیت اور حیثیت کا تعلق بھی اصول کی بنیاد پر نہیں ہو گا بلکہ اس بنیاد پر ہو گا کہ پاکستان کی معاشی اور سفارتی حیثیت کیا ہے۔قرض کے کشکول سے ملک چلایا جا رہا ہو تو نہ اقوام متحدہ میں کوئی حیثیت ہوتی ہے نہ او آئی سی میں۔البتہ ان کا خیال تھا کہ او آئی سی جیسی بھی ہے ایک نعمت ہے ۔کیونکہ ایک فورم تو موجود ہے۔ مسلم دنیا کبھی طاقتور ہو گی تو اس فورم کی اہمیت بھی بڑھ جائے گی۔ بات گویا وہیں پر آ ن رکی ہے کہ ’’ سب سے پہلے پاکستان‘‘۔ اگر پاکستان طاقتور ہو گا تو او آئی سی میں بھی اس کی اہمیت ہو گی ، وہ مسلم دنیا کے لیے بھی کردار ادا کر سکے گا اور اقوام متحدہ میں بھی اس کی ایک حیثیت ہو گی۔ لیکن اگر ایسا نہیں ہو گا اور ہر سال کا بجٹ قرض لے کر بنایا جائے گا اور اس قرض کے حصول کے لیے سب کچھ نہیں تو بہت کچھ داؤ  پر لگا دیا جائے گا تو پھر نہ او آئی سی میں کوئی عزت ہو گی نہ اقوام متحدہ میں۔ پھر یہی ہو گا کہ کشمیر پر او آئی سی ایک اجلاس تک بلانا گوارا نہیں کرے گی اور اقوام متحدہ میں ہم محض جنرل اسمبلی میں ایک عدد خطاب تک محدود ہو کر رہ جائیں گے۔

Advertisements
julia rana solicitors

ہمیں امت اور نیشن سٹیٹ کے تصور میں توازن لانے کی ضرورت ہے۔اس میں عدم توازن کسی بھی شکل میں ہو ، امت کی نفی میں یا نیشن سٹیٹ کی نفی میں ،مسائل میں اضافے کا سبب بنے گا۔ یہ توازن وقت کی اہم ترین ضرورت ہے۔ کیا ہم اس کے لیے تیار ہیں؟

  • FaceLore Pakistan Social Media Site
    پاکستان کی بہترین سوشل میڈیا سائٹ: فیس لور www.facelore.com
  • julia rana solicitors london
  • julia rana solicitors
  • merkit.pk

آصف محمود
حق کی تلاش میں سرگرداں صحافی

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

Leave a Reply