• صفحہ اول
  • /
  • کالم
  • /
  • سقوطِ ڈھاکہ کے 50 برس: پاکستان اور بنگلہ دیش میں معافی پر سیاست، آگے کیسے بڑھا جائے؟۔۔علی عثمان قاسمی

سقوطِ ڈھاکہ کے 50 برس: پاکستان اور بنگلہ دیش میں معافی پر سیاست، آگے کیسے بڑھا جائے؟۔۔علی عثمان قاسمی

اردو زبان کی تاریخی رزمیہ کہانیوں میں بادشاہ اپنی جان کسی پرندے میں منتقل کر کے اسے کسی محفوظ اور خفیہ مقام پر بند کر دیتے تھے۔ اگر بادشاہ کو قتل کرنا مقصود ہو، تو اس کے لیے اس پرندے کو مارنے کی شرط ہوتی تھی۔

میجر جنرل کے عہدے سے ریٹائر ہونے والے خادم حسین راجہ، جو کہ مارچ 1971 میں بنگالیوں کے خلاف پاکستانی فوج کے ‘آپریشن سرچ لائٹ’ کے مرکزی معمار بھی تھے، نے اپنے گھر میں ایک مینا پال رکھی تھی۔

FaceLore Pakistan Social Media Site
پاکستان کی بہترین سوشل میڈیا سائٹ: فیس لور www.facelore.com

لیکن اس کے علاوہ ان کے پاس ایک اور ‘مینا’ تھی جو کہ ان کے گھر کا پالتو پرندہ نہیں، بلکہ بنگلہ دیش کی آزادی کی قیادت کرنے والے رہنما شیخ مجیب الرحمان کو دیا گیا خفیہ نام تھا۔

اپنی آپ بیتی میں خادم حسین راجہ لکھتے ہیں کہ انھوں نے شیخ مجیب کو ‘مینا’ کا خفیہ نام اس لیے دیا تاکہ جب وہ مغربی پاکستان میں اپنے گھر والوں سے بات کر رہے ہوں تو ان کا نام نہ استعمال کریں۔

جب 25 اور 26 مارچ کی درمیانی شب، پاکستانی فوج نے بھاری اسلحہ استعمال کرتے ہوئے ڈھاکہ پر اپنا کنٹرول حاصل کیا اور شیخ مجیب الرحمان کو حراست میں لے لیا تو اس بارے میں ذکر کرتے ہوئے خادم حسین راجہ لکھتے ہیں: ‘بظاہر مینا کا دل کمزور تھا، اور وہ ٹینکوں اور رائفلوں کی گھن گرج برداشت نہ کر سکی۔’

بعد میں جب خادم حسین راجہ کی اہلیہ نے اپنی بیٹی کو فون کیا اور اسے مینا کی موت کی خبر دی، تو وہ سمجھی کہ ان کی والدہ درحقیقت شیخ مجیب کی بات کر رہی ہیں اور وہ فوجی آپریشن میں ہلاک ہو گئے ہیں۔

یہاں یہ کہانی بیان کرنے کی وجہ وہ خیال ہے کہ کہیں خادم حسین راجہ کی مینا اپنے ساتھ پاکستان کی روح اور زندگی تو اپنے ساتھ نہیں لے گئی، اور نہ ان کی پالتو مینا اُس رات ڈھاکہ میں ہونے والے فوجی آپریشن کی آواز کی تاب لا سکی، اور نہ ہی پاکستان۔
پاکستان محققین اور صحافیوں کے لیے 1971 کے واقعات کے بارے میں لکھنا آسان نہیں ہے۔ اس موضوع پر جتنا بھی مواد موجود ہے، یا عوامی طور پر 1971 کے بارے میں جو بیانیہ مقبول ہے، اس میں انڈیا کی سازشوں اور مکتی باہنی کی زیادتیوں کو مورد الزام ٹھیرایا جاتا ہے۔

بس برائے نام ہی یہ ذکر کیا جاتا ہے کہ بنگالیوں کے ساتھ سالوں سال ناانصافی کی گئی اور اس کی وجہ سے 1971 کے واقعات رونما ہوئے، اور اس سے سیکھے گئے اسباق کو بس یہ کہہ کر آئینی تاریخ کے کونے کھدروں میں دیا جاتا ہے کہ صوبائی خود مختاری کے مطالبات اور انتخابی عمل کی شفافیت کتنی ضروری ہے۔

لیکن یہ طرز عمل انسانی تکلیف اور المیے کے متعلق اُن اہم سوالات کو نظر انداز کر دیتا ہے جو ان لاکھوں، کروڑوں پاکستانی اور بنگالیوں کے ذہنوں پر ابھی بھی نقش ہیں۔

پاکستانی تاریخ دانوں میں صرف انعم زکریا کی حالیہ کتاب اس بیانیے سے ہٹ کر تصویر پیش کرتی ہے۔ ان کی کتاب کی جامع تحقیق اور اس کا دائرہ کار، اور عرق ریزی سے کیا گیا تجزیہ ایک ایسی حقیقی کاوش ہیں جس میں پاکستانی اور بنگلہ دیشی نقطہ نظر کو بہت عمدہ طریقے سے پیش کیا گیا ہے۔

لیکن اس کتاب کے علاوہ اگر دیکھیں تو سرمیلا بوس کی ‘ڈیڈ ریکوننگ’ کی اشاعت کے بعد سے پاکستان میں 1971 کے واقعات پر ہونے والی بحث کی توجہ صرف پاکستان کے اس دعوی پر ہے کہ اس نے کچھ غلط نہیں کیا اور اس سے بھی بڑھ کر یہ کہ اس بیانیے میں خود کو بطور مظلوم پیش کیا جاتا ہے اور بنگالیوں پر بہاریوں کے قتل عام کا الزام عائد کیا جاتا ہے۔

پراپگینڈا کرنے والے اور تاریخ کو مختلف پیرائے میں بیان کرنے والوں کا مقصد یہ نہیں ہے کہ وہ بنگلہ دیش میں عوامی رائے کو تبدیل کریں۔ ان کا مقصد محض یہ ہے کہ وہ پاکستانی بیانیے پر یقین کرنے والوں کو تسلی دیں، اور 1971 کے واقعات کو پاکستانی مظلومیت کے عدسے سے دیکھیں، اور اس وقت کی حکومت کی جانب سے شروع کیے گئے فوجی آپریشن شروع کرنے کے فیصلے کو اس اعتبار سے پرکھیں کہ یہ فیصلہ پاکستان کے ایک صوبے میں امن و امان کی بگڑتی ہوئی صورتحال کو ٹھیک کرنے کی غرض سے کیا گیا تھا۔
پاکستان میں 1971 کی تاریخ اور اس پر کی جانے والی بحث کے تین پہلو ہیں جو آج تک انتہائی متنازع ہیں۔

ان میں اولین پہلو تو اُن واقعات کے بارے میں ہے جو حالات کو مارچ 1971 میں کیے جانے والے فوجی آپریشن کی وجہ قرار دیے گئے اور جن کی روشنی میں بنگالی مزاحمت اور اسے قومی آزادی کہنا ناجائز قرار دیا گیا۔

دوسرا پہلو نسل کشی اور تشدد، اور ریپ کو بطور ہتھیار استعمال کرنے اور ہلاک ہونے والوں کی تعداد کے بارے میں ہے جس میں بنگلہ دیشی موقف کے مطابق پاکستانی افواج نے تیس لاکھ لوگوں کو ہلاک کیا اور دو لاکھ سے زیادہ خواتین کو ریپ کیا جبکہ پاکستانی موقف کے مطابق مشرقی پاکستان میں بہاریوں کی نسل کشی کی گئی۔

تیسرا پہلو ہے کہ ان واقعات کے رونما ہونے کے دہائیوں بعد اب آگے کیسے بڑھا جائے اور اس کے لیے کیا ماضی کو بھلا دیا جائے یا اس دوران ہونے والے مظالم کی معافی طلب کی جائے۔

یہ مضمون 1971 کے حوالے سے پاکستان میں ہونے والی اس بحث کے تینوں پہلوؤں پر روشنی ڈالے گا۔ اس مضمون میں راقم کی کوشش ہوگی کہ یہ ثابت کیا جائے کہ مندرجہ بالا تینوں سوالات ایک دوسرے سے جڑُے ہوئے ہیں اور نہ صرف کہ یہ محض تاریخ کے سوالات ہیں، بلکہ کس طرح یہی سوالات پاکستان میں جمہوریت کے مستقبل کے لیے اہم ہیں۔
تشدد کے ہونے یا نہ ہونے کا قانونی جواز
اس مضمون کی شروعات 1971 کی جنگ، یا وہ واقعات جو اس جنگ کا سبب بنے، یا حتی کہ پاکستان کے قیام سے نہیں ہوگی بلکہ ہم اُس سے بھی سات سال پیچھے جائیں گے جب 23 مارچ 1940 کو لاہور میں قرار داد پاکستان منظور ہوئی جس نے پاکستان اور بنگلہ دیش کے قیام کی بنیادی اینٹ رکھی۔

مسلم لیگ کے سالانہ اجلاس میں پیش کیے جانے والی قرار داد لاہور نے خود مختار، آزاد ریاستوں کے قیام کا مطالبہ کیا۔ لیکن صرف چند برس بعد مسلم لیگ نے قرار داد میں ‘ریاستوں’ کو بدل کر انڈیا کے مسلمانوں کے لیے ‘ریاست’ میں تبدیل کر دیا۔

اس کے بعد 50 کی دہائی میں بنگالیوں کی جانب سے پہلے حسین شہید سہروردی اور بعد میں شیخ مجیب الرحمان کی قیادت میں حزب مخالف نے مطالبہ کیا کہ پاکستان کا وفاقی جمہوری آئین صوبائی خود مختاری کی بنیاد پر ہو جیسا کہ لاہور قرارداد میں درج تھا۔

شیخ مجیب الرحمان کے تاریخی چھ نکات، جن کی بنیاد پر انھوں نے 1970 میں ہونے والے انتخابات میں فیصلہ کن فتح حاصل کی تھی، وہ بھی 30 برس قبل منظور ہونے والی قرار دادِ لاہور سے متاثر تھے۔

سنہ 1970 کے انتخابات میں جیت حاصل کرنے کے بعد شیخ مجیب کی جماعت عوامی لیگ اور اس وقت پاکستان کے آمر جنرل یحیی خان کے درمیان ہونے والے مذاکرات میں بھی لاہور قرار داد کا بار بار تذکرہ ہوا تھا
یہاں تک کہ پاکستان کے علیحدہ ہونے کے بعد ایک اہم بنگالی رہنما عبدل منصور احمد، جو کہ 50 کی دہائی میں حزب اختلاف کے اہم رکن تھے، نے لاہور قرار داد کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا کہ یہ وہ واحد دستاویز تھی جو پاکستان کے دونوں حصوں کو متحد رکھ سکتی تھی۔

وہ لکھتے ہیں: ‘پہلی نظر میں شاید بنگلہ دیش کا قیام خلل ڈالنے کے عمل طور پر نظر آتا ہے، اور بظاہر اسی کی وجہ سے پاکستان دو لخت ہو گیا۔ اور کسی متحد چیز کا اس طرح سے ٹوٹ جانا، خواہ وہ کسی بھی وجہ یا مقصد سے ہوا ہو، ایک ناپسندیدہ عمل ہے۔۔۔ لیکن بنگلہ دیش میں پیش آنے والے المناک واقعات یہ ظاہر کرتے ہیں کہ ایسا اس لیے نہیں ہوا کہ ہمارے سیاسی آباؤ اجداد کے بنائے ہوئے منصوبے ناکام ثابت ہوئے، بلکہ ایسا اس لیے ہوا کیونکہ ہم ان منصوبوں کے راستے سے بھٹک گئے۔ تو ہمیں اپنے سے پہلے آنے والوں کے بارے میں شرمندہ نہیں ہونا چاہیے بلکہ ان پر فخر محسوس کرنا چاہیے۔ ان کا دیا ہوا منصوبہ اتنا عمدہ اور دور رس تھا کہ اس سے الگ ہونا ہمارے لیے زہر قاتل ثابت ہوا اور بنگلہ دیش کا قیام ناگزیر ٹھیرا۔۔۔ یہ بس اس بے وفائی کا اختتام ثابت ہوا۔’

تو جہاں ہم 23 مارچ سے بطور ‘یومِ پاکستان’ بہت جذباتی لگاؤ رکھتے ہیں، وہیں اس بارے میں زیادہ غور نہیں کیا جاتا کہ اس دن کا مطلب کیا تھا اور بنگالیوں نے کیسے اس قرار داد کو ایک جمہوری اور غیر مرکزیت پر مبنی ریاست کے دو حصوں کے درمیان مضبوط روابت قائم کرنے کی نظر سے دیکھا تھا۔

مشرقی پاکستان میں 1970 اور 1971 میں جو ہوا، اُسے ایسے سمجھنا چاہیے کہ سالوں سے بنگالی عوام کے ساتھ ہونے والے مظالم اور استحصال کے نتیجے میں ان کے اندر بھرے ہوئے غصے اور ابلتے ہوئے لاوا کو بنگالی رہنماؤں نے کس طرح سے سینچا، اور انھیں اس جوش و جذبے کی مدد سے ان مظالم سے نجات حاصل کرنے کے لیے انقلاب کا راستہ دکھایا۔

یہ وہ لمحہ تھا جب عوامی لیگ کے حامی اپنے ساتھ ہونے والی ناانصافیوں کے خلاف آواز اٹھانے کی جذبے کی طاقت سے سرشار و مسحور ہو گئے اور پاکستانی ریاست کی جانب سے استحصال پر مبنی حکمت عملی اور ‘دھونس کے بل بوتے پر طاقت’ کے خلاف کھڑے ہونے کے لیے تیار ہو گئے۔
عوامی لیگ نے 1947 میں قیامِ پاکستان کے بعد سے ہونے والی لاتعداد ناانصافیوں سے نجات حاصل کرنے کا عمل شروع کیا: بنگالی زبان کو برابری کا درجہ نہ ملنا، بنگالی زبان کے حق میں احتجاج کرنے والے بنگالی طلبہ کا قتل، مشرقی پاکستان میں بنگالی اکثریت کے باوجود ان کو دونوں حصوں میں برابری نہ ملنا، شاعر رابندر ناتھ ٹیگور کی نظموں کا قومی ریڈیو پر چلنے سے پابندی، اہم قومی معاملات اور شکایات پر اسمبلی میں حزب اختلاف میں شامل بنگالی رہنماؤں کو نظر انداز کرنا، فاطمہ جناح کے خلاف انتخابات میں دھاندلی کر کے ایوب خان کو جیت دلانا، اور ترقیاتی کاموں کے لیے معاشی وسائل میں برابر کا حصہ نہ دینا جیسی وجوہات شامل ہیں۔

ان تمام شکایات کا مجموعی نتیجہ انتہائی شدید غم و غصے کی صورت میں نکلا۔ بنگالی دانشوروں نے اس بات کو ماننے سے انکار کیا کہ ان کے خطے کی خستہ حالی کی وجوہات سامراجی دور اور اس کی پالیسیوں کی وجہ سے چلتی آ رہی ہیں اور سول بیوروکریسی میں بنگالی افراد کی نمائندگی میں بتدریج اضافہ ہوتا جا رہا ہے۔

لیکن ان عوامل کے باعث عوامی لیگ کو وہ طاقت مل گئی جس کی مدد سے وہ ہڑتالوں کی کامیاب کال دینے لگے اور مشرقی پاکستان میں غیر بنگالیوں پر دھونس جمانے لگے۔

سنہ 1970 کے انتخاب کے بعد یحیی خان سے ہونے والی ایک ملاقات میں شیخ مجیب جس گاڑی پر پہنچے اس پر بنگلہ دیش کا جھنڈا لہرا رہا تھا۔ ان کی ٹیم نے تجویز دی کہ ایک متحد ریاستوں پر مبنی ایک کنفڈیریشن قائم کی جائے۔

لیکن اتنے عرصے تک فوج کو بنگالیوں کے خلاف نسلی تعصب برتنے پر جواب دینے کی خواہش کے باوجود، مذاکرات پوری طرح ختم نہیں ہوئے تھے۔ تاہم فوج کے صبر کا پیمانہ بھی لبریز ہوتا جا رہا تھا کیونکہ وہ اس قسم کے رویے کے عادی نہیں تھی۔ ڈھاکہ میں مغربی پاکستان کے ایک وفد سے بات کرتے ہوئے یحیی خان نے کہا کہ دنیا ان پر ہنس رہی ہے۔

خود کی تضحیک ہونے کے بعد رد عمل میں تشدد پر اتر آنا تاکہ کھوئی ہوئی مردانگی کو دوبارہ حاصل کیا جا سکے، یہ اُس طرز عمل سے بہت مماثلت رکھتا ہے جو جلیانوالہ باغ کے قتل عام پر دیکھا گیا تھا۔

محقق اور سماجی کارکن ڈاکٹر عمار علی جان اس پر لکھتے ہیں کہ برطانوی جنرل ڈائر کے لیے مسئلہ یہ تھا کہ انھیں محسوس ہوتا تھا کہ انڈین عوام برطانیہ کے سامراجی قوانین کی سر عام خلاف ورزی کر کے ان پر ہنس رہے ہیں۔ تو انھوں نے اس کے جواب میں جلیانوالہ باغ میں جمع ہونے والے انڈین شہریوں کو سبق سکھانے کے لیے ان پر اندھا دھند فائرنگ کا حکم دیا۔

ڈاکٹر عمار علی جان کے مطابق درحقیقت یہ سبق انھوں نے جلیانوالہ باغ میں آنے والوں کے لیے نہیں بلکہ باقی پورے انڈیا، اور شاید برطانیہ کی دیگر تمام محکوم ریاستوں کے لیے تھا۔

یحیی خان نے بھی ایسا ہی کیا۔ ان کے فوجی کمانڈر مشرقی پاکستان کے رہنماؤں کے ساتھ جاری مذاکرات کے دوران عسکری منصوبے پر کام کرنے میں مصروف تھے۔ مشرقی پاکستان میں مارچ کی 25 تاریخ کو شروع ہونے والے اس آپریشن نے پاکستانی فوج کی وہ جنگی حکمت عملی کی تشکیل دی جو تشدد کی مدد سے قانون نافذ کرنے پر کارفرما تھا۔
پاکستانی جرنیل میجر جنرل اے او مٹھا فوج کی اس حکمت عملی کے بارے میں بتاتے ہیں کہ بجائے بریگیڈ ہیڈ کوارٹر میں دفاعی پوزیشن لینے کے انھیں مختلف علاقوں میں بھیج دیا گیا تھا۔ جنرل مٹھا کہتے ہیں کہ وہ اس حکمت عملی کے خلاف تھے اور بارہا اسے واپس لینے پر اصرار کرتے رہے لیکن کامیاب نہ ہوئے۔

اس حکمت عملی کے باعث احکامات کے نظام میں جو خلل آیا اور جس کے بارے میں انھوں نے تنبیہ کی تھی، وہی دراصل اس آپریشن کی منطق تھی کہ میدان جنگ میں جہاں چار، پانچ فوجیوں کی ٹولی ہو، وہ آزادانہ طور پر اقدامات اٹھائے۔ اور قانون نافذ کرنے کے لیے جو انھوں نے اقدامات لیے، انھوں نے وہی کیا جس کا مشورہ مشرقی پاکستان میں پاکستانی افواج کے سربراہ جنرل امیر عبداللہ نیازی نے دیا تھا۔

وہ تمام افراد جن کے بارے میں ذرہ برابر بھی شبہ تھا کہ وہ مکتی باہنی سے تعلق رکھتے ہیں یا اُن کے ہمدرد ہیں اور وہ جنھوں نے فوجیوں پر کہیں پر بھی حملہ کرنے کی کوشش کی، ان تمام افراد کو سرسری سماعت کے بعد سزائے موت دے کر انھیں قتل کر دیا۔

ان اقدامات کا مقصد بنگالی عوام میں ڈر و خوف بٹھانا تھا اور اس عسکری آپریشن کے بعد کسی بھی قسم کے سیاسی حل تک پہنچنے کا راستہ معدوم ہو گیا۔ تشدد پر اتر آنے کے فیصلے سے پاکستانی فوج نے مشرقی پاکستان کی اکثریت سے وہ حق چھین لیا جو انھوں نے شیخ مجیب الرحمان کو بھاری اکثریت سے ووٹ دے کر حاصل کیا تھا تاکہ وہ سیاسی خود مختاری اور دو معیشتوں کے خواب کو پورا کر سکیں۔

اس فوجی آپریشن کی وجہ سے مشرقی پاکستان میں عوامی لیگ کے خلاف جو رہی سہی مخالفت تھی وہ ختم ہوگئی اور پاکستانی فوج کے بنگالی اہلکاروں نے بھی بغاوت کر دی۔

مکتی باہنی کے تربیت یافتہ جنگجوؤں میں اکثریت کا تعلق پاکستانی فوج کے ‘ایسٹ پاکستان رائفلز’ سے تھا جبکہ دیگر یونٹوں میں کام کرنے والے بنگالی اہلکاروں نے بھی مکتی باہنی میں شمولیت اختیار کر لی۔

آپریشن سرچ لائٹ کا ایک انتہائی اہم مقصد ان بنگالی اہلکاروں پر مبنی یونٹوں سے ہتھیار واپس لینا تھا اور پس، پاکستانی فوج نے ہی ان اختلافات کو نسلی رنگ دیا کیونکہ ان کے نظر میں ہر بنگالی، چاہے اس کا تعلق پاکستانی فوج سے ہی کیوں نہ ہو، وہ اب مشکوک بن گیا تھا۔
مغربی پاکستان میں رہنے والے پانچ لاکھ کے قریب بنگالیوں کو بھی اسی نگاہ سے دیکھا گیا۔ انھیں مختلف کیمپوں اور عارضی جیلوں میں رکھا گیا جہاں وہ جنگ ختم ہونے کے بعد بھی کافی عرصہ قید میں رہے۔ اس میں ایک انوکھی بات یہ تھی کہ یہ تمام افراد پاکستانی شہری تھے اور ان اقدامات سے ان کی شہریت تو واپس نہیں لی گئی لیکن انھیں بحیثیت شہری ملنے والے کسی بھی حق سے محروم کر دیا گیا۔

اور شاید یہی وجہ تھی کہ ان پرتشدد واقعات کی تعداد اتنی بڑی تھی کیونکہ یہ کسی ایک گروپ، یا کسی مخصوص کمیونٹی کے خلاف نہیں بلکہ آبادی کے بڑے حصے کے خلاف کیا جا رہا تھا۔

یہ تشدد اتنا زیادہ اس لیے تھا کیونکہ ہر شہری کو ہی دشمن گردانا گیا تھا اور جب کسی ریاست میں ہر شہری دشمن بن جائے، تو اس دشمن کو کچلنے کے لیے کیے جانے والا آپریشن نسل کشی ہی ہوتا ہے۔

برطانیہ کی استعماری فوج کی طرز اور نظام کے تحت بنائی گئی پاکستانی فوج یہ بھول گئی تھی کہ پولیس ایکشن کا پہلا اصول یہ ہوتا ہے کہ قانون نافذ کرنے کے لیے ان اہلکاروں کو بلایا جائے جو مقامی آبادی سے کسی قسم کا جذباتی لگاؤ نہ رکھتے ہوں۔

لیکن مشرقی پاکستان میں اس کے الٹ ہوا جہاں انھیں اُن غیربنگالی افراد کے تحفظ کے لیے بلایا گیا جس سے ان کا خون کا، نسل کا، زبان کا رشتہ تھا۔

پاکستان کی جانب سے 1971 کی جنگ کے دوران فوجی آپریشن کے دوران ‘تشدد کے استعمال میں تجاوز’ کر جانے کی جو وجہ سب سے زیادہ دہرائی جاتی ہے وہ ہے کہ مشرقی پاکستان میں پاکستانی فوج نے ‘ان کے اپنے لوگ’ یعنی مشرقی پاکستان میں مغربی پاکستان کے رہنے والوں کے ساتھ شدید ہولناک قسم کا تشدد ہوتے ہوئے دیکھا تھا۔

Advertisements
julia rana solicitors

دوسری جانب، اسی لیے بنگالیوں کے لیے پاکستانی فوج نے ایک قابض قوت کا کردار ادا کیا جس کا مقصد مقامی آبادی یعنی بنگالیوں کو ان کی نسل کی بنیاد پر نشانہ بنایا اور انھیں کمتر اور کم درجے کا سمجھا۔
بشکریہ بی بی سی اُردو

  • FaceLore Pakistan Social Media Site
    پاکستان کی بہترین سوشل میڈیا سائٹ: فیس لور www.facelore.com
  • julia rana solicitors london
  • julia rana solicitors
  • merkit.pk

مکالمہ
مباحثوں، الزامات و دشنام، نفرت اور دوری کے اس ماحول میں ضرورت ہے کہ ہم ایک دوسرے سے بات کریں، ایک دوسرے کی سنیں، سمجھنے کی کوشش کریں، اختلاف کریں مگر احترام سے۔ بس اسی خواہش کا نام ”مکالمہ“ ہے۔

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

Leave a Reply