چاندنی راتوں کا پُرفسوں منظر۔۔اسلم اعوان

معروف ماہرنفیسات ڈاکٹر شاہد مسعود خٹک کا شمار خیبر پختون خوا کے اُن نمایاں ترین ماہرین طب میں ہوتا ہے جو پیشہ وارانہ فرائض کے علاوہ اپنی قوت مشاہدہ کی بدولت مشرق کے پیچیدہ معاشرتی نظام اورثقافتی پس منظر کے مطالعہ کا ذوق رکھتے ہیں،چنانچہ ذہن انسانی کی جہتوں میں گہرائی تک جھانکنے کی اسی عادت نے ہمیشہ انہیں زندگی کے نفیس ترین احساسات سے ہم کنار رکھا،بلاشبہ وہ واقعات کو مرتب کرنے اور شخصی رویّوں کو متشکل کرنے کا فن خوب جانتے ہیں۔دس سال قبل انہوں نے ”پاکستانی معاشرہ“ کی سیاسی و معاشی ترجیحات بارے دلچسپ کتاب لکھی جو علمی حلقوں میں شوق سے پڑھی گئی۔ڈاکٹر شاہد مسعود نے خود کو روایتی ڈاکٹروں کی مانند صرف طبی و نفسیاتی علوم اور سائنسی تحقیقات تک محدود نہیں رکھا بلکہ وہ شعر و ادب،ظرافت و موسیقی،تاریخ و فلسفہ اور سیاحت وجہاں گردی جیسے گداز مشاغل میں بھی گہری دلچسپی رکھتے ہیں،پچھلے تیس سالوں میں انہوں نے اسٹریلیا سے لیکر لاطینی امریکہ تک پھیلے کرہ ارض کے تقریباً تمام قابل ذکر ممالک کا سفر کیا،دنیا کے کئی ملکوں کے بڑے شہروں کے قدیم ترین تمدنی مراکزکا مطالعاتی دورہ کرکے وہاں کی ماضی و حال کی پُرشکوہ تہذیبوں کے بارے میں اپنے مشاہدات اور تجربات کو قلم بند کیا۔اس وقت اُن کی نئی کتاب”جہان حیرت“میرے ہاتھ میں ہے جسمیں پانچ ملک اور پانچ شہروں کی پُرفسوں تہذیبوںکی صورت گری کی گئی ہے،اس کتاب میں ان زندہ و جاود معاشروںکی مقصدیت سے لبریزکہانیاں شامل ہیں،جن کی وسعتوں نے ماضی کے کلاسیکی تمدن کے علاوہ عہد حاضرکی ڈیجیٹل ثقافتوں کو بھی اپنے دامن میں جگہ دی ہوئی ہے۔سفرنامہ سے ملتی جلتی اِس پُراثر کتاب کی شروعات ڈاکٹر صاحب نے روس کے شہر سینٹ پیٹبرگ کی سفید راتوں کے تذکرہ سے کی،لکھتے ہیں کہ ”بعض شہر انسان کا دل مو لیتے ہیں اور آپ کو بار بار اپنی طرف بلاتے ہیں،سینٹ پیٹربرگ بھی ایسا ہی خوبصورت اور پُرکشش شہر ہے،جس کی محبت کا میں پہلی نظر میں اسیر ہو گیا،چند سالوں میں تیسری بار یہاں آن پہنچا ہوں،سینٹ پیٹربرگ ماسکو کے بعد روس کا دوسرا بڑا وفاقی شہرہے،55 لاکھ سے زاید آبادی پہ مشتمل اس شہر کی بنیاد 1703 میں زار پیٹر دی گریٹ نے دریا نووا کے کنارے ابنائے فن لینڈکے دہانے پہ بالٹک سمندرکے کنارے رکھی،یہ شہردو سو سالوں تک زاروں کا پایا تخت رہا تاہم 1917 کے کیمونسٹ انقلاب کے بعد ملک میں آنے والی بہت سی بنیادی تبدیلیوں کی طرح یہ عظیم شہر بھی دارالحکومت ہونے کے اعزاز سے ہاتھ دھو بیٹھا۔لکھتے ہیں کہ”یوروپی اور مسلم شہنشاہوں میں محلات،عبادت گاہیں اور تفریح گاہوں کی تعمیرکا شوق یکساں ہونے کے باوجود یہاں یہ واضح فرق نظر آیا کہ یوروپی بادشاہ ان کے ساتھ اعلی علمی و طبی ادارے،مارکیٹس،میوزیم،تھیٹر اور لائبریاں بھی بنواتے تھے۔سینٹ پیٹربرگ اس خطہ کے عظیم تہذیبی،ثقافتی اور علمی ورثہ کا وارث ایسا شہر ہے جہاں کلچر آرٹ اور پینٹنگز کے ورلڈ کے سب سے بڑے،سٹیٹ ہرنیٹیگ،میوزیم کے علاوہ چھوٹے بڑے 122میوزیم،80 تھیٹرز،82 سینما ہال،100 کنسرٹ ہال،45 آرٹ گیلریاں،80 ثقافتی مراکز اور 2000 سے زاید لائبریریاں موجود ہیں جن میں ہر سال عالمی سطح کے 100 سے زیادہ فیسٹیول کرائے جاتے ہیں“۔۔۔مشرق بعید میں واقع جاپان کے شہر ٹوکیو بارے ان کے مشاہدات میں جدیدترین ریلوے سسٹم اورحیرت انگیز صنعتی ارتقاءکے علاوہ جاپان کی دم توڑتی قدیم تہذیبی و ثقافتی روایات کی نوحہ گری سمیت وہاں بسنے والے پاکستانی مسلمانوں کے طرز عمل بارے بیان کئے گئے تلخ حقائق زیادہ قابل ذکر ہیں۔”کئی سالوں سے یہاں مقیم جن پاکستانیوں نے مقامی عورتوں سے شادیاں رچا رکھی ہیں،وہ کہتے ہیں،یہاںخواتین کو انتہائی پیار کرنے والا اور بااخلاق پایا،وہ بہت خدمت گزار ہیں،اپنی جاپانی بیویوں کی تعریف کرتے ہوئے یہ تک کہہ دیتے ہیں،انہی کی بدولت یہاں ہمیں پُرسکون زندگی ملی،وہ ہمارے لئے اسلام بھی قبول کر لیتی ہیں لیکن یہ جان کے بہت دکھ ہوا،کہ وہ سب، یہ کہنے میں بھی کوئی باک محسوس نہیں کرتے کہ ،جب تک جاپان میں ہیں،ساتھ ہیں،جب جانے لگیں گے تو انہیں طلاق دیکر یہیں چھوڑ جائیں گے،یہ کوئی اصلی بیویاں تھوڑی ہیں،اصل بیوی بچے تو وطن میں ہیں۔ایک مرتبہ کسی سٹور میں ہماری رنگت اور شکل و صورت کا اندازہ لگا کرایک صاحب نہایت خلوص سے ملے،ہمارے جاپان آنے کے مقصد بارے کچھ جانے بغیر مشورہ دینے لگے،یہاں آ گئے ہو تو واپس مت جایئے گا،کسی مقامی جاپانی لڑکی سے شادی کرکے خوشحال زندگی گزارو،پھرجاتے وقت اُسے طلاق دیکر چلے جانا،یہاں تقریباً تمام پاکستانی ایسا ہی کرتے ہیں“۔۔۔ترکی کا دارلحکومت استنبول جو بیک وقت دو براعظموں،ایشیا اور یوروپ میں پھیلا ہوا ہے،ڈیڑھ ہزار سالوں سے دنیا کی کئی عظیم سلطنتوں،رومن،بازنطینی اور عثمانی مملکت کا پایہ تخت رہا،استنبول کا شمار دنیا کے اُن قدیم ترین شہروں میں ہوتا ہے جہاں کئی ہزار سال قبل مسیح کی آبادیوں کے آثار ملے ہیں،یہاں کی صدیوں پرانی عبادت گاہ ،آیا صوفیہ،کو دنیا کا اٹھوان عجوبہ مانا جاتا ہے،یہاں روزانہ لاکھوں سیاح،عثمانی ترکوں کے اُن شاندار محلات کو دیکھنے آتے ہیں،جہاں قیمتی جواہرات کے ذخائر،شاہی جاہ و جلال کے دلآویز قصے،اقتدار کی غلام گردشوں میں پنپنے والی سازشوں کا ذکر،انتقام اور قتل و غارت گری کے واقعات کے علاوہ حسن و عشق کی کئی لازوال داستانیں بکھری پڑی ہیں“۔۔۔”ازبکستان کے شہر تاشقند کا شمار بھی اُن قدیم ترین اور انتہائی خوبصورت شہروں میں ہوتا ہے،جہاں عمدہ ولذیزکھانوں کے لاتعداد مراکز ہیں،کھانے کا ذوق رکھنے والے ان دوستوں،خاصکر گوشت کی مختلف ڈشیں،پلاو¿،سلاد اور دودھ و دہی سے بنی اشیاءپسندکرنے والوں کے لئے سمرقند بہت اہم ہے۔وسیع و عریض چراگاہوں کے حامل اس ملک میں مویشی بانی خاص طور پہ دنبے اور گوسفند پالنا طرز معاشرت کا حصہ ہے،یہاں کے لوگ صحتمند اور زندہ دل ہیں،سیاست اوربین الاقوامی مسائل سے لاتعلق رکھے جانے کی وجہ سے انکی پوری توجہ ذاتی زندگی کی خوشیوں پہ مرکوز رہتی ہے۔
۔۔۔تاشقند کے قدیم کمپلکس سے وابستہ پہاڑی کی دوسری جانب ایسا وسیع و عریض قبرستان آباد ہے،جہاں شام ڈھلتے ہی چہار سو خاموشی اورہلکی سی خنکی چھا جاتی ہے،جب آہستہ آہستہ چاند نمودار ہونے لگتا ہے تو چاند کی روشنی میں چمکتے ٹیلے،گہرے سناٹے میں کھڑی فیروزی گنبدوں اور رنگ برنگی ٹائیلوں سے بنی چہار کونہ اور ہشت پہلو عمارتوں کے خاموش مناظر میں یوں محسوس ہوتا ہے،جیسے وقت تھم سا گیا ہو،صدیاں سمٹ کے چند ساعتوں میں مقید ہو گئی ہوں،جیسے صدیوں پرانے ان مقبروں میں زندگی دوبارہ سانس لینے والی ہو،ان عالی شان مزارات میں کئی شہشاہ،بلند پایہ ولی اور بہادر جرنیلوں سمیت سینکڑوں مقدس ہستیاں آسودہ خاک ہوں گی“۔۔۔انڈیا کے شہر جے پورکا ذکر کرتے ہوئے لکھتے ہیں کہ،راجپوتانہ شان بان کا ایسا دلکش علاقہ ہے جس کی وجہ شہرت پُرشکوہ محلات،عالیشان قلعے،تاریخی عمارات اور خوبصورت باغات ہیں،یہاں کی بود وباش میں مخصوص راجپوت لباس نمایاں نظر آیا،ہندوستان کے دیگر شہروں کی مانند یہ گنجان آباد شہر بھی اب جدید عمارتوں کے باعث دور تک پھیل گیا ہے،کھوئے سے کھوا چھلنا کے اردو محاورے کا مطلب یہاں کے بازاروں میں سمجھ آتا ہے۔بلاشبہ،ہندوستان قریب ہونے کے باوجود ہم سے بہت دور واقع ہے،دونوں ممالک کی تاریخ و ثقافت،لوگوں کے لباس،زبان،خوارک اور موسیقی سمیت بہت سی چیزیں مشترک ہونے کے باوجود گہرے تضادات بھی پائے جاتے ہیں،صدیوں تک انڈیا و پاکستان ایک ملک کے طور پہ رہے،باہم ملکر بہت کچھ ایک جیسا ہو گیا تاہم نفسیاتی طور پہ دونوں گروہ ایسے رہے جیسے سمندر میں بہنے والے پانی کے دو دھارے اکھٹے چلنے کے باوجود ایک دوسرے سے جدا نظر آتے ہیں،محبت و نفرت اور دوری و نزدیکی سے ممیز اِسی عجیب رشتہ نے بھارت کو ہمارے لئے پُراسراریت کی دھند میں لپیٹ ہوا ہے،چنانچہ جب انڈین سائیکارٹرک سوسائٹی کے اشتراک سے جے پور میں منعقد کی جانے والی ورلڈسائیکارٹرک ایسویسی ایشن کی عالمی کانفرنس میں شرکت کا دعوت نامہ ملا تو بلاتاخیر رضامندی ظاہر کر دی۔جے پور کانفرنس کے یومیہ شائع ہونے والے کسی بلٹن میں میرا انٹرویو پڑھ کر،جس میں اپنے شہر کا ذکر کیا تھا،ایک لیڈی ڈاکٹر ڈھونڈتے ہوئے آ ملی،ان کے دادا اور دیگر بزرگ ڈیرہ اسماعیل خان کے مشہور امیر کبیر (بگئی)خاندان سے تعلق رکھتے تھے،انہوں نے میرے دہلی آنے کا سُن کر نہایت اصرار کے ساتھ گھر آنے کی دعوت دی،کہنے لگیں یہ ڈیرہ اسماعیل خان دنیا کی کیسی جگہ ہے؟کونسی ایسی جنت ہے جس کا ذکر ہم پیدائش ہی سے اپنے بزرگوں سے سنتے آ رہے ہیں،دہلی میں ڈاکٹر صاحبہ کے بزرگوں سے ملاقات ہوئی،سرائیکی میں بات کرنے والے بزرگ اندرون شہر کے محلوں اور بیرونی باغات کا بار بار پوچھتے رہے،جن کی وجہ سے کبھی، ڈیرہ پُھلا دا سہرا،کہلاتا تھا،نہایت اشکبار آنکھوں کے ساتھ بچپن کے کئی دوستوں کا ذکر بھی کیا،جن میں سے کچھ اب بھی زندہ ہیں۔قصہ کوتاہ،جے پور تاریخی عجائبات کا ایسا طلسماتی شہر ہے،جہاں آپ ایک جگہ سے مرعوب ہو کے نکلیں تو دوسری مسحور کر لیتی ہے،یہاں کی سب سے اہم عمارت جھیل کے وسط میں بنا پانچ منزلہ”جل محل“ہے،جب کبھی جھیل کا پانی کم ہو تو محل کے زیر آب بھی حصے نمودار ہو جاتے ہیں۔

  • julia rana solicitors london
  • FaceLore Pakistan Social Media Site
    پاکستان کی بہترین سوشل میڈیا سائٹ: فیس لور www.facelore.com
  • merkit.pk
  • julia rana solicitors

Aslam Awan
اس وقت یبوروچیف دنیا نیوز ہوں قبل ازیں پندرہ سال تک مشرق کا بیوروچیف اور آرٹیکل رائٹر رہاں ہوں،سترہ سال سے تکبیر میں مستقل رپوٹ لکھتا ہوں اور07 اکتوبر 2001 سے بالعموم اور 16مارچ 2003 سے بالخصوص جنگ دہشتگردی کو براہ راست کور کر رہاں ہوں،تہذیب و ثقافت اور تاریخ و فلسفہ دلچسپی کے موضوعات ہیں،

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

Leave a Reply