میں نے ڈھاکہ ڈوبتے دیکھا۔۔مہر ساجد شاد

16 دسمبر  سے  آج بھی ڈر لگتا   ہے، یہ ہمارے لئے احساسِ عدم تحفظ کی تاریخ ہے۔

آرمی پبلک اسکول پشاور میں 16 دسمبر 2014 کو ہماری فوج کے شعبہ تعلقات عامہ کے مطابق 27 دہشت گرد گھس آئے اور انہوں نے 144 معصوم بے گناہ بچوں سمیت 150 افراد کو فائرنگ کر کے جاں بحق کر دیا۔ ان دہشت گردوں میں سے 9 مارے گئے 12 گرفتار ہوئے اور باقی فرار ہو گئے۔ یہ ادارہ کنٹونمٹ ایریا میں فوج کی براہ راست ذمہ داری میں تھا۔ یہاں سکیورٹی کی یہ ناکامی نااہلی سنگین ترین واقعہ تھا تحقیقات کا اعلان ہوا اور پھر آج تک حتمی نتیجے  کا انتظار ہے، ذمہ داران کا تعین اور انکو سزا دئیے بغیر آئندہ مستقبل میں ایسے واقعات کی روک تھام کا یقین کرنا ایک خوش فہمی کے سوا کچھ بھی نہیں۔

FaceLore Pakistan Social Media Site
پاکستان کی بہترین سوشل میڈیا سائٹ: فیس لور www.facelore.com

یہ 16 دسمبر اس سے پہلے بھی آئی تھی سال 1971 تھا اور اس وقت حملہ آوروں نے نہ صرف لاشیں بچھائیں بلکہ آدھے پاکستان پر قبضہ کر کے پاکستان کو دولخت کر دیا۔ یہ بھی کوئی حادثاتی واقعہ نہیں تھا نااہلی نالائقی اور رعونت و تکبر کی ایک لمبی داستان تھی اس پر تبصرہ کی بجائے آئیے کچھ حقائق جانتے ہیں۔

کتاب ہے “ میں نے ڈھاکہ ڈوبتے دیکھا” اور لکھاری ہیں “میجر صدیق سالک” جو آئی ایس پی آر سے اس وقت مشرقی پاکستان میں تعینات سب سے اہم آفیسر تھے۔
انہوں نے اس کتاب میں الیکشن دسمبر 1970 سے سقوط ڈھاکہ تک کا آنکھوں دیکھا حال لکھا ہے، آخر میں ضمیمہ کی صورت میں مشرقی پاکستان کی مختصر سیاسی اور عسکری تاریخی واقعات بھی لکھ دئیے ہیں تاکہ قارئین اس وقت ہونے والے واقعات کی وجہ بھی جان سکیں۔ دسمبر میں پڑھنے کیلئے یہ بہت اچھی کتاب ہے۔
٭حوالدار نے پر زور لہجے میں کہا: سر ! ان حرامزادوں کی عادت نہ بگاڑئیے”
٭میں نے محسوس کیا کہ بنگال کا غریب آدمی مغربی پاکستان کے انتہائی غریب آدمی سے بھی غریب تر ہے۔ مجھے مشرقی پاکستان کی معاشی بدحالی کے بارے میں سنی ہوئی باتوں میں نظر آنے لگا م،میں اپنے آپ کو مجرم محسوس کرنے لگا۔
٭بنگالی بیرسٹر نے کہا: “لا ء کا تمسخر تو نہ اڑائیے خواہ یہ مارشل لا ء ہی کیوں نہ ہو۔۔۔یا تو اسے حقیقی معنوں میں نافذ کیجیے  یا اسے اٹھا لیجیے”۔
٭ یحیی خان نے اس کی بات کاٹتے ہوئے کہا: “سراسر بکواس ، کون ہے جو میرے اختیارات میں شریک ہے ؟ کون ہے ؟ جب تک میں نہ چاہوں کوئی یہاں پر نہیں مار سکتا۔”
٭ ایک بنگالی دوست نے مجھ سے کہا:”ذرا اس (یحیی) کو دیکھو، جب یہاں آتا ہے تو اپنے کسی سٹاف افسر کے ذریعے(اکثریتی پارٹی کے سربراہ) مجیب الرحمن کو ایوان صدر میں طلب کرتا ہے اور جب وہاں جاتا ہے تو (اقلیتی پارٹی کے سربراہ) بھٹو کے پاس ٹھہرتا ہے۔ کیا فوج ، جمہوریت کیلئے یہی جذبہ احترام رکھتی ہے۔”
٭خود ڈھاکہ میں حالت تشویش ناک تھی۔ شہریوں میں احساس تحفظ ختم ہو چکا تھا۔ ہر وقت موت سر پر منڈلاتی نظر آتی تھی۔ لوگ اپنا گھریلو سامان اونے پونے بیچ کر مغربی ہاکستان جا رہے تھے۔ گلشن کالونی اور بانانی کالونی ( جو ڈھاکہ کا گلبرگ کہلاتا تھا) کے لوگوں نے پی آئی اے کے ٹکٹ کے عوض (جس کی مالیت صرف 250روپے تھی) اپنی نئی نئی کاریں دے دیں۔ بعض نے اپنا بھرا ہوا گھر دوسرے کو سونپ کر راہ فرار اختیار کی۔
٭ اس پرائیویٹ آرمی نے کرنل عثمانی کی زیر نگرانی بھر پور تربیت کا آغاز کیا اور لڑکوں نے مورچہ بندی اور سڑکوں پر رکاوٹیں کھڑی کرنے کی مشق شروع کر دی۔ یہ سب دیکھ کر ایک عمر رسیدہ بنگالی سیاستدان نے مجیب سے کہا:”آپ بچوں جیسی باتیں کرتے ہیں، کیا ان تیاریوں سے آپ پاکستان کی پیشہ ور فوج کا مقابلہ کر سکیں گے؟” مجیب نے جواب دیا: “کونسی فوج ؟ وہ فوج جو ڈھاکہ میں کرفیو نافذ نہ کر سکی، ساڑھے سات کروڑ عوام کا مقابلہ کیسے کر سکتی ہے ؟۔ خواہ ہتھیار کچھ بھی ہوں”
٭ مزے کی بات یہ ہے کہ انٹیلی جنس والوں کا دعوی ہے کہ انہوں نے تمام تیاریوں کے متعلق حکام بالا کو باخبر رکھا۔ پتہ نہیں ان کی رپورٹس کس مرحلے پر بے اثر ہو جاتی تھیں۔ میں نے خود ایک سینئر افسر سے فوج میں عوامی لیگ کے اثر و رسوخ اور متوقع محاذ کا زکر کیا۔ اس نے مجھے یہ کہہ کر جھڑک دیا: “بکواس بند کرو تم دنیا کی بہترین فوج کے ڈسپلن پر بہتان لگا رہے ہو ۔”
٭ اجلاس کے آخر میں صدر (یحیی) نے فرمایا:”آپ لوگ پریشان نہ ہوں، میں کل مجیب کو بلاؤں گا اور اسے کھری کھری سناوں گا، ایسی سرد مہری دیکھاؤں گا کہ دوپہر کے کھانے کا بھی نہیں پوچھوں گا۔ اس کے بعد پرسوں اس سے باقاعدہ ملاقات کروں گا اور دیکھوں گا کہ اسکی طبیعت ٹھیک ہوئی ہے کہ نہیں۔ اگر پھر بھی وہ راہ راست پر نہ آیا تو میں جانتا ہوں اس کا علاج کیا ہے۔
٭ کیپٹن چوہدری بولے: “صدر بلاوجہ معاملے کو طول دے رہے ہیں۔ ان کے حکم کی دیر ہے فوج کی ایک کمپنی بنگالیوں کو سیدھا کر دے گی۔”
٭ جنرل خادم راجہ نے مجھے بتایا کہ جب وہ فوج کی کمان انکے سپرد کر چکے تو جنرل نیازی نے پوچھا”اپنی داشتاؤں کا چارج کب دو گے”۔
٭ شام کو میری ملاقات اس کارروائی کے انچارج افسر سے ہوئی۔ اس نے جو انکشاف کیا اس سے میرا خون میری رگوں میں منجمد ہو کر رہ گیا۔ اس نے بتایا کہ کرانی گنج ایک غریب اور معصوم بستی تھی جس میں زیادہ تر بوڑھے بچے اور عورتیں تھے، انہیں خواہ مخواہ غیر مصدقہ اطلاع پر بھون کر رکھ دیا گیا۔ اس سانحے کا بوجھ میں عمر بھر اپنے ضمیر پر لئے پھروں گا۔
٭ ایسے واقعات بھی ہونے لگے کہ کئی حضرات کسی نہ کسی بنگالی کنبے کی “سرپرستی” میں لگ گئے، جس کنبے کو قدرت نے حسن کی دولت سے نوازا تھا، اسے بیک وقت کئی کئی فوجی افسروں کی “سرپرستی” حاصل ہو گئی۔
٭ ہمیں اتنی مزاحمت کی توقع نہ تھی، کیونکہ ہمارے “ماہرین “ کی نظر میں اس علاقے میں ٹینک نہیں آ سکتے تھے ہم بے خبری  میں مارے گئے۔
٭ ۳دسمبر بڑا تاریخی دن تھا،  ملک کیلئے بھی اور جنرل نیازی کیلئے بھی ، ملک اس روز بھارت کی دوسری بھرپور جارحیت کا شکار ہوا اور جنرل نیازی اس دن آخری مرتبہ ڈھاکہ سے باہر نکلے۔
٭ ہندوستان کے دس مگ 21 طیارے امڈ آئے۔ ہماری طیارہ شکن توپوں نے انہیں للکارا مگر بے سود۔ وہ پانچ پانچ سو کلوگرام وزنی چھ بم گرانے میں کامیاب ہو گئے جن میں سے دو رن وے پر پڑے، گویا 6دسمبر کی صبح سے ہماری فضائیہ بے کار ہو گئی۔
٭ فوجی  ذہن عموماً حملے کا رخ متعین کرتے وقت رسل و رسائل کے ذرائع کو بہت اہمیت دیتے ہیں لہذا مذکورہ بالا تین راستے ہی بھاری تعداد میں ٹرکوں توپوں اور ٹینکوں کی آمد وعدے کیلئے استعمال ہو سکتے تھے، لیکن بھارتی منصوبہ سازوں کو داد دیجیئے کہ انہوں نے متوقع راستوں میں سے کسی کو بھی نہیں اپنایا۔
٭ پلاٹون کمانڈر نے وائرلیس پر اطلاع دی“میرے بائیں جانے سے دشمن کے ٹینک گزر کر رنگ پور/بوگرہ روڈ کی طرف بڑھ رہے ہیں” افسر نے کہا بیوقوف ! یہاں ٹینک کہاں ؟ شام کے دھندلکے میں تم نے بھینسیں دیکھی ہونگی” کمانڈر نے عرض کیا” سر! آپ درست ہی کہتے ہونگے مگر ان بھینسوں پر سو ملی میٹر دھانے کی توپیں فٹ ہیں جو ہمارے مورچوں کو ایک ایک کر کے چگتی جارہی ہیں”۔
٭ میجر اکرم نے اپنی سی کمپنی کیساتھ دفاع کی لازوال داستان رقم کی ان کو بعد از شہادت “نشان حیدر” کا اعزاز دیا گیا۔
٭ رائے پور اور نرسگندی کے علاقے میں ہیلی کاپٹر سے بھارت نےفوج اتارنا شروع کر دی جو ڈھاکہ کے لئے خطرے کا باعث بن سکتی تھی، مگر بہتان بازار کے محافظوں نے اسے چھیڑنا مناسب نہ سمجھا، کیونکہ “یہ علاقہ اس سیکٹر میں شامل نہ تھا۔”
٭ہم نے بڑھ کر دشمن کا سر کچلنے کی بجائے اپنی جان بچانے پر زیادہ توجہ دی اور 12دسمبر کو مزید پیچھے ہٹ کر سلہٹ شہر اور اس سے باہر سلوچی ائر فیلڈ تک اپنے آپ کو محدود کر لیا،،،،بقیہ علاقے پر دشمن کا قبضہ ہو گیا،  تینوں بریگیڈیئر اور ان کے زیر کمان نفری انہی دو مقامات پر خاتمہ جنگ تک دُبکی رہی۔
٭ لیفٹیننٹ کرنل اشفاق سید اور لیفٹننٹ کرنل زیدی نے 9دسمبر کو کھیتوں میں بیٹھ کر ایک غیر رسمی کانفرنس میں فیصلہ کیا کہ وہ اپنی اپنی نفری کو دو الگ الگ دستوں میں تقسیم کر لیں تاکہ “چھوٹے دستوں کی نقل و حرکت مکتی باہنی سے پوشیدہ رہ سکے”۔ انہوں نے اگلی رات الگ الگ سفر کیا اور 10دسمبر کو مختلف مقامات پر دشمن کے سامنے ہتھیار ڈال دئیے۔
٭12دسمبر کا سورج طلوع ہوا تو کرنل نعیم اپنی متاع لے کر روانہ ہوئے ابھی چند کلومیٹر گئے ہونگے کہ انکے ہراول دستے کو “رام موہن” اور “چندینا” کے درمیان بھارت سپاہی نظر آئے۔ وہ پہلے کچھ ٹھٹکے پھر انہوں نے پیچھے اپنے کمانڈنگ آفیسر کی جانب دیکھا اور چند ثانیے بعد اپنے سفید رومال لہراتے ہوئے دشمن کے پاس چلے گئے، کرنل نعیم سمیت باقی قافلہ بھی ان کے پیچھے پیچھے دشمن کی خدمت میں حاضر ہو گیا۔
٭گورنر مالک نے ابھی آخری جملہ کہا ہی تھا کہ جنرل نیازی کا چوڑا چکلا جسم یکایک کانپنے لگا اور انکی آنکھوں سے آنسو بہہ نکلے انہوں نے دونوں ہاتھوں سے اپنے چہرے کو ڈھانپ لیا اور بچوں کی طرح سسکیاں بھرنے لگے۔
٭انٹرویو میں جنرل نیازی نے کہا “میں آخری سپاہی اور آخری گولی تک لڑوں گا۔ ڈھاکہ پہنچنے کیلئے میری لاش سے گذرنا ہو گا۔ انہیں پہلے یہاں سے (اپنی چھاتی ٹھونکتے ہوئے) اپنے ٹینک گذارنے ہو نگے”۔
٭جنرل ناگرا جو بھارت کے 101 Communication Zone کی کمان کر رہا تھا وہ میر پور پل کے پاس آ کر رک گیا۔ وہاں سے اس نے لیفٹیننٹ جنرل نیازی کو مختصر خط لکھا جس میں درج تھا:
“ پیارے عبداللہ ! میں میر پور پل پر ہوں اپنا نمائندہ بھیج دو”۔
جنرل نیازی کو یہ رقعہ۱۶دسمبر کو کوئی ۹ بجے صبح ملا ، جبکہ میجر جنرل جمشید، میجر جنرل فرمان اور ائیر ایڈمرل شریف ان کے پاس تھے۔ جنرل فرمان نے پوچھا “ کیا کچھ ریزرو فوج ہے؟ جنرل نیازی خاموش رہے۔ ائیر ایڈمرل شریف نے اس سوال کا پنجابی ترجمہ کرتے ہوئے کہا” کجھ پلے ہے ؟” جنرل نیازی نے ڈھاکہ کے محافظ جنرل جمشید کی طرف دیکھا جنہوں نے بھی میں سر ہلا دیا۔ اس پر جنرل فرمان اور ایڈمرل شریف نے یک زبان ہو کر کہا: “اگر یہ کیفیت ہے تو جاؤ جو وہ کہتا ہے کرو۔”
٭میجر جنرل ناگرا ایک گولی فائر کئے بغیر ڈھاکہ میں داخل ہو گیا۔
٭جنرل نیازی اپنے “مہمان” میجر جنرل ناگرا کی تواضع لطیفوں سے کرتے رہے، میں ان لطیفوں کو دھرا کر اس المناک کہانی کو غلیظ نہیں کرنا چاہتا۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔

ادھر ڈھاکہ چھاؤنی کا منظر یہ ہے کہ افواج کی آنکھیں ڈبڈبا گئیں، لوگ کونوں میں دبک کر رونے لگے جیسے کسی عزیز کو کھو دیا ہو۔ صدیق سالک کہتے ہیں کہ “یہ گریا و زاری کسی سپاہی کے شایان شان تو نہ تھی لیکن جواں مرگ پر کس کا کلیجہ منہ کو نہیں آتا۔ چوبیس سالہ پاکستان کا آدھا دھڑ کاٹ کر الگ پھینک دیا گیا تھا۔۔۔ مجھے یوں محسوس ہو رہا تھا جیسے میرے سامنے سرد مجسمے رکھے ہیں جن کی زبانیں گنگ اور چہرے سُن ہیں اس سناٹے میں صرف نگاہیں بولتی تھیں اور وہ بھی کہتی کم اور پوچھتی زیادہ تھیں۔ ان کا ایک ہی سوال تھا یہ سب کیا ہوا؟ کیوں کر ہوا؟

Advertisements
julia rana solicitors london

لاکھوں افراد اس منظر کو دیکھنے کے لیے تماشائی بنے تھے کہ اب ریس کورس کے میدان میں کیا ہو گا۔ سارا ہجوم گویا پاگل ہو چکا تھا۔ بھارت اپنی پچیس سالہ جدوجہد کی کامیابی پر خوش تھا اور شادیانے بجا رہا تھا ۔ مکتی باہنی اپنے خون کی پیاس نہتے عوام کے خون سے بجھا رہے تھے۔ لوگوں کو گھسیٹ گھسیٹ کر گھروں سے نکالا گیا۔ سنگینوں پر چڑھایا گیا۔ ایک خون آشام مناظر تھے جو معلوم نہیں تاریخ نے کس حوصلے سے محفوظ کیے ہوں گے ۔۔۔

  • julia rana solicitors london
  • julia rana solicitors
  • FaceLore Pakistan Social Media Site
    پاکستان کی بہترین سوشل میڈیا سائٹ: فیس لور www.facelore.com
  • merkit.pk

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

Leave a Reply