• صفحہ اول
  • /
  • خبریں
  • /
  • لاپتہ افراد پر سارے چیف ایگزیکٹوز پر آرٹیکل 6 نہ لگادیں؟عدالت

لاپتہ افراد پر سارے چیف ایگزیکٹوز پر آرٹیکل 6 نہ لگادیں؟عدالت

لاپتہ صحافی کیس میں چیف جسٹس اسلام آباد ہائیکورٹ نے ریمارکس دیے ہیں کہ لاپتہ افراد پر سارے چیف ایگزیکٹوز پر آرٹیکل 6 نہ لگادیں؟ کیوں نہ چیف ایگزیکٹو ز کا ٹرائل کیا جائے؟

اسلام آباد ہائیکورٹ میں صحافی مدثر نارو کی بازیابی کیلئے دائر درخواست پر سماعت ہوئی۔ اٹارنی جنرل نے عدالت کو بتایا کہ مدثر نارو کی فیملی کو وزیراعظم سے ملوایا۔وزیراعظم سمیت ہم سب اس کی فیملی کو سن کر اس میٹنگ میں شرمندہ تھے۔مدثر نارو نے ایسا کچھ نہیں کیا تھا کہ اسے لاپتہ کر دیا جائے۔

FaceLore Pakistan Social Media Site
پاکستان کی بہترین سوشل میڈیا سائٹ: فیس لور www.facelore.com

چیف جسٹس اسلام آباد ہائیکورٹ نے ریمارکس دیے کہ ذمہ دار لوگ اپنا کام کریں تو کسی کو نہیں اٹھایا جا سکتا۔لوگوں کے لاپتہ ہوجانے کا ذمہ دار چیف ایگزیکٹو ہی ہوتا ہے۔یہاں سابق چیف ایگزیکٹو لوگوں کے اٹھائے جانے کا فخر سے کتابیں لکھ کریڈٹ لیتے ہیں۔

انہوں نے مزید کہا۔ریٹائر ہونے کے بعد سب صوفی بن جاتے ہیں۔ لاپتہ افراد پر سارے چیف ایگزیکٹوز پر آرٹیکل چھ نہ لگادیں؟ آرٹیکل چھ لگا کر تمام متعلقہ چیف ایگزیکٹوز کا ٹرائل شروع کرا دیتے ہیں۔ ایک ہال آف شیم بنا دیتے ہیں جس میں سب چیف ایگزیکٹو کی تصاویر ہوں۔

اٹارنی جنرل نے کہا،لوگوں کا لاپتہ ہوجانا پاکستان پر دھبہ ہے یہ بدقسمتی ہے۔ لوگوں کے لاپتہ ہونے کی کوئی وضاحت نہیں دے رہا لیکن یہ موجودہ حکومت کو کیسز ورثے میں ملے۔کئی لوگ جہاد کے نام پر بارڈر کراس کر کے چلے گئے اب وہ بھی لاپتہ افراد کی کیٹیگری میں شامل ہیں۔مدثر نارو صحافی تھا میں اس کے کیس کو اس کیٹیگری میں نہیں رکھتا۔صرف چیف ایگزیکٹو کیوں باقی ذمہ داروں کی بھی ہونی چاہئیں

چیف جسٹس ہائیکورٹ نے کہا۔مدثر نارو کے بچے کو عدالت آنے سے پہلے انصاف ملنا چائیے تھا۔ہمیں توقع تھی بچے سے ملاقات کے بعد وفاقی کابینہ کچھ کرے گی۔اٹارنی جنرل صاحب، ہم خود سے اور عوام سے دیانتداری کرتے ہیں۔کیا اس شہر سے لوکل انتظامیہ کی مرضی کے بغیر کسی کو اٹھایا جا سکتا ہے؟ ایک بچے کو اٹھایا جاتا ہے واپس آکر کہتا ہے شمالی علاقوں کی سیر پر تھا۔ ہمیں نہیں پتہ میڈیا آزاد ہے یا نہیں۔آزاد میڈیا ہوتا تو لاپتہ افراد کے خاندان کی تصویریں روز اخبار میں ہوتی

Advertisements
julia rana solicitors london

انہوں نے اٹارنی جنرل سے مکالمے میں کہا۔ آپ عدالت کی معاونت کریں ،جنہوں نے اعتراف کیا ان سے تو آرٹیکل چھ شروع کریں تاکہ آغاز ہو۔ چیف ایگزیکٹو ذمہ داری لیں یا انکو ذمہ دار ٹھہرائیں جو انکے تابع ہیں۔ جبری گمشدگی کرپشن کی بدترین شکل ہے، اگر کوئی کرپشن کے خلاف ہے تو اس سلسلے کو بند کرائے،فیصلے کے بعد کوئی اور عدالت آیا تو فیصلے کے مطابق کارروائی ہو گی۔لاپتہ افراد کمیشن کی آرٹیکل 14 کے مطابق کیا حیثیت ہے؟

  • merkit.pk
  • FaceLore Pakistan Social Media Site
    پاکستان کی بہترین سوشل میڈیا سائٹ: فیس لور www.facelore.com
  • julia rana solicitors
  • julia rana solicitors london

خبریں
مکالمہ پر لگنے والی خبریں دیگر زرائع سے لی جاتی ہیں اور مکمل غیرجانبداری سے شائع کی جاتی ہیں۔ کسی خبر کی غلطی کی نشاندہی فورا ایڈیٹر سے کیجئے

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

Leave a Reply