• صفحہ اول
  • /
  • مشق سخن
  • /
  • لاہور الیکشن پیپلزپارٹی کا نیا جنم۔۔۔ سید شبر عباس ایڈووکیٹ

لاہور الیکشن پیپلزپارٹی کا نیا جنم۔۔۔ سید شبر عباس ایڈووکیٹ

لاہور پنجاب کا دل اور پاکستانی سیاست کا مرکز تصور کیا جاتا ہے سیاسی اتار چڑھاؤ کی نشاندہی اور اس میں سیاسی کردار لاہور کا خاصا ہے قرارداد پاکستان پاس ہونے کا سہرا بھی لاہور کے سر ہی سجتا ہے شہید ذوالفقار علی بھٹو نے جب ایوب آمریت کے خلاف عملی جدوجہد کا اعلان کیا اپنی سرگرمیوں کا مرکز لاہور کو ہی بنایا جب سیاسی جماعت بنانے کی ضرورت محسوس کی تو پاکستان پیپلز پارٹی کی بنیاد 30 نومبر 1967 کو لاہور میں ہی رکھی اس شہر سے ہی پیپلز پارٹی کی اٹھان ہوئی اور شہید ذوالفقار علی بھٹو نے اس شہر مردم خیز کو اپنی سیاست کا محور بنایا 1973 کی اسلامی سربراہی کانفرنس دارالحکومت اسلام آباد کے بجائے لاہور میں منعقد کرکے اس شہر کی اہمیت کو مزید اجاگر کیا گیا بھٹو شہید کی شہادت کے بعد محترمہ بینظیر بھٹو طویل جلاوطنی کے بعد واپس پاکستان تشریف لائیں تو انہوں نے پنجاب کے دل لاہور کا انتخاب کیا اور زندہ دلان لاہور نے جہانگیر بدر مرحوم ملک معراج خالد مرحوم شیخ رفیق مرحوم حنیف رامے مرحوم اسلم گل اعتزاز احسن و دیگر کی قیادت میں شہید بی بی کا تاریخ ساز استقبال کیا اور پاکستان سیاست سے ضیا جبر کا طاری خوف ختم کیا جمہوریت سے خائف پاکستان کی اسٹیبلشمنٹ نے پاکستان پیپلز پارٹی کا زور توڑنے کیلئے میاں برادران کو پنجاب بالخصوص لاہور سے لانچ کیا ۔
پھر پاکستان پیپلز پارٹی مخالف عناصر شدت پسند گروپوں لسانی گروہوں کو یکجا کرکے پیپلز پارٹی کا زور توڑنے کا آغاز کیامخالفین کی سازشوں پروپیگنڈے اور اپنوں کی بے اعتناہی نے ورکرز کو مایوس کر دیا جس شہر سے پیپلز پارٹی کا خمیر اٹھا وہ شہر پاکستان پیپلز پارٹی سے نامانوس ہوتا گیا اور حالات اس نہج پر آگئے کہ کوئی ٹکٹ لینے کیلئے بھی تیار نہ ہوتا اگر کوئی ٹکٹ لے بھی لیتا تو الیکشن سے پہلے ہی ہار کر گھر بیٹھ جاتا اور پھر یہ تاثر دیا جانے لگا کہ پیپلز پارٹی پنجاب سے ختم ہوگئی ھے پھر پارٹی نوجوان قائد بلاول بھٹو زرداری نے پنجاب کو متحرک کرنے کا فیصلہ کیا پارٹی راہنماؤں کی مشاورت سے آرگنائزنگ کمیٹی تشکیل دی تاکہ کسی متحرک اور ایسے شخص کو پنجاب کا صدر بنایا جائے جو محنتی بھی ہو اور کارکنوں کو متحرک کرنے کا فن بھی جانتا ہو اور پارٹی کارکنوں میں پھیلی بددلی اور مایوسی کو امید میں تبدیل کرسکتا ہو تو قرعہ فال خطہ پوٹھوہار کے سپوت تنظیمی صلاحیتوں سے مالا مال کارکن شناس سابق وزیراعظم راجہ پرویز اشرف کے نام نکلا ۔
یہ ایک مشکل ٹاسک تھا لیکن اگر جذبے صادق ہوں تو راستہ خود بنتا جاتا ھے ،سابق وزیراعظم راجہ پرویز اشرف نے پارٹی قائدین کی ہدایت پر عمل پیرا ہوتے ہوئے کارکنوں سے رابطوں کا آغاز کیا اور لاہور کی سیاسی اہمیت کو سمجھتے ہوئے اس شہر میں بیٹھ کر ناراض کارکنوں کو منانے کا فیصلہ کیا پرانے کارکنوں سے رابطے استوار کئے انہیں متحرک کرنے پر قائل کیا نو منتخب صدر راجہ پرویز اشرف کا پہلا امتحان بھی لاہور سے ہی شروع ہوا جب مسلم لیگ ن کے ایم این اے ملک پرویز کی وفات کے بعد خالی نشست پر ضمنی الیکشن کا مرحلہ درپیش آیا۔
راجہ پرویز اشرف نے اس الیکشن کو اپنے اور اپنی صوبائی تنظیم کیلئے ایک ٹیسٹ کیس کے طور پر لیا ایک ایسا حلقہ جس سے حکومتی امیدوار شکست کی بدنامی سے بچنے کیلئے دیدہ دانستہ آوٹ ہوگیا اس حلقہ میں مسلم لیگ ن سے پنجہ آزمائی کا فیصلہ کیا گزشتہ جنرل الیکشن میں پیپلز پارٹی کا امیدوار پانچ ہزار سے زیادہ ووٹ نہ لے سکا اس حلقے سے ضمنی الیکشن میں حصہ لینا یقینا ًجان جوکھوں کا کام تھا۔
راجہ پرویز اشرف نے بطو ر ٹیم لیڈر ایک سیاسی کارکن کی تمام صلاحیتیں بروئے کار لاتے ہوئے اپنے جنرل سیکرٹری سید حسن مرتضیٰ جو خود ایک با صلاحیت اور جرات مند سیاسی کارکن ہیں اور سیکرٹری اطلاعات شہزاد سعید چیمہ سابق سٹوڈنٹ لیڈر ضیا مارشل لا کے خلاف چٹان کی طرح کھڑا رہنے والا رانا فاروق سعید ٹائیگر لاہور کی تنظیم الائیڈ ونگز سے ملکر ڈور ٹو ڈور مہم کا آغاز کیا اور دیگر سیاسی جماعتوں کےذمہ داران کے پاس جا کر انہیں الیکشن میں حمایت کیلئے قائل کیا ۔
پیپلز پارٹی کے مرکزی جنرل سیکرٹری سید نئیر بخاری سیدہ شہلا رضا بھی کارکنوں کی حوصلہ افزائی کے لئیے پیش پیش رہیں۔لیکشن کمپین اس انداز میں چلائی کہ پیپلز پارٹی گلی محلوں میں اپنے روایتی انداز میں نظر آنے لگی جگہ جگہ کارنر میٹنگز جلسے جلوس کارکنوں کا جوش و خروش دیکھ کر شہد بی بی کے دور کی یاد تازہ ہونے لگی سب سے اہم بات کہ بھٹو شہید کے چاہنے والے خاندان گوشہ نشینی چھوڑ کر عملی میدان میں نکل آئے ان ہی میں جیالے راہنما جہانگیر بدر مرحوم کے بیٹے بھی پیش پیش رھے گوکہ میڈیا کا رویہ حسب سابق منفی ہی رہا اور پاکستان پیپلز پارٹی کے جلسوں کو کوریج نہ دی اس کے باوجود راجہ پرویز اشرف اور انکی ٹیم ووٹرز کا اعتماد اور ہار کا خوف ختم کرنے میں کامیاب رہی انتخاب کے نتائج دیکھ کر پیپلزپارٹی کے ناقدین اور غیر جانبدار مبصرین راجہ پرویز اشرف کی صلاحیتوں کے اعتراف پر مجبور ہوگئے ایک ایسی جماعت جو پنجاب سے انتخابی معرکے سےعملاً آوٹ ہوچکی تھی لاہور جیسے شہر میں ایک با صلاحیت اور عمدہ شخص کے انتخاب سے دوبارہ سے عملی میدان میں موجود ہے۔
لاہور کی اس تبدیلی کو پورے ملک بالخصوص پنجاب میں شدت سے محسوس کیا جارہا ہے مقولہ مشہور ہے کہ لاہور جاگتا ہے تو سارا پاکستان جاگتا ھے پنجاب کی نو منتخب تنظیم نے جہاں لاہور سے خاطر خواہ ووٹ حاصل کر کے کامیابی سمیٹی ہے وہیں پورے ملک میں جیالوں کے جذبو ں کو جوان کر دیا ہے۔اگر صرف دو ماہ کی محنت کا جائزہ لیا جائے تو یہ کہنا بے جا نہ ہو گا کہ اگر میرٹ پر عہدے دیئے جائیں مخلص اور متحرک لوگوں کو آگے لایا جائے پاکستان پیپلز پارٹی کے نعرے عوام طاقت کا سر چشمہ عوام ہیں پر عمل کرتے ہوئے خاص لوگوں کے بجائے عام آدمی سے رشتہ استوار کیا جائے الائیڈ ونگز خصوصا پیپلز سٹوڈنٹ فیڈریشن اور پیپلز لیبر بیورو میں ریگولر طلبا اور محنت کشوں کو میرٹ پر عہدے دئیے جائیں تو آنے والے الیکشن میں پیپلز پارٹی نہ صرف پنجاب بلکہ پورے ملک میں کھویا ہوا مقام دوبارہ حاصل کرسکتی ہے ۔
ضرورت اس امر کی ہے کہ ہے کہ موجودہ سیاسی خلا کو پر کرنے کیلئے بلاول بھٹو زرداری خود پنجاب میں لیڈ کریں کارکنوں کو اعتماد دیں اور کیمپ آفس لاہور کو بنائیں کارکنوں سے براہ راست ملاقاتیں کرکے نظریاتی لوگوں کو متحرک کریں ورکر تیار ہیں صرف قیادت کی ضرورت ہے ۔
موجودہ مہنگائی کی لہر ہی حکومت کے خلاف نفرت کی کافی وجہ ہے اگر اس کے خلاف کارکنوں کو تیار کیا جاسکا تو آنے والے وقت میں پاکستان پیپلز پارٹی کا راستہ کوئی طاقت نہیں روک سکتی اور پاکستان پیپلز پارٹی اور بلاول بھٹو زرداری کا کردار انتہائی اہم ہو گا موجودہ ضمنی الیکشن کے رزلٹ اور راجہ پرویز اشرف اور انکی ٹیم کی محنت نے یقینا ًکارکنوں کے حوصلوں کو ہمالیہ کی طرح بلند کردیا ہے۔

 

  • merkit.pk
  • FaceLore Pakistan Social Media Site
    پاکستان کی بہترین سوشل میڈیا سائٹ: فیس لور www.facelore.com
  • julia rana solicitors london
  • julia rana solicitors

مکالمہ
مباحثوں، الزامات و دشنام، نفرت اور دوری کے اس ماحول میں ضرورت ہے کہ ہم ایک دوسرے سے بات کریں، ایک دوسرے کی سنیں، سمجھنے کی کوشش کریں، اختلاف کریں مگر احترام سے۔ بس اسی خواہش کا نام ”مکالمہ“ ہے۔

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

Leave a Reply