• صفحہ اول
  • /
  • نگارشات
  • /
  • سیاسی وینٹی لیٹر ، جلسے اور پاکستان کی سیاست کا بارہواں کھلاڑی

سیاسی وینٹی لیٹر ، جلسے اور پاکستان کی سیاست کا بارہواں کھلاڑی

سیاسی وینٹی لیٹر ، جلسے اور پاکستان کی سیاست کا بارہواں کھلاڑی
محمود شفیع بھٹی
آج کل سیاست کے آئی۔سی۔یو میں لفظ ”وینٹی لیٹر” زبان عام ہے۔ نون والے ہوں یا جنون والے یا پھر جیالے ہوں ایک دوسرے پر وینٹی لیٹر آزمائی میں جتے ہوئے ہیں۔ ایک دوسرے پر الزامات کی بوچھاڑ کی جا رہی ہے۔ راحیل شریف کے جانے کے بعد پی پی کی سیاست میں جہاں بڑی محنت سے بہتری لانے کی کوششیں جاری تھیں۔وہیں آصف زرداری نے کھمبا نوچنے کا پروگرام بنالیا۔ عمران خان کے بنی گالہ میں پش اپس نے جہاں تحریک انصاف کی مقبولیت کو ضرب کاری لگائی وہیں پانامہ کی دلدل میں اپنی عوامی سیاست کو الجھا کر پیپلز پارٹی کو مڈل آرڈر کی بیٹنگ کا موقع فراہم کردیا۔ پیپلز پارٹی کے نمبر چارکے بیٹسمین اس وقت بارہویں کھلاڑی ثابت ہوئے جب ایک پارٹ ٹائمر کی گیند پر کلین بولڈ ہوگئے۔ مطلب پیپلز پارٹی کا فیصل آباد جلسہ جو کبھی اسکا گڑھ تھا۔لیکن آج پی پی وہاں غریب شہر ہے۔
حکومتی تھنک ٹینکس اور اسٹیبلشمنٹ نے بڑی مہارت اور محنت کے ساتھ پہلے عمران خان کو پانامہ کی دلدل میں پھنسایا اور عمران خان کی عدم حاضری کا فائدہ اٹھاتے ہوئے منظم منصوبہ بندی سے پیپلزپارٹی کو سیاست کی پچ پر جم کر کھیلنے کا موقع فراہم کیا۔ ان کا خیال تھا کہ بلاول فلیٹ پچ پر ڈٹ کر بیٹنگ کرے گا اور عمران خان اگلی سیریز کے لئے ڈراپ ہوگا۔ لیکن وقت سب سے بڑا حاکم ہے کیس کی سماعت ہوئی،دن گزرتے گئے،خان کا گراف نیچے گرتا گیا،استثناء آیا اور چلا گیا اور حکومت اپنے ہی کھودے ہوئےگڑھے میں گرچکی ہے۔حکومت کی تمام تدبیریں ناکام ہو چکی ہیں اور آج نااہلی کی تلوار مزید تیز ہوکر میاں صاحب کے سر پر لٹک رہی ہے۔

اگر جلسوں کا موازنہ کیا جائے تو حکومت نے پیپلز پارٹی کو کم بیک کرنے کے لئے بہت بڑا چانس دیا۔فیصل آباد کا جلسہ ہو یا لاہور کی ریلی تمام سہولیات مہیا کی گئیں جو ایک میثاق جمہوریت کے رشتہ دار کو میسر ہوتی ہیں ۔لیکن ان کو کیا معلوم تھا کہ جمہوریت میں عوام بادشاہ گر ہوتی ہیں اور عوام کا موڈ ابھی پیپلز پارٹی کے لئے بنا نہیں ہے۔ پی پی جو وفاق کی علم بردار جماعت تھی ۔ جس کے اشارے پر جیالے کٹ مرنے کو تیار ہوتے لیکن آج پنجاب میں وینٹی لیٹر پر ہے،آج عوام اس کو بہتر نہیں سمجھتی اور عوام اسکو تیسرے آپشن میں بھی شامل نہیں کرتی ہے۔ لاہور کی ریلی دیکھ لیں کوئی روایتی جوش نظر نہیں آیا،فیصل آباد کا جلسہ دیکھ لیں کوئی بے ضرر جیالہ مزدور نظر نہیں آیا۔بلاول کی تقریر اٹھا کر دیکھ لیں کوئی منشور کوئی منصوبہ بندی نظر نہیں آئی.
وہی پرانے کھوکھلے نعرے،وہی لالی پوپ جن کو عوام سن سن کر تنگ آچکی ہے۔ اس ساری صورت میں میڈیا کا کردار انتہائی شرمناک رہا،آپ خان کا جلسہ کور کرتے ہو،آپ حکومت کو کوریج دیتے ہو تو پھر پیچارے بلاول کا کیا گناہ؟ شہید رانی کے فرزند کی اتنی بھی وقعت نہیں کہ آپ اسکی تقریر کے کو دس منٹ دیکھا دیں۔ برقی صحافت کا انحصار اشتہارات پر ہے اور شائد چینلز مالکان نے یہ سوچا ہو کہ عمران خان پبلک کی ڈارلنگ ہے اور اشتہارات سے مال آتا ہے چلو خان کو بھر پور کوریج دو یا پھر حکومت کی ہاں میں ہاں ملاؤ اور اشتہارات سے مال بناؤ۔لیکن پی پی کا کیا قصور ہے؟

اگر جلسوں کا مقابلہ کیا جاۓ تو اس وقت عمران خان سب سے آگے ہیں،معیار کے اعتبار سے اور عوام کے اعتبار سے۔جوں جوں پانامہ کی سماعت اختتام کی جانب بڑھ رہی ہے ساتھ ہی عمران خان کی مقبولیت بھی بڑھ رہی ہے۔ بہاولپور کا جلسہ ہویا ڈیرہ غازی خان یا پھر قصور کا عوام نے جی بھر کر استقبال کیا۔ عمران خان کیلئے پھر سے موقع بن رہا ہے۔اگر وہ مفاد پرستوں،خوشامدیوں اور فصلی بٹیروں سے جان چھڑاکر اپنے آپکو پہلے نمبر کا کھلاڑی ثابت کرے نہیں گےتو اگلی آنے والی سیریز میں عمران خان بارہواں کھلاڑی ہوگا۔

محمود شفیع بھٹی
محمود شفیع بھٹی
ایک معمولی دکاندار کا بیٹا ہوں۔ زندگی کے صرف دو مقاصد ہیں فوجداری کا اچھا وکیل بننا اور بطور کالم نگار لفظوں پر گرفت مضبوط کرنا۔غریب ہوں، حقیر ہوں، مزدور ہوں۔

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *