ادب اور معاشرہ۔۔اسلم اعوان

عالمی سیاست میں دہشتگردی کو بطور ٹول استعمال کرنے کی حکمت عملی نے جہاں پورے روئے زمین پہ انسانی رویّوں کو متاثر کیا وہاں اِسی سرگرانی نے ہماری تہذیب و ثقافت،تاریخ و ادب اور معاشرتی شعور پر بھی گہرے اثرات مرتب کئے،چنانچہ اسی کی بدولت سماجی و سیاسی زندگی کے دھارا سے بامقصد شعر و ادب کا وہ عنصر معدوم ہو گیا جو کبھی زندگی کے میلہ میں رنگ بھرنے کے علاوہ ذہنوں کو منور رکھتا تھا۔بظاہر مہیب تشدد کے انہی مظاہر نے اجتماعی زندگی کو فنون لطیفہ کے اُس نفسیاتی اثر سے باہر نکال لیا،جس نے ہماری تہذیبی شناخت اورسیاسی شعور کو منظم رکھنے میں اہم کردار ادا کیا۔

دو دہائیاں قبل تک خیبر پختون خوا کے طول و ارض میں تہذیب وثقافتی کی پرداخت کے علاوہ شعر و ادب کی تراویج کرنے والی تنظیمیں متحرک تھیں،جن میں گلی کوچوں میں مشاعرے منعقد کرانے والی،شام افسانہ،ادبی ٹولونہ اور سرائیکی سنگت جیسی کئی انجمنیں وقت کی دبیز تہہ میں گم ہو گئیں، یادگاری مواقع پہ اصلاحی اور تاریخی موضوعات پہ مبنی ڈرامے،مزاحیہ اور طرحی مشاعروں کی محفلیں بھی اب قصہِ پارینہ ہیں۔

FaceLore Pakistan Social Media Site
پاکستان کی بہترین سوشل میڈیا سائٹ: فیس لور www.facelore.com

14 اگست اور6  ستمبرکے علاوہ عیدین کی مناسبت سے سجائی جانے والی گداز ادبی و ثقافتی تقریبات،موسمی تہوار،چترال کا شندور میلہ،جشن سوات اور جشن ڈیرہ اسماعیل خان میں گھڑ دوڑ،نیزباری، کشتی اورکبڈی کے مقابلوں کے علاوہ علاقائی رقص،مشاعرے ،تھیٹر،کارنوال اور سرکس کے دلکش نظارے اب دیکھنے کو نہیں ملتے،افسوس فنون لطیفہ سے جڑے یہی گداز رسمیں اب ہماری حقیقی زندگی کی رسائی سے کافی دور نکل گئیں۔

ماضی میں سرکاری طور پہ ایسی سرگرمیوں کی حوصلہ افزائی کی خاطر گورنمنٹ، پشاور میں اباسین آرٹ کونسل،گندھارا ہندکو بورڈ اور ڈیرہ اسماعیل خان میں دامان آرٹ کونسل سمیت درجنوں ادبی انجمنوں کی سرپرستی کرتی تھی لیکن وقت کی بے رحم لہروں نے ان صحت مند سماجی عوامل اورادبی و ثقافتی روایات کو دگرگوںکر دیا،جب سے سرکار خاطر مدار نے ان سرگرمیوں سے ہاتھ اٹھایا تو افلاس زدہ معاشرہ اپنی دل آویز روایات کو بھولتا گیا،اب ہم صرف فیس بک،ٹویئٹر اور انسٹاگرام کے سحر میں مبتلا ہو کے گھروں کے تنگ وکمروں میں بیٹھ کے اپنے دماغوں کو بنجر بنانے کی مشق ستم کیش کو آزماتے ہیں،زندگی کی توانائی سے سرشار وہ عوامل جو ہماری فطرت کو خوشگواراحساس سے مزین رکھتے تھے،دیکھتے ہی دیکھتے ناپید ہو گئے۔

ہرچند کہ ہمارے عہد میں ادب اور تاریخ کے معاشرے پر نمایاں اثرات کو زیادہ اہمیت نہیں دی گئی تاہم افلاطون کے بعد ادب اور معاشرے کے درمیان تعلقات پہ یور پی مصنفین نے جو بے مثال تحقیق کی تھی اُسی کی کوکھ سے پچھلی چند صدیوں میں نشاة ثانیہ یا اصلاح کی تحریکوں نے جنم لیکر مغربی معاشروں کے ارتقاءکو آگے بڑھایا۔ شیکسپیئر کے ڈرامے ہوں،والٹیئر کی فلسفیانہ نظمیں اور افسانے ہوں،بیتھیون اور وانگنر کے پُرسوزنغمات ہوں،سرفلپ سڈنی کی مسجّع تحریریں یا جان کیٹس کی حزن و ملال  سے آراستہ شاعری ہو،سب کے موضوعات سماجی مسائل اور انسانی دکھوں کے گرد گھومتے دکھائی دیتے ہیں۔

تاریخی اور معاشرتی تنازعات سے لبریز برصغیر میں بھی ادبی شعور نے ہی ہمیں باہم جوڑا ہوا تھا لیکن عالمی سیاست کے تقاضوں،انتہا پسندی اور نچلی سطح تک اترے ہوئے تشدد کے رجحانات ہمیں ادب کو فنی خصوصیات سے جداکرکے ادنی خواہشات کے محور تک لے آئے،جو ہمارے عہد کی سماجی، سیاسی اور ثقافتی ضروریات سے مطابقت نہیں رکھتے۔کئی ممتاز سکالر اب بھی تہذیب وثقافت اور سیاست کے مابین فطری تعلق کی توضیح میں اداب کو باہمی ابلاغ کا حقیقی آلہ اوراصلاح کا ایجنٹ تسلیم کرتے ہیں۔

ڈاکٹر جمیل جالبی کہتے ہیں،ادب معاشرے کی روح کا ترجمان ہوتا ہے،اگر کسی معاشرے میں ادب پیدا نہیں ہو رہا یا عام آدمی ادب کو بے معنی سرگرمی سمجھتا ہے تو اس کا مطلب ہے کہ وہ معاشرہ اندر سے بیمارہے“۔تاہم اس سب کے باوجود اب بھی ادیبوں نے کسی نہ کسی طور معاشرے میں پیدا ہونے والے تنازعات اور بحرانوں کی عکاسی جاری رکھی ہوئی ہے،بلاشبہ ہمارا مقصد بھی سماجی مسائل اور سیاسی ارتقاءکی طرف عصری ادیبوں کی توجہ دوبارہ مبذول کرانے کے سوا کچھ نہیں تاکہ تیزی سے دم توڑتے سماجی عدل اور فطری صداقتوں کے احساسات کو بچانے کےلئے فاضل ناقدین ،ذہنی بددیانتی،مالی بدعنوانی،جبر،نسلی و لسانی تعصبات اور دیگر سماجی برائیوں کے خاتمہ میں اپنا کردار ادا کریں۔

بہرحال،اس حقیقت سے انکار ممکن نہیں کہ سیاسی و سماجی ارتقاءکی منزل حاصل کرنے لئے متحرک ادب کو ناگزیر عنصر مانا گیا جو نہ صرف مسائل کے ماخذ کی نشاندہی بلکہ قارئین کو سماجی ترقی کے دھارے کو مثبت انداز میں بدلنے کا احساس بھی دلاتا ہے۔ڈاکٹر جمیل جالبی کے مطابق ادب کا مطالعہ بھی دراصل اُس معاشرے کا مطالعہ ہے جو اسے تخلیق کرتا ہے،اسی لئے ہر عہد میں ادب اور سماج کے درمیان فطری رشتہ موجود رہے گا۔شاعری کے فلسفیانہ استرداد سے قطع نظر،جمہوریہ،میں افلاطون کا مشاہدہ بھی یہی تھا کہ ادب معاشرے کو متاثر کرتا ہے،افلاطون نے خود ہومر کے پروازتخیل اورحسنِ بیاں سے استفادہ کیا۔اگرچہ ادب کا موضوع وسیع بلکہ لامحدود ہے لیکن ادیب اکثر مثالی زندگی اور فنکار حقیقی دنیا کے حالات کی عکاسی کرتے ہیں،جیسے حکایات، افسانے،ڈرامے، نظم میں تاریخی واقعات اور وہ تمام معاشرتی وظائف جو زیادہ خشک تھے شاعری کی بدولت دلچسپ بنے۔

سرفلپ سڈنی نے کہا تھا ”شاعری وہ پہلی دایہ تھی جس کے دودھ نے انسان کو رفتہ رفتہ دقیق چیزوں کو ہضم کرنے کا اہل بنایا،اگر فلسفی اور مو¿رخ شاعری سے پروانہ راہداری نہ لیتے تو وہ قبولیت عام کے دروازے میں داخل نہیں ہو سکتے تھے“۔بلاشبہ حقیقی دنیا میں ادب اور سماج کے قریبی رشتے نے ہمیں بہت کچھ دیا۔ہمارے لئے انیسویں صدی کی ادبی روایات کے سایہ میں پروان چڑھے والا ہندوستانی معاشرہ شاید اسی لئے پرکشش تھا کہ اس میں میرتقی میر کی مغموم شاعری،امیر مینائی کی زندہ دلی،غالب کی دشوار پسندی،خواجہ میردرد ،استاد ذوق اور داغ دہلوی کی غنائی غزلیں اور اقبالؒ کے الہامی کلام کی سحرانگیز فکر نے ہمارے روحانی تزکیہ کے علاوہ ہمیں بلند تخیلات اورحسن و عشق کے مبہوت کن ابلاغ کی گداز صورتیں دکھائیں۔

علامہ اقبالؒ نے بھی شلر کی طرح شاعری کو انسان کی مدد کے لئے پکارا تھا،جس زمانہ میں انسان غلامی اور حد سے زیادہ انتشار میں گرفتار تھے،اقبالؒ نے شاعری کی زبردست قوت سے متضاد اصولوں کے مابین جھگڑے طے کرائے۔شاعری میں ہمیں روزمرہ زندگی کی سطح پر ابھرنے والے قابل فہم کرداروں کے خیالات اور احساسات کی تدوین ملی۔انسان کے حقیقی تجربات کی تفہیم اور زندگی کی جزیات کا ادراک بھی ہمیں ان نقادوں کی تحریروں میں ملا،جنہوں نے تاریخ کی تعریف”انسانیت کی ترقی کے عمل“کے طور پر کی،یعنی جب انسان اپنے ماحول پہ غلبہ پا لیتا ہے تاہم دوسرے الفاظ میں یہ ماضی میں رونما ہونے والے اُن واقعات کا مطالعہ بھی ہے جسے حال یا ماضی میں کسی نہ کسی لحاظ سے اہم سمجھا گیا۔ایک شاعر ہی اسقدر فصیح و بلیغ پیرائے میں معاشرے کے اہم عناصر کی توضیح دیتا ہے تاکہ لوگ مشترکہ ثقافتی، تاریخی اورسماجی و سیاسی تجربات سے استعفادہ کر سکیں۔

کچھ لوگوں کا خیال ہے کہ ادب معاشرے کی نمائندگی کرتا ہے جب کہ کچھ اس نظریہ کی حامی ہیں کہ ادب انسان کو جمالیاتی فضیلت کے حصول پر توجہ مرتکز رکھنے کی ترغیب دیتا ہے تاہم سچ یہی ہے کہ ادب کی کوئی صورت بھی سماجیات اور تاریخی شعور کے بغیر وجود نہیں رکھتی۔ اس لئے ہر ادبی مواد کی جمالیاتی حساسیت کا ایک تاریخی پس منظر ہوتا ہے،جیسے وہ ماحول،جسمیں وہ شاعر جنم لیتا،اُسے ہم شاعر کی زندگی کے تجربے سے جدا نہیں کر سکتے۔ادب تاریخ سے ایک پائیدار رشتہ رکھتا ہے لیکن معاشرہ کوئی ایسا نقاد نہیں جو ادیب کو اپنا رخ مڑ نے پہ مائل کر سکے۔اس لئے ہر سماجی سائنسدان ادب اور معاشرے کے درمیان ہموار تعلق پر زور دیتا ہے کیونکہ ایک کی بحث،ہمیشہ دوسرے کی تلویث کا سبب بنتی ہے۔

Advertisements
julia rana solicitors

اسی لئے مغربی مفکرکہتے ہیں”معاشرہ ادب کا بنیادی موضوع ہے“۔ انسان کی سماجی زندگی اور ارد گرد کے ماحول کے ساتھ اس کا لامتناہی تال میل ہی بامعنی ادب کو اساس فراہم کرتا ہے۔گویا ادب ہی سماجی سرگرمیوں اور رسم و رواج کے،مختلف سماجی اداروںکے ساتھ تعلق میں معاونت کرتا ہے،سماجی زندگی میں ادب افراد کے درمیان تعلق کو مزید اجاگر کرتا ہے۔رومی ادیب کہتے تھے کہ جمالیاتی اقدار دوسرے لفظوں میں شاعر کے نفسیاتی رجحانات پر توجہ کے متقاضی ہوتی ہیں۔تاکہ زندگی کے معنی کی تعریف حاصل کی جا سکے۔اسی لئے گراں قدر تحریری مواد اور خوش گفتاری کی کھپت خاص مقاصد کو پورا کرتی ہے۔اس کے علاوہ جمالیات،جس کا مطالعہ شاعری اور اسلوب نگاری میں کیا جاتا ہے،فی الحقیقت اُن حسیات انسانی کی نمائندگی کرتی ہے جو اقدار و روایات اور نظریاتی پوزیشنوں سے متعلق ہیں،یعنی جمالیات جو اضافی حقیقت اور معاشرے کے پیچیدہ وجود سے یہ نتیجہ اخذ کرتی ہے کہ فقط ادبی تحریریں ہی معاشرتی اقدار اور اس سے وابستہ تضادات کو مجسم کرتی ہیں۔

  • FaceLore Pakistan Social Media Site
    پاکستان کی بہترین سوشل میڈیا سائٹ: فیس لور www.facelore.com
  • julia rana solicitors london
  • julia rana solicitors
  • merkit.pk

Aslam Awan
اس وقت یبوروچیف دنیا نیوز ہوں قبل ازیں پندرہ سال تک مشرق کا بیوروچیف اور آرٹیکل رائٹر رہاں ہوں،سترہ سال سے تکبیر میں مستقل رپوٹ لکھتا ہوں اور07 اکتوبر 2001 سے بالعموم اور 16مارچ 2003 سے بالخصوص جنگ دہشتگردی کو براہ راست کور کر رہاں ہوں،تہذیب و ثقافت اور تاریخ و فلسفہ دلچسپی کے موضوعات ہیں،

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

Leave a Reply