• صفحہ اول
  • /
  • خبریں
  • /
  • جنرل بپن راوت کے ہیلی کا حادثہ، بھارتی فضائیہ کا تین روز بعد نیا بیان آ گیا

جنرل بپن راوت کے ہیلی کا حادثہ، بھارتی فضائیہ کا تین روز بعد نیا بیان آ گیا

جنرل بپن راوت کے ہیلی کا حادثہ، بھارتی فضائیہ کا تین روز بعد نیا بیان آ گیا

بھارتی فضائیہ کی جانب سے کہا گیا ہے کہ تینوں سروسز کی کورٹ آف انکوائری کمیٹی تشکیل دی گئی ہے،انکوائری کو تیزی سے مکمل کیا جائے گا اورحادثہ کے حقائق سامنے لائے جائیں گے، ہیلی کاپٹر حادثہ پر تحقیقات تک قیاس آرائیوں سے گریز کیا جائے،

FaceLore Pakistan Social Media Site
پاکستان کی بہترین سوشل میڈیا سائٹ: فیس لور www.facelore.com

دوسری جانب ہیلی کاپٹر حادثے میں مرنے والے بھارتی افواج کے سربراہ جنرل بپن راوت، اور انکی اہلیہ کی لاش دہلی میں انکی رہائش گاہ پر رکھی گئی ہے، گزشتہ شام لاشوں کو دہلی لایا گیا، کانگریس کے سابق صدر راہول گاندھی، بھارتی وزیرداخلہ امت شاہ سمیت بھارتی حکام بپن راوت کی رہائشگاہ پینچے اورجنرل بپن راوت کو خراج عقیدت پیش کیا ،دہلی کے وزیر اعلی اروند کیجریوال بھی خراج عقیدت پیش کرنے پہنچے۔ کانگریس کے رہنما ملکارجن کھڑگے اور سابق وزیر دفاع اے کے انٹونی نے بھی بپن راوت کی رہائشگاہ پہنچے اور خراج عقیدت پیش کیا،جنرل بپن راوت اور انکی اہلیہ کی آخری رسومات شام 4 بجے برار اسکوائر گھاٹ پر ادا کی جائیں گی

قبل ازیں گزشتہ شب بھارتی وزیر اعظم نریندر مودی اوراعلیٰ فوجی افسران نے حادثہ میں مرنے والوں کو پالم ہوائی اڈے پر خراج عقیدت پیش کیا۔ بھارتی وزیر دفاع راج ناتھ سنگھ، قومی سلامتی کے مشیر اجیت ڈووال، بری فوجی کے سربراہ ایم ایم نرونے، بحریہ کے سربراہ ایڈمیرل آر ہری کمار،بھارتی فضائیہ کے چیف ایئر مارشل اے وی آر چودھری، دفاعی سکریٹری اجے کمارنے بھی جنرل بپن راوت کو خراج عقیدت پیش کیا

قبل ازیں جنرل بپن راوت کے ہمراہ ہیلی حادثہ میں ہلاک ہونے والے دفاعی مشیربریگیڈیئر لکھویندر سنگھ لِڈر کی آخری رسوم دہلی چھاؤنی میں ادا کی گئی۔ اس موقع پر بھارت وزیردفاع راجناتھ سنگھ اور تینوں افواج کے سربراہان موجود تھے، بریگیڈیئر لڈر جنرل بپن راوت کی ٹیم کے اہم رکن تھے۔

بھارتی ریاست تامل ناڈو میں فوجی ہیلی کاپٹر گر کر تباہ ہو گیا ہے ،بھارتی افواج کے سربراہ بپن راوت ہیلی کاپٹر حادثے میں ہلاک ہو گئے ہیں، بہن راوت کی اہلیہ بھی ہلاک ہو گئی ہیں، جنرل بپن راوت پہلے بھارتی چیف آف ڈیفنس اسٹاف تھے، حادثہ پر وزیر دفاع راجناتھ سنگھ سمیت تمام لیڈروں نے بھی اظہار افسوس کیا ہے ،بھارتی فضائیہ نے اس بات کی تصدیق کر دی ہے

دوسری جانب چیف آف ڈیفنس اسٹاف کے ہیلی حادثے اور ممکنہ موت پر بھارت کے اندر فوجی حلقوں میں جشن کا سماں ہے، وہ ہندوستانی فوج کے اندر ایک نفرت انگیز آدمی تھا جس نے آر ایس ایس اور مودی کے لیے اپنی طاقت کا استعمال کرتے ہوئے یہ نئی ترقی حاصل کی تھی بپن راوت کی سربراہی میں بھارت کو رافیل طیاروں میں کرپشن کا سامنا رہا بپن راوت کی سربراہی میں بھارت کو پلوامہ اور دوکلم میں ہزیمت اور اندرونی خلفشار کا سامنا رہا ہے

بھارتی افواج کے سربراہ بپن راوت اپنی بیوی اور افسران کے ہمراہ محفوظ ترین ہیلی میں سوار تھے جس کے دو انجن ہیں، ایک انجن میں خرابی آنے کے بعد دوسرے انجن کے ساتھ محفوظ لینڈنگ کروائی جا سکتی ہے ، وی وی آئی پی شخصیات کے لئے اس ہیلی کاپٹر کا استعمال ہوتا ہے،

Advertisements
julia rana solicitors london

واضح رہے کہ بھارتی فوج کے سربراہ جنرل بپن راوت اپنی مدت ملازمت پوری کرنے کے بعد 31 دسمبر 2019 کو ریٹائر ہوئے جنہیں مودی سرکار نے بھارت کا پہلا چیف آف ڈیفنس اسٹاف مقرر کیا تھا جنرل بپن لکشمن سنگھ راوت ہندوستانی فوج کے فور اسٹار جنرل تھے وہ بھارت کے علاقے اتراکھنڈ میں پیدا ہوئے، انڈین ملٹری اکیڈمی سے انہوں نے تعلیم حاصل کی، انکے والد بھی فوجی تھے، بھارتی حکومت نے فوج کے حوالہ سے قوانین میں ترمیم کر کے بپن روات کو عہدہ دیا تھا ،اس ضمن میں عمر کی حد بڑھا کر 62 سے 65 برس کی گئی تھی اور آرمی چیف کے عہدے سے ریٹائر ہونے کے بعد انہیں چیف آف ڈیفنس اسٹاف بنایا گیا تھا ،بپن راوت کے والد بھی لیفٹیننٹ جنرل کے عہدے سے سبکدوش ہوئے تھے راوت نے 1978 میں فوج کی 11ویں گورکھا رائفلز کی 5ویں بٹالین میں کمیشن کے ساتھ اپنے فوجی کیریئر کا آغاز کیا تھا جنرل راوت مسلسل کامیابی کی سیڑھی چڑھتے رہے اور مختلف اہم ذمہ داریاں نبھاتے رہے، انہیں یکم ستمبر 2016 کو ڈپٹی چیف آف آرمی اسٹاف بنایا گیا تھا

  • julia rana solicitors
  • FaceLore Pakistan Social Media Site
    پاکستان کی بہترین سوشل میڈیا سائٹ: فیس لور www.facelore.com
  • merkit.pk
  • julia rana solicitors london

خبریں
مکالمہ پر لگنے والی خبریں دیگر زرائع سے لی جاتی ہیں اور مکمل غیرجانبداری سے شائع کی جاتی ہیں۔ کسی خبر کی غلطی کی نشاندہی فورا ایڈیٹر سے کیجئے

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

Leave a Reply