سیالکوٹ سانحہ اور مزدور تحریک۔۔شاداب مرتضیٰ

سیالکوٹ میں بہیمانہ انداز سے قتل کیے گئے پریانتھا کمارا کے تین بھائی پاکستان میں کام کرتے ہیں۔ ان میں سے ایک بھائی کمل دیاودانا نے سری لنکا کے انگریزی اخبار “سیلون ٹوڈے” کو واقعے کے بارے میں بتایا: “قتل جمعے کے دن ہوا۔ یہ ان کا جمعے کا دن تھا۔ اس وقت فیکٹری میں اجرتوں میں بے ضابطگیوں (Wage Anomalies) پر ہڑتال چل رہی تھی۔ کیونکہ کمپنی کا مالک جرمنی میں رہتا ہے، اس لیے میرے چھوٹے بھائی کو فیکٹری کا چارج سنبھالنے کے لیے کہا گیا۔ ایک فیکٹری ملازم نے آکر اسے احتجاج کے بارے میں بتایا جس پر اس نے جواب دیتے ہوئے درخواست کی کہ ملازم کام پر واپس چلے جائیں اور یہ کہ ان کے تنخواہ کے معاملات پر بعد میں بات کر لیں گے۔” اخبار کی رپورٹ کے مطابق اس کے کچھ دیر بعد بعض ملازمین نے پریانتھا کمارا کے دفتر میں گھس کر اس پر حملہ کردیا۔

پاکستانی میڈیا کی رپورٹوں میں فیکٹری میں تنخواہوں سے متعلق ہڑتال کا ذکر نہیں۔ ان کے مطابق واقعہ مذہبی پوسٹر پھاڑنے کی وجہ سے ہوا۔ ملازمین نے توہینِ مذہب پر آگ بگولہ ہو کر پریانتھا کی جان لے لی۔

FaceLore Pakistan Social Media Site
پاکستان کی بہترین سوشل میڈیا سائٹ: فیس لور www.facelore.com

ایک مبصرِ دین، انجینئر محمد علی مرزا کے مطابق اس فیکٹری میں کام کرنے والے اپنے شاگرد سے واقعے سے متعلق جو معلومات انہیں ملیں وہ بتاتی ہیں کہ پریانتھا کمارا راجکو فیکٹری کا ملازم نہیں تھا بلکہ اسے فیکٹری سے مال تیار کروانے والی ایک بین الاقوامی کمپنی نے کوالٹی کنٹرول کے لیے وہاں تعینات کیا تھا۔ فیکٹری ملازمین اور مقامی مالک دونوں ہی پریانتھا کے رویے سے خوش نہیں تھے اور پریانتھا کے قتل میں فیکٹری کا مقامی مالک بھی ملوث ہے۔ اس کے برعکس پاکستانی میڈیا پریانتھا کو فیکٹری کا ملازم بتاتا رہا اور میڈیا پر چلنے والی ابتدائی پولیس رپورٹ کے مطابق مظاہرین نے فیکٹری کے مقامی مالک کو قتل کرنے کی بھی کوشش کی تھی۔ یہی نہیں بلکہ میڈیا پر بتائی گئی پولیس رپورٹ کے مطابق یہ قتل ایک منظم سازش تھی۔ مظاہرین پہلے سے ہی اس کی منصوبہ بندی کر چکے تھے۔ ان کے پاس پیٹرول کی بوتلیں موجود تھیں اور واقعے کے بعد فیکٹری کو آگ لگانا بھی ان کے منصوبے کا حصہ تھا!

یہ واقعہ ایک قومی سانحے کا درجہ اختیار کر گیا اور موجودہ نااہل حکومت اتنی مستعد ہوگئی کہ ابتدائی انکوائری رپورٹ اور ملزمان کی سرعت سے گرفتاری سے لے کر ایوارڈ تقریب تک منعقد کر ڈالی مگر اب تک اس واقعے کی تفصیلی انکوائری رپورٹ منظر عام پر نہیں آئی ہے اور کچھ پتہ نہیں کہ انکوائری رپورٹ میں قتل کے محرک اور حالات کے حوالے سے کیا بیان کیا گیا ہے۔

پاکستانی میڈیا اور تجزیہ کاروں نے اس واقعے پر دو پہلوؤں سے تنقید کی۔ ایک مذہبی انتہا پسندی کا پہلو جس کی بھرپور مذمت کی گئی اور جو کہ کی جانی چاہیے تھی۔ یہ ایک بہت ہی مثبت اقدام ہے۔ دوسرا پہلو مزدوروں کے نکمے، کام چور اور بدمعاش ہونے کا پہلو ہے جو کہ نہایت قابلِ مذمت ہے اور پاکستانی میڈیا اور بہت سے صحافیوں کی جہالت اور مزدوروں کی جانب ان کے سرمایہ دارانہ بغض و عناد کو ظاہر کرتا ہے۔ بعض تبصرہ کاروں کے مطابق سیالکوٹ میں فی کس آمدنی ملک میں سب سے زیادہ ہے اور وہاں چائلڈ لیبر بھی ختم ہو چکی ہے، گویا سیالکوٹ کے مزدور خوشحالی کی زندگی بسر کر رہے ہیں اور اپنے حقوق کی بات کرنا صرف مزدوروں کی بدمعاشی اور غنڈہ گردی ہے جس کے زریعے وہ کام چوری اور کاہلی کا جواز تراشنا چاہتے ہیں۔ اس قسم کے بعض تجزیہ کاروں کا خیال یہ بھی ہے کہ مزدوروں اپنے بچوں کو رسمی تعلیم کے اداروں میں بھیجنے کا خواب دیکھنے کے بجائے انہیں براہِ راست ٹیکنیکل ٹریننگ کے اداروں میں بھیجنا چاہیے تاکہ وہ جلد از جلد مزدور پر لگ کر کنبے کی کفالت میں حصہ ادا کر سکیں۔ ان ماہرین کے خیال میں رسمی تعلیم صرف متمول لوگوں کی مراعت ہے مزدور اس عیاشی کے متحمل نہیں ہوسکتے۔

اٹھارویں آئینی ترمیم کے تحت مزدوروں کی کم از کم اجرت مقرر کرنا صوبوں کی صوابدید ہے۔ پنجاب میں زیادہ سے زیادہ کم از کم اجرت 20 ہزار ماہانہ ہے۔ سندھ میں حکومت نے کم از کم اجرت 25 ہزار مقرر کی ہے جس کے خلاف کراچی کے سرمایہ داروں نے مقدمہ دائر کردیا ہے اور سندھ ہائی کورٹ بھی اس فیصلے پر تذبذب کا شکار دکھائی دیتی ہے۔ سندھ کے سرمایہ داروں نے دھمکی دی ہے کہ اگر حکومت نے 25 ہزار کم از اکم ماہانہ اجرت کا فیصلہ واپس نہ لیا تو وہ اپنی فیکٹریاں پنجاب منتقل کردیں گے کیونکہ وہاں مزدوروں کا خون نچوڑنا آسان ہے اور ان کی محنت سستی ترین قیمت پر دستیاب ہے۔ 2016ء کی ایک تحقیقی رپورٹ کے مطابق سیالکوٹ میں مزدوروں کو عموما 16800 روپے ماہوار تنخواہ ملتی ہے حالانکہ ان کی کم از کم اجرت 31 ہزار روپے ماہوار ہونا چاہیے۔ موجودہ مزدور دشمن حکومت نے سامراجی ادارے آٰئی ایم ایف کے حکم پر ملک میں مہنگائی کا جو طوفان برپا کیا ہے اسے مدنظر رکھتے ہوئے پنجاب و سیالکوٹ کے مزدوروں کی کم از کم اجرت جو کہ اکثر انہیں نہیں ملتی اس میں دوگنا اضافہ وقت کی اہم ترین ضرورت ہے۔

پاکستان کے دوسرے علاقوں کی طرح سیالکوٹ کے مزدوروں اور سرمایہ داروں کے درمیان بھی معاشی نابرابری کی خلیج بہت گہری ہے۔ راجکو فیکٹری کی ویب سائٹ کے مطابق اس کے 2 ہزار ملازمین ہیں اور یہ مہینے میں 3 ہزار ٹریک سوٹ تیار کرتی ہے۔ اس کی ایک پارٹنر کمپنی فیلا (FILA) کا ایک ٹریک سوٹ پاکستان میں قریباً 2800 روپے میں بکتا ہے۔ حساب کیا جائے تو راجکو کمپنی ماہوار 25 کروڑ سے زیادہ کا مال بناتی ہے جبکہ ملازمین کی ماہانہ اجرت کا خرچ اگر اس کا حساب 20 ہزار روپے ماہوار تنخواہ سے لگایا جائے تو صرف لگ بھگ 4 کروڑ روپے بنتا ہے۔ حسبِ روایت راجکو کا خطیر منافع مالکان اور سینئر مینجمنٹ کی جیب میں جاتا ہے جو چند افراد پر مشتمل ہے جبکہ ہزاروں مزدور شدید مہنگائی کے اس دور میں معمولی تنخواہ پر گزارہ کرنے پر مجبور ہیں۔ اس میں ان سوشلسٹوں کے لیے بھی نشانیاں ہیں جو جمہوریت کے نام پر صوبائی خودمختاری کے اقدامات کی اندھا دھند حمایت کرتے ہوئے یہ بھول جاتے ہیں کہ ان اقدامات کا مزدور طبقے پر کیا اثر پڑے گا اور اس میں سرمایہ داروں کا کیا فائدہ ہے۔

سیالکوٹ بار ایسوسی ایشن کا یہ فیصلہ کہ کوئی اس مقدمے میں نامزد ملزموں کا کیس نہیں لڑے گا ایک افسوسناک فیصلہ ہے۔ جب قانون پیشہ بن جائے اور اس کا محرک صرف پیسہ کمانا رہ جائے تو ہر پیشے سے متعلق لوگوں میں اسی قسم کے خیالات جنم۔لیتے ہیں۔ سیالکوٹ بار کو یاد رکھنا چاہیے کہ پولیس نے 900 فیکٹری ملازمین پر مقدمہ درج کیا ہے جن میں سے بہت سے لوگ بے گناہ ہو سکتے ہیں یا وہ صرف جزوی طور پر قصووار ہوں گے۔ بے شک پریانتھا کو قتل کرنے والے اور اس کی لاش کی بے حرمتی کرنے اور اسے جلانے والوں کا مقدمہ نہ لڑا جائے لیکن صرف شہرت حاصل کرنے کے لیے اس بات کے قومی امکان کو خارج نہ کیا جائے کہ ان حالات میں حکومت کے دباؤ میں اپنی کارکردگی اور سرعت دکھانے کے لیے پولیس کسی بھی بے گناہ کی گردن اس مقدمے میں پھنسا سکتی ہے۔ کسی مجرم کو وکیل کی ضرورت صرف اس لیے نہیں ہوتی کہ وکیل کسی بھی طرح جھوٹ کو سچ یا سچ کو جھوٹ ثابت کر کے اسے بچا لے بلکہ اس لیے بھی ہوتی ہے کہ اسے کسی ناکردہ جرم کی سزا نہ دی جائے۔

یہ کوئی پوشیدہ بات نہیں کہ پاکستان کے مزدور بدترین معاشی ظلم و جبر کا شکار ہیں اور موجودہ مزدور دشمن حکومت نے مہنگائی میں اضافہ کر کے ان کے لیے زندگی اور زیادہ کٹھن بنا دی ہے۔ مثلاً  کراچی میں ٹیکسٹائل کے سرمایہ داروں نے کرونا وبا کے دوران بھی اربوں روپے کا منافع کمایا ہے لیکن جب مزدوروں کی تنخواہ میں صرف بیس فیصد اضافے کی بات ہوئی جس کا مطلب یہ ہے کہ پانچ افراد پر مشتمل مزدور گھرانے کی فی کس آمدنی میں صرف چار فیصد اضافہ تو سرمایہ دار اس کے بھی خلاف کھڑے ہوگئے۔ موجودہ معاشی حالات میں ملک بھر میں مزدوروں میں بے چینی کا پھیلنا اور اجرتوں میں اضافے کے لیے ان کی جدوجہد میں تیزی آنا فطری بات ہے۔ خوفناک اور نہایت قابلِ مذمت بات یہ ہے کہ مزدوروں کے حقوق کو دبانے اور انہیں جدوجہد سے باز رکھنے کے لیے اب پاکستان کے حکمران، جرنیل، بیوروکریٹ، سرمایہ دار اور ان کے سیاسی حواری مزدوروں کے ابھار اور جدوجہد کو بدنام کرنے اور دبانے کے لیے بلاسفیمی جیسے ہتھکنڈوں کے استعمال پر اتر آئے ہیں۔

Advertisements
julia rana solicitors

یاد رہے کہ پریانتھا کمارا کی لاش کے گرد جمع مجمعے کی زبان پر وہی نعرہ اور مؤقف تھا جو تحریکِ لبیک کی پہچان بن چکا ہے اور واضح کر رہا تھا کہ پر یانتھا کے قاتل اسی مذہبی انتہا پسند جماعت کے اثر میں ہیں جس کے لیے آرمی چیف نے ثالث کا کردار ادا کر کے حکومت سے مذاکرات کروائے تھے اور جس کے نتیجے میں تحریک لبیک کے قائد اور کارکنان کو خفیہ معاہدے کے ذریعے رہا کر دیا گیا تھا حالانکہ تحریک لبیک متعدد پولیس والوں کو قتل کرنے اور پبلک پراپرٹی کو نقصان پہنچانے میں ملوث تھی۔ یہ پس منظر قومی امکان ظاہر کرتا ہے کہ انتظامیہ اور حکومت سیالکوٹ واقعے میں تحریک لبیک کو بچانے کی ہر ممکن کوشش کریں گے۔

  • FaceLore Pakistan Social Media Site
    پاکستان کی بہترین سوشل میڈیا سائٹ: فیس لور www.facelore.com
  • julia rana solicitors
  • julia rana solicitors london
  • merkit.pk

شاداب مرتضی
قاری اور لکھاری

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

Leave a Reply