خود کش بمباروں سے زیادہ مہلک ہجوم: اختر علی سید

ملک کے پاور سنٹر نے اب جن گروہوں پر سرمایہ کاری کی ہے وہ “توہین” کا نعرہ لگانے والے ہجوم ہیں۔ ان سے پہلے انہی پاور سنٹرز نے خودکش بمباروں پر سرمایہ، وقت، اور معصوم شہریوں کی جانوں کو داؤ پر لگا کر اپنے سیاسی کھیل کھیلے تھے۔ خودکش بمبار مارکیٹ میں نہیں ملتے انہیں تیار کرنا پڑتا ہے اور اس تیاری کے کئی مراحل ہوتے ہیں۔ پہلے ایک مصنوعی دشمن تخلیق کیا جاتا ہے۔ ہر کسی کو یاد ہے کہ روس کو افغانستان میں لانے اور پھر اس کو پوری مسلم امہ کا دشمن ثابت کرنے کا منصوبہ کس نے، کہاں اور کیوں ترتیب دیا تھا۔ ان تمام منصوبہ سازوں کے چہرے اب سب کے سامنے ہیں اور وہ سب اپنے منصوبے لپیٹ کر گھروں کو سدھار چکے ہیں۔ پیچھے بچے ہیں تو وہ لاکھوں خاندان جنہوں نے اپنے پیارے ان منصوبوں کی تکمیل کرتے ہوئے گنوا دیئے۔ دشمن سازی کے بعد ان مذہبی جذبات کو انگیخت کیا جاتا ہے جو عام آدمی کو مرنے اور مارنے پر اکسانے کے لیے ضروری ہوتے ہیں۔ اس کام میں بے تحاشا نوجوانوں کی ذہن سازی کی گئی۔ ان کو بھرتی کیا گیا اور پھر اندرون ملک اور بیرون ملک ان کو خودکش حملوں میں استعمال کیا گیا۔ یہ جس “ذہن سازی” کو ہم ایک سطر میں اور روا روی کے ساتھ بیان کر کے آگے بڑھ گئے ہیں کیا یہ اتنا ہی سادہ اور مختصر کام ہے؟؟ جی نہیں۔۔۔ اس کام میں عشرے صرف ہوئے۔ سرمایہ خرچ ہوا اور نسلیں بدل دی گئیں۔
بیرونی جنگوں کو اندرون ملک درآمد کرنے والے منصوبہ سازوں نے شاید نہیں، یقینا نہیں سوچا تھا کہ وہ جو نیا ذہن تشکیل دے رہے ہیں اور جس جھوٹ کو عقائد کا حصہ بنا رہے ہیں وہ ایک دن کیا گل کھلائے گا۔ ان منصوبہ سازوں نے ذہن نہیں چودہ سو سال کے عقائد کی تاریخ بدل دی لیکن ان کے دسترخوان پر موجود نظریہ سازوں نے اپنی طلاقت لسانی کی مدد سے ہم ایسے عامیوں کو اس منصوبے کی ہوا بھی نہیں لگنے دی۔
جس ذہن کو مذہبی اختلاف کی بنیاد پر قتل کرنے کی ترغیب اور تربیت دی گئی تھی اس کے بارے میں یہ بھی نہیں سوچا گیا کہ ایک دن اس ذہن کے حامل افراد کے پاس کرنے کا کوئی کام نہیں بچے گا۔ اس کے سامنے کوئی بیرونی دشمن اپنے بازو آزمانے کے لیے موجود نہیں ہوگا۔ ایسے میں دشمن سازی کا عمل اندرون ملک شروع ہوگا اور جو ہو کر رہا۔ لیکن ایک دن اپنے ہاتھوں سے بنائے عفریت نے خود نظریہ سازوں کے گریبان پر ہاتھ ڈالا تو یکلخت ان حملہ آوروں کے خلاف ایکشن میں کامیابی کے امکانات چالیس فیصد سے بڑھ کر سو فیصد ہو گئے۔ ان دہشت گردوں کے حمایتی اور حمایت یافتہ سیاستدان بھی منہ میں دہی جما کر اسی کی لسی پی کر سوتے بن گئے۔
یہ تو ہوئی ماضی قریب کی داستان۔۔۔۔وہ دہشت گرد جو اپنے ہی ہاتھوں سے بنائے ہوئے بازوئے شمشیر زن تھے اپنے ہی ہاتھوں سے کاٹ پیٹ کر رکھ دیے گئے۔ لیکن مرنے مارنے اور معاملات کو طاقت کی عینک سے دیکھنے والے کتنی دیر نچلے بیٹھ سکتے ہیں۔ سچ کہا تھا فرانز فینون نے۔۔۔ طاقتور صرف تشدد کی زبان بولتا اور سمجھتا ہے کیونکہ اس کی ساری طاقت صرف اور صرف تشدد کی بنیاد ہی پر استوار ہوتی ہے۔ اپنی پرانی روش کو جاری رکھنے کے لیے پاور سنٹرز کی تازہ ایجاد یہ “لبیکی” ہیں۔ اس صورتحال میں کم از کم چار وجوہات بنیاد پر یہ گذارش کر رہا ہوں کہ یہ لبیکی ہجوم ماضی کے خود کش بمباروں سے زیادہ خطرناک ہیں۔
خودکش بمبار بہت ہی منظم گروہوں کے ہاتھوں تشکیل پاتے تھے۔ حملہ کب، کہاں اور کس کے خلاف کرنا ہے اس کا فیصلہ بمبار نہیں کرتا تھا۔۔ ان کو اس حملے کی وجوہات سے بھی لاعلم رکھا جاتا تھا۔ تنظیم کے سربراہ ٹارگٹ، جگہ اور وقت کا تعین کرتے تھے۔ اس سخت ڈسپلن کی وجہ سے کسی بھی ایک خود کش بمبار کے لیے ہہ ناممکن تھا کہ وہ خود سے کوئی ٹارگٹ چن لے اور کاروائی کر گزرے۔ اسی تنظیمی ڈھانچے کی وجہ سے یہ ممکن ہوا کہ جب ان کی گروہوں کو ختم کرنے کا خیال آیا تو ان کو ختم بھی کیا جاسکا۔ کیونکہ ان کو ختم کرنے کے لیے صرف گروہوں کی تنظیمی صلاحیت کو ختم کرنا تھا۔۔ اوپر کے چند ضدی اور نافرمان قائدین کو راستے سے ہٹایا۔ رقوم اور ہتھیاروں کی فراہمی بند کی اور اللہ اللہ خیر صلا۔۔۔۔ لیکن یہ ہجوم جو تشکیل دیے گئے ہیں یہ کسی تنظیمی ڈھانچے کے بغیر بھی کاروائی کرنے کے اہل ہیں۔یہ خود سے ٹارگٹ، وجہ، جگہ اور وقت کا تعین کرتے ہی اس کارروائی کے پیچھے کسی قائد کے حکم اور منصوبے کی موجودگی بھی ضروری نہیں ہے۔ مائل با تشدد افراد کے لیے صرف ایک نعرہ تشکیل دیا گیا ہے اور نعرہ سازوں کی پشت پناہی کرکے ان سے ذہن کو تشدد پر اکسانے کا کام لیا گیا ہے۔۔۔ مجھے یقین ہے کہ آپ ان گذارشات کے واقعاتی ثبوت نہیں مانگیں گے۔ تعجب مگر ان سکالرز کی بصیرت پر ہے جو اس پوری روش کے پیچھے تین یا چار ہاتھ دیکھتے ہیں۔ اس لبیکی روش کے پیچھے صرف ایک طاقت ہے۔ جس طاقت کے ایک ہاتھ میں بندوق ہے اور دوسرے میں اس لبیکی ہجوم اور اس کے قائدین کو دینے کے لئے پیسہ ہے۔۔
دل پر ہاتھ رکھ کر کہیں کہ بغیر کسی کنٹرول میکانزم کے کام کرنے والا یہ لبیکی ہجوم زیادہ خطرناک ہے یا ماضی کے خود کش بمبار؟؟
ماضی کے بمبار اس لیے ختم کر دیئے گئے (اگر یہ خوش فہمی نہیں ہے) کہ ان کے نام پتے معلوم تھے۔ آج کون جان سکتا ہے کہ یہ ہجوم کب اور کہاں سے نکلے گا اور کس کو نشانہ بنائے گا اور جلا کر راکھ کر دے گا۔ ہر دفعہ اس ہجوم کے لیڈر مختلف ہوں گے اور ایسے ہوں گے جن کا کوئی ریکارڈ آپ کے بہی کھاتوں میں نہیں ہوگا۔۔۔ آپ ان کو کیسے ختم کریں گے؟؟؟
ماضی کے دہشت گرد معاشرے سے کٹ کر رہتے تھے۔ انہوں نے ویرانوں میں اپنی بستیاں بسائی تھیں۔ وہ غاروں میں حوروں اور جنت کی تصویریں دکھا دکھا کر خود کش بمباروں کی تربیت کرتے تھے۔ لیکن یہ ہجوم گلی محلوں میں گھومتے پھرتے ہیں آپ کے ساتھ دفتروں میں کام اور بازاروں میں کاروبار کرتے ہیں۔ مسجد کے امام کی تقریر سنتے ہیں۔ آپ کے بچوں کے ساتھ سکولوں اور کالجوں میں پڑھتے ہیں ہیں سب کے سامنے “سر تن سے جدا” کا نعرہ لگاتے ہیں۔ اپنے رکشے، موٹر سائیکل اور کار کے پیچھے “من سب نبیا” کا سٹکر ایک فخر اور اعزاز کے ساتھ چسپاں کرتے ہیں اور بجا طور پر محسوس کرتے ہیں کہ انہوں نے یہ نعرہ لگا کر جنت میں گھر خرید لیا ہے۔
آپ نے نہیں دیکھا ہو گا کہ کسی بھی خودکش بمبار کی موت کے بعد اس کی شناخت پاکستان میں منظر عام پر آئی ہو۔ اس کی تصویریں لگی ہوں۔ اس کے نماز جنازہ میں لوگ بڑی تعداد میں شریک ہوئے ہوں۔ اس کا مزار بنا ہو اور عرس منائے گئے ہوں۔ لیکن اس ہجوم میں شامل قاتلوں کا معاملہ مختلف ہے۔ اعلیٰ عدلیہ کے جج ملازمتوں سے استعفی دے کر ان کے مقدمے لڑتے ہیں۔ مہنگے وکیل بلا معاوضہ ان کو قانونی مدد فراہم کرتے ہیں۔ عام لوگ ان کے منہ چومتے اور ان پر پھول نچھاور کرتے ہیں۔ یہ ہیرو جیسی پرستش خودکش بمباروں کے حصے میں کبھی نہ آئی تھی جو اس ہجوم میں شامل قاتلوں کے حصہ میں آئی ہے۔
یہ ساری تبدیلی ایک دن میں نہیں آئی۔ تبدیلی لانے والے اس کو لائے ہیں۔ ایسے ذہن ایک دن میں نہیں بنتے اور نہ ان کو ایک دن میں اس نعرے سے پلٹایا جاسکے گا۔
روس اور ہندوستان کو دشمن قرار دے کر دہشت گردوں کی تربیت کی گئی تھی روس اور ہندوستان کے ساتھ دشمنی کسی بھی طرح ہمارے ایمان اور عقیدے کا جزو نہ تھا اور نہ ہے۔ لیکن عشق رسول ہمیشہ سے برصغیر کے مسلمان کے ایمان کا حصہ تھا اور رہے گا۔ ہندوستان کا عام مسلمان گزشتہ چار صدیوں سے نعت اور قوالی سنتا اور ان پر سر دھنتا چلا آ رہا ہے۔ اس متشدد لبیکی ہجوم کو تشکیل دینے کے لئے اس دفعہ جو نعرہ لگایا گیا ہے وہ روس اور ہندوستان کی دشمنی جتنا سطحی نہیں ہے۔ اس دفعہ نعرہ عقیدے کی تہوں سے ڈھونڈ کر نکالا گیا ہے۔ لبیکی ہجوم کو بھڑکانے کے لئے اس دفعہ وہ غلط بیانی بھی نہیں کرنا پڑی جو روس کے خلاف سیسہ پلائی دیوار کھڑی کرنے کے لیے کی گئی تھی۔ اب صرف ایک فرد کا ایک گمان کافی ہے۔ اور یہ گمان عقیدے کی تہہ سے ایسے جذبات نکال کر لاتا ہے کہ جو ایک فرد کے گمان کو ایک ہجوم کے یقین میں بدلتے ہوئے وقت بالکل نہیں لیتا۔ اور جب تک کوئی ہوش میں لانے کے قابل ہوتا ہے کسی کا سر تن سے جدا ہو چکا ہوتا ہے۔
پورے اصرار کے ساتھ عرض کرتا ہوں کہ اس دفعہ کھیل زیادہ خطرناک کھیلا گیا ہے۔ اس کے اثرات نہ صرف یہ کہ کہیں زیادہ خطرناک ہوں گے بلکہ ناقابل کنٹرول اور دوررس گے۔ یہ کھیل معاشرے کے تاروپود بکھیر کر رکھ دے گا۔ معاشرہ صرف تقسیم نہیں ہوگا اب اس میں تفریق کی ایسی دراڑیں پڑی گی جو مکالمہ تو خیر کیا بیچتا ہے انسانی لاشوں سے بھی پاٹی نہیں جا سکے گی۔

  • julia rana solicitors
  • merkit.pk
  • FaceLore Pakistan Social Media Site
    پاکستان کی بہترین سوشل میڈیا سائٹ: فیس لور www.facelore.com
  • julia rana solicitors london

اختر علی سید
اپ معروف سائکالوجسٹ اور دانشور ہیں۔ آج کل آئر لینڈ میں مقیم اور معروف ماہرِ نفسیات ہیں ۔آپ ذہنو ں کی مسیحائی مسکان، کلام اور قلم سے کرتے ہیں

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

Leave a Reply