مکالمہ کی تمہید میں ۔ذوالفقار زلفی/آخری حصہ

SHOPPING

سب سے پہلے اس اقتباس پر غور کیجئے :
رفیق ذوالفقار زلفی نے لکھا ہے کہ بلوچ نوجوان “ظلم و ستم سے چور، انتقامی جذبے اور نفرت سے سرخ ہے”۔ درست بات ہے۔ لیکن تصویر کا ایک دوسرا رخ بھی ہے۔ وفاق میں اور صوبوں میں، خصوصاً  پنجاب میں، سرکاری اور نجی نوکریاں کرنے والا، کاروبار کرنے والا، تعلیم حاصل کرنے والا “بلوچ” کون ہے؟ بلوچستان کا مڈل کلاس نوجوان سرکاری نوکری بھی چاہتا ہے اور ریاست سے توقع بھی کرتا ہے کہ وہ اس کے لیے روزگار کے مواقع پیدا کرے۔ بلوچستان کا نوجوان ریاستی اداروں میں تعلیم بھی حاصل کرنا چاہتا ہے۔ بلوچستان کا نوجوان وفاقی ریاستی ڈھانچے میں رہتے ہوئے سرکاری اور نجی ملازمت بھی کر رہا ہے، سرکاری اور نجی تعلیمی اداروں میں تعلیم بھی حاصل کر رہا ہے۔ اس رخ پر چلنے والے بلوچ نوجوان کو کس طرح دیکھا جائے؟ کیا اس بلوچ نوجوان کو بلوچ قومی تحریک کا “غدار” کہا جا سکتا ہے کیونکہ یہ بلوچ بلوچ وطن کا استحصال کرنے والی ریاست کے اداروں سے فائدہ اٹھا رہا ہے۔”

درج بالا اقتباس کامریڈ شاداب مرتضی صاحب کا ہے. اس اقتباس پر غور کرنے سے یہ عقدہ کھلتا ہے کہ کامریڈ ، بلوچ قومی سوال اور اس کے گرد ابھرنے والی تحریک، تحریک کے مطالبات و قومی اتفاقات سے زیادہ واقفیت نہیں رکھتے. کامریڈ شاداب کا یہ نکتہِ نظر بلوچ تحریک کے رہنماؤں و کارکنوں کے اس مطالبے کے جواب میں ہے کہ محنت کش ریاست کے استحصالی منصوبوں سے دور رہیں کیونکہ ایسے منصوبے ہمارے نشانے پر ہیں.

شاداب مرتضیٰ کے مضمون کا لنک۔۔https://www.mukaalma.com/13676

بلوچ قومی تحریک کے اس مطالبے پر کامریڈ سمیت پاکستان کے اکثر شہری سوشلسٹوں نے پروپیگنڈہ کرنا شروع کردیا ،بلوچ اپنے وطن میں غیر بلوچوں کے داخلے سے خوش نہیں ہیں اور وہ نسل پرست  ذہنیت کے ساتھ محنت کشوں کو نشانہ بنارہے ہیں. ان کے اس بلیک پروپیگنڈے کو پنجاب کے لبرل طبقے نے ہاتھوں ہاتھ لے کر نوآبادیاتی ریاست کی جگہ بلوچ کو کٹہرے میں کھڑا کردیا اور تقریباً ہر بلوچ پر فرض کردیا گیا کہ وہ وضاحتیں دیتا پھرے۔۔ اس وقت یعنی تادمِ تحریر دُدر پروجیکٹ، سینڈک پروجیکٹ، گڈانی پروجیکٹ، کوئلہ مائنز ، گیس فیلڈز سمیت حب اور اوتھل کی صنعتوں میں بلوچ محنت کش آٹے میں نمک کے برابر ہیں. حب اور اوتھل کی صنعتوں کو تو طنزیہ کراچی کی صنعتوں کے نام سے یاد کیا جاتا ہے. یہ تمام پراجیکٹس نوآبادیاتی اور بلوچ سرزمین کے بدترین استحصال کے زمرے میں آتے ہیں اس کے باوجود ان پر یا ان میں کام کرنے والے محنت کشوں پر ایک پتھر بھی نہ پھینکا گیا (حب پولٹری فارم کا واقعہ مختلف پسِ منظر رکھتا ہے). بلوچ مسلح تنظیموں کا اعلان نامہ ان جدید استحصالی منصوبوں کے حوالے سے ہے جن پر اعتراض کرنے کی پاداش میں اکبر خان بگٹی تالہ بند تابوت کی شکل اختیار کرگئے.

 

سی پیک اور اس سے منسلک تمام منصوبے انتہائی خفیہ رکھے جارہے ہیں ،حتی نواب اکبر بگٹی کی بار بار درخواستوں کے باوجود گوادر ماسٹر پلان کے متعلق انہیں بھی کچھ نہیں بتایا گیا. بلوچ سیاست کا اس امر پر مکمل اتفاق ہے، ریاست کے ہر استحصالی و نوآبادیاتی منصوبے کو ناکام بنانا ہےـ بلوچ سماج میں بھی سی پیک کے حوالے سے نہ صرف شکوک شبہات پائے جاتے ہیں بلکہ عوام کی اکثریت اپنے قومی و طبقاتی شعور کے باعث ان کے ساتھ خود کو منسلک کرنے سے کتراتی ہے ـ یہ امر بھی روزِ روشن کی طرح عیاں ہے ۔بلوچستان میں غربت کی شرح بہ نسبت پنجاب خوفناک حد تک زیادہ ہے اس کے باوجود بلوچ نوآبادیاتی منصوبوں کا حصہ بن کر “پیٹ کا مسئلہ” حل کرنے کی بجائے ان منصوبوں کی مخالفت کررہا ہے ـ یہی وجہ ہے ایف ڈبلیو او باوجود کوشش کے غریب بلوچ محنت کش کی محنت کو تاحال خریدنے میں ناکام رہی ہے.پیٹ کی آگ بجھانا ہر جاندار کی اولین ترجیح ہے مگر انسان چونکہ شعور رکھتا ہے اس لئے وہ اس آگ کے بجھانے کے راستوں پر بھی سوچ بچار کرتا ہے. بلوچ محنت کش اپنے قومی شعور کے باعث خلیج کے تپتے ریگستانوں میں خود کو جلانے پر آمادہ ہے مگر اپنے وطن کے استحصال میں شریک ہونے کو تیار نہیں.

نوآبادیاتی فوج کو مجبوراً دیگر علاقوں سے محنت کش لانے پڑتے ہیں. اس عمل میں بھی نوآبادکار خسارے میں نہیں رہتا ـ اس کے دو فائدے ہیں یا تو مزکورہ محنت کشوں کی وجہ سے یہ منصوبے پایہِ تکمیل تک پہنچیں گے یا بلوچ مسلح تنظیمیں ان کو نشانہ بناکر بدنامی کمائیں گی ـ دونوں صورتوں میں نوآبادکار کی ہی جے جے ہے ـ اب ظاہر ہے جو بلوچ خود ان منصوبوں کا حصہ بننا گوارہ نہیں کرتا وہ کسی اور کے لئے نرم گوشہ کیوں رکھے؟. دوسری جانب یہ امر بھی پیشِ نظر رہے’ سی پیک کو “محفوظ” بنانے کے لئے درجنوں دیہات صفحہِ ہستی سے مٹائے جاچکے ہیں ، ان دیہاتوں کے مکین کراچی ، اندرونِ سندھ اور مغربی بلوچستان (ایران) کی جانب ہجرت کرنے پر مجبور کردیے گئے ہیں ـ اس حوالے سے گزشتہ سال ڈان اخبار پر تفصیلی رپورٹ بھی شائع ہوچکی ہے ـ ان منصوبوں پر سوال اٹھانے والے وہ سیاسی کارکن بھی زیرِ عتاب ہیں جو پاکستانی فریم ورک میں رہ کر بلوچ مفادات کے تحفظ پر یقین رکھتے ہیں ـ

SHOPPING

 

محنت کش کا قتل جائز نہیں، اس میں کوئی دو رائے نہیں ہیں لیکن یہ سوال بھی ہنوز تشنہ جواب ہے کہ ان کو کیسے روکا جائے؟ ـ محض یہ کہہ دینا وہ محنت کش ہیں انہیں آزادی دی جائے یہ کسی بھی صورت ممکن نہیں کیونکہ بلوچ قومی مستقبل کو محنت کش کا کوئی وطن نہیں ہوتا جیسے دلکش نعروں پر برباد نہیں کیا جاسکتا ـ یہ سوال بھی جواب طلب ہے کیا اپنے ہی طبقے کے خلاف استعمال ہونے والے فرد کو محنت کش قرار دیا جاسکتا ہے؟ ـ ریاست کے استحصالی منصوبوں سے ایک پوری قوم کے مستقبل کو خطرہ لاحق ہے کیا ان منصوبوں کو پایہ تکمیل تک پہنچانا ایک محنت کش کا شعار ہوسکتا ہے؟ـ۔ کامریڈ عامر حسینی نے جب محنت کشوں پر حملے کو فرانز فینن کے نکتہِ نظر کے تحت نوآبادکار اور اس کے نوآبادیاتی ہتھکنڈوں کا شاخسانہ قرار دے کر توپوں کا رخ ان کی جانب موڑنے کی بات کی تو کامریڈ شاداب مرتضی جیسے دوستوں نے اسے منافقت قرار دیاـ میں یہاں 1857 کے بغاوتِ ہند کے حوالے سے عظیم مارکسی استاد کارل مارکس کا ردعمل دے کر بات ختم کرنا چاہوں گا جس میں غور کے متعدد پہلو پنہاں ہیں ـ

’’ہندوستان میں باغی سپاہیوں نے جو تشددکیا ہے و ہ واقعی بھیانک، مکروہ اور نا قابلِ بیان ہے۔ ایسا تشدد عام طور پر باغیانہ ہنگاموں ، قومی، نسلی اور خاص طور پر مذہبی لڑائیوں میں دیکھا جاتا ہے۔ مختصراً یہ ایسا تشدد ہے جس کی “عظیم” برطانیہ نے ہمیشہ ہمت افزائی کی۔ ایسا تشددجو واندی والوں نے ’’نیلوں‘‘ پر، ہسپانوی چھاپہ ماروں نے فرانسیسی بے دینوں پر، سربیائی لوگوں نے اپنے جرمن اور ہنگریائی پڑوسیوں پر، ہرواتیوں نے ویانا کے باغیوں پر، کاوینیاک کے موبائل گارڈ یا بونا پارٹ کے 10 دسمبر والوں نے فرانسیسی پرولتایہ کے بیٹے بیٹیوں پر کیا۔ ہندوستانی سپاہیوں کا رویہ چاہے کتنا ہی مکروہ رہا ہو وہ صرف ایک مرکوز صورت میں ہندوستان میں خود برطانیہ کے رویے کی عکاسی کرتا ہے۔ نہ صرف اپنی مشرقی سلطنت کی بنیاد رکھنے کے دور میں بلکہ اپنی طویل حکمرانی کے پچھلے دس سالوں کے دوران بھی، اس حکومت کی نوعیت واضح کرنے کے لئے یہ کہنا کافی ہے کہ اذیت رسانی اس کی مالیاتی پالیسی کا ایک اٹوٹ جزو رہا ہے۔ تاریخِ انسانی میں انتقام جیسی چیزضرور ہے اور تاریخی انتقام کا یہ قانون ہے کہ اس کے آلات مظلوم نہیں بلکہ خود ظالم ڈھالتا ہے۔‘‘
(ہندوستانی بغاوت، نیویارک ڈیلی ٹریبیون، شمارہ نمبر 5119، مورخہ 16 ستمبر 1857

SHOPPING

Avatar
ذوالفقارزلفی
ذوالفقار علی زلفی کل وقتی سیاسی و صحافتی کارکن ہیں۔ تحریر ان کا پیشہ نہیں، شوق ہے۔ فلم نگاری اور بالخصوص ہندی فلم نگاری ان کی دلچسپی کا خاص موضوع ہے

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *