ہماری تقدیر کے تاریک پہلو۔۔اسلم اعوان

افغانستان میں امریکی شکست کے بعد پوری دنیا میں طاقت کا توازن تبدیل ہونے لگا،خاص طور پہ یوروپ کو مایوسی کی ایسی تاریکی نے گھیر لیا،اہل مغرب جن افسردہ کن اندھیروں سے ٹٹول ٹٹول کے باہر نکلنے کی کوشش میں مصروف ہیں،ممکن ہے یہ اسی پیراڈائم شفٹ کا ٹرانزٹ پیریڈ ہو جس کی پیشگوئی مشرق و مغرب کے دانشور ایک عرصہ سے کر رہے تھے تاہم سماجی زوال سے قطع نظر مغرب کی اجتماعی دانش میں اب بھی اتنی ذہنی لچک موجود ہے جو ان نفسیاتی جھٹکوں کو سہہ سکتی ہے لیکن خدشہ ہے کہ تیزی سے بدلتی منزلوں میں ہمارے فکر وخیال کا ناقہ راہ کی اِس اونچ نیچ کے وبال کو برداشت نہیں کر پائے گا کیونکہ ان حالات میں ہمیں جس قسم کی شرح صدر اور سیاسی نظم و ضبط کی ضرورت تھی وہ عنقا ہے، ہر گزرتے لمحہ کے ساتھ قومی قیادت کا ذہنی جمود سیاست میں کنفیوژن بڑھانے کا وسیلہ بن رہا ہے،کسی کو علم نہیں ملک کس طرف جا رہا ہے،کل کیا ہونے والہ ہے،فیصلہ سازی کا مرکز کہاں ہے اور اصلاً عنان مملکت کس کے ہاتھ میں ہے؟یعنی اُن بنیادی امور بارے ہمیں کہیں سے کوئی کلیئریٹی نہیں ملتی،جن سے ہماری اگلی نسلوں کا مستقبل وابستہ ہے۔اگرچہ علامہ اقبالؒ نے ہمیں امید کا دامن تھامے رکھنے کا سبق دیا تاہم اپنے ذہنی سفر کے ایک خاص مرحلہ پہ وہ خود بھی شکوہ کناں ہو کے”خُوگرحمد سے تھوڑا سا گلہ سن لے“کی شکایت تک آ پہنچے تھے۔بلاشبہ یہ ہمارا حق ہے کہ ہم اس سیاسی جوڑ توڑ سے پوری طرح آگاہ رہیں جس کا ہمیں نشانہ بنایا جا رہا ہو۔یہ کوئی معمولی بات نہیں کہ ملکی تاریخ میں پہلی بارجمعرات کو اسٹاک مارکیٹ اچانک دو ہزار پوائینٹ نیچے گر گئی،اس سے قبل بھی ہماری سماجی زندگی پہ مجموعی معاشی انحطاط کے اثرات گھمبیر نظر آ رہے تھے،خودکشی کے بڑھتے ہوئے واقعات،معصوم بچوں کے ساتھ جنسی تشدد کی مہیب واردتیں،مذہبی انتہا پسندی کا عفریت اور نسلی و لسانی تفریق جیسے تمام عوامل اِسی معاشی و فکری افلاس کا قدرتی نتیجہ ہیں جس نے ہر پہلو سے ہمارے سماج کو غیر محفوظ بنا دیا۔سیاست و معشت تو درکنار،ہمیں احساس تک نہیں ہوا کہ معاشرے سے وہ مزاحمتی ادب مفقود ہوگیا جس نے سیاسی و سماجی زندگی کو معنی و مفہوم عطا کرنا ہوتے ہیں،اب زندگی کی توانائی سے لبریز فیض احمد فیض،حبیب جالب اور احمد فراز جیسے وہ انقلابی شعراءپیدا نہیں ہوتے،جو اپنے عہد کے ضمیرکی آواز بنتے ہیں،الغرض،دل و دماغ پہ چھائی پس مردگی سے عیاں ہے کہ آج ہم بلند خیالی اورقوت ارادی جیسی اُن ملکوتی صفات سے تہی دامن ہو چکے ہیں جو قوموں کے عروج و زوال میں اہم کردار ادا کرتی ہیں،یعنی وہ خیالات جو ذہن کو منور کرتے ہیں اور وہ کارنامے جو دل کو بڑھاتے اور حوصلہ پیدا کرتے ہیں۔ادھر پراگندہ انفارمیشن کا سیلاب ہمیں لمحہ موجود کی کوئی واضح تصویر بنانے کا موقعہ نہیں دیتا،گویا ہمارے تمام نظریاتی اور سیاسی پیمانے التباسات کی دھند میں ڈوب گئے،اسی لئے تو اجتماعی حیات بے یقینی اور اضطراب کے درمیان ہچکولے کھانے لگی ہے،ہم خود اور ہمارے رہنما اپنے زوال کے مظاہر سے نمٹنے کی صلاحیت کھو رہے ہیں۔افسوس کہ رائے عامہ بنانے والے ماہر تجزیہ کاروں کے تمام اندازے گھڑی بھر میں غلط ثابت ہو جاتے ہیں،خاص طور پہ وہ اجڑے ہوئے صحافی جو دن رات اپنے وی لاگز میں ادھوری معلومات پہ مبنی مہمل تجزیوں کو جذباتی ابلاغ کا آلہ کار بنانے میں سرگرداں ہیں،ان کی یہ پوری مساعی اگلے چند گھنٹوں میں بیکار ہو جاتی ہے،انفرادی اور اجتماعی معاملات کے حوالہ سے ہم سب کو ہر روز ایک نئی صورت حال کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔
حکمراں اشرافیہ حال اور مستقبل کے بارے میں قطعیت کے ساتھ جو بھی دعوی پیش کرے،صورت حال اس کے برعکس نکلتی ہے،جنوبی ایشیا میں سرعت کے ساتھ بدلتی پیچیدہ صورت حال کے تناظر میں اقتصادی شہ رگ کشمیر بارے ہماری نئی قومی پالیسی کے خد و خال پریشاں ہیں،طالبان کی قیادت میں ابھرتے ہوئے نئے افغانستان میں اب بھی زمین گرم ہے،وہاں طالبان کی فتح ابھی جنگ کے اثرات سے دگرگوں ہے،جہاں اُن کا ایک پیر ہارے ہوئے مگر زندہ دشمن کی گردن پہ مگر دوسرا اپنی بقاءکے تقاضوں میں پھنسا ہوا ہے۔چین سے دیرینہ دوستی پہ شکوک و شبہات کے سائے منڈلا رہے ہیں،کسی کج کلاہ کو معلوم نہیں کہ زخم خوردہ امریکہ کے ساتھ تعلقات کا اونٹ کسی کروٹ بیٹھے گا۔اِس قسم کے سیاسی و سماجی بحرانوں سے نمٹنے کے لئے کوئی متبادل سفارتی پالیسی یا قابل اعتماد متبادل قیادت پیدا نہیں ہونے دی گئی،جو مشکل کی گھڑی میں آگے بڑھ کے قومی معاملات کو ہاتھ میں لےتی،اگر کوئی تھا بھی تو انکی شخصی اور سیاسی ساکھ کو اتنے چرکے لگائے گئے کہ وہ سر اٹھانے کے قابل نہیں رہا۔حکمراں ایلیٹ تو اپنی ناتجربہ کاری کے باعث ڈلیور کرنے میں ناکام رہی لیکن ان ساڑھے تین سالوں میں اپوزیشن کی”پختہ کار“قیادت بھی اپنی سمت کا درست تعین کر سکی نہ وہ قوم کو منزل مقصودکا نشاں بتانے میں کامیاب ہوئی۔ہر روز وہ لانگ مارچ،ان ہاوس تبدیلی یا نئے انتخابات کے مطالبات کی گونج میں ایسی پُھل جھڑیاں چھوٹتی ہیں جو فضا میں ہی تحلیل ہو جاتی ہیں،یعنی اپنی کم مائیگی کی بدولت رہنمایان ملت کسی ٹھوس لائحہ عمل کی تشکیل کے امکان کو ہر روز بعیدتر کر دیتے ہیں۔ملک کی جغرافیائی اور نظریاتی سرحدات کی محافظ،ریاستی مقتدرہ،خبط عظمت کے ایسے نفسیاتی آشوب میں الجھی دیکھائی دیتی ہے جس کی تفہیم کے لئے نئی اصطلاحیں تخلیق کرنا پڑیں گی،ہمیں سمجھایا گیا تھا کہ مضبوط سرحدیں اچھے پڑوسی پیدا کرتی ہیں لیکن تہتر سالوں میں ہماری بدقسمت آنکھیں مضبوط سرحدیں نہ اچھے پڑوسی دیکھ سکیں۔دریں اثناءانفارمیشن ٹیکنالوجی کی ایجاد اور خاص کر سوشل میڈیا کی طلسماتی لہروں نے ہمارے احساسات کی سرزمین کو مسخر کرکے نظریاتی اور جغرافیائی سرحدات کے تصور کو ہی بدل ڈالا۔موجودہ
Amjad
Amjad Jehangir
۔موجودہ سماجی و سیاسی مسائل کے نفسیاتی تجزیہ کےلئے ہمارے پاس الفاظ ہیں نہ وہ منظم خیالات جن کی وساطت سے سیاسی فکرکی صورت گری کر سکیں،اسی کارن ہمیں اذہان کی پیچیدگی اور غیر یقینی صورتحال کو برداشت کرنے میں دشواری پیش آ رہی ہے،خاص طور پر جب ایسے حالات کا سامنا کرنا پڑتا ہے جو جذباتی یقین سے متصادم ہوں۔ایک بالغ ذہن کئی وجوہات کی بنا پر سماجی اور سیاسی پیچیدگیوں کو برداشت کرنے کے قابل ہوتا ہے،بالخصوص عمرانی علم کے ذریعے بیان کردہ استدلال سے خود کو بہت جلد ہم آہنگ بنا لیتا ہے۔صحت مند ماحول میں تجزیہ کاروں کی مسند معلومات پہ مبنی تجزیاتی سوچ خود یا دوسروں کو کنفیوژ کرنے کی بجائے رائے عامہ سے مطابقت پیدا کر لیتی ہے، وہ موجودہ سماجی و سیاسی مسائل کے بہت سے پہلوو¿ں پربحث کرتے ہوئے اپنے لئے ایسے موضوعات تلاش کرنے میں بھی کامیاب ہو جاتے ہیں،جن سے کئی قاری اور ناظرین اچھی طرح مانوس ہوتے ہیں یعنی وہ اپنی درخشدہ خیالی سے مقصد کو زندگی کے مفید ادراک سے ملا کر زیادہ دلچسپ بنا لیتے ہیں۔سیاست اور سماجیات کے ماہرین کہتے ہیں کہ زندگی میں بے وقوفانہ عمل معمول کی بات ہے لیکن الجھن یہ ہے کہ اسے سیاسی طور پر استعمال کیا جا سکتا ہے۔قارئین شاید اس بات سے بخوبی واقف ہوںکہ عہد جدید میں طاقتور ریاستوں نے انسانی حقوق اور سماجی آزادیوں کے حصول کے نعروں کو کمزور مملکتوں میں مداخلت کا وسیلہ بنایا،کسی بھی ریاست کو نشانہ بنانے سے پہلے سیاسی انتشار کے ذریعے وہاں کے عوام کو گمراہ کرنے کے لئے کئی پُراثر اصطلاحیں استعمال کی جاتی ہیں،جیسے”قابل نفرت سلطنت“یا ”بدی کا محور“جیسی اصلاحات کا اطلاق سیاسی ہتھکنڈوںکی کلاسیکی مثالیں ہیں،جن کے ذریعے خود اپنی برائیوں کو دوسروں کے وجود پہ منعکس کیا گیا۔سیاست میں استعمال ہونے والی اِن پرشکوہ اصطلاحات کے مطالب ہمیشہ دماغ سے باہر رہے ہیں لیکن طاقتور پروپگنڈہ مشنری کے ذریعے ابہام سے لبریز ان الفاظ کے من پسند مفاہیم کو من و عن تسلیم کرایا گیا۔مثال کے طور پر نائن الیون کا نفسیاتی اثر ایک طرح سے سرحدات پر دخل اندازی تھی،اس سے یہی ثابت کیا گیا کہ احساس کہ سرزمین کبھی بیرونی حملے سے آزاد نہیں ہوتی۔ماہرین نے اس واقعہ کے مخصوص نفسیاتی مفہوم کی طرف توجہ دلاتے ہوئے ذہنی حد کی طرف اشارہ کرتے ہیں جس کی خلاف ورزی ہوئی۔پانچویں پشت کی جنگ کا مطلب بھی یہی ہے کہ ہماری نفسیاتی حدود اب بیرونی حملے سے محفوظ نہیں رہ سکتیں۔جیسے کیمیائی ہتھیاروں کی موجودگی کے نفسیاتی احساس کو عراق پر حملہ زن ہونے کے ایجنڈے کو آگے بڑھانے میں بروکار لایا گیا،یعنی رجعت پسندی اور بے حسی نے عوام کو صدر بش کی عراق پالیسی کو نقاب ابہام فراہم کیا۔جیسے میسور (انڈیا) پہ حملہ آور ہونے کے لئے برطانیہ نے بلیک ہول اسکنڈل کواستعمال کیا۔جیسا جنگ دہشتگردی کے دوران جی ایچ کیو، اے پی ایس اورکامرہ کمپلکس سمیت حساس مقامات پہ دہشتگردانہ حملوں میں سینکڑوں افراد مارے گئے،فرق یہ ہے کہ ان پُرتشدد کارروائیوں کا ارتکاب مقامی دہشت گردوں نے کیا لیکن اسی وجہ سے ہم اب بھی خود کو بیرونی خطرات سے محفوظ محسوس تصورکرتے ہیں۔

  • FaceLore Pakistan Social Media Site
    پاکستان کی بہترین سوشل میڈیا سائٹ: فیس لور www.facelore.com
  • julia rana solicitors london
  • julia rana solicitors
  • merkit.pk

Aslam Awan
اس وقت یبوروچیف دنیا نیوز ہوں قبل ازیں پندرہ سال تک مشرق کا بیوروچیف اور آرٹیکل رائٹر رہاں ہوں،سترہ سال سے تکبیر میں مستقل رپوٹ لکھتا ہوں اور07 اکتوبر 2001 سے بالعموم اور 16مارچ 2003 سے بالخصوص جنگ دہشتگردی کو براہ راست کور کر رہاں ہوں،تہذیب و ثقافت اور تاریخ و فلسفہ دلچسپی کے موضوعات ہیں،

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

Leave a Reply