• صفحہ اول
  • /
  • خبریں
  • /
  • اومی کرون کا خطرہ ، کیٹیگری سی کے ممالک پر مکمل سفری پابندیاں عائد

اومی کرون کا خطرہ ، کیٹیگری سی کے ممالک پر مکمل سفری پابندیاں عائد

کورونا کے نئے ویرینٹ اومی کرون کے خطرے کے پیش نظر کیٹیگری سی کے ممالک میں اضافہ کر دیا گیا۔ ان ممالک سے مسافروں کے پاکستان آنے پر مکمل پابندی عائد ہو گی۔

اسلام آباد میں نیشنل کمانڈ اینڈ آپریشن سینٹرکااجائزہ اجلاس ہوا۔ اجلاس میں دنیا بھرمیں کورونا وباء اور ہوائی سفر سےمتعلق جائزہ لیا گیا۔ این سی او سی نے کیٹیگری سی کے 15 ممالک کی فہرست جاری کردی۔

FaceLore Pakistan Social Media Site
پاکستان کی بہترین سوشل میڈیا سائٹ: فیس لور www.facelore.com

این سی اوسی نے تفصیلی جائزے کے بعد کیٹیگری سی میں کروشیا ،ہنگری ، یوکرین ، آئرلینڈ ،سولوینیا ، ویتنام اور پولینڈ کو شامل کیا گیا ہے ۔ جنوبی افریقہ ،موزمبیق ،لیسوتھو،بوٹسوانا،زمبابوے اور نمیبیا بھی کیٹیگری سی میں شامل ہیں۔

کیٹیگری سی میں شامل 15 ممالک کے شہریوں پر پاکستان کا سفر کرنے پر مکمل پابندی ہوگی۔ایمرجنسی کی صورت میں سفر کی خصوصی اجازت دی جائے گی ۔این سی او سی نے ہیلتھ پروٹوکول کے ساتھ استثنیٰ کا سرٹیفکیٹ لازمی قرار دیا ہے۔

این سی اوسی کے مطابق کیٹیگری سی ممالک میں سفر کرنے والے لوگوں کی ویکسینشن لازمی ہو گی۔اومی کرون متاثرہ ممالک کے مسافروں کو تین دن کیلئے قرنطینہ میں رہنا ہوگا۔ ان ممالک میں سفر کرنے والے لوگوں کا تین دن قرنطینہ کے بعد پی سی آر ٹیسٹ لیا جائے گا۔

این سی او سی نے کہا ہے کہ 6 سال اور زائدعمر کے پاکستانیوں اور غیرملکیوں کے لیے پی سی آر ٹیسٹ لازمی ہوگا، بورڈنگ سے 48 گھنٹے پہلےکیاگیا پی سی آرٹیسٹ قابل قبول سمجھا جائے گا۔

کیٹیگری بی میں 7 ممالک شامل کیے گئے ہیں۔بی کیٹگری میں جرمنی، آذر بائیجان، میکسیکو، سری لنکا ،روس اور امریکا کو رکھا گیا ہے۔

کیٹیگری بی کے ممالک سے آنے والے مسافروں کو کیلئے کورونا منفی رپورٹ لازمی ہے۔ مثبت کیسز کو 10 روز کیلئے قرنطینہ کیا جائے گا۔

Advertisements
julia rana solicitors london

این سی اوسی نے ٹرانٹ فلائٹ کے مسافروں کیلئے بھی ویکسینیشن سرٹیفکیٹ لازمی قرار دیا ہے۔

  • julia rana solicitors
  • julia rana solicitors london
  • merkit.pk
  • FaceLore Pakistan Social Media Site
    پاکستان کی بہترین سوشل میڈیا سائٹ: فیس لور www.facelore.com

خبریں
مکالمہ پر لگنے والی خبریں دیگر زرائع سے لی جاتی ہیں اور مکمل غیرجانبداری سے شائع کی جاتی ہیں۔ کسی خبر کی غلطی کی نشاندہی فورا ایڈیٹر سے کیجئے

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

Leave a Reply