کہیں دیر نہ ہو جائے۔۔چوہدری عامر عباس

سانحہ سیالکوٹ کی ویڈیوز نے اپنے دیکھنے والوں کے دماغ کو ماؤف کرکے رکھ دیا ہے۔ دماغ کیساتھ ساتھ دل کو دہلا دینے والی ویڈیو ہے جس کو دیکھ کر انسانیت بھی شرما جائے۔ دنیا کا کوئی مذہب اس طرح کسی انسان کو قتل کرنے یا لاش کو جلانے کی اجازت نہیں دیتا۔ ایسے واقعات کیلئے “مذمت” جیسا چھوٹا سا لفظ کوئی اہمیت نہیں رکھتا۔

توہینِ  رسالت کی سزا ایسے تھوڑا دی جا سکتی ہے؟ کیا خاتم النبیین، سید المرسلین حضرت محمد مصطفٰی ﷺ  کا یہ طرزِ عمل ہے؟ قطعاً نہیں ہرگز نہیں۔ آقا علیہ السلام تو رحمت اللعالمین بن کر آئے۔ اگر خدانخواستہ ایسا کوئی واقعہ پیش آتا بھی ہے تو اس کیلئے متعلقہ فورم میں شکایت کیجیے، وہاں درخواست دیجیے۔ معاملہ کی مکمل انکوائری ہو کہ آیا توہینِ رسالت کا واقعہ پیش آیا بھی ہے یا نہیں۔ پاکستان ایک اسلامی ملک ہے۔ توہینِ رسالت کے واقعات میں کارروائی کیلئے پورا قانون و ضابطہ کار موجود ہے اور سخت سزا بھی موجود ہے۔ لیکن جو  واقعہ ہوا اس کی اسلام سمیت دنیا کا کوئی مذہب، قانون، معاشرت یا اخلاقیات قطعاً اجازت نہیں دیتے۔ اگر ایسا ہو جائے تو پھر کل کو تو کوئی آپ میں سے کسی پر بھی توہین رسالت کا الزام لگا کے گریبان پکڑ لے گا اور سڑکوں پر گھسیٹ کر جلا دے۔ ایسے رویے ایک شتر بے مہار معاشرے کو جنم دیتے ہیں۔

FaceLore Pakistan Social Media Site
پاکستان کی بہترین سوشل میڈیا سائٹ: فیس لور www.facelore.com

جن دوستوں نے سری لنکا کا وزٹ کیا ہے وہ بخوبی جانتے ہیں کہ سری لنکا ان چند ایک گنے چُنے ممالک میں سے   ہے جو پاکستانیوں کیلئے سوفٹ کارنر رکھتا ہے۔ دنیا بھر میں پاکستان کا کیسا تاثر دیا جا رہا ہے۔ کل کے واقعہ سے پوری قوم کا سر شرم سے جھک گیا ہے۔ ہم کیسے پتھر دل لوگ ہیں کہ یہ بھی نہ سوچاکہ سری لنکا دنیا کا واحد ملک ہے جو پاکستانیوں کو آنکھیں عطیہ کرتا ہے۔ سری لنکا اب تک بیس ہزار سے زائد پاکستانیوں کومفت آنکھیں فراہم کرچکا ہے اورجس دن اس کے شہری کو آگ لگا کر جلایا جا رہا تھا اس دن بھی ہم نے سری لنکاسے آنکھوں کا عطیہ وصول کیا۔

یہ کوئی پہلا واقعہ نہیں ہے۔ اگر ماضی میں نظر دوڑائیں تو ارض پاک کی تاریخ میں ایسے کئی واقعات سیاہ ابواب کی صورت میں موجود ہیں۔ مسئلہ یہ ہے کہ ریاست کی رٹ اور قانون کی عملداری کہاں ہے۔ یہ ایک بہت بڑا سوالیہ نشان ہے۔ اس نوعیت کے بڑھتے ہوئے واقعات کے اصل محرکات تلاش کیے  جائیں اور ان سے نمٹنے کیلئے ایک ٹھوس حکمت عملی بنائی جائے۔

سب سے پہلے تو حکومت کی زیر نگرانی تمام مکاتب فکر کے علما  کا ایک بورڈ بنایا جائے۔ تمام علما  کرام شدت پسند نہیں ہیں۔ محض چند ایک کی وجہ سے بہت سے علما  کو ایک منصوبہ بندی کے تحت بدنام کیا جاتا ہے۔ بہر حال یہ ایک الگ موضوع ہے جس کو کسی اور وقت پر اُٹھا رکھتے ہیں۔ علما  کا یہ بورڈ توہین مذہب یا توہین رسالت جیسے واقعات کے سدباب کیلئے اپنی تجاویز ایک ہفتے کے اندر جمع کروائے۔
پارلیمنٹ کا مشترکہ اجلاس بلا کر اس معاملے پر سیر حاصل بحث کروائی جائے۔ ایسے واقعات سے آہنی ہاتھوں نمٹنے کیلئے الگ سے قانون سازی کرکے اس کے ضابطہ کار کو جدید خطوط پر استوار کیا جائے۔ اس کیلئے ہر ضلع کی سطح پر تمام مکاتب فکر سے تعلق رکھنے والے پڑھے لکھے معتدل مزاج مذہبی سکالرز کا ایک بورڈ بنایا جائے جو متعلقہ دپٹی کمشنر کے ماتحت ہو۔ کسی بھی ضلع میں توہین رسالت کا اگر کوئی ایسا واقعہ ہوتا ہے تو کوئی بھی شخص فی الفور اپنی درخواست اس بورڈ میں جمع کروائے۔ درخواست کے عمل کو آسان بنانے کیلئے ایک موبائل ایپلیکیشن بنانے میں بھی کوئی مضائقہ نہیں۔ علما  کے بورڈ کو جونہی شکایت موصول ہو وہ فوری طور پر اس معاملے کی تحقیقات شروع کرے۔ شہادتیں لے، متعلقہ لوگوں کے بیانات قلمبند کرے، شواہد اکٹھے کرکے اپنی ایک رپورٹ مرتب کرے۔ اگر وہ شکایت غلط ہو اور بدنیتی یا ذاتی عناد پر مبنی ہو تو شکایت کنندہ کیلئے سزا تجویز کی جائے۔ اگر ایسا کوئی واقعہ پیش آیا ہو تو ڈپٹی کمشنر کی طرف سے وہ شکایت بمع رپورٹ ڈسٹرکٹ سیشن جج کی عدالت میں یہ کیس ریفر کیا جائے جو اس معاملے کا ترجیحی بنیادوں پر ایک شفاف ٹرائل کرکے ایسے توہین رسالت کے مرتکب مجرم کو سخت سے سخت ترین سزا سنائے ،اس کیلئے زیادہ سے زیادہ نوے دن کا وقت دیا جائے۔

Advertisements
julia rana solicitors london

توہینِ رسالت یا توہین مذہب ایک حساس معاملہ ہے۔ ایسے واقعات سے نمٹنے کیلئے مذہبی سکالرز کو آگے آ کر عوام کو آگاہی دینا ہوگی۔ ریاست کو اپنی رٹ قائم کرنا ہو گی، پیچیدگیوں کو دور کرکے قانون کو اپنا راستہ بنانا ہو گا۔ جلدی کیجیے  کہیں دیر نہ ہو جائے۔

  • FaceLore Pakistan Social Media Site
    پاکستان کی بہترین سوشل میڈیا سائٹ: فیس لور www.facelore.com
  • julia rana solicitors london
  • merkit.pk
  • julia rana solicitors

چوہدری عامر عباس
کالم نگار چوہدری عامر عباس نے ایف سی کالج سے گریچوائشن کیا. پنجاب یونیورسٹی سے ایل ایل بی کی ڈگری حاصل کرنے کے بعد ماس کمیونیکیشن میں ماسٹرز کی ڈگری حاصل کی. آج کل ہائی کورٹ لاہور میں وکالت کے شعبہ سے وابستہ ہیں. سماجی موضوعات اور حالات حاضرہ پر لکھتے ہیں".

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

Leave a Reply