• صفحہ اول
  • /
  • نگارشات
  • /
  • ” یورپ ” آنے کے “خواہشمند ” متوجہ ہوں ۔۔۔صاحبزادہ عثمان ہاشمی

” یورپ ” آنے کے “خواہشمند ” متوجہ ہوں ۔۔۔صاحبزادہ عثمان ہاشمی

(تربت میں ہونے والے حالیہ ” ظلم ” اور اسی طرح کے کچھ واقعات کے نتاظر میں کی گئی ایک التجا)

میں جب سے یورپ میں آیا ہوں اس موضوع پر قلم اٹھانا چاہ رہا ہوں، مگر کچھ نا مساعد وجوھات کی بنا پر یہ موضوع ہمیشہ ہی مؤخر ہوتا رہا ۔ ۔ لیکن اب کچھ حالیہ دلدوز واقعات نے مجھے اس امر پر مجبور کردیا ہے ۔جب یورپ و برطانیہ یا باقی بڑے ممالک (بلحاظ ترقی ) میں مقیم پاکستانی اپنے وطن چھٹیاں گزارنے لوٹتے ہیں تو انکی ٹھاٹھ باٹھ اور پرتعیش زندگی کے قصے وہاں بسنے والے نوجوانوں کے دلوں میں بھی ” باہر ” جانے کی امنگ پیدا کردیتے ہیں اور “پاکستان” کے ایک بڑے حصے میں بنیادی ضروریات زندگی کا فقدان، مناسب طرز زندگی اور معاش کی عدم دستیابی اس امنگ کو مضبوط ارادے میں بدل دیتی ہے ۔ ۔ ۔ رہتی کسر ” ہالی ووڈ موویز ” میں دکھایا جانے والا یورپ (وغیرہ ) اور کچھ معتبر مصنفین کے ” سفرنامے ” پوری کردیتے ہیں اور یوں یہ امنگ ایک ” جنون ” کی شکل اختیار کرجاتی ہے ۔ ۔ ۔ یورپ جانے کا ” جنون ” آزاد زندگی ، ڈھیروں پیسہ کمانے اور اپنے ہم وطنوں کے سامنے ” عزت ” پانے کا جنون ۔اور پھر یہ نوجوان جوکہ تصویر کے دوسرے رخ سے یکسر بے خبر ہوتے ہیں اپنی خواہشوں کے حصول اور ایک روشن و کامیاب مستقبل کے خواب بننا شروع کردیتے ہیں اور انہیں اپنی ” منزل ” یورپ سے پہلے کسی مقام پر حاصل ہوتی نہیں دکھتی ۔

اب وہ اس سلسلے میں تگ و دو شروع کرتے ہیں اور سب سے آسان ذریعہ ” ڈنکی ” یعنی غیر قانونی طریقے سے یورپ میں داخل ہونے کی صورت میں سامنے آتا ہے ۔ ۔ ۔ ۔ اور یوں وہ “ٹریل ایجنٹس کی مافیہ ” کے ہتھے چڑھ جاتے ہیں ۔یہ ” مافیہ ” پیٹرول پر ” شعلے ” کا کردار ادا کرتا ہے اور انھیں مزید ورغلاتا ہے۔ ایسے ایسے سہانے خواب دکھائے جاتے ہیں کہ  ایک لمحے کو مخاطب خود کو ہواؤں میں اڑتا محسوس کرتا ہے ۔ ۔ ۔ بتایا جاتا ہے کہ صرف ایک ” سمندر ” ہی تو پار کرنا ہے، بس پھر آگے امن ہی امن ۔ ۔ ۔ ۔ ” نوکری ” آپ کے انتظار میں ہے ۔ ” گورے ” ہاتھوں میں ” یورو” تھامے کھڑے ہیں کہ کوئی آۓ اور وصول کرے اور ” گوریاں ” “شب عروسی” کے لباس پہنے اور ہاتھوں میں پھول تھامے کنارے پر نظریں ٹکاۓ ہوۓ ہیں کہ کب ” پار ” سے ” گھبرو جوان ” پہنچیں اور وہ انھیں اپنی بانہوں میں لے لیں ۔

لہٰذا گھر والوں کو بہرطور راضی کیا جاتا ہے اور ” ایجنٹ ” کو رقم کی ادائیگی کرنے واسطے ” باپ ” کی عمر بھر کی محنت سے بنی چھت ، ” ماں” کے مشکل وقت کے لیےرکھے ” زیور ” اور ” بہن ” کا گھر بسانے کے لیے جمع کی گئی رقم تک اس راہ میں قربان کردی جاتی ہے کہ کوئی نہیں ” بیٹا ” یورو بھیجے گا تو سب دوبارہ بن جاۓ گا ۔اور یوں یہ ” تلخ سفر ” کہ جس کی حقیقت فارنر پاکستانیوں کی” شوخیوں” ، نوجوانوں کی ” خوش فہمیوں ” ایجنٹوں کی ” دغابازیوں ” اور والدین کی غلط فہمیوں سے زیادہ کچھ نہیں ہوتی شروع ہوجاتا ہے ۔،اور ماں باپ بہتے آنسووں کے ساتھ ہزاروں اندیشوں کے سائے میں اپنے ” لخت جگر ” کے روانہ کردیتے ہیں ۔

اور اب تصویر کا دوسرا رخ سامنے آنا شروع ہوتا ہے ۔ ۔ جو کہ بہت تلخ اور تکلیف دہ ہوتا ہے ۔ ۔ ۔ ۔ کئی کئی دن پیدل چلنے اور بھوکا پیاسا رہنے کے باوجود وہ ” ایک سمندر ” دکھائی نہیں دیتا جس کے آگے امن ہی امن تھا ۔ ۔ ۔ اور کچھ نوجوان اس پہلی منزل میں ہی ” زندگی ” کی بازی ہار جاتے ہیں ۔ ۔ ۔ ۔ یا تو باڈر ” کراسنگ ” کے دوران کسی گولی کا شکار ہوجاتے ہیں یا پھر تلخ موسم کی ہواؤں سے ” شمع زندگی ” گل کروا بیٹھتے ہیں ۔ کچھ ” ماؤں کے لاڈلے ” بھوک سے بلک بلک کر مر جاتے ہیں اور کچھ ” باپوں ” کے بڑھاپے کے سہارے ” پلوچستان ” جیسے کسی علاقے میں درجنوں کے حساب سے خاک و خون میں تڑپا دیے جاتے ہیں ۔

اور جو بچتے ہیں وہ اگلی ” منزل ” یعنی ” سمندر ” کو پالیتے ہیں ۔ ۔ ۔ وہ سمندر بھی بڑا ظالم ہوتا ہے ۔ ۔ ۔ جب تک اسے درجنوں کے خون کی ” بلی ” نہ دی جاۓ وہ ” کچھ ” کو راستہ نہیں فراہم کرتا ، اور یوں بہت سے نوجوان سمندر کی بے رحم موجوں کی نظر ہوجاتے ہیں ۔ ۔ ۔ اور اپنے ماں باپ کو اپنا جنازہ اٹھانے کی تکلیف سے بھی آزاد کر جاتے ہیں ۔جو بچے کچھے اس ” سمندر” کو چلتی سانسوں کے ساتھ پار کرجاتے ہیں وہ اگلے ” مرحلے ” میں داخل ہوجاتے ہیں جو کہ سابقہ مرحلوں سے بھی سخت ہوتا ہے ۔ ۔ ۔ ” ترکی ” میں غیرقانونی ” پڑاؤ ” کے دوران بعض کے ساتھ وہ معاملہ ہوجاتا ہے جو کہ مردان کے ” اشفاق ” کے ساتھ ہوا ۔ ۔ ۔

جنوری 2017 کے ڈان اخبار میں ” اشفاق ” کی آپ بیتی شائع ہوئی ۔ ۔ ۔ 23 سالہ اشفاق اپنی آنکھوں میں یورپ پہنچنے کے خواب سجاۓ ستمبر 2013 میں گھر سے روانہ ہوا ۔ ۔ ۔ اور تین چار سالوں میں اسکے ساتھ وہ وہ مظالم ہوۓ جو تصور بھی نہیں کیے جا سکتے ۔ ۔ ۔

ترکی میں عارضی قیام کے دوران اشفاق “انسانی سمگلروں ” کے ہتھے چڑھ گیا جنھوں نے دوست کے روپ میں اسے قریب کیا اور پھر اغوا کرکے ایک نامعلوم مقام پر قید کردیا ۔ ۔ ۔اور واٹس ایپ کے ذریعے اس کے گھر والوں سے رابطہ کرکے ان سے 50 لاکھ تاوان کا مطالبہ کردیا۔ اشفاق کے مطابق اس تمام عرصے میں اسے بری طرح تشدد کا نشانہ بنایا گیا، اس کے پاؤں کے تلووں کو ربڑ سے پیٹا گیا، اس پر آنسو گیس کے شیل فائر کیے گئے اور اسے پانی کے ٹینکوں میں اوپر نیچے کیا گیا۔
مسلسل 27 دنوں تک الٹنا لٹکنے، جلتی ہوئی سگریٹ، گرم چھری اور آئرن راڈز سے داغے جانے، ناخنوں میں سوئیاں چبھونے، اندھیرے کمروں میں قید رہنے اور انتہائی سرد ماحوم میں رہنے جیسی صعوبتیں برداشت کرنے کے بعد ” ترک گورنمنٹ ” نے کسی طرح سے اسے بازیاب کروا لیا ۔ اور وہ ان چند خوش نصیبوں میں سے ایک تھا جو ” زندہ ” بچ جاتے ہیں ۔اگر یہ ترکی سے نکل بھی جاتے ہیں تو ” یونان ” یا ” سابق یوگو سلاوی ” کے مہاجر کیمپوں میں سالوں ” ذلیل ” ہوتے ہیں ۔

میرے کچھ ایسے جاننے والے بھی ہیں جو ان سب مرحلوں سے جیسے تیسے نکل تو آۓ مگر اب سالوں سے ” یورپ ” کی سرزمیں میں ” مقید ” ہیں ۔ ۔ ۔ دن بھر کسی نہ کسی ہوٹل میں ” ٖغیرقانونی ” طریقے سے برتن دھوتے اور صفائیاں کرتے ہیں ۔ ۔ ۔ اور ” کام ” کی اجازت نہ ہونے کی بنا پر اپنی محنت کا بیسواں حصہ بھی وصول نہیں کرپاتے ۔ ۔ میرا ایک ” دوست ” گیارہ برس قبل اپنے وطن سے آیا تھا اور آج تک یہاں پر ” قانونی حیثیت ” نہیں حاصل کرپایا ۔ ۔ ۔ اس دوران اس کے والد ، اور والدہ بھی چل بسے اور بہن کو بھی محلے والوں اور دور پار کے رشتہ داروں نے ” رخصت ” کیا مگر وہ یہاں ” اپنے خوابوں کے محل کے کھنڈر پر پھنسا بیٹھا ہے اور زبان حال سے یہ کہتا پایا جاتا ہےکہ ” نہ خدا ہی ملا ، نہ وصال صنم ” ۔

تو میرے پیارو !

آپ بھی سہانے خواب دیکھنے اور انہیں تعبیر دینے کا حق رکھتے ہیں ، آپ میں بھی روشن مستقبل اور ڈھیروں پیسہ کمانے کی چاہت ہو سکتی ہے ۔ ۔ ۔ مگر اس کے لیے اپنی جان کو اس قدر خطرے میں ڈالنا چہ معنی دارد ؟اگر پاکستان میں بھوک ہھت بھی ہے تو اس بھوک سےکہیں بہتر ہے کہ جو گھر سے ہزاروں میل دور سفر کی حالت میں آپ کی جان لے لے ۔ ۔ ۔ اگر آپ اپنے وطن میں رہتےہوۓ اپنے بوڑھے والدین کو کوئی آسائش نہیں فراہم کر پارہے تو بھلے نہ کیجیے مگر انہیں اپنی ” لاش ” کا تحفہ تو مت دیجیے۔

آپ کی بہن کم ” جہیز ” کے ساتھ گھر سے رخصت ہو جاۓ یہ اس سے کہیں بہتر ہےکہ ” محلے ” والے چنندہ کرکے اسے رخصت کریں اور اس معصوم کوسر پر بھائی کا شفقت بھرا “ہاتھ ” بھی نصیب نہ ہو ۔ ۔ ۔ اگر اپنی  دھرتی پر آپ نے بہت نام نہیں کمایا تو کیا ہوا ؟ یہ اس سے تو بہتر ہے نا کہ آپ کی قبر بھی آپ کے ملک بجاۓ، آپ کی لاش سمند کی لہروںکے رحم و کرم پر ہو ، یا پھر دیار غیر میں کسی ” نامعلوم” تختی کے نیچے آپ کا جسم دفن ہو ۔

عثمان ہاشمی
عثمان ہاشمی
عثمان ھاشمی "علوم اسلامیہ" کے طالب علم رھے ھیں لیکن "مولوی" نھیں ھیں ،"قانون" پڑھے ھیں مگر "وکیل" نھیں ھیں صحافت کرتے ھیں مگر "صحافی" نھیں ھیں جسمانی لحاظ سے تو "جرمنی" میں پاۓ جاتے ھیں جبکہ روحانی طور پر "پاکستان" کی ھی گلیوں میں ھوتے ھیں۔

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *