• صفحہ اول
  • /
  • نگارشات
  • /
  • تحریک لبیک یا رسول اللہ اور اسلام آباد دھرنا۔۔۔ محمد کمیل اسدی

تحریک لبیک یا رسول اللہ اور اسلام آباد دھرنا۔۔۔ محمد کمیل اسدی

تحریک لبیک  یارسول اللہ تقریباً  دس دن سے وفاق میں دھرنا دئیے براجمان ہے۔ حکومت نے ابھی تک اسے بہتر طریقے سے ہینڈل نہیں کیا۔بلکہ اگر یہ کہا جائے کہ حکومت نے اسے اہمیت ہی نہیں دی اور مذاکرات کے لئے کوئی سنجیدہ کو شش بھی نہیں کی تو بہتر ہو گا۔سوشل میڈیا پر اس تحریک کی نفی میں دو تین باتیں ہی کی جاتی ہیں۔  اس دھرنے کی وجہ سے وہاں کے لوگوں کی زندگی مفلوج ہوگئی ہے،اور حکومت  نے ترمیمی فیصلہ واپس لے لیا ہے تو دھرنے کا کوئی جواز نہیں رہتا  ۔اس تحریک کو سیاسی استحکام کے لئےصرف لاشیں چاہئیں۔اس کے علاوہ خادم رضوی صاحب کے انداز گفتگو میں شامل گالی گلوچ کو تنقید کا نشانہ بنایا جاتا ہے اور کچھ  سوشل میڈیا کے نامور لکھاری غیر مصدقہ پمفلٹ بھی شائع کررہے ہیں جس میں یہ افواہ درج ہے کہ انہوں نےنعوذ باللہ امام مہدی ہونے کا دعوٰی کردیا ہے۔

حکومت کی طرح سوشل میڈیا اور اس سے وابستہ افراد بھی غیر سنجیدگی  کا مظاہرہ کررہے ہیں۔ اس دھرنا اور جلوس کے لئے وہی تاویلیں دی جا سکتی ہیں جو محرم و ربیع الاول کے جلوسوں یا رائے ونڈ کے اجتماع کے لئے ہمیشہ دی جاتی ہیں  اور اگرتمام سیاسی پارٹیوں کے جلسے جلوس ان کا جمہوری و آئینی حق سمجھا جا سکتا ہے  تو اس تحریک کے جلسے کو   بھی نا تو اس حق سے  محروم کیا جاسکتا ہے اور نا ہی ان کے مطالبات کو نظرانداز نہیں کیا جاسکتاہے۔
جہاں تک خادم رضوی صاحب کی گفتگو کا تعلق ہے تو  وہ کسی  ایک موقع پر جذباتی گفتگو یا تقریر ہو گی اور  یقیناً یہ انکا خاصا نہیں ہے۔یہ تحریک رضوی صاحب کی ذاتی تحریک نہیں اور ان کے ساتھ دھرنا میں شامل بیسیوں علما  کے گفتار و کردار پربھی کوئی اعتراضات موجود نہیں۔افواہوں اور پروپیگنڈا کی وجہ سے صرف ایک موقف سامنے آیا ہے کہ ان عناصر کو سامنے لایا جائے اور سزا دی جائے جنہوں نے ختم نبوت کےقانون میں چھیڑ چھاڑ کی ہے۔ اس مطالبہ پر پاکستان میں بسنے والے کسی بھی مسلمان کو کوئی اعتراض نہیں ہوسکتا، پھر کیا وجہ ہے کہ عوامی رائےاس تحریک کی مخالفت میں  پیش پیش ہے۔  شاید تحریک  لبیک یا رسول اللہ سیاسی میدان میں ابھی نا تجربہ کار ہے  کہ ابھی تک انکا موقف وہ پذیرائی حاصل نہیں کرسکا   کہ عوامی رائے بدلنے کے ساتھ ساتھ حکومت کو بھی مذاکرات  پر مجبور کردے۔
حکومت اور تحریک کے سرکردہ افراد سے درخواست ہے کہ کسی بھی معاملہ کو نمٹانے کے لئے   مذاکرات کا راستہ اپنائیں   تشدد ، مار پیٹ اور جیل بھرناکسی بھی معاملہ کا مستقل حل نہیں ہوتا۔  ختم نبوت پر ایمان ہر عاشق نبیؐ  کے دل میں موجزن ہے ۔حکومت کا اس دھرنا میں شامل عاشقان رسالتؐ  کے ساتھ مذاکرات کا راستہ اپنانا ہی عقلمندی ہو گا۔
(نوٹ میری تحریک لبیک یا رسول اللہ سے کبھی کوئی وابستگی نہیں رہی لیکن سچ لکھنے کی کوشش کی ہے)

Avatar
محمد کمیل اسدی
پروفیشن کے لحاظ سے انجنیئر اور ٹیلی کام فیلڈ سے وابستہ ہوں . کچھ لکھنے لکھانے کا شغف تھا اور امید ھے مکالمہ کے پلیٹ فارم پر یہ کوشش جاری رہے گی۔ انشا ء اللہ

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *