افریقہ یا نیدرلینڈ، نیا کورونا وائرس کہاں سے آیا ؟

کورونا کا نیا ویرینٹ جنوبی افریقا سے قبل نیدرلینڈز میں ظاہر ہوچکا تھا، نیدرلینڈز کے محکمہ صحت نے انکشاف کردیا۔

حکام کے مطابق 19 نومبر اور 23 نومبر کو لیے گئے دو ٹیسٹ نمونوں میں اومی کرون وائرس ملا تاہم ابھی تک واضح نہیں کہ یہ لوگ جنوبی افریقہ گئے ہیں یا نہیں۔

FaceLore Pakistan Social Media Site
پاکستان کی بہترین سوشل میڈیا سائٹ: فیس لور www.facelore.com

جنوبی افریقا نے عالمی ادارہ صحت کو کورونا کی نئی تبدیل شدہ شکل کے بارے میں آگاہ کیا تھا۔ نیدرلینڈز کے محکمہ صحت کے انکشاف کے بعد اومی کرون کے جائے پیدائش کا تعین کرنے کی بحث چھڑ گئی ہے۔

کورونا وائرس کی نئی قسم اومی کرون کی علامات بھی سامنے آ گئی ہیں جو ڈیلٹا ویریئنٹ سے مختلف ہیں۔

جنوبی افریقہ سے تعلق رکھنے والی ڈاکٹر نے کہا کہ اس وائرس سے متاثر ہونے والے افراد میں بیماری کی علامات ڈیلٹا قسم سے بہت زیادہ مختلف ہیں۔ انہی ڈاکٹر نے حکومتی سائنسدانوں کو کورونا کی نئی قسم کی موجودگی سے خبردار کیا تھا۔

ساؤتھ افریقن میڈیکل ایسوسی ایشن کی چیئروومن ڈاکٹر اینجلیک کوئیٹزی نے بتایا کہ اومی کرون سے متاثرہ افراد میں بہت زیادہ تھکاوٹ، سر اور جسم میں درد، کبھی کبھار گلے کی سوجن اور کھانسی کی علامات پائی گئی ہیں۔

Advertisements
julia rana solicitors

انہوں نے کہا کہ ڈیلٹا کے مقابلے میں کورونا کی اس نئی قسم میں متاثرہ افراد کی نبض کی رفتار بہت تیز ہوجاتی ہے جس کی وجہ خون میں آکسیجن کی سطح میں کمی اور سونگھنے یا چکھنے کی حس سے محرومی ہے۔

  • julia rana solicitors london
  • FaceLore Pakistan Social Media Site
    پاکستان کی بہترین سوشل میڈیا سائٹ: فیس لور www.facelore.com
  • merkit.pk
  • julia rana solicitors

خبریں
مکالمہ پر لگنے والی خبریں دیگر زرائع سے لی جاتی ہیں اور مکمل غیرجانبداری سے شائع کی جاتی ہیں۔ کسی خبر کی غلطی کی نشاندہی فورا ایڈیٹر سے کیجئے

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

Leave a Reply