ماسک کہانی۔۔محمد ہاشم

ماسک کہانی۔۔محمد ہاشم/گزرے وقتوں میں جب گھر کی مائیں بہنیں گھر کے مردوں کے کپڑے دھونے سے پہلے جیب ٹٹولتی تھیں، تب اکثر کپڑوں سے پیسے یا کاغذ نکلا کرتے تھے۔ یہ نکلے پیسے تو واپس نہیں آتے تھے لیکن کاغذ آدھ گیلے ہاتھوں سے سنبھال کر وارث تک پہنچادیا جاتا تھا۔
لیکن موجودہ دور میں جب بھی مائیں بہنیں جیبیں ٹٹولتی ہیں تو پیسے یا کاغذ نکلے نہ نکلے، ایک عدد ماسک ہر جیب سے ضرور نکلتا ہے۔  ریسرچ کے مطابق ان میں سے نوّے فیصد ماسک اپنے تحفظ سے زیادہ کسی بینک، ہسپتال یا کسی سرکاری دفتر میں داخلے کے دوران سکیورٹی گارڈ کو دکھانے کے لئے باہر نکڑ پہ کھڑے بابا جی یا چھوٹو سے دس روپے میں خریدے ہوتے ہیں۔ جونہی دروازے سے گزرے، ماسک نکال کے جیب میں ڈال دیا اور بھول گئے۔

کبھی کوئی ماسک خاتون خانہ کے ہاتھ نہ لگے تو کپڑوں کے ساتھ دھل جاتا ہے۔ جب یہ دھلا ہوا ماسک دوبارہ بندے کے ہاتھ لگ جاتا ہے تو دس روپے بچنے اور صاف ماسک ہاتھ لگنے کی خوشی کسی بھی لاٹری سے کم نہیں ہوتی۔

FaceLore Pakistan Social Media Site
پاکستان کی بہترین سوشل میڈیا سائٹ: فیس لور www.facelore.com

چند مہان لوگ جن کو روزانہ ایسی جگہوں پر جانا پڑتا ہے یا ملازم ہوتے ہیں، وہ اپنے ساتھ ایک ماسک جیب میں تب تک رکھتے ہیں جب تک اسکا رنگ ورکشاپ کی ٹاکی سے  نہ ملنے  لگے۔ ایسے میں بالآخر ماسک بیچنے والا بچہ بھی طنز کر کے بولتا ہے بھائی دس روپے خرچ کر ہی لو، اس ٹاکی کو منہ پہ لگاتار لگا کے  کوئلے کے  کان کن لگ رہے۔
بعض کارپوریٹ سیکٹرز میں ماسک ادارے کی طرف سے دیئے جاتے ہیں اور پورا ڈبہ ہمہ وقت دستیاب ہوتا ہے ایسے دفاتر میں ایک آدھ بندہ ایسا ضرور ہوتا ہے جو یہاں کے ماسک جانے انجانے میں گھر سپلائی کرتا ہے۔ وہ روز ایک منہ پہ لگاتا ہے اور ایک جیب میں ڈالتا ہے اور گھر جا کے دونوں نکال دیتا ہے۔ ان کے گھر ایک مخصوص جگہ پر ماسک ایسے لٹکائے ہوتے ہیں جیسے کسی درگاہ میں منت مانگنے والے سبز اور سرخ کپڑے لٹکاتے ہیں۔

ماسک کے ساتھ لگے مسائل میں اوّلین مسئلہ اس کی ڈور ٹوٹنے کا ہے۔ اگر آپ کی  جیب میں چابیاں، قلم یا اشیاء ضروریہ کے ساتھ ماسک رکھا ہوا ہے تو نکالنے میں بھرپور احتیاط کیجیے  کیونکہ جلدی میں ماسک کی ڈوری چابیاں اپنے  ساتھ لپیٹ لائے گی اور جیب سے نکلتے ہی چابیاں لٹک کر زمین پر اور ماسک کی ڈور ٹوٹ کے منہ چڑا رہی ہوگی۔ ایسے میں کچھ جگاڑو سٹپلر سے ٹانکا لگا دینگے یا کچھ مہاجینئس ماسک میں سوراخ کر کے ڈور گزاریں گے اور گرہ لگائیں گے۔

جن کو زیادہ جلدی ہو وہ ایک کان پر ڈور لگا کے دوسرے پر ہاتھ رکھ کے لگانے کی آسکر وننگ ایکٹنگ کریں گے اور گارڈ کو چکمہ دے کے سیدھا اندر اور پھر وہی ٹوٹا ماسک  جیپ میں۔
دنیائے تحقیق آج تک وہ بندہ ڈھونڈ رہی ہے جو آپ کی جیب میں ماسک کی ڈوری یا ہینڈ فری لپیٹتا ہے۔ یہ معمہ برمودا تکون سے بھی بڑا اور حل طلب ہے۔

سٹاک مارکیٹ میں پیسہ ڈوبنے پر اتنا نقصان محسوس نہیں ہوتا جتنا تب ہوتا ہے جب آپ کے گھر یا دفتر ماسک کا ڈبہ پڑا ہو اور آپ بغیر ماسک بینک کے دروازے پر پہنچے اور مجبوراً دس روپے خرچ کر کے نیا ماسک لینا  پڑے، جس کا فقط استعمال دروازہ ٹپ کے اندر جانا ہوتا ہے۔ آہ!ایسے میں آپ کے پاس پانچ سو یا ہزار کا نوٹ ہو اور ماسک  بیچنے والا اپنی  جیب کی ریزگاری گن گن کے نو سو نوے روپے بمع ماسک پکڑائے۔ دل ٹوٹنے کی اصل تکلیف یہ ہوتی ہے۔

میں نے کرونا میں گزری دو سالہ زندگی میں چالیس سے اوپر کی عوام کو ماسک کا درست استعمال کرتے بہت ہی کم دیکھا۔ کسی نے ٹھوڑی پہ لگایا ہے، کسی نے منہ پہ لگا کے ناک کھلی چھوڑی ہے تو کسی نے صرف ناک چھپائی ہے اور بات کرنے کے لئے بار بار ماسک نیچے کر رہا ہے۔ حد تو تب ہوگئی جب بس میں سفر کرتے بابا جی کو ماسک آنکھوں پہ لگا کے سوتے دیکھا۔ ایک جناب نے ماسک کے ساتھ اس قدر زیادتی کی ہوئی تھی کہ اپنی پاؤں کی پھٹی ایڑیوں پر لگایا ہوا تھا۔

جتنا مطلبی اور غلط استعمال پنڈی والے ہیلمٹ کا کر رہے اس سے کئی  گنا زیادہ غلط  استعمال ہماری عوام ماسک کا    کر رہی ہے۔ اسلام آباد میں ہیلمٹ کے بغیر داخلہ منع ہے اس لئے پنڈے بوائے پورے راولپنڈی ہیلمٹ ٹینکی پہ رکھ کے چلے گا ،لیکن فیض آباد پہنچ کے اہتمام کے ساتھ ہیلمٹ پہنے گا۔ مطلب اپنی حفاظت سے زیادہ چالان کا ڈر بندہ سیدھا کر دیتا ہے۔

یہی حال ماسک کے ساتھ ہو رہا۔ پبلک پلیس میں یا رش میں ماسک یاد ہی نہیں رہتا لیکن سرکار کی سختی سے بچنے کے لئے جیب میں ماسک کے نام پر دھول سے بھری ٹاکی ضرور رکھتے ہیں۔ ہم پاکستانی بحیثیت مجموعی کسی بھی چیز کو اس کے درست استعمال کی بجائے نت نئی  ایجادات ضرور کرتے ہیں۔ خود مجھے اپنے گھر ایک فون بھیجنا تھا جو باکس کے بغیر تھا۔ اپنا پاکستانی دماغ استعمال کیا اور الماری میں استعمال شدہ ماسک جتنے تھے سارے لپیٹ کے ربڑ بینڈ لگا دیا۔ ایک خراش تک نہیں آئی اور فون گھر پہنچ گیا اور گھر والے میری اس  تخلیقی کارروائی  کی داد دیے بغیر نہ رہ سکے۔ 😆

Advertisements
julia rana solicitors london

کرونا کی نئی لہر کی آمد ہے۔ ماسک پہنیں اور درست پہنیں۔ اللہ ہم سب کو اس سے محفوظ رکھے اور عقل سلیم عطا فرمائے۔

  • merkit.pk
  • julia rana solicitors
  • FaceLore Pakistan Social Media Site
    پاکستان کی بہترین سوشل میڈیا سائٹ: فیس لور www.facelore.com
  • julia rana solicitors london

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

Leave a Reply