محبت مر نہیں سکتی۔۔سعدیہ علوی

سنو!اس مہینے کی بھی آخری تین راتیں گزرنے والی ہیں جو گنو تو سات ماہ بیت گئے ہیں تم کو گئے ہوئے۔
یہ وقت کس طرح گزرا ہے تم بھی جانتے ہو ،تنہائی کی وحشت میرے اندر ایک ایسے خاموش طوفان کی طرح ساکت ہے جو پھٹ پڑا تو تباہی سنبھالے نہ سنبھلے گی۔
ہر گزرتا دن روشنی سے ایسے خالی ہے کہ جیسے سورج نکلتا ہی نہیں ہے میری ذات میں اندھیرے سے اتر آئے ہیں۔رات کی خاموشی میرے دل کو ویران در ویران کرتی جاتی ہے میری خاموش آواز اب تو خود مجھے بھی سنائی نہیں دیتی۔میرا دل قطرہ قطرہ پگھلنے لگا ہے، جیسے شبِ  آخر شمع پگھل کر ختم ہوجاتی ہے ،یہ دل بھی نہ  ختم ہوجائے۔میں سارا دن ایک خول چڑھائے دنیا کو بلکہ خود کو دھوکہ دیتی ہوں، مگر یہ رات۔۔یہ رات کمبخت میرے سارے نقاب اتار کر پھینک دیتی ہے اور میں تنہا اپنی ذات کا سامناکرتی رہ جاتی ہوں

سنو!کبھی تو لگتا ہے کہ اس انتظار میں مَیں مر ہی جاؤں گی،جو ایسا ہو تو یہ نہ سمجھنا کہ میں تم سے بچھڑ گئی ہوں۔
مجھے یقین ہے کہ جسم تو خاک میں مل جائے گا مگر یہ محبت تمہارے ساتھ ہی رہے گی کہ یہ الفت جسموں کی محتاج ہی نہیں ہے۔
یہ تو وہ بندھن ہے کہ سات سمندر پار سے بھی تمہارے لب سے نکلی آواز میری روح میں اُتر آتی ہے،تمہاری بے خواب آنکھیں میری نیندیں لے جاتی ہیں۔

FaceLore Pakistan Social Media Site
پاکستان کی بہترین سوشل میڈیا سائٹ: فیس لور www.facelore.com

سنو!میرے دل کے ہر گوشے پر صرف تمہارا نام ہے اس فانی دنیا سے اس دنیا تک بس تمہارا  نام۔

سنو!کچھ ایسے چاہتی ہوں تمہیں کہ میرا وجود میری ذات تمہارے پاس نہ ہوتے ہوئے بھی تمہارا ہے۔
میرا دل، میرے جذبات، میری سانسیں، میری آرزوئیں، میری خواہشیں، میرے خیالات سب تم سے شروع ہوتے ہیں اور تم پر ہی ختم ہوتے ہیں۔

Advertisements
julia rana solicitors

سنو!ہم جہاں رہیں، قریب یا دور
پاس ہوں یا نہ ہوں
ہمارے دل ایک دوسرے کے لیے ہی دھڑکتے رہیں گے
ہماری روحیں ہمیشہ ساتھ رہیں گی
ہماری دنیا، ہماری جنت
ہماری زمین ہمارا آسمان
سب ایک ہیں
ہیں ناں!

  • julia rana solicitors london
  • FaceLore Pakistan Social Media Site
    پاکستان کی بہترین سوشل میڈیا سائٹ: فیس لور www.facelore.com
  • merkit.pk
  • julia rana solicitors

مکالمہ
مباحثوں، الزامات و دشنام، نفرت اور دوری کے اس ماحول میں ضرورت ہے کہ ہم ایک دوسرے سے بات کریں، ایک دوسرے کی سنیں، سمجھنے کی کوشش کریں، اختلاف کریں مگر احترام سے۔ بس اسی خواہش کا نام ”مکالمہ“ ہے۔

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

Leave a Reply