ہم علما کے پیروں کی خاک ہیں۔محمد اظہار الحق

رائے ونڈ میں  عالمی تبلیغی اجتماع کی آمد آمد تھی۔نو نومبر کو مولانا طارق جمیل  جاتی امرا  میں سابق  وزیراعظم میاں محمد نواز شریف کے پاس تشریف لے گئے ۔میڈیا  کی خبروں کے مطابق  انہوں نے وہاں ڈیڑھ گھنٹہ قیام کیا۔اسی  اثناء میں انہوں نے  تین کام کیے۔ اول میاں صاحب کو اجتماع میں  حاضر ہونے کی دعوت دی ۔دوم’ان کی بیمار اہلیہ کی صحت کے لیے دعا کی۔سوم’میاں صاحب کو  جو مشکلات درپیش ہیں ۔ان کے حل کے لیے وظیفہ تجویز  کیا۔

تبلیغی جماعت کے اکابر کا  خواص کے پاس خود چل کرجانا اور اجتماع  میں شرکت کی دعوت دینا ایک معمول کی کارروائی ہےمولانا طارق جمیل  مولانا فضل الرحمٰن  کے ہاں بھی تشریف لے گئے اور  انہیں بھی شرکت کی دعوت دی۔

تاہم سوشل میڈیا میں جو ردِ عمل ظاہرہوا وہ ایک اعتبار سے منفی تھا۔عوام کی کثیر تعداد نے جو سوال اٹھایا وہ منطقی لحاظ سے ناروا نہ تھا ۔کیا کرپشن کے داغ اوراد وظائف سے دُھل جاتے ہیںَ

عوام کو معلوم ہے کہ مولانا طارق جمیل ایک باخبر انسان ہیں ۔اندرون ملک اور  بیرون ملک ہر جگہ تشریف لے جاتے ہیں ۔کرہء ارض ان کی جولا نگاہ ہے۔ہر ملک ،ہر زبان ،ہر نسل ہر شعبے ،ہر  پیشے کے لوگ ان سے ملاقات کرتے ہیں ۔ اس لیے یہ تو ممکن نہیں کہ وہ میاں  صاحب کی بے پناہ دولت اور غضب کرپشن کی عجب کہانیوں سے ناآشنا ہوں ۔ انہیں یقیناً معلوم ہوگا  کہ جس نرم وگداز ریشمی شاہراہ پر ان کی پجارو سبک خرامی کے ساتھ جاتی امرا پہنچی وہ شاہراہ بیت المال کی رقم سے بنی۔ انہوں نے یقیناً  یہ خبر بھی پڑھی ہوگی جو تواتر سے چھپتی رہی کہ ساٹھ  کروڑ کے لگ بھگ حفاظتی حصار  ان کے محلات کے ارد گرد سرکاری خزانے کی”مد” سے کھینچا گیا۔یہ کیسے ممکن ہے کہ مولانا اس طوفان سے بے خبر ہوں جو پانامہ کیس کے عنوان سے کئی ماہ میڈیا سے لے کر عوام کے ذہنوں تک چھایا رہا۔

مولانا یقیناً یہ لطیفہ سن کر محظوظ ہوئے ہوں گے  کہ محترم میاں صاحب  نے جے آئی  ٹی کے سامنے اپنے خالو کو پہچاننے میں دو اڑھائی گھنٹے لگا دیے۔اس قسم کی طلسمی اطلاعات بھی  یقیناً ان تک پہنچی ہوں گی کہ فلیٹ فروخت پہلے کردیے گئے اور خریدے بعد میں  گئے۔ قطری شہزادے کی سحر انگیز ہوشربا  داستان ِ امیر حمزہ بھی  ان کی مبارک سماعتوں  تک یقیناً پہنچی ہوگی۔ جس طرح میاں صاحب کے عہدِ اقتدار میں  ان کی دختر نیک اختر ‘حکومتی اختیارات بروئے کار لاتی رہیں ‘اس کی اخلاقی شرعی اور قانونی حیثیت مولانا جیسے ذہین و فطین نابغہء  عصر  سے کیسے  پوشیدہ رہ سکتی ہے۔علالت کے دوران لندن آنے جانے کے لیے جس طرح قومی ائیر لائن کے جہازوں کو استعمال کیا گیا اور نواسی کے نکاح  کے لیے جس طرح قومی ائیر لائن کے جہازوں کی سمتیں  بدلی گئیں اور جس طرح نیویارک میں مسافر پریشان ہوئے وہ سب مولانا کی نگاہِ دور بیں  سے اوجھل نہ ہوگا ۔

مولانا ان اکابرین سے ہیں جو  ہمارے لیے روشنی کا مینار ہیں۔ ہدایت کا چراغ ہیں  ۔خطاب فرماتے ہیں تو لگتا ہے الفاظ ان کے دہن مبارک سے نہیں ‘جلسہ گاہ کے ارد گرد لگے ہوئے قمقموں میں سے باہر چَھن رہے ہیں ۔ سرورِ کائناتﷺ کا شجرہ ء نسب سناتے ہیں تو وجد طاری ہوجاتا ہے۔دعا کراتے ہیں تو دل کی گہرائیوں میں  تاثیر کے سوتے ابل پڑتے ہیں  ۔ایسے عالی قدر عالم بے بدل فاضل اجل سے یہ حقیقت کس طرح پوشیدہ  رہ سکتی ہے کہ قبولیت دعا کے لیے اکلِ حلال لازم ہے۔ اورادووظائف تسبیح و سجادہ  اکلِ حلال کی عدم موجودگی میں ایسے ہی ہیں جیسے ریت  پر پانی کی دھارا!

ہماری تبلیغی جماعت کی مقدس کتاب”فضائل ِ اعمال” میں جو صبح شام رات دن  حلقہ ہائے تبلیغ میں  پڑھی اور پڑھائی جاتی ہے اور گھروں  میں  خواتین اور  بچوں کو اہتمام اور التزام کے ساتھ  سنائی جاتی ہے ایک واقعہ  لکھا ہے کہ  بصرہ میں درویشوں  کا ایک طائفہ تھا جو مستجاب الدعوات تھا ۔عراق کا جو گورنر آتا’وہ اس کے حق میں بددعا کرتے ‘وہ مرجاتا یا معزول کردیا جاتا۔حجاج گورنر بنا تو اس نے درویشوں  کے اس  گروہ کو گورنر ہاؤس مدعو  کیا اور طعام سے ان کی خاطر تواضع کی !کسی نے اس اقدام کی  وجہ پوچھی تو شاطر گورنر نے راز کی بات بتائی کہ گورنر ہاؤس کا مالِ حرام ان کے شکم میں  داخل کردیا ہے۔اب کہاں قبولیتِ دعا ؟چنانچہ میں ان کی بددعاؤں سے محفوظ ہوگیا ہوں ۔

اب اشکال یہ آن پڑا ہے کہ مولانا نے میاں صاحب کو تلقین کیوں نہ کی کہ حرام(یا مشکوک) مال کی وجہ سے دعائیں قبول  نہیں ہوتیں ۔انہوں نے  اس موقع سے فائدہ اٹھاتے ہوئے یہ نصیحت کیوں نہ کی کہ قوم کا مال قوم کے خزانے میں  واپس ڈالو اور ایک ایک پائی کا حساب دو۔

اس اشکال  کی کوئی اور توضیح اور توجیہہ سمجھ میں نہیں آتی  سوائے اس کے کہ مولانا کسی کا بھی دل نہیں  دکھاتے اور پھر سابق وزیراعظم کا دل تو کسی صورت دکھانا پسند نہیں کیا ہوگا کہ آخر کار وہ ہمارے حکمرانِ اعلیٰ رہے۔

تو پھر کیا وہ تابعین اور علماء کرام جو حجاج جیسے سفاک حکمرانو ں کے سامنے غلط کو غلط  کہتے تھے اور حکمرانوں  کو صاف صاف ٹوکتے تھے ۔غلط تھے؟وہ حکمرانوں  کو دو ٹوک الفاظ میں متنبہ کرتے تھے کہ تم نے فلاں کام  غلط کیا ہے ‘اس سے توبہ کرو۔بیت المال  میں خیانت نہ کرو۔اللہ کےسامنے جواب دہی کے لیے اپنے آپ کو تیار کرو۔

یقیناً ان علما کرام نے  بادشاہوں  کا دل دکھایا۔مولانا طارق جمیل ان کی نسبت زیادہ بلند پایہ ہیں ۔وہ میاں صاحب کو مال حرام سے بچنے کا کہہ کر ان کے منہ کا ذائقہ خراب نہیں کرنا چاہتے۔ رہی یہ مشہور بات کہ  جابر سلطان کے سامنے کلمہ حق کہنا بہت بڑا جہاد ہے۔تو واضح ہو کہ مولانا کا مشن تبلیغ ہے جہاد نہیں۔اگر کلمہ حق کہہ کر  حکمرانوں ،عمائدین ،امرا اور طبقہ ء بالا کے ارکان کا دل دکھایا جائے تو تبلیغ کے ثمرات کیسے حاصل ہوسکیں گے؟یہی تو غالب نے سمجھایا تھا۔

گرمی سہی کلام میں لیکن نہ اس قدر

کی جس سے بات اس نے شکایت ضرور کی!

رہا”فضائل ِ اعمال ” میں لکھا ہوا وہ واقعہ جو اوپر بیان کیا گیا ہے جس میں گورنر ہاؤس کے مال حرام کا درویشوں کے پاک شکم میں داخل ہونے کاذکر ہے’تو  اس کا انطباق  کوئی ناہنجار  اس بات پر ہرگز ہرگز نہ کرے کہ  مولانا جاتی امرا کے محلات میں تشریف لے گئے اور وہاں ڈیڑھ گھنٹہ گزارا تو یقیناً وہاں کے دستر خوان سے اپنے شکم مبارک میں بھی کچھ ڈالا ہوگا ۔مولانا پہلی بار کسی حکمران یا سابق حکمران کے محل میں تھوڑی ہی گئے ہیں۔شاہان قطر کے محلات میں بھی قیام فرماتے رہے ہیں اور مبینہ طور پر پنجاب کے صحت افزا مقامات پر واقع سرکاری رہائش گاہوں میں بھی(ہوسکتا ہے موخر الذکر روایت درست نہ ہو)اصل بات یہ ہے کہ ہماری تبلیغی جماعت میں دو طبقات ہیں ۔عوام اور خواص۔تبلیغی اجتماعات میں بھی خواص کی نشست  گاہ الگ اور ممتاز ہوتی ہے۔تو یہ واقعات جو ہماری تبلیغی کتابوں میں لکھے جاتے ہیں ‘یہ عوام کے لیے ہوتے ہیں  خواص ان سے مبرا اور مستثنیٰ ہوتے ہیں۔عوام کو چاہیے کہ حجاج کا گورنر ہاؤس ہو یاجاتی امرا کے محلات یا شاہانِ قطر کے کاخ و قصر ایسے تمام مقامات پر کچھ کھانے پینے سے اجتناب کریں ۔خدا نخواستہ ایسا نہ ہو کہ کوئی مشکوک مال شِکم میں اتر جائے اور سب کیے کرائے پر پانی پِھر جائے،دعائیں قبولیت سے محروم ہوجائیں ۔

یہ گنہگار کالم نگار حضرت مولانا کا ایک ادنیٰ  عقیدت مند ہے ۔امید ہے کہ اس کی توجیہہ کے بعد سوشل میڈیا پر اٹھنے والا طوفان تھم جائے گا۔بجائے یہ کہ مولانا نے مالِ حرام سے منع کیوں نہ فرمایا ‘اس امر کی تعریف کی جانی چاہیے کہ انہوں نے دُکھی نواز شریف کا دل مزید نہیں دُکھایا۔

علماہمارا دینی سرمایہ ہیں  ۔ہمارے لیے مقدس اور محترم ہیں ۔خطائی بزرگان گرفتن خطاست کے مصداق  ان پر کسی  قسم کی تنقید یا گرفت ناجائز ہے۔وہ جو کچھ بھی کریں یا کہیں ‘اُسے دین کی کسوٹی پر پرکھنا ہم  عامیوں کے لیے مناسب ہرگز نہیں !لازم  ہے کہ ہم علماء کے ہر فرمان پر بلا چون و چرا سرَ تسلیم خم کریں ۔کہیں ایسا نہ ہو کہ ہم ان کا موازنہ اُن علماء کرام سے کربیٹھیں جو حکمرانوں  کو ان کی غلطیوں  پر ٹوک ٹوک کر ان کا جینا حرام کردیتے  تھے’جو قید و  بند کی صعوبتیں  برداشت کرتے تھے اور جو اعلائے کلمتہ الحق کی خاطر جان بھی قربان کردیتے تھے۔ایسا موازنہ ہرگز جائز نہیں ۔بس اس زمانے کے جید  اور مقدس علماء کرام جو کچھ فرماتے ہیں ،اس پر آمنا و صدقنا کہتے جائیے۔

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *