جنوبی ایشیاء کا نیا ظہور۔۔اسلم اعوان

جنوبی ایشیا میں چین کے اقتصادی ظہور نے دنیا بھر میں سفارتی تعلقات کی ہیت کو تبدیل کیا تو کم و بیش ستّر سالوں پہ محیط پاکستان اور امریکہ کے تعلقات میں بھی گہری تبدیلیاں واقع ہونے لگیں،ہماری فوجی اورسویلین لیڈر شپ اب امریکہ کے ساتھ تعلقات کو سلامتی کی بجائے تجارتی اور اقتصادی معاملات سے منسلک رکھنا چاہتی ہے لیکن امریکہ اپنے کردار کو پاکستان میں سرمایہ کاری یا سیاسی شراکت داری تک محدود رکھنے پہ قانع نہیں رہ سکتا،وہ جنوبی ایشیا میں اپنی تلویث کو ممکنہ طور پر”انسداد دہشت گردی“کے مقاصد پہ حاوی رکھنے کا خواہاں ہے،جس سے ماضی کی طرح اب بھی خطہ میں معمول کے سفارتی و سیاسی وظائف کا قدرتی توازن بگڑ جائے گا۔طالبان کی فتح کے نتیجہ میں افغانستان سے امریکہ کے فوجی انخلاءنے وسطی اور جنوبی ایشیا کی تزویراتی حرکیات کو بدل دیا جس سے پاکستان سمیت وہ تمام ایشیائی مملکتیں،جو2001 میں افغانستان میں امریکی جارحیت سے متاثر ہوئیں،طالبان کی کامیابی سے کافی مطمعن نظر آتی ہیں۔اگرچہ پندرہ اگست 2021 کے دن کابل میں رونما ہونے والی غیر متوقع تبدیلی نے اسلام آباد کے ساتھ واشنگٹن کے تعلقات کو متاثر کیا لیکن اس سب کے باوجود جنوبی ایشیا میں موجود امریکی مفادات اسے پاکستان کے ساتھ قطع تعلق کی اجازت نہیں دیتے چنانچہ امریکی خارجہ پالیسی میں ابھی پاکستان کی اہمیت کم نہیں ہو گی،واشنگٹن سمجھتا ہے کہ ہماری فوجی قیادت سنہ2012 سے جنم لینے والے اس جمود سے مطمئن تھی،جس میں امریکی اور نیٹو افواج کے مقاصد و عزائم میںکمی واقع ہوئی تو طالبان بتدریج مضافاتی صوبوں پر اپنا کنٹرول بڑھانے میں کامیاب ہوتے گئے اورآخر کار یہی رجحان کابل پہ طالبان کے قبضہ پر منتج ہوا۔لاریب،اسلام آباد کو اب کابل کی طرف نئے زاوایہ سے دیکھنا ہو گا جو امریکی انخلاءسے پہلے کی حکومت کے مقابلے میں زیادہ مربوط نقطہ نگاہ کا حامل ہوگا۔ہرچند کہ واشنگٹن کے اس احساس کے حوالہ سے دونوں ممالک میں تلخی بڑھی کہ پاکستان نے تاریخ کی طویل ترین جنگ میں امریکی مقاصد کو نقصان پہنچایا لیکن اس میں کوئی شبہ نہیں کہ حالات کی اسی الٹ پھیر کے نتیجہ میں پاکستان کی علاقائی پوزیشن زیادہ مضبوط ہوئی ہے۔تاریخی دلچسپی کے لئے اس امر کا اظہار یہاں ضروری ہے کہ سنہ2001 میں افغانستان پر حملہ سے قبل امریکہ نے پاکستان کو دو آپشن دیئے کہ وہ طالبان کو مسترد کرکے امریکہ کی حمایت کرے یا پھر وہ طالبان کی حمایت جاری رکھتے ہوئے امریکی جنگی عزائم کا اصل ہدف بن جائے تاہم 1999میں فوجی بغاوت کے ذریعے ملک کا کنٹرول سنبھالنے والے جنرل پرویز مشرف نے نہایت عمدگی کے ساتھ ایک درمیانی راستہ چن لیا،انہوں نے امریکی فورسیسز کے لئے اپنی زمینی اور فضائی حدود کے استعمال کی اجازت کے علاوہ افغانستان سے فرار ہونے والے القاعدہ کے کارندوں کو نشانہ بنانے میں مدد دینے کی حامی بھر کر ایک طرف اپنی فوجی قوت کو بچانے کا فیصلہ کیا اور دوسری جانب سینئر طالبان رہنماو¿ں کو پناہ دینے اورعسکری گروہوں کو مادی اور مشاورتی مدد فراہم کرکے متوازی مزاحمتی حکمت عملی اپنا کے جنوبی ایشیا کے مفادات کے تحفظ بھی یقینی بنا لیا،اسی غیر معموملی تدبیر کے نتیجہ میں ہی طالبان نے 2000 کی دہائی کے وسط تک افغانستان میں دوبارہ قدم جما لئے تھے۔
جنوبی ایشیا میں بدلتے ہوئے اسی تناظر میں اب پہلی بار مئی 2021 کو چین اور پاکستان کے مابین سفارتی تعلقات کی 70 ویں سالگرہ نہایت جوش و خروش منا گئی، اس دن، پاکستانی وزیر اعظم عمران خان نے کراچی میں نیوکلیئر پاور پلانٹ کا افتتاح کرتے ہوئے اس دوستی کی خوبیوں اورپاک چائینہ اقتصادی راہداری (CPEC) کے ترقیاتی امکانات کو سراہا،اسی ضمن میں چین کے سرکاری اخبار،پیپلز ڈیلی،نے بھی فاتحانہ لہجہ کا مضمون شائع کیا،جسمیں متافاخر پاکستانیوںکے تاثرات بیان کئے گئے۔پی ڈی ایم کے سربراہ مولانا فضل الرحمن نے بھی گوادر پورٹ کو اسی ہمہ جہت شراکت داری کا خوبصورت زیور قرار دیا۔چینی صدر ذی کے ویڈیو پیغام میں سی پیک کے تحت حاصل ہونے والی کامیابیوں کو خطہ کی تقدیر بدلنے کا محرکِ اصلی بتایا گیا۔شاید اسی لئے ان دنوںپاک چین دوستی ہندوستان میں زیر بحث ہے اور وہاں اِسے ایسے اسٹریٹجک چیلنج کے طور پر دیکھا جا رہا ہے،جسے سی پیک نے زیادہ پیچیدہ بنا دیا،انڈیا کی میڈیا رپورٹس کا لہجہ جہاں اس ہمہ موسم دوستی کے اقتصادی تعاون کے گرد گھومتا نظر آیا،وہاں دونوں ممالک کے درمیان ہتھیاروں کی خرید وفروخت،مشترکہ فوجی مشقوں اور کئی اہم نوعیت کے دفاعی معاہدوں پر مشتمل مسلسل بڑھتا ہوا فوجی تعاون بھی محل نظر رہا لیکن مغربی اشرافیہ چین کی جارحانہ اقتصادی خارجہ پالیسی کو صرف پاک چین دوستی کے دوطرفہ تناظر کی روشنی میں نہیں بلکہ ان باہمی تعلقات کے پیچھے کارفرما اصل مقاصد کو سمجھنے میں سرگرداں ہے۔بھارت سمیت امریکہ اور وہ تمام مغربی ممالک جو تعلقات کی آڑ میں پاکستان جیسی جغرافیائی اہمیت کی حامل ریاست کو ناکامی کی دلدل تک پہنچانے چاہتے تھے،چین کے اقتصادی مفادات پہ مبنی خارجہ پالیسی نے متذکرہ ممالک کی اِنہی منفی آرزوں پہ پانی پھیر دیا۔بیرونی عوامل کے لحاظ سے اس تغیر کی ظاہری وضاحت تو چین اور پاکستان کی بھارت سے باہمی دشمنی کو سمجھا گیا،خاص طور پر 1962 کی چین،بھارت جنگ کے بعدسیاسی تجزیہ کاروں نے دعویٰ کیا کہ چین کی اسٹریٹجک تشویش کی غالب اہمیت پاکستان کو خود مختار، طاقتور اور اتنا پراعتماد ملک رکھنا ہے کہ وہ بھارت کو دو محاذوں کے خطرات میں انگیج رکھ سکے۔بیجنگ کی اسکالرز پالیسی میں جنوبی ایشیا میں آگے کی طرف بڑھنے کے لئے پاک چین دوستی کو مغرب کے ساتھ جاری سرد جنگ کے وسیع تناظر میں بھی دیکھا جاتا ہے کیونکہ غیر سوشلسٹ ریاستوں میں پاکستان ہی وہ پہلی مملکت تھی جس نے پیپلز ریپبلک آف چین کو سفارتی طور پر تسلیم کیا تھا۔پچاس اور ساٹھ کی دہائی میںاگرچہ پاکستان مغربی ممالک کے اتحادوں کا حصہ تھا لیکن چینی قیادت نے اسے سامراجی زنجیر کی کمزور کڑی اوراس کیمپ کے اندر ایک ممکنہ تضاد کے طور پر دیکھا۔تاہم 1972 تک پاکستان امریکہ اور چین کے درمیان خفیہ رابطہ کاری کے علاوہ بعض نامطلوب معاملات کا موثر وسیلہ بھی بنا،چنانچہ اُن وقتوں میں دونوں ممالک کا میڈیا بیجنگ اور اسلام آباد کے درمیان بین الاقوامی میدان میں ’غلط فہمی‘کے اسی احساس کو بانٹتا نظر آیا۔اگرچہ نظام کی سطح کے یہ عوامل بھی اہم وجوہات پیش کرتے ہیں،خاص طور پر موجودہ عالمی ترتیب میں چین کی پاکستان پالیسی کی جامع تصویر حاصل کرنے کے لئے مغربی قوتوں کو مزید مقامی عوامل کی طرف رجوع کرنے کی ضرورت پڑے گی۔اب جب ماو¿ نوازعہدکی انقلابی اور ڈینگ ژیاو¿پنگ دور کی تحمل کی سیاست کو پس پشت ڈال کر چین ایک بڑی طاقت کے طور پر ابھر رہا ہے تو وہ امریکہ کے لئے بھی بڑا چیلنجر بن کے سامنے کھڑاہے۔اس لئے مغربی اشرافیہ پاکستان کے ساتھ چین کے متواتر اور مضبوط تعلقات کو محض علاقائی توازن کی حکمت عملی کے دائروں میں نہیں دیکھے گی کیونکہ چین،انڈیا اور پاکستان کی تکون میں بھی،چین اپنے مقاصد کے حصول کے لئے پاکستان کے ساتھ زیادہ سینئر پارٹنر کا متمنی ہو گا۔شاید اسی لئے امریکی،چین کے لئے پاکستان کی اہمیت کو سیکیورٹی فریم ورک کے اندر مقیدکرکے عالمی اقتصادیات پہ غلبہ کی طرف بڑھتے چینی قدم روکنا چاہتے ہیں۔مغربی دنیا چینی پالیسی کو تائیوان تک وسعت کے علاوہ بین الاقوامی سرحدوں کے تال میل میں جانچنے کی کوشش بھی کر رہی ہے،جس میں ہندوستان کے ساتھ تبت پرتنازعہ،یوروپ کے ساتھ ہانگ کانگ،وسطی ایشیا اور ترکی کے ساتھ سنکیانگ پہ اختلافات شامل ہیں۔ پاکستان کے ساتھ چین کے اچھے تعلقات کو سینکیانگ کے علیحدگی پسندوں کی حمایت سے انکار کی روشنی میں دیکھا گیا،یعنی خوش قسمتی سے اس وقت چین اور پاکستان کے درمیان مفادات کا حقیقی ٹکراو¿ موجود نہیں، ان کے مابین سرحدات کا معاملہ 1964 میں طے پا گیا تھا، پاکستان نے سنکیانگ میں بنیاد پرست اسلام کا پھیلاو¿ روکنے کے لئے چین کی مغربی سرحدوں پر ایک بفر اسٹیٹ کے طور پرکام کیا۔چین نے 1990 کی دہائی میں اسلام آباد کو ایک ایسے مرکز کو بند کرنے پر قائل کر لیا جہاں کچھ ایغور ممبران کے کام کرنے کی اطلاعات گردش کرتی تھیں،ان دنوں ایغور طلباء کو دینی مدارس سے بھی باہر نکالاگیا۔یہاں تک کہ مغربی ذرائع ابلاغ میں شائع ہونے والی ایغور مسلمانوں کے چینی حراستی کیمپوں میں موجودگی کی رپورٹس پہ بھی اسلامی ممالک یا ان کی مذہبی تنظیموں کی طرف سے کوئی خاص تنقید نہیں کی جاتی لیکن اب بھی کچھ پڑوسی مالک کے ساتھ تعلقات چین کے لئے چیلنج ہیں جن میں بھارت اور جاپان بہت نمایاں ہیں۔تاہم ان قوموں کے مابین بھی کوئی بڑا ثقافتی خلاءیا متضاد اقتصادی مفادات کا خطرہ موجود نہیں ہے،ان ممکنہ حریفوں یعنی جاپان اور بھارت کی قومی سلامتی کے کچھ ایسے مفادات ضرو ہوں گے جن کے باعث وہ اکثر چین کے مخالف کرتے ہیں، جیسے شمالی کوریا اور وسطی ایشیا کی کمزور اور غیر مستحکم جمہوریتیں ہیں،جن میں ہمہ وقت حکومتوں کے ٹوٹنے یا سول ڈس آرڈر کے خطرات موجود رہتے ہیں تاہم ایسے معاملات میں بھی پاکستان نے ایٹمی قوت کے حصول کے باعث جنوبی ایشیا میں چین کے اہم حریف بھارت کے ساتھ طاقت کا توازن قائم کرکے مستقل حامی اورقابل بھروسہ اتحادی ہونے کا ثبوت دیا ۔

  • merkit.pk
  • julia rana solicitors london
  • julia rana solicitors
  • FaceLore Pakistan Social Media Site
    پاکستان کی بہترین سوشل میڈیا سائٹ: فیس لور www.facelore.com

Aslam Awan
اس وقت یبوروچیف دنیا نیوز ہوں قبل ازیں پندرہ سال تک مشرق کا بیوروچیف اور آرٹیکل رائٹر رہاں ہوں،سترہ سال سے تکبیر میں مستقل رپوٹ لکھتا ہوں اور07 اکتوبر 2001 سے بالعموم اور 16مارچ 2003 سے بالخصوص جنگ دہشتگردی کو براہ راست کور کر رہاں ہوں،تہذیب و ثقافت اور تاریخ و فلسفہ دلچسپی کے موضوعات ہیں،

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

Leave a Reply