انٹرنیٹ پر پورن بھی بکتا ہے۔۔۔ معاذ بن محمود

ذاتی طور پہ مجھے دیسی لبرلز یا ماڈرن ملا جیسی اصطلاحات سے شدید چڑ ہے۔ پھر کوئی ایسا واقعہ پیش آتا ہے کہ ان اصطلاحات کے اندر چھپی منافقت صاف دکھائی دینے لگتی ہیں۔ سوشل میڈیا کی مہربانی سے رینکنگ کا زینہ چڑھنے والی “ہم سب” اس تاثر کی تازہ مثال ہے۔

مکالمہ پلیٹ فارم سے لکھنے کے باوجود میں یہ کہنے اور ماننے میں عار محسوس نہیں کرتا کہ ہم سب میری پسندیدہ بلاگ سائٹس میں سے ایک ہے۔ “ہم سب” کے پاس وجاہت مسعود جیسے فکری لکھاری اور گنے چنے اصیل لبرلز موجود ہیں۔ بی بی سی سے اشتراک بھی آپ ہی کے پاس ہے۔ دوسرے کئی معروف بلاگز بھی آپ کو بیک لنک کرتے ہیں، پھر رینکنگ کی دوڑ میں لگنا ناقابل فہم ہے۔ البتہ میں نہیں سمجھتا کہ یہ مسئلہ رینکنگ کا ہے۔ مسئلہ شاید مینجمنٹ میں موجود کسی ایک شخصیت کی انا کا ہے جو ماضی میں فحش تصاویر پہ کی گئی تنقید کو شاید دل پہ لے گئے ہیں۔ لیکن یہ میرا ذاتی اندازہ ہے۔

غیر ضروری طور پر فحش تصاویر پہ اعتراض کو اوریائی مجاہدین سے تشبیہ دینا اپنے دفاع کے لیے ایک بھونڈی دلیل ہے۔ آپ لبرل ہیں یا نہیں، سماجی طور پر قابل قبول مواد کو آپ خوب سمجھ سکتے ہیں۔ اس پہ ستم یہ کہ آپ ایک معیاری سائٹ چلانے کی ذمہ داری پہ فائز ہیں، ایسے میں سمجھداری مزید اہم بن جاتی ہے۔ آپ اپنے مخالفین کی غلط باتوں کو ضرور غلط کہیں لیکن خدارا تمام قارئین کو گوبھیاں نہ سمجھیں۔ بریسٹ فیڈنگ سے متعلقہ مضمون میں جونی سنز کی کسی ہمنوا اداکارہ کی چھاتیوں کے ساتھ تصویر لگا کر آپ یہ کہیں کہ ایسی تصاویر پہ اعتراض نہ کرو، تو حضور ایسا نہیں ہونے والا۔ عورتوں پہ ہونے والے مظالم پہ کالم پہ آپ میا خلیفہ بمع نصف درجن اورگی تصویر چسپاں نہیں کر سکتے۔ انگریزی لفظ Obscene سیکولر معاشرے میں بھی معنی رکھتا ہے۔ کیا امریکہ، یورپ وغیرہ میں پیرنٹل گائیڈنس عریاں مقبول کے مجاہدین کی وجہ سے ہوتی ہے یا واقعی سیکولر معاشرے احتجاج کرتے ہیں؟

دماغ کے کسی کونے کھدرے میں یہ سوچ پنپ بھی گئی کہ معترضین ٹینس نہیں دیکھتے تو ایک بار سوچئے کہ ٹینس کے بہانے زیریں جامے دیکھنے والے غلیظ دماغ کیا اتنے ہی بدبودار نہیں جو ٹینس شاٹ لگاتے ہوئے کھلاڑی کی پوزیشن کو چھوڑ کر اس کے زیریں جامے پہ فوکس کرتے ہیں؟ ٹینس سے شہرت پانے والی کھلاڑی کی تصویر میں ریکٹ ہونا زیادہ معنی رکھتا ہے یا ان کے زیریں جامے پہ فوکس کی گئی تصویر؟ ہمیں معلوم ہے ٹینس کیسے کھیلا جاتا ہے لیکن ہمیں یہ بھی معلوم ہے کہ کس جگہ کیا تصویر لگائی جاتی ہے۔ یعنی اگر کسی بیہودہ دماغ نے ٹینس کو چھوڑ کر ٹینس کھیلنے والے کی پینٹی کو فوکس کر ہی لیا تو کیا ضروری ہے کہ آپ بھی اسی غلیظ سوچ کو اپنا لیں؟ ذرا سوچئے، آپ دفاع کس بات کا کر رہے ہیں؟ کیا “ہم سب” کا معیار اس نہج پہ پہنچ چکا کہ اب آپ چڈی بنیان دکھائے جانے کے حق میں دلائل دیں گے؟

انٹرنیٹ پہ ایسی تصاویر بین تو نہیں ہو سکتیں، لیکن اگر اعتراض کا جواب یہی ہے تو کیا ہم سب، “ہم سب” سے امید رکھیں کہ کل کسی مضمون پہ پورن سائیٹ کی تصویر بھی چھپ جائے گی، کیونکہ انٹرنیٹ پہ تو پورن بھی آہی جاتا ہے!

معاذ بن محمود
معاذ بن محمود
انفارمیشن ٹیکنالوجی، سیاست اور سیاحت کا انوکھا امتزاج۔

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *