• صفحہ اول
  • /
  • کالم
  • /
  • بلوچستان کے مسئلے کو یوں بھی دیکھتے ہیں۔۔۔طاہر یاسین طاہر

بلوچستان کے مسئلے کو یوں بھی دیکھتے ہیں۔۔۔طاہر یاسین طاہر

SHOPPING

کئی موضوعات موجود ہیں،مگر میں سعودی عرب میں پیش آنے والے ڈرامائی واقعات پہ چند دن سے غور و فکر میں ہوں۔اس دوران میں پاکستان سمیت دنیا بھر میں کچھ ایسے ہی سانحات و واقعات رونما ہوئے جنھوں نے عالمی میڈیا کی توجہ اپنی طرف کھینچ لی۔بلوچستان میں ، کوئٹہ کے راستےیورپ جانے والے 15 پنجابیوں کا قتل، کوئٹہ میں پولیس افسر کو فیملی سمیت دہشت گردی کا نشانہ بنانا،پھر  قبائلی علاقے “وانا” میں امن کمیٹی کی شکل میں طالبان کا ظہور،کہ جن کے جرگے نے خواتین کی محرم کے بغیر گھروں سے باہر نکلنے پہ پابندی لگا دی ،افغانستان سے پاکستانی سیکیورٹی فورسز پہ حملے، یہ سب بڑے دل سوز واقعات ہیں۔ہر واقعہ اپنی جگہ اہم مگر ایک دوسرے سے مربوط ہے۔حتیٰ کہ خطے میں ترتیب دی جانے والی نئی گیم میں ،سعودی عربکے سرکاری ٹی وی پر لبنانی وزیر اعظم کے استعفے کا اعلان  اور سعودی شہزادوں کی گرفتاری کے واقعہ کو بھی، میں بلوچستان اور وانا کے واقعات کے ساتھ مربوط دیکھتا ہوں۔بلوچستان کی علیحدگی پسند تنظیمیں عالمی سامراجی چھتری کی چھائوں تلے ہیں۔لندن اورا س سے قبل سوئٹزر لینڈ میں بسوں، ٹیکسیوں اور، رکشوں پر پاکستان مخالف اشتہارات اس امر کے گواہ ہیں۔
قلم کار بھی گاہے یوں ہی بے بس ہو جاتا ہے جیسے بلوچستان میں کوئی پنجابی مزدور، جیسے دہشت گردوں کے سامنے امن پسند،جیسے جارحانہ  ملائیت کے سامنے  عام انسان ،جیسےعالمی سامراج کے سامنے کمزور ممالک،جیسے امریکہ کے سامنے افغانستان و عراق۔قلم کار کی یہ مجبوری مگر بعینہ ویسی نہیں جیسی مثالیں دی ہیں، بلکہ بیشتر سلگتے موضوعات میں سے کسی ایک کا یوں انتخاب کہ باقی موضوعات بھی نظر انداز نہ ہوں اور مسئلے کی نازکیت بھی واضح ہو جائے۔سوشل میڈیا نے لاکھوں “جز وقتی” اور “دو سطری” دانش ور پیدا کر دیے ہیں۔جنھوں نے خود پہ لازم کیا ہو اہے کہ ہر معاملے اور ہر مسئلے پہ جارحانہ رائے دینی ہے۔کچھ تو ایسے دریدہ دہن کہ رہے نام اللہ کا۔ایک گروہ کا کلی مسئلہ بلوچستان کے مسنگ پرسن ہے،تو کسی دوسرے گروہ کا کل مسئلہ پنجابی مزدوروں کا بلوچستان میں استحصال اورقتل و غارت گری ہے۔ کچھ کو کراچی میں انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں کا غم ہے تو کوئی لٹھ لے اسٹیبلشمنٹ کے پیچھے پڑا ہوا ہے۔تربت کے واقعے کو میں بڑی دقیق نظر سے دیکھ رہا ہوں۔کئی مضامین سوشل اور پرنٹ میڈیا پہ پڑھے۔

پرنٹ میڈیا کے اداریوں اور کالم میں توازن نظر آیا۔لیکن سوشل میڈیا کا بہائو یک رخا ہے۔ اس کی وجہ یہی ہے کہ سوشل میڈیا کے “جز وقتی” دانش ور موضوعات پہ سوچتے اور اس کی نوعیت کو گہرائی سے جانچتے نہیں۔ فوری ردعمل دیتے ہیں۔جوابی ردعمل میں کچھ حضرات صوبائیت اور لسانیت کی طعنہ زنی کرتے ہیں۔ارے بھئی  عالمی سیاست کے کل مہروں کی نظریں کیا صرف سی پیک پہ ہیں۔  بلوچ شورش کیا اس سے پہلے نہیں تھی؟ کیا اس سے قبل کوئٹہ ایران بارڈر پر زائرین کو بسوں سے اتار کر شہید نہیں کیا جاتا رہا؟
مسلکی یا علاقائی و لسانی شناخت پہ کوئی پہلی بار بلوچستان میں قتل نہیں ہوا۔ قبل ازیں بھی غالباً پندرہ مزدوروں کو گولیاں مار کر ابدی نیند سلا دی گئی تھی۔جز وقتی دانش وروں کا مسئلہ ہے کہ وہ موجودہ واقعے کو یا تو پنجابی بلوچی کے تناظر میں دیکھ رہے ہیں یا پھر صرف سی پیک کے حوالے سے۔جبکہ بلوچستان میں شورش تو کئی عشروں سے ہے۔منظم قتل و غارت گری،یا دہشت گردی اور علیحدگی پسند تنظیموں کی قاتلانہ وارداتیں اپنی ہر واردات میں پیغام رکھتی ہیں۔پنجابیوں کو تاک تاک کر قتل کرنے کا پہلا پیغام یہی ہے کہ بلوچستان حالت جنگ میں ہے، یہ جنگ پنجابی اسٹیبلشمنٹ نے مسلط کی، لہٰذا یہاں نہتے یا مسلح پنجابی کو ضرور نشانہ بنایا جائے گا۔

یہ کھلی دہشت گردی ہے،دہشت گردوں کا پیغام بھی یہی ہوتا ہے کہ وہ کسی خطے کا علاقے کا کنٹرول لینے کے لیے نہتے شہریوں کو اپنا پہلا نشانہ بناتے ہیں۔اس سے خوف پھلتا ہے اور عام آدمی سہم جاتا ہے۔بلوچستان کے صوبائی دارالحکومت کوئٹہ اور کے پی کے، کے صوبائی دارالحکومت پشاور، میں پرو ،افغان قوتیں زیادہ متحرک ہیں۔ ان قوتوں کو بھارتی خفیہ ایجنسی “را” اور افغان خفیہ ایجنسی کی سپورٹ حاصل ہے۔ مذکور دونوں ایجنسیوں کو عالمی ایجنسیوں کی سپورٹ ہے کہ پاکستان کو داخلی طور پر مستقل انتشار کا شکار رکھا جائے۔گذشتہ چار عشروں سے تو یہی ہو رہا ہے۔ کسی نہ کسی شکل میں کوئی نہ کوئی آفت ضرور آن گھیرتی ہے۔
بلوچستان کا مسئلہ اس قدر سادہ نہیں کہ اس مسئلے کا “جز وقتی دانش ور “اپنی صوبائی و لسانی جذباتیت کی کوکھ سے  کوئی حل پیش کر دیں، اور نہ ہی اس قدر سنگین کہ مقتدر حلقے اس سنگین تر ہوتے مسئلے کا قابلِ عمل حل تلاش نہ کر سکیں۔سوال مگر یہ ہے کہ ایسے سنگین ہوتے مسائل اور علیحدگی پسند تحریکوں کے لیے سیاسی دانش کو بروئے کار لایا جاتا ہے۔ مسلح جدوجہد کا کوئی جواز نہیں۔ کیا بلوچ سردار، بلوچوں کے حقوق غصب کرنے کے اولین ذمہ دار نہیں؟بلوچ عوام پوچھیں اپنے سرداروں سے کہ وہ حکومتی فنڈز کہاں خرچ کرتے ہیں؟بلوچستان اور قبائلی علاقے و پشاور،یہ سب علاقے قبائلی رحجانات اور بندوق باز لوگ ہیں۔خوابوں کی پرورش کرنے والے۔ایک گروہ نام نہاد اسلامی نظام کے خواب دیکھتا ہے تو دوسرا آزاد بلوچستان کے۔سوال مگر یہ ہے کہ بلوچوں کو وفاق سے مسئلہ کیا ہے؟ مسنگ پرسنز؟ارے جب کوئی بندوق بردار قانون کو ہاتھ میں لے گا تو لازمی اسے اٹھایا جائے گا۔ ہاں یہ ضرور ہے کہ ایسے لوگوں کو عدالتوں کے سامنے پیش کیا جائے۔سویٹزر لینڈ اور لندن میں پاکستان مخالف لگنے والے اشتہارات،اور تربت کے واقعے،افغانستان میں مضبوط ہوتی داعش اور سعودی عرب کی سرزمین سے لبنانی اعظم کے استعفیٰ کو اگر دوربیں نظروں سے دیکھا جائے تو خطے میں بھڑکتی آگ صاف نظر آ رہی ہے، جس کے شعلے، فرقہ وارانہ بھی ہوں گے اور لسانی بھی۔

SHOPPING

اس نازک تر صورتحال میں پاکستان کو خطے کے با اثر اور ہمدرد ممالک کے ساتھ مل کر عالمی سامراجی کھیل کی بازی پلٹنا ہو گی۔”جز وقتی دانش وروں” کا یہ کہہ دینا کافی نہیں کہ مارے جانے والے،پنجابی نہیں صرف پاکستانی تھے۔ایسا نہیں، انھیں شناخت کر کے قتل کیا گیا۔اگر وہ پنجابی نہ ہوتے ،تو کبھی یوں نہ مارے جاتے۔کہنے والے تو یہ بھی کہتے ہیں کہ دہشت گردوں کا کوئی مذہب نہیں ہوتا۔ مگر بخدا،ان کا مذہب بھی ہوتا ہے، عقیدہ بھی اور فقہ بھی۔ بالکل اسی طرح بلوچ علیحدگی پسندوں کا ہدف بھی ہے،کوئی نظریہ بھی اور کوئی ان کے لیے سرمایہ کار بھی۔معاملے کو وسیع تر تناظر میں دیکھنے کی ضرورت ہے۔بھارت و امریکہ افغانستان کے راستے بلوچستان اور قبائلی پٹی کو اپنے نشانے پہ رکھے ہوئے ہیں۔ہمیں پیش بندی کی ضرورت ہے۔

SHOPPING

طاہر یاسین طاہر
طاہر یاسین طاہر
صحافی،کالم نگار،تجزیہ نگار،شاعر،اسلام آباد سے تعلق

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *