• صفحہ اول
  • /
  • کالم
  • /
  • حکومتی کارکردگی اور انتخابی آزمائش۔۔اسلم اعوان

حکومتی کارکردگی اور انتخابی آزمائش۔۔اسلم اعوان

خیبر پختون خوا میں بلدیاتی انتخابات کے ہنگام نے حکمراں جماعت کی سیاسی بقاءاور اخلاقی ساکھ کے لئے کڑی آزمائش کے اسباب مہیا کر دیئے، ابتداءمیں گورنمنٹ نے عدالتی حکم کی تعمیل میں خود الیکشن کمشن کو خط لکھ کے جس طرح دو مرحلوں میں بلدیاتی الیکشن کا انعقادکرانے کی تجویز دی تھی الیکشن کمیشن نے اس میں مناسب ترمیم کرکے حکومت کے واضع کردہ طریقہ کار کی بجائے اپنی سکیم کے مطابق انتخابی شیڈول جاری کرکے گورنمنٹ کو مشکل میں ڈال دیا،صوبائی گورنمنٹ چاہتی تھی کہ پہلے مرحلہ میں 15 دسمبر تک صوبہ بھر میں ولیج اور نیبرہڈ کونسلوں کے غیر جماعتی بنیادوں پہ انتخابات کرانے کے بعد مارچ2022 میں تحصیل چیئرمین کا الیکشن جماعتی بنیادوں پہ منعقد کرائے جائیں تاکہ وہ صوبہ بھر میں اپنے تحصیل چیئرمین منتخب کرانے کے لئے نیبرہڈاور ویلج کونسلوں کے کامیاب امیدواروں کی حکومتی وسائل کے ذریعے حمایت حاصل کر سکیں لیکن الیکشن کمیشن نے انتخابی عمل کو سرکاری جبر سے بچانے اور شفافیت قائم رکھنے کی خاطر پہلے مرحلہ میں خیبرپختون خوا کے 17 اضلاع میں 15 دسمبر کو ویلج کونسل ،نیبرہڈ اور تحصیل چیئرمین کے انتخابات ایک ہی دن منعقد کرانے کا شیڈول جاری کرکے حکومتی عزائم کی راہ روک لی،دریں اثناءپشاور ہائی کورٹ نے شہری کی درخواست پہ نیبرہڈ اور ولیج کونسلوں کے انتخابات بھی جماعتی بنیادوں پہ کرانے کا فیصلہ صادر کرکے گورنمنٹ کی پریشانیوں میں کچھ مزید اضافہ کر دیا،پہلے تو صوبائی حکومت نے عدالتی فیصلہ کو جواز بنا کے بلدیاتی الیکشن کوالتواءمیں ڈالنے کے لئے ہاتھ پاؤں مارے لیکن الیکشن کمیشن نے پشاور ہائی کورٹ کے فیصلہ کی روشنی میں ترمیم شدہ شیڈول جاری کرکے الیکشن کے انعقاد کے حوالہ سے پائی جانے والی بے یقینی کو رفع کر دیا تو صوبائی حکومت نے پشاور ہائی کورٹ کے فیصلہ کے خلاف سپریم کورٹ سے رجوع کر لیا تاہم اس سب کے باوجود بڑے قومی رہنماؤں  کے علاوہ نچلی سطح کے سیاسی کارکن انتخابی عمل میں حصہ لینے کی خاطر نجی روابط اور سوشل میڈیا کے ذریعے تشہیری مہمات شروع کرکے پوری سوسائٹی کو متحرک کر چکے ہیں۔

اس میں بھی کوئی شک نہیں کہ رواں بلدیاتی الیکشن پی ٹی آئی کی مرکزی گورنمنٹ اوربالخصوص صوبائی حکومت کی کارکردگی کا کڑا امتحان ثابت ہو گا،پچھلے ساڑھے تین سالوں میں تیزی سے بڑھتا ہوا سیاسی عدم استحکام،ہوشربا مہنگائی، بے روزگاری اور گورننس کی خامیوں نے وفاقی حکومت کی ناکامی کے تاثر کو گہرا کیا،جس کا اظہار مرکزی دھارے کے میڈیا کے علاوہ سوشل میڈیا کی سکرینوں پہ بھی نمایاں نظر آتا ہے۔بدقسمتی سے پی ٹی آئی کی پنجاب اور خیبر پختون خوا کی صوبائی حکومتیں بھی کچھ ڈلیور نہ کر سکیں اگر ان دونوں صوبائی حکومتوں کی کارکرگی کچھ بہتر ہوتی تو کافی حد تک وفاقی حکومت کی کمزوریوں کا مدوا ہو سکتا تھا۔لاریب،پرویز خٹک کی قیادت میں تشکیل پانے والی پی ٹی آئی کی پچھلی حکومت کے دوران اصلاحاتی عمل کے دوام کی خاطر موثر قانون سازی کے علاوہ گورننس کا دھارا بھی فعال تھا،خاص کر صحت اور تعلیم کے شعبوں کی بحالی کے لئے نہایت سنجیدہ کوششیں کی گئیں، جس سے اگرچہ کوئی بڑی تبدیلی تو رونما نہ سکی لیکن اس مساعی کی بدولت زوال کا وہ مہیب عمل رک گیا،جس نے مغربی سرحدات سے منسلک اس حساس صوبہ کے بنیادی ڈھانچہ کو اجاڑ کے رکھ دیا تھا لیکن پی ٹی آئی کے دوسرے عہد میں پرویز خٹک کونظرانداز کرکے جب محمود خان جیسے ناتجربہ کار شخص کو وزیراعلی بنایا تو پہلے دو سال تک تو انتظامی ڈھانچہ پر جمود چھایا رہا اورپھر اسی بے عملی کے نتیجہ میں بدعنوانی کا وہ مہیب فضا دوبارہ چھانے لگی جسے پچھلی گورنمنٹ نے کافی حد تک صاف کر دیاتھا۔

FaceLore Pakistan Social Media Site
پاکستان کی بہترین سوشل میڈیا سائٹ: فیس لور www.facelore.com

اس میں کوئی شک نہیں کہ پرویز خٹک پختہ کار اور منجھے ہوئے سیاستدان ہونے کے علاوہ انتظامی امور کا وسیع تجربہ رکھتے تھے،انہیں بیوروکریسی سے کام لینے کے علاوہ صوبہ کے انتظامی ڈھانچہ پہ اپنی گرفت قائم رکھنے کا ملکہ بھی حاصل تھا،وہ اپنے پارٹی ممبران اسمبلی کے علاوہ اپوزیشن جماعتوں کے ایم پی ایز کو بھی ساتھ لیکر چلنے کی مہارت سے بہرور تھے،سب سے بڑھ کر ساورن وزیراعلیٰ کی طرح صوبائی حقوق کے تحفظ کے لئے وفاقی حکومتوں کو مینج کرنے میں یدطولی رکھتے تھے،دوہزارچودہ کی شدید ترین پولرآئزیشن کے باوجود انہوں نے نوازشریف جیسے مقتدر وزیراعظم کے ساتھ ہموار کوارڈینشن پیدا کرکے اپنے صوبائی مفادات کا کامیابی سے دفاع کیا لیکن اس کے برعکس محمود خان ڈھنگ سے انتظامی امور چلا سکے نہ انہیں صوبائی مفادات کا ادراک حاصل ہے بلکہ وہ علاقائی حقوق کی بازیابی کا ہنر بھی نہیں جانتے،ان کی اسی لاپرواہی کے باعث پورے انتظامی ڈھانچہ پہ بے یقینی کی یبوست سایہ فگن رہی،جس سے گورنمنٹ کی کارکردگی بتدریج مدہم ہوتی گئی،اس وقت باہمی گروپ بندی کی وجہ سے صوبائی کابینہ غیر فعال اور فیصلہ سازی کا عمل مفقود ہے،ایک ایسے وقت میں جب مرکز اور صوبہ میں ایک ہی جماعت کی حکومت ہونے کے باعث وفاق کے ساتھ جڑے حقوق کا حصول قدرے آسان تھا لیکن محمود خان بوجوہ صوبائی مفادات کے تحفظ کی ذمہ داری نبھانے سے پہلو بچاتے رہے۔

وزیراعلیٰ  محمود خان نے اپنے پاور اینڈ انرجی کے مشیرحمایت یار کو اس لئے عہدہ سے ہٹا دیا کہ انہوں نے وفاقی حکومت سے خیبر پختونخوا میں پیدا ہونے والی بجلی اور گیس پہ متعین کردہ ایکسائزہ ڈیوٹی اورکروڈ ائل کے اس منافع کا تقاضا کیا جسے اٹھارویں ترمیم میں آئینی تحفظ دیا گیا۔اس وقت سندھ کے بعد خیبر پختون خوا گیس پیدا کرنے والا دوسرا بڑا صوبہ ہے،جہاں گرگری،محرمزئی اور ٹل سمیت ہنگو سے یومیہ500 ایم ایم سی ایف ڈی گیس مہیا ہوتی ہے،سندھ 2000 ایم ایم سی ایف ڈی،بلوچستان650 ایم ایم سی ایف ڈی اور پنجاب90 ایم ایم سی ایف ڈی یومیہ گیس پیدا کرتا ہے۔خیبر پختون خوا 4 لاکھ بیرل یومیہ مہنگا ترین کروڈ ائل پیدا کرنے والاسب سے بڑا صوبہ ہے،ملک میں کروڈ آئل کی مجموعی کھپت 7.5 لاکھ بیرل یومیہ ہے،حکومت ملکی ضرورت پوری کرنے کے لئے کم و بیش سوا تین لاکھ بیرل کروڈ آئل درآمد کرتی ہے،اس لئے پاکستان کا 25 بلین ڈالر پہ مشتمل سب سے بڑا امپورٹ بل اسی کروڈ آئل کا بنتا ہے،اٹھارویں ترمیم کے تحت آئین کے آرٹیکل161 میں ترمیم کے بعد ایک ہزار روپیہ فی بیرل کے حساب سے ایکسائز ڈیوٹی ان صوبوں کو دینے کا اصول تسلیم کیا گیا جہاں کروڈ آئل پیدا ہوتا ہے۔

اس طرح خیبر پختون خو کا 5 کروڑ یومیہ کے حساب سے18 ارب روپیہ سالانہ کی ایکسائز ڈیوٹی بنتی ہے،صرف اسی مد میں وفاق کے ذمہ خیبر پختون خوا کا پچھلے دس سالوں کا 3 کھرب6 ارب روپیہ واجب الادا ہے،جس کا تقاضا  بوجوہ ہماری صوبائی لیڈر شپ نہیں کر سکی،اس کے علاوہ گیس کی اوسط قیمت (WECOG)کا ایشو بھی پیچیدہ ہوتا جا رہا ہے،خیبر پختون خوا میں پیدا ہونے والی گیس کی قمیت چار ڈالر فی برٹیش تھرمل یونٹ(MMBTU) بنتی ہے جبکہ باہر سے درآمد کی جانے والی ایل این جی جو نوازلیگ کے عہد میں 10 ڈالر فی یونٹ کے حساب سے خریدی جاتی رہی،اس بار حکومت نے 30 ڈالر فی یونٹ خریدی،وفاقی حکومت 4 ڈالر اور 30 ڈالر فی یونٹ کے حساب سے خریدی جانے والی گیس کو یکجا کرکے اس کی اوسط قیمت 34 ڈالر فی بریٹش تھرمل یونٹ (MMBTU)مقرر کرکے اسے دو پہ تقسیم کرکے پنجاب اور باقی صوبوں کو 17 ڈالر فی یونٹ کے حساب سے گیس کی فراہمی کا فارمولہ پیش کر چکی ہے لیکن اس وقت گیس پیدا کرنے والے صوبہ سندھ،بلوچستان اورخیبرپختون والے مشترکہ مفادات کونسل میں ویگ(WECOG) فارمولہ کو قبول کرنے سے اجتناب کر رہے ہیں۔

Advertisements
julia rana solicitors london

واضح رہے کہ خیبر پختون خوا اس وقت 500 یونٹ (BTU)یومیہ گیس پیدا کرتا ہے جبکہ اس کی اپنی کنزمشن 250 یونٹ(BTU) روزانہ کی ہے لیکن اپنی پیدوار پہ منافع دینے کی بجائے وفاق اسے اپنی چار ڈالر فی یونٹ کے حساب سے پیدا کردہ گیس بھی17 روپے فی یونٹ فروخت کر رہا ہے لیکن صوبائی حکومت اور علاقائی جماعتیں صوبائی حقوق ومفادات کے تحفظ کی بجائے جماعتی مفادات اور اپنی بے اختیار حکومتوں کے دوام کی خاطر نہایت خاموشی کے ساتھ صوبائی مفادات سے ستبردار ہو جاتی ہیں۔کچھ ایسی ہی صورت حال ہمیں بجلی کی پیدوار کے حوالہ سے بھی درپیش ہے،اس وقت خیبرپختون خوا، 20 ارب یونٹ سالانہ سستی بجلی پیدا کرنے والا صوبہ ہے،صرف تربیلا ڈیم سے 87 پیسے فی یونٹ کے حساب سے 18 ارب یونٹ سالانہ سستی بجلی نشنل گریڈ کو مہیاکی جاتی ہے لیکن بجلی فروخت کرنے والی کمپنیاں یہی 87 پیسے فی یونٹ والی بجلی ہمیں 23 روپے فی یونٹ کے حساب سے فروخت کرکے اربوں روپے کما رہی ہیں، پیسکو کے مطابق صوبہ بھر میں بجلی کی مجموعی کھپت 10 ارب یونٹ سالانہ ہے۔حالت یہ ہے کہ بڑی مقدار میں آئل اور گیس مہیا کرنے والے صوبہ خیبر پختونخوا میں کوئی آئل ریفاینری موجود نہیں،ملک کی پانچ آئل ریفاینریز میں سے دو پنجاب،دو سندھ اور ایک بلوچستان میں ہے۔

  • julia rana solicitors london
  • FaceLore Pakistan Social Media Site
    پاکستان کی بہترین سوشل میڈیا سائٹ: فیس لور www.facelore.com
  • merkit.pk
  • julia rana solicitors

Aslam Awan
اس وقت یبوروچیف دنیا نیوز ہوں قبل ازیں پندرہ سال تک مشرق کا بیوروچیف اور آرٹیکل رائٹر رہاں ہوں،سترہ سال سے تکبیر میں مستقل رپوٹ لکھتا ہوں اور07 اکتوبر 2001 سے بالعموم اور 16مارچ 2003 سے بالخصوص جنگ دہشتگردی کو براہ راست کور کر رہاں ہوں،تہذیب و ثقافت اور تاریخ و فلسفہ دلچسپی کے موضوعات ہیں،

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

Leave a Reply