گھنٹے بھر میں ہزاروں میل کا سفر ہائپر لوپ سے ممکن۔۔منصور ندیم

پچھلے سال ایک پوسٹ لکھی تھی، جس میں ورجن ہائپر لوپ Virgin Hyperloop نامی امریکی ٹرانسپورٹ ٹیکنالوجی کمپنی American transportation technology company کے Co Founder اور سربراہ Josh Giegel نے پہلی بار امریکہ کی ریاست نیواڈا کے صحرا Nevada desert میں اس تیز رفتار ٹرین ہائپر لوپ پیگاسس ( “XP-2”) کا پہلی بار دو افراد کے ساتھ ٹیسٹ کیا تھا۔ تصویر میں Josh Giegel اور ایک خاتون Sara اس تجرباتی مہم میں رہے۔ دنیا کی اس تیز ترین ٹرین کی رفتار ایک ہزار کلومیٹر فی گھنٹہ تک رہی ۔ تاہم کچھ ماہرین نے اس کے سیفٹی معیار پر تحفظات ظاہر کیے تھے۔ نئی گاڑی کے مسافر ٹیسٹ کی نگرانی آئی ایس اے (انڈیپنڈینٹ سیفٹی اسائسسر) سرٹیفائر نے کی تھی ، اور اس کی کامیابی نقل و حمل کی صنعت میں ایک تاریخی لمحہ کی نشاندہی کرتی ہے کیونکہ پیگاسس پہلے ہائپرلوپ ٹریول کا حیرت انگیز ایجاد بن کر سامنے آئی تھی۔

اب یہی Josh Giegel کی کمپنی Virgin Hyperloop اور عرب حکومتوں اور کاروباری کمپنیوں کے اشتراک سے ایک ویکیوم ٹرین تکمیل کے قریب ہے جو خلیجی ممالک میں چلنے والی نہ صرف اپنی نوعیت کی پہلی ٹرین ہوگی بلکہ اس سے خلیجی ممالک کو ملانے والے پہلے ریلوے نیٹ ورک کا بھی آغاز ہوگا۔ Virgin Hyperloop کی تیار کردہ یہ ویکیوم ٹرین Vacuum Train مسافروں کو ایک ہزار کلو میٹر فی گھنٹہ کی رفتار سے ایک مقام سے دوسرے مقام تک پہنچانے کی صلاحیت رکھتی ہے۔ابتداء میں یہ سعودی عرب کے وسطی شہر دارالحکومت ریاض سے صرف ۴۸ منٹ میں متحدہ عرب امارات کے شہر ابوظبی کے لئے چلائی جائے گی۔ جس کے لئے متحدہ عرب امارات کو سعودی عرب سے ملانے کے لئے ۱۳۹ کلو میٹر طویل ٹریک مکمل کیا جاچکا ہے ۔ آنے والے دنوں میں یہ منصوبہ دبئی سے کویت، جدہ اور سعودی تجارتی بنیادوں پر بسائے جانے والے پہلے شہر نیوم تک کا سفر بھی ممکن ہوجائے گا۔

Advertisements
merkit.pk
tripako tours pakistan

اس ویکیوم ٹرین Vaccum train 🚆 سے سعودی دارالحکومت ریاض سے کسی بھی دوسرے مقام تک سفر کی رسائی ایک گھنٹے یا دو گھنٹے سے بھی کم وقت میں ممکن ہوجائے گی۔ بلکہ آنے والے دنوں میں ہائپر لوپ کا اس دہائی میں پہلی تجارتی ٹرین چلنے کی امید ہے اب دیکھتے ہیں کہ یہ پہلے انڈیا میں چلتی ہے یا سعودی عرب میں کیونکہ انڈیا میں بھی ہائپر لوپ ٹرین کے معاہدوں پر تیزی سے کام ہورہا ہے۔ ہاہپر لوپ اپنے منصوبے ‘The Decade of Hyperloop, کو جلد از جلد خلیجی ممالک سے ہی شروع کرنے کے لئے زیادہ پُرعزم ہیں۔ کیونکہ اس وقت انہیں خلیجی ممالک اور انڈیا سے ہی ان معاہدوں میں تجارتی فوائد نظر آرہے ہیں۔ ممکنہ طور پر جہاں یہ انسانی سفر کو کم وقت میں معاون ہوگا وہیں سامان کی ترسیل اور تجارتی سطح پر ایک بڑی کامیابی بن کر سامنے آئیں گے۔

  • merkit.pk
  • merkit.pk

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

Leave a Reply