جانے کس دیس گئے۔۔سعدیہ علوی

اُس سے ہماری دوستی ہماری آنکھ کھولنے سے شروع ہوگئی تھی ۔گھر کا پچھواڑا کیکر کے درخت، ایک پراسرار خاموشی ٹھنڈک اور گھیکوار ،کے پودے جن کے پتوں سے زیادہ اونچے ان کے پھول ہوا کرتے تھے کہ اسوقت اس غریب پودے کی ایسی آؤ بھگت نہ تھی۔ نہ جوڑوں میں درد عام تھا اور نہ حسین بننے کی خواہش بے طرح دل کو برماتی تھی۔

یہ خاموش شہر جس کے باسی کچھ نہ کہتے تھے، ہمیں بہت پسند تھا،  سکول کے آغاز سے، پہلے بس آنکھ کھلنے کی دیر ہوتی تھی اور ہم کانٹوں کو پھلانگتے ان کیکر کے درختوں کے نیچے اپنا کھیل سجا لیتے۔ اللہ جانے کون کون سے کھیل تھے۔ کبھی دوکاندار ہوتے، کبھی باورچی اور مزے کی بات ہر سامان ضرورت کیکر ہمیں مہیا کردیتے۔ اماں جب نوکری سے پلٹتیں تو کھینچ کھانچ کر واپس لاتیں اور انسانوں کی صورت میں تبدیل کرنے کی ناکام کوشش کرتیں جو کچھ ہی دیر میں ہم ناکارہ کردیتے۔

tripako tours pakistan

ماموں کے رسالوں کے دشمن ہم، اور ان کی جان رسالوں میں بند، وہ ہمارے شر سے بچنے کے لیے گرمی کی دوپہر میں اپنا کھٹولا اسی شہر میں بچھا لیتے، مگر ہم وہاں بھی ان کے سر پر سوار ہوجاتے ایک بار تو ماموں کے پاس جاتے ہوئے ایسے گرے کہ ساری پیٹھ کانٹوں سے بھر گئی۔ وہ رات اماں ہمارے کانٹے چنتی رہیں اور روتی رہیں، دل میں مطمئن تھیں کہ اب شاید ہم باز  آجائیں۔ مگر ہم چکنی مٹی سے ڈھالے تھے اللہ نے، سو صرف دودن کے بعد ہم اور ہمارا مسکن پھر وہ ہی شہر تھا۔

اس جگہ سے سب سے پہلے خوف اسوقت آیا جب نانی اماں کو وہاں جاتے دیکھا اور پھر واپس آتے نہ دیکھا ۔تب ہمارے دل میں یہ خیال جاگا کہ، یہاں سے واپسی نہیں ہوتی۔ خود کھیل کر آجاتے تھے تو کچھ دنوں میں بھول بھی گئے اور پھر ماموں ہر روز ہی نانی کےپاس جاتے تو ہمیں بھی لے جاتے اور ہم پھر سے اسکی محبت میں پھنس گئے۔
وقت گزرتا گیا اور ہم بڑے ہوگئے (جس کا ہمیں بڑاقلق ہے)۔

اب تو یہ بات بھی سمجھ آگئی کہ ہمارے بچپن کا پسندیدہ مقام وہ جگہ ہے جہاں  جانے والے آتے نہیں خواہ کتنا ہی پکار لو۔ اس اتنی بڑی زندگی میں اپنے کتنے پیاروں کو وہاں آباد دیکھا ہے۔
ماموں گئے  !
ان کا تو وہاں کوئی نشان بھی نہیں ہے۔ ساری زندگی دوسروں کو جگہ دیتے رہے، ان کے لیے آسانیاں کرتے رہے، وہاں بھی انہوں نے اپنا مکان کسی اور کو دیدیا۔ ہائے ماموں کیسے بھلائیں آپکو ،اور بھلا بھلائیں ہی کیوں آپ وہاں خوش رہیں ،آمین۔

اس شہر نے جس دوسری ہستی کو بسایا وہ ابّا تھے۔ آج ان کو وہاں آباد ہوئے کئی سال ہوگئے ہیں ۔ہم سے تو گنتی نہیں ہوتی، لگتا ہے کل ہی کی بات ہے۔ اپنی سالگرہ سے تین دل پہلے آج کے دن ابا چلے گئے، اللہ ان کے مکان کو ٹھنڈا رکھیں۔ اب تو اماں بھی وہیں ہیں، اور اب ان دونوں نے ملکر مکان کو گھر بنا لیا ہوگا۔ ویسا ہی جیسا یہاں تھا ۔جس میں ابّا کی خاموش شرارتیں ہوتی تھیں اور اماں کی دھیمی مسکراہٹ۔ کبھی اماں ابا کی ایسی تکرار، جس میں دوسرا فریق سنتا تھا اور معاملہ سلجھ جاتا تھا ۔ہاں ایک بات ہے کہ اس گھر میں کمی ہے بہت ہم سب کی۔ اب ہم پہنچیں گے تو پھر چہکار ہی الگ ہوگی۔ ابا تو بے حد خوش ہونگے کہ آگئی انکی بٹیا اور اماں اندر اندر مسرور ہوں گی مگر سامنے اظہار نہ کریں گی۔

Advertisements
merkit.pk

اللہ جی ابا اور اماں سے جب ملاقات کروایئے گا تو ان کا ہنستا ہوا چہرہ دکھائیے گا، اور اس قابل بنایئے گا کہ وہ ہمارا استقبال خوشدلی سے کریں ہم ان کی راحت کا سبب ہوں۔
آمین!

  • merkit.pk
  • merkit.pk

مکالمہ
مباحثوں، الزامات و دشنام، نفرت اور دوری کے اس ماحول میں ضرورت ہے کہ ہم ایک دوسرے سے بات کریں، ایک دوسرے کی سنیں، سمجھنے کی کوشش کریں، اختلاف کریں مگر احترام سے۔ بس اسی خواہش کا نام ”مکالمہ“ ہے۔

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

Leave a Reply