• صفحہ اول
  • /
  • کالم
  • /
  • افغانستان، داخلی تضادات یا عالمی سازشیں؟۔۔اسلم اعوان

افغانستان، داخلی تضادات یا عالمی سازشیں؟۔۔اسلم اعوان

طالبان کے انتہائی اہم کمانڈرحمداللہ مخلص کو اُس وقت شہید کر دیاگیا جب اس کے سکواڈ نے سردار داؤ د ملٹری ہسپتال پر داعش خراسان کے حملہ کو روکنے کی کوشش کی،اسی خودکش مشن میں 19 شہری بھی جان کی بازی ہار بیٹھے،طالبان نے اگست میں کابل فتح کرنے سے قبل بیس سال تک غیرملکی فورسز کے خلاف گوریلہ انداز کی مزاحمت میں گزارے لیکن اب انہیں افغانستان میں سیاسی استحکام اور امن قائم کرنے جیسے سنجیدہ چیلنجز کا سامنا ہے،جسے حالیہ ہفتوں میں اسلامک اسٹیٹ آف خراسان کی طرف سے پے  در پے  حملوں نے زیادہ گھمبیر بنا دیا۔طالبان سرکار افغانستان میں داعش جیسی کسی باقاعدہ تنظیم کی موجودگی سے انکاری ہے ۔

تاہم وائس آف امریکہ کے مطابق امریکی حکام نے تصدیق کی ہے کہ افغانستان میں طالبان کی حکمرانی کے خلاف مزاحمت کرنے والے نئے تشکیل شدہ مسلح گروپ نے ریاست ہائے متحدہ امریکہ میں سیاسی لابنگ کے لئے محکمہ انصاف کے پاس رجسٹریشن کرائی،یہ تصدیق طالبان مخالف نیشنل ریزسٹینس فرنٹ (NRF) کے ان دعوؤں کے جواب میں سامنے آئی،جس میں کہا گیا کہ انہیں امریکہ میں دفاترکھولنے کی اجازت مل گئی،یہ دعویٰ  این آر ایف کے خارجہ امور کے سربراہ علی میثم نظیری نے جمعہ کو ٹویٹر پوسٹ کے ذریعے کیا تھا،جس میں اس عزم کا اعادہ بھی شامل تھا کہ این آر ایف جلد اپنی سرگرمیوں کا دائرہ پوری دنیا تک پھیلا دیں  گے۔داعش خراسان نے 15 اگست کو طالبان کے قبضے کے بعد سے افغانستان میں چار ہلاکت خیز حملوں کی ذمہ داری قبول کی،جن میں شیعہ مسلمانوں کی مساجد کو نشانہ بنانے والے حملوں کے علاوہ کابل ائرپورٹ پہ امریکی فورسز پہ اٹیک بھی شامل تھا۔

julia rana solicitors london

اس سے قبل 2017 میں بھی داعش نے اسی سردار داؤد  ملٹری ہسپتال کو ہدف بنایا،جب طبی عملہ کے بھیس میں کئی مسلح افراد نے گھنٹے بھر تک جاری رہنے والے محاصرے میں کم از کم 30 افراد ہلاک کر دیے تھے۔

ذرائع کے مطابق کابل کی تسخیر کے بعد طالبان نے داعش کے سربراہ ابو عمر خراسانی کو ساتھیوں سمیت جیل میں قتل کر دیا تھا۔بے رحم افغان جنگ کے دوران بھی طالبان داعش خراسان کو مستقبل میں اپنے لئے خطرہ سمجھتے رہے،چنانچہ جب روس،چین،ایران اور پاکستان،طالبان کو اپنے قومی مفادات اورجغرافیائی سرحدوں کے تحفظ کی خاطر اُن غیر ملکی جنگجو ؤں  کو لگام ڈالنے کا کہتے،جو اُن سے طویل وابستگی رکھتے تھے،تو طالبان کی قیادت اِسی خدشہ کے پیش نظر غیر ملکی جنگجوؤں  سے سختی برتنے سے اجتناب کرتی رہی کہ کہیں وہ داعش کی طرف رخ نہ کر لیں۔

مغربی ذرائع ابلاغ کے مطابق خفیہ اداروں کو افغانستان میں آئی ایس کی موجودگی کے ایسے شواہد ملے ہیں جن سے پتہ چلتا ہے کہ داعش کا کمانڈر ذاکر جو عراق ہجرت کر گیا تھا کچھ عرصہ موصل میں بطور قاضی خدمات انجام دینے کے بعد دوبارہ افغانستان لوٹ آیا ہے۔داعش والے کہتے ہیں ہم طالبان کے لئے ویسے ہیں،جیسے وہ امریکیوں کے لئے پوشیدہ تھے،ہم انہیں دیکھ سکتے ہیں اوروہ ہمارے نشانے پر ہیں۔

یہ محض اتفاق نہیں ہو سکتا کہ مغربی تجزیہ کاروں کو امریکی انخلاءکے بعد طالبان کی طرف سے کابل کا اقتدار سنبھالنے کے ساتھ ہی دونوں گروپوں کے درمیان طویل جنگ کے آثار دکھائی دینے لگے بلکہ اس مہیب پراکسی کے پیچھے امریکی مقتدرہ کی مربوط منصوبہ بندی کار فرما ہو سکتی ہے،ان کے خیال میں داعش کے خلاف طالبان کی لڑائی سیدھی نہیں بلکہ پیچیدہ،مہیب اور طویل ہوگی،امریکی سمجھتے ہیں کہ مستقبل کے حالات طالبان کی بقا کے لئے زیادہ مشکل ہوں گے کیونکہ اس امرکا امکان موجود ہے کہ داعش طالبان کے خلاف لڑنے کے لئے زیادہ مضبوط ہو جائے تاہم ابھی بہت کچھ داعش کی اپنے جنگجو ؤں کو دوبارہ متحرک کرنے کی صلاحیت پر منحصر ہے۔

داعش کے پاس لڑائی روکنے اور دوبارہ شروع کرنے کا آپشن تو موجود ہے لیکن انہیں اپنے جنگجوؤں کو متحرک رکھنے اور طالبان کے خلاف لڑنے کے لئے نئے جنگجو بھرتی کرنے کے لئے کافی وسائل اور وقت درکار ہو گا۔داعش کے نئے رہنما ڈاکٹر شہاب المہاجر نے بھی طالبان سرکارکے خلاف نئی شہری دہشت گردی مہم کا اعلان کردیا،طالبان کی حکمرانی کے مسائل اور داعش کے خلاف اُن کی جنگی مہمات کے پہلو بہ پہلو سنگین مسئلہ باہمی گروہ بندی بھی ہو گی،طالبان کے بڑے اتحادیوں میں،حقانی نیٹ ورک،جو بظاہرطالبان کا حصہ نظر آتا ہے لیکن پینٹاگون کے ترجمان کہتے ہیں کہ”طالبان اور حقانی نیٹ ورک دو الگ تنظیمیں ہیں“۔

ایک مغربی تجزیہ کار کے مطابق اگرچہ  پیشگوئی کرنا آسان نہیں لیکن اتنا اندازہ لگایا جا سکتا ہے کہ داخلی دھڑے بندیوں کی وجہ سے طالبان کے لئے داعش سے نمٹنا مشکل ہو گا۔بہرحال،آئی ایس نے اگست میں کابل کے ہوائی اڈے پہ حملہ کرکے جس مبارزت کی ابتدءکی تھی وہ بتدریج بڑھ رہی ہے۔اگرچہ بظاہر یہی لگتا تھا کہ امریکی انخلاءکے بعد افغانستان زیادہ پرامن ہو جائے گا لیکن جلال آباد میں اب بھی طالبان فورسز کو تقریباً روزانہ ٹارگٹڈ حملوں کا سامنا کرنا پڑتا ہے،آئی ایس وہی”ہٹ اینڈ رن“ہتھکنڈے استعمال کر رہی ہے جو طالبان نے امریکی جارحیت کے خلاف کامیابی کے ساتھ استعمال کئے۔صوبہ ننگرہار میں طالبان کی انٹیلی جنس سروسز کے سربراہ ڈاکٹر بشیر نے پہلے آئی ایس کو پڑوسی صوبہ کنڑ میں قائم کئے گئے چھوٹے سے گڑھ سے نکالنے میں کامیابی حاصل کی۔

ڈاکٹر بشیر،فخر سے کہتے ہیں کہ ان کے آدمیوں نے آئی ایس کے درجنوں ارکان کو گرفتار کیا،عوامی سطح پر، ڈاکٹر بشیر سمیت طالبان قیادت آئی ایس کے خطرے کو اہمیت نہیں دیتی،وہ کہتے ہیں،جنگ کو ختم کرکے بلآخر یہاں امن لانے میں کامیاب ہو جائیں گے۔ ڈاکٹر بشیر یہ دعویٰ بھی کرتے ہیں کہ داعش کا افغانستان میں باقاعدہ کوئی وجود نہیں،البتہ وہ غداروں کے ایسے گروہ کا حوالہ ضرور دیتے ہیں جو اسلامی حکومت کے خلاف بغاوت پہ کمربستہ ہے۔اس کے برعکس مغربی ذرائع ابلاغ اصرار کرتے ہیں کہ داعش نہ صرف افغانستان میں موجود ہے بلکہ اس کی ایسی مخصوص شاخ قائم ہے جس سے مملکت کا تصور ابھرتا ہے،یعنی،آئی ایس،خراسان،جو وسطی ایشیائی خطہ کاقدیم نام تھا۔

آئی ایس نے پہلی بار 2015 میں افغانستان میں اپنی موجودگی ظاہر کی اور 2012  سے جاری دوحہ مذاکرات کے ساتھ پروان چڑھتے ہوئے اگلے کئی سالوں میں خوفناک حملے کرنے کے قابل ہوئی اور طالبان کی فتح کے بعد اس نے ملک کے ان علاقوں میں کاروائیاں شروع کیں ،جن میں عسکریت پسند پہلے کبھی نہیں دیکھے گئے۔اس ماہ کے شروع میں آئی ایس نے شمالی شہر قندوز اور طالبان کے گڑھ قندھار میں شیعہ مسلمانوں کی مساجد پر خودکش حملے کئے۔تاہم طالبان مُصر ہیں کہ تشویش کی کوئی وجہ نہیں،ہم دنیا سے کہتے ہیں کہ فکر نہ کریں،اگر غداروں کا چھوٹا سا گروہ اٹھ کر ایسے حملے کرے گا تو جس طرح ہم نے 52 ممالک کے اتحاد کو جنگ میں شکست کا مزہ چکھایا انہیں بھی مٹا دیں گے۔دو دہائیوں تک گوریلہ جنگ لڑنے کے بعد،ہمارے لئے ایسے حملوں کو روکنا آسان ہے۔

ادھر امریکی حکام نے خبردار کیا ہے کہ افغانستان میں آئی ایس چھ ماہ سے ایک سال کے اندر دیگر ممالک پر حملے کرنے کی صلاحیت حاصل کر سکتی ہے،بلاشبہ آئی ایس کی افزائش کے خدشات افغانستان کے اُن ہمسایہ ممالک میں بھی پائے جاتے ہیں جو امریکہ کے ساتھ برسوں کی خونریزی سے اکتائے ہوئے ہیں،اس لئے طالبان تنہا نہیں بلکہ داعش کے مصنوعی خطرہ سے نمٹنے کے لئے انہیں چین،روس،پاکستان اور ایران کی مدد بھی ملے گی۔اس وقت داعش کا عملاً افغانستان کے کسی علاقے پر کنٹرول نہیں،یہ گروپ امریکی انخلاءسے قبل ننگرہار اور کنڑ دونوں صوبوں میں مستقل اڈے بنا چکا تھا لیکن طالبان نے آتے ہی ان کا صفایا کر دیا،اگرچہ اس گروپ کے پاس اُن 70,000 طالبان فوجیوں کے مقابلے میں صرف چند ہزار جنگجو ہیں،جو اب امریکی ہتھیاروں سے لیس ہیں۔لیکن یہ خدشہ موجود ہے کہ آئی ایس کچھ دوسرے وسطی ایشیائی گروپوں اورٹی ٹی پی کے جنگجوؤں  کو بھرتی کر سکتی ہے جن کے بارے میں خیال کیا جاتا ہے کہ وہ افغانستان میں مقیم ہیں۔امریکہ نے آئی ایس کو نشانہ بنانے کے لئے افغانستان کے باہر سے حملوں کی پیشکش کی لیکن طالبان،اِن باغیوں سے تنہا نمٹنے بارے پُرعزم ہیں۔

Advertisements
julia rana solicitors

طالبان کہتے ہیں کہ ہم انہیں اور وہ ہمیں اچھی طرح جانتے ہیں،ایک طالبان کمانڈر نے بتایا کہ حالیہ دنوں ننگرہار میں داعش کے درجنوں ارکان نے طالبان کے سامنے ہتھیار ڈالے۔طالبان کے ایک سابق رکن نے میڈیا کو بتاتا کہ وہ آئی ایس میں جانے کے بعد سخت مایوس ہوا۔طالبان کے برعکس،جنہوں نے بار بار اس بات پر زور دیا کہ ان کا واحد مقصد افغانستان میں اسلامی امارت کا قیام ہے،آئی ایس غیرمحدود عالمی عزائم رکھتی ہے،پوری دنیا پہ حکمرانی قائم کرنے کے خواب دیکھنے والی،آئی ایس، قول و فعل کے تضادات کا شکار ہے،وہ اتنے طاقتور بھی نہیں کہ افغانستان کا کنٹرول سنبھال سکیں۔تاہم بہت سے افغان تھکے ہوئے انداز میں آئی ایس کے حملوں میں اضافے کو ملک میں ”نئے کھیل“ کا آغاز تصور کرتے ہیں کیونکہ جلال آباد میں داعش کی طرف سے صرف طالبان ہی کو نشانہ نہیں بنایا جاتا بلکہ سول سوسائٹی کے کارکن عبدالرحمن ماون کوگزشتہ ماہ اس وقت قتل کیا گیا جب وہ شادی کی تقریب سے گھر واپس پلٹ رہے تھے،مقتول کے بھائی،شاد نور کہتے ہیں،جب طالبان نے اقتدار سنبھالا تو ہم خوش و پُر امید تھے کہ بدعنوانی،قتل اور دھماکوں کا خاتمہ ہو جائے گا،لیکن اب ہم محسوس کر رہے ہیں کہ داعش کے نام سے ایک نیا رجحان ہم پر مسلط کیا جا رہا ہے۔

  • merkit.pk
  • julia rana solicitors london
  • julia rana solicitors

Aslam Awan
اس وقت یبوروچیف دنیا نیوز ہوں قبل ازیں پندرہ سال تک مشرق کا بیوروچیف اور آرٹیکل رائٹر رہاں ہوں،سترہ سال سے تکبیر میں مستقل رپوٹ لکھتا ہوں اور07 اکتوبر 2001 سے بالعموم اور 16مارچ 2003 سے بالخصوص جنگ دہشتگردی کو براہ راست کور کر رہاں ہوں،تہذیب و ثقافت اور تاریخ و فلسفہ دلچسپی کے موضوعات ہیں،

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

Leave a Reply