کاش، تریپورہ میں آج گاندھی جی ہوتے۔۔ابھے کمار

ان دنوں ہندوستان کی شمال مشرقی ریاست تریپورہ سے مسلم مخالف تشدد کی لپٹیں اٹھی ہیں۔ ریاست میں مسلمان اقلیت  میں ہیں، جن کی آبادی ۸ فی صد سے تھوڑی ہی زیادہ ہے۔ مسلمانوں کے گھروں، دکانوں اورعبادت گاہوں کو فرقہ پرستوں نے نقصان پہنچایا ہے۔ ماحول کوخراب کرنے میں بھگوا فرقہ پرست عناصرکا ہاتھ بتا یا جا رہاہے۔ مگر سب سے تشویشناک بات یہ ہے کہ ریاستی حکومت، پولیس اورانتظامیہ یہ بھی قبول کرنے کو تیار نہیں ہے کہ ان کے علاقوں میں کشیدگی پھیلی ہوئی ہےاورکئی دنوں تک سڑکوں پرغنڈوں کا راج تھا۔ شرپسندعناصرکےخلاف تادیبی کارروائی کرنے اورمظلوم کوتحفظ اورانصاف دینے کے بجائے، ریاست  کی بھگوا سرکاریا توخاموشی رہی ہے، یا پھر یہ کہہ کراپنا پلہ جھاڑ لیا   کہ ریاست کو بدنام کرنے کے لیے بعض شرپسند عناصرسوشل میڈیا کا استعمال کر رہے ہیں اور فیک خبریں پھیلا رہےہیں۔ سرکار، پولیس اورانتظامیہ کی اس بے حسی اور سرد رویے  کو دیکھ کرآج مجھے بابا ئےقوم مہاتما گاندھی کی یاد آرہی ہے۔ کاش، وہ ابھی تریپورہ میں ہوتے!

تریپورہ میں جوکچھ بھی ہوا ہے، کچھ ویسا ہی ماحول بھارت کی تقسیم کے وقت ہو رہا تھا۔ حالانکہ تقسیم ہند کے دوران بے شمارلوگوں کی جان ومال کو نقصان ہوا اورلاکھوں کی تعداد میں لوگ بے گھر ہوئے، جبکہ تریپورہ میں کچھ ہی مسلم گھروں، دکانوں اورعبادت گاہوں کو نقصان پہنچایا گیا ہے۔ پھر بھی ایک حد تک دونوں وارداتوں میں مماثلت ہے۔ دونوں ہی جگہ بھگوا طاقتیں انتقام کے جنون میں مبتلاہوکرکمزوراقلیتوں پرحملہ کر رہی ہیں ۔ اُس وقت دہلی کے مسلمانوں پرحملہ اس لیے جائز ٹھہرایا  جا رہا  تھا  کہ پاکستانی علاقوں میں ہندوٴں اور سکھوں کو مارا اورکاٹا جا رہا تھا، اِس وقت تریپورہ کے مسلمانوں پرحملہ اس لیے صحیح ٹھہرایا جا رہے کہ مسلم اکثریت والے  پڑوسی ملک بنگلہ دیش میں اقلیتی  ہندوٴں پر کچھ دن پہلے حملے ہو ئے۔ آسان لفظوں میں کہیں تو حملہ آوروں کی خونی آہوں میں بدلا لینے کا جنون سوار تھا۔

julia rana solicitors

کہا جا رہا ہے کہ تریپورہ میں ماحول بھگوا شدت پسند تنظیموں کےذریعے  نکالی گئی ریلی کے بعد سے خراب ہوا۔ شدت پسندوں نے مختلف علاقوں میں ریلی نکالی اورمسلمانوں کو ٹارگٹ کیا۔ دراصل ان کا مقصد بنگلہ دیش کے مظلوم ہندووٴں کے لیےانصاف پانا کم تریپورہ کو مذہب کی بنیاد پرپولارائز کرنا زیادہ تھا۔ سال ۲۰۱۸ میں بھگوا حکومت تریپورہ میں اقتدارسنگھالی تھی۔ انتخابی ریلی کے دوران بھگوا سیاسی جماعت نے رائے دہندگان سے بڑے بڑے وعدے کیے تھے، مگر ساڑھے تین سال گزر جانے کے بعد بھی عوام کو مایوسی ہی ہاتھ لگی ہے۔ کچھ ہی ہفتوں بعد، تریپورہ میں بلدیاتی انتخابات ہونے والے ہیں۔ بھگوا جماعتوں کو حریف جماعتوں سے بڑا چیلنج مل رہا ہے۔ اس پس منظر میں بنگلہ دیش میں اقلیتی  ہندووٴں پرہوئے حملے  کو بھگوا تنظیموں نے دانستہ طور پرہندوبنام مسلمان کا رنگ دے دیا۔

تقسیم ہند کے وقت بھی کچھ ایسے ہی حالات تھے۔ گاندھی جی اس بات سے کافی دکھی تھے کہ دہلی کے مسلم علاقوں میں حملے  بڑھ رہے ہیں۔ یہ حملہ بھگوا شدت پسند عناصر کی طرف سے کرائے جا رہے تھے، جو بدلے کے جذبے  میں مبتلا تھے۔ پاکستان میں ہندووٴں اور سکھوں کےاوپر ہوئے حملے  کا جواب دہلی کے مقیم مسلمانوں کے گھروں اورعبادت گاہوں پرہلہ بول کر لیا جا رہا تھا۔ مولانا آزاد نے اپنی کتاب “انڈیا وِنز فریڈم” میں تب کے حالات کی منظر کشی کی ہے۔ بگڑتے حالات کو دیکھ کر گاندھی جے نے سردار پٹیل کو بلایا،سردار گاندھی جی کے کافی قریبی تھے اور اس وقت ہوم ممبر تھے۔ اس طرح دہلی کی سکیورٹی کی ذمہ داری ان کی تھی۔ باپو نے سردار سے پوچھا کہ وہ دہلی میں قتل وغارت کو روکنے کےلیے کیا کر رہے ہیں۔ پٹیل نے جواب میں گاندھی جی سے کہا کہ دہلی کے حالات کے بارے میں جو کچھ بھی انہیں بتلایا جا رہا ہے وہ بڑھا چڑھا کر پیش کیا جا رہا ہے۔ مگر پٹیل نے یہ بھی کہہ ڈالا کہ مسلمانوں کو شکایت کرنے کا کوئی گرؤانڈ نہیں ہے۔پٹیل کو بھی لگتا تھا کہ پاکستان میں ہوئے حملہ کے لیے کسی نہ کسی حد تک ہندی مسلمان ذمہ دار ہیں۔ فسادیوں کے خلاف معقول کارروائی کرنے کی بجائے سردار پیٹل اس بات پر زور دیتے رہے کہ دہلی کے چند علاقوں میں اس طرح کی خبر مل رہی ہے کہ مسلمان کوئی  بڑا  حملہ کرنے کی تیاری میں ہیں۔ کچھ مسلمانوں کی گرفتاری بھی کی گئی اور ان کے پاس سے نام نہاد خطرناک ہتھیار برآمد کیا گیا۔ جب مولانا آزاد اور لارڈ ماؤنٹ بیٹن نے ان ہتھیار وں کو دیکھا تو پایا کہ یہ گھر میں استعمال ہونے والے چاقو سے زیادہ اور کچھ نہیں تھے۔ یہ ساری  واردات اس بات کی طرف اشارہ کرتی  ہے کہ سردار پٹیل مسلمانوں کے تئیں تعصب میں مبتلا ہو گئے تھے۔

گاندھی جی کو یہ احساس ہو گیا تھا کہ پٹیل مسلمانوں کو تحفظ دینے کے لیے سنجیدہ نہیں ہے۔ اپنی بزرگی اورکمزور صحت کا خیال نہ کرتے ہوئےباپو ۱۲ جنوری ۱۹۴۷ کو بھوک ہڑتال پر بیٹھ گئے۔ انہوں نے ہندووٴں اور سکھوں سے اپیل کی کہ وہ مسلمانوں پرحملہ بند کریں اور یہ عہد کریں کہ وہ مسلمانوں کے ساتھ بھائی کی طرح رہیں گے۔ گاندھی کی ان باتوں سے بھگوا تنظیموں کو کافی پریشانی ہوئی کیونکہ گاندھی ان کے ذریعے  جلائے گئے فرقہ وارانہ تشدد کی آگ میں پانی ڈال رہے تھے۔ فرقہ پرستوں نے گاندھی کو بھی نہیں چھوڑا اوران کے خلاف مسلم نواز اور ہندو مخالف ہونے کا پروپیگنڈا کیا۔ آخرکارانصاف کی بات کرنے کے لیے گاندھی جی کو اپنی جان قربان کرنی پڑی۔ کاش، تریپورہ کی سرکار جو خود کو سب سے بڑا گاندھی نواز کہتی ہے، گاندھی کے اس درس کو یاد رکھتی! کاش آج گاندھی جی تریپورہ میں ہوتے تو مسلمان اس قدر خود کو بےسہارا محسوس نہ  کرتے۔

جس طرح بھگوا طاقتوں نے گاندھی کے خلاف افواہ پھیلائی اورانہیں ہندو مخالف کہا، اسی طرح وہ آج مسلمان اور سیکولرفورسز کو نشانہ بناتی ہیں۔ مگر فرقہ پرست کبھی اپنی سرکار سے یہ سوال نہیں کرتی کہ اس نے ہندووٴں کےلیے کیا کیا ہے؟ کیا کبھی کسی مسلم اور سیکولر تنظیم نے پڑوسی ملک کی  اقلیت پر ہوئے حملوں  کو جائز قرار دیا ہے؟ مگر بھگوا عناصر کی دوہری پالیسی دیکھیے کہ جب بھارت کے اندراقلیتوں پرحملہ ہوتا ہے اور اس کےخلاف بیرون ملکوں میں آواز بلند ہوتی ہے تو یہی لوگ اپنی زبان بدل لیتے ہیں اور کہتے ہیں کہ یہ بھارت کا داخلی معاملہ ہے۔

انصاف اور جمہورت کا تقاضا ہےکہ مظلوم چاہے جہاں بھی ہو، اس کے حقوق کے لیے سب کو آواز اٹھانی چاہیے۔ قصوروار چاہے جس دھرم اور مذہب کا ہو، جس بھی ملک میں رہتا ہو، اس لیے سزا کی مانگ ہونی چاہیے۔ دنیا کے کسی بھی حصّے  میں رہ رہے ہندو جس طرح سے بھارتی مسلمانوں کے اوپر کیے جا رہے ظلم کے لیے ذمہ دار نہیں ہیں ، اسی طرح مسلم اکثریت ملکوں میں ہندووٴں کے خلاف ہو رہے حملوں کے لیے ہندی مسلمان ہرگز بھی قصوروار نہیں ہیں ۔ اس لیے جمہورت میں نفرت اور انتقام کے لیے کوئی جگہ نہیں ہے۔ کسی بھی معصوم کا خون نہ بہے یہ سرکار کی پہلی ذمہ داری ہے۔ لوگوں کو ان کا مذہب، ذات اور دھرم دیکھے بغیر ریاست کو سب کے ساتھ برابر کا سلوک کرنا چاہیے۔ اگر لوگوں کے دل میں ایسے احساس پیدا ہوں گے کہ ان کے ساتھ ان کا دھرم اور مذہب دیکھ کر نا انصافی کی جا رہی ہے، تو اس سے سماج میں بے چینی پیدا ہوگی، جو امن اور ترقی کے لیے بالکل بھی سازگار نہیں ہے۔

Advertisements
julia rana solicitors london

مضمون نگار جے این یو سے تاریخ میں پی ایچ ڈی ہیں۔

  • merkit.pk
  • julia rana solicitors
  • julia rana solicitors london

ابھے کمار
ابھے کمار جواہر لال نہرو یونیورسٹی، نئی دہلی میں شعبہ تاریخ کے ریسرچ اسکالر ہیں۔ ان کی دلچسپی ہندوستانی مسلمان اور سماجی انصاف میں ہے۔ آپ کی دیگر تحریرabhaykumar.org پر پڑھ سکتے ہیں۔ ان کو آپ اپنے خط اور اپنی رائے debatingissues@gmail.com پر بھیج سکتے ہیں.

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

Leave a Reply