سفر گریہ۔۔۔ ثاقب اکبر

یہ کیا؟ پوری دنیا سے، ملک ملک سے، بستی بستی سے کاروان نکل کھڑے ہوئے ہیں۔ بعض کے راستے پُرخطر بھی ہیں، دہشت گرد ان کی دھاک میں بھی ہیں، یہ پھر بھی نکل کھڑے ہوئے ہیں۔ غریب بھی ہیں امیر بھی، بچے بھی ہیں عورتیں بھی، جوان بھی، بوڑھے بھی۔ ارے یہ کیا؟ ان میں معذور بھی ہیں علیل بھی، گورے بھی ہیں کالے بھی، علماء بھی، عامی، سب قافلہ در قافلہ رواں دواں ہیں۔ مشکلات جھیل رہے ہیں، حوصلہ آزما مرحلوں سے گزر رہے ہیں، دشت و صحرا عبور کر رہے ہیں، طرح طرح کی مصیبتیں ہیں، پابندیاں ہیں، حکمرانوں کی عذر تراشیاں ہیں، لن ترانیاں ہیں، لیکن قافلے تھمنے کو نہیں آرہے، جہاز اتر رہے ہیں، بسیں، کاریں سب ایک منزل کو پانے کے لئے رواں ہیں۔ ایسے عاشق ہیں کہ مرد عاشقان تک پہنچنے کے لئے پاپیادہ کاروانوں میں شامل ہو رہے ہیں۔
یہ سب کون ہیں؟ ان کی منزل کیا ہے؟ ان کی مراد کون ہے؟ ان کا قصد کیا؟ ان سب کا ایک ہی نام ہے، یہ عشاق حسینی ہیں، حسین ان کی مراد ہے۔ ہاں حسین ؑ مراد عاشقان ہیں۔ سب کی زبان پر ایک ہی نام ہے ’’حسین ؑ ‘‘ ’’حسین ؑ ‘‘۔ سب کی ایک ہی پکار ہے ’’لبیک یاحسین ؑ ‘‘۔ یہ جانتے ہیں کہ حسین ؑ انہیں پکار رہے ہیں۔ کربلا برپا ہے اور ’’ھل من ناصر ینصرنا‘‘ کی صدا گونج رہی ہے۔ پورا سفر حالات گریہ سے عبارت ہے اور کربلا میں وارد ہو کر پھر یہ ہیں اور گریہ ہے۔ جیسے ابھی ابھی وہ حادثۂ خوں چکاں وقوع پذیر ہوا ہے۔ سب زخم وقت کے ساتھ مندمل ہو جاتے ہیں، لیکن یہ کیسا زخم ہے جو بھرتا نہیں، وقت کا مرہم اس کے لئے ناکارہ ہے، سب کی خواہش ہے کہ جی بھر کے نبیؐ کو اس کے دوش سوار کی لاش کی پامالی کا پرسہ دیں۔ ہر کوئی یا زہراؑ، یا زہراؑ کہہ کر حسین ؑ کی ماں کے حضور اشک غم کا نذرانہ پیش کر رہا ہے، وہی نبیؐ کی لاڈلی زہراؑ جس نے چکیاں پیس پیس کر حسین ؑ کو پالا تھا۔
کوئی اس رواں دواں بحر بے کنار کے قطروں کو نہیں گن سکتا۔ ٹھاٹھیں مارتا ہوا سمندر ہے اور اشکوں کے دریا ہیں۔ نوحہ ماتم کی صدائیں ہیں۔ لوگ کہتے ہیں، ان کی تعداد کروڑوں کو پہنچتی ہے، لیکن میں جانتا ہوں کہ جو کربلا پہنچنے کا ارمان لئے بیٹھے ہیں، وہ ان سے کہیں زیادہ ہیں۔ جو دنیا بھر میں حسینؑ حسینؑ پکار رہے ہیں، انہیں کون گنے گا۔ حسین کائنات کا مرکز ثقل بن گیا ہے۔ زمزم صدیوں سے ابل رہا ہے اور حسینؑ کا لہو صدیوں سے خراج زمزم وصول کر رہا ہے۔ جذب و کشش کا محور بن گیا ہے۔ کربلا ساری دنیا کو اپنی طرف کھینچ رہی ہے۔ کربلا نئی قوت سے ظہور کر رہی ہے۔ کربلا ایک طاقتور انقلاب کو آواز دے رہی ہے۔ شاید وہ دن آنے کو ہے جب کربلا کی جاذبیت اور قوت ثقل کے سامنے سرحدیں بے معنی ہو جائیں گی۔ اللہ کے آخری رسولؐ کی صداقت نئی طاقت سے ظاہر ہو رہی ہے:ان لقتل الحسین حرارۃ فی قلوب المومنین لن تبرد ابدا۔:“یقیناً قتل حسین سے ایمان والوں کے دلوں میں ایسی حرارت پیدا ہوگی، جو ہرگز سرد نہ پڑ سکے گی۔”

کربلا کی شیر دل خاتون اور امام سخن علی کی بیٹی نے یزید کے دربار میں اسے پکارتے ہوئے سچ فرمایا تھا:’’اے یزید تو ہماری یاد کو دلوں سے محو نہ کرسکے گا۔‘‘ ’’اے یزید تو غلط کہتا ہے کہ جو ہونا تھا ہوچکا، جو ہوا ہے وہ ہونے والے کی تمہید ہے۔” زینبؑ نے قربانی بڑے شعور سے پیش کی ہے۔ الٰہی ارادے نے کاروان حسینی کو قوت بخشی ہے۔ یزید اور یزیدیوں کی رسوائیوں کے سلسلے جاری ہیں۔ حسینؑ کے خون نے صدیوں سے امت کی داخلی تطہیر کا نظام قائم کر رکھا ہے۔ حسینؑ فوج یزید میں موجود حروں کو مسلسل لوٹ آنے کا پیغام دے رہے ہیں۔ یہ کاروان گریہ یہی پیغام لے کر نکلتے ہیں اور ان کی آواز میں آواز ملا کر لبیک کہتے ہوئے نئے قافلے ان میں شامل ہو رہے ہیں۔ کیا عقل انسانی میں یہ بات سماتی ہے کہ کروڑوں انسان گریہ کرنے کے لئے دنیا کا آرام تج کرکے نکل کھڑے ہوتے ہیں۔ درد و غم جھیلتے ہیں، تاکہ حسینؑ کے درد وغم کا احساس اپنے وجود میں زندہ رکھ سکیں۔

دنیا محو حیرت ہے، اب بھی بہت سے ہمدرد سمجھاتے ہوں گے کہ اے دیوانو! کیا کرتے ہو؟ کیا دیکھتے نہیں ہو کہ راستے پرخطر ہیں، داعش ہے، القاعدہ ہے اور بے قاعدہ حکمران ہیں، لیکن یہ دیوانے عجیب ہیں، مشکلوں سے لطف اٹھاتے ہیں، مصیبتیں زیادہ آئیں تو کیف و سرور رسوا ہو جاتا ہے۔ جس بستی میں ان میں سے کسی مسافر کی لاش واپس آئے، وہاں سے اگلے برس زیادہ تعداد میں مسافر گریہ کناں  نکل کھڑے ہوتے ہیں۔ ’’داناؤں‘‘ اور’’دانشوروں‘‘ کے مشورے اور تبصرے ان پر اسی طرح بے تاثیر ثابت ہوتے ہیں، جس طرح خود حسینؑ کو ترک سفر کا مشورہ دینے والوں کا مشورہ شکریہ کے ساتھ واپس لوٹا دیا جاتا تھا۔ حسینؑ تو وعدہ الٰہی نبھانے نکلے تھے اور حسینؑ کے دیوانے سنت نبویؐ میں اشک بہانے نکلے ہیں۔ حسینؑ جانے اور اُن کا ناناؐ جانے۔

مہمان تحریر
مہمان تحریر
وہ تحاریر جو ہمیں نا بھیجی جائیں مگر اچھی ہوں، مہمان تحریر کے طور پہ لگائی جاتی ہیں

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *