دنیا میں ساڑھے4کروڑ افراد قحط کے دہانے پر

اقوام متحدہ کے ادارے ڈبلیو ایف پی نے خبردار کیا ہے کہ دنیا بھر میں بھوک کی نئی لہر نے43ممالک میں ساڑھے 4 کروڑ افراد کو قحط کے دہانے پر پہنچا دیا ہے۔

ورلڈ فوڈ پروگرام کے مطابق تنازعات، موسمیاتی تبدیلی اور کوروناوائرس کی عالمی وبا کے باعث دنیا بھر میں غربت اور بھوک میں اضافہ ہوا ہے۔

tripako tours pakistan

ورلڈ فوڈ پروگرام کے ایگزیکٹو ڈائریکٹر کا کہنا ہے کہ تازہ ترین اعدادو شمار سے پتہ چلتاہے کہ اب4 کروڑ سے زائد لوگ فاقہ کشی کی طرف بڑھ رہے ہیں اور لاکھوں افراد غیر یقینی صورتحال سے دوچار ہیں۔

انہوں نے بتایا کہ ایندھن کی قیمت میں اضافے سے خوراک کی قیمت بھی بڑھ ری ہے۔ کھاد بھی مہنگی ہو گئی ہے اور یہ سب عوامل نئے بحرانوں کو جنم دے رہے ہیں۔

انہوں نے بتایا ہے کہ شدید غذائی قلت کا سامنا کرنے والے تباہ کن آپشنز کا انتخاب کرنے پر مجبور ہیں جیسے بچوں کی جلد شادیاں کرنا، انہیں اسکول نہ بھیجنا یا بچوں کو کیکٹس ، پتے اورٹڈیاں کھلانا وغیرہ۔

ورلڈ فوڈ پروگرام نے بتایا کہ افغانستان میں ایسے بحران شدت اختیار کر چکے ہیں جہاں لوگ بھوک مٹانے کے لیے اپنے بچوں کو بیچنے پر مجبور ہو گئے ہیں۔

ڈبلیو ایف پی کے مطابق افغانستان میں خشک سالی اور معاشی بدحالی لاکھوں افراد کو تباہی کے دہانے پر لے آئی ہے اور شام میں تقریباً ایک کروڑ چوبیس لاھ لوگ یہ نہیں جانتے کے اگلے وقت کا کھانا کہاں سے آئے گا۔

Advertisements
merkit.pk

اس کے علاوہ ایتھوپیا ، ہیٹی، صومالیہ، کینیا ، انگولا اور برونڈی میں بھی لاکھوں افراد بھوک کا شکار ہیں۔

  • merkit.pk
  • merkit.pk

خبریں
مکالمہ پر لگنے والی خبریں دیگر زرائع سے لی جاتی ہیں اور مکمل غیرجانبداری سے شائع کی جاتی ہیں۔ کسی خبر کی غلطی کی نشاندہی فورا ایڈیٹر سے کیجئے

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

Leave a Reply