قومی سیاست اور اسلامی اقدار۔۔اسلم اعوان

سنہ 2015 میں وجود پانے والی خادم حسین رضوی کی تحریک لبیک کی بنیاد اگرچہ توھین رسالت کے قوانین کے تحفظ پہ رکھی گئی اور اسے پہلی بار عالمی سطح پر شہرت بھی نومبر دوہزار اٹھارہ میں آسیہ مسیحی کی سپریم کورٹ سے بریت کے خلاف پرتشدد ردعمل دینے سے ملی لیکن اب وہ وسیع تناظر میں ایک جامع تصور حیات کے ساتھ سماجی و سیاسی فلاح کا پروگرام لیکر انتخابی سیاست کے میدان عمل میں برسرپیکار دیکھائی دیتی ہے اور یہی ہماری قومی تاریخ کا وہ ابدی دائرہ ہے جس میں مسلمانوں کی اجتماعی سوچ ہمیشہ رخش خرام رہی۔خوارج کی پُرتشدد تحریک سے لیکر عباسیوں کی مسلح سیاسی جدوجہد کے علاوہ فاطمیوں اور ابن تیمیہ کی مزاحمتی تحریکوں نے مسلمانوں کے سیاسی تصورات پہ گہرے اثرات مرتب کئے،خاص طور پہ عباسیوں کے پان اسلام ازم کے نظریہ نے مسلم حکمرانوں کے شوق جہاں بانی کو مہمیز دیکر جب انہیں مملکت کے داخلی نظم و ضبط اور سماجی ڈھانچہ کی تدوین جیسے ضروری کام سے بے نیاز کیا تو دنیائے اسلام میں وقفہ وقفہ سے ایسی پرتشدد تحریکیں برپا ہونے لگیں جنہوں نے سیاسی نظام کے فطری ارتقاءکو درست بنیادوں پہ استوار ہونے کی مہلت نہ دی۔

بہرحال،اس طویل اضطراری کیفیت سے گزرنے کے باوجود بھی اسلامی نظام کا تصور ایسے سیاسی فلسفہ میں ڈھلتا گیا جو اس بات پر زور دیتا ہے کہ جدید ریاستوں اور خطوں کو آئینی،اقتصادی اورقانونی لحاظ سے ازسر نو متشکل کرکے اجتماعی حیات کو پیغمبر اسلام کی پیش کردہ نظریاتی اساس کی طرف واپس موڑ دیا جائے۔علامہ اقبالؒ کی پیش کردہ فعالیت کا لب و لباب بھی ریاستی طاقت کے ذریعے معاشرے کو اسلامائز کرنے کی انقلابی حکمت عملی پہ محمول نظر آتا ہے لیکن صوفیا کرام اور تبلیغی جماعت جیسی چند دیگرتنظیمیں نچلی سطح پر مذہبی و سماجی سرگرمیوں کے ذریعے معاشرے کو دوبارہ اسلامی بنانے کے لئے پُرامن اصلاحات کی حامی ہیں۔مولانا مودودیؒ کی جماعت اسلامی جیسی سیاسی جماعتیں شریعت کے نفاذ کے علاوہ پان اسلامی سیاسی اتحاد کی علمبردار رہیں،ان کے پیش نظر بلاد اسلامیہ میں مسلم ریاستوں کے قیام کے ذریعے اقتصادی، عسکری، سیاسی، سماجی یا ثقافتی دائروں سے غیرمسلموں کے اثرات کا خاتمہ   اوّل ترجیح  تھا،مغربی تجزیہ کار اسے تہذیبوں کی جنگ اورشناخت کی سیاست کی ایک قسم قرار دیتے ہیں،جس میں ہمیں،مسلم شناخت پہ اصرار،امانت و دیانت،سخاوت و شجاعت جیسی اقدار،وسیع تر علاقائیت،احیاء پسندی اور خاندانی نظام پہ استوار معاشرہ کے دوام کی مساعی ملتی ہے،تاہم بعض مسلم سکالر خاص طور پہ پروفیسر احمد رفیق اختر جیسے صوفی دانشور سیاسی فعالیت کے ذریعے اصطلاحات کی حمایت نہیں کرتے بلکہ طاقت کے حصول و استعمال کے رجحان کو فطرت کے فلسفہ اصلاح کے منافی تصور کرتے ہیں۔لیکن عہد جدید کے اکثر مصنفین نے اسلامی فعالیت کو ترجیح دی،جن میں تیونس کے راشد الغنوشی کے علاوہ بیسویں صدی کے سید راشد رضا،حسن البنا،سید قطب،ابوالاعلیٰ مودودی،حسن الترابی اور روح اللہ خمینی نمایاں نظر آتے ہیں۔

tripako tours pakistan

افسوس کہ اخوان المسلمون ایسی اسلامی تحریکیں،بحرین، روس، شام، مصر، سعودی عرب اور متحدہ عرب امارات میں کالعدم قرار دی گئیں،جوانقلابی طور طریقوں کی بجائے جمہوری عمل کے ذریعے جائز مقاصد حاصل کرنے کی کوشش میں یقین رکھتی تھیں،اس رجحان کی اگر حوصلہ شکنی نہ کی جاتی تو جمہوری روایات مسلمان معاشروں کے بنیادی تصورات میں رچ بس سکتی تھیں لیکن مغرب کی روشن خیال اشرافیہ،مسلمانوں کو جمہوری اور دستوری طریقوں سے بھی اپنے پسندیدہ طرز معاشرت کو اپنانے کی کھلے دل سے اجازت نہ دے سکی۔سرد جنگ کے جس زمانہ میں امریکی و یورپی مقتدرہ نے اپنے سیاسی مفادات سے مطابقت کے باعث اسلامی تحریکوں کی افزائش میں بالواسطہ مدد فراہم کی تو انہی تحریکوں نے مشرق وسطیٰ میں ہمہ جہت تبدیلیوں کی راہ ہموار بنائی،انہوں نے سیاست،معاشرت،اقتصادیات اور حتیٰ کہ سرحدات کی نئی تعریف تخلیق کی،بلاشبہ بہار عرب کے بعد کچھ اسلام پسندوں نے جمہوریت سے توقعات وابستہ کرنے کی کوشش بھی کی لیکن مصر میں پہلے منتخب صدر محمد مرسی کی حکومت کا فوجی بغاوت کے ذریعے تختہ الٹنے کی حمایت کرکے عالمی طاقتوں نے داعیش جیسی جارحانہ اور پُرجوش مذہبی ملیشیاؤں کو ایندھن فراہم کیا۔اس میں بھی کوئی شبہ نہیں کہ اسلامی نظام ریاست ایک ایسا تصور ہے جس کے مفہوم پر عوامی اور علمی دونوں حلقوں میں بحث جاری رہی،یہ ہمہ گیر اصطلاح سماجی اور سیاسی سرگرمی کی متنوّع شکلوں کا حوالہ بنتی ہے جو اس بات کی وکالت کرتی ہیں کہ نجی و سیاسی زندگی کی رہنمائی اسلامی اصولوں سے ہونی چاہیے تاہم اسلامی نظام حیات کی اصطلاح بارے ہمیں کوئی ایسی متفقہ وضاحت نہیں ملتی،جس میں اسلامی شریعت کے کس مکتب فکرکو کیسے عملی جامہ پہنایا جائے ۔

بانیان پاکستان نے ہماری مذہبی اقدار اور ملکی پالیسیوں کے درمیان تعلق کواُنہی بنیادوں پہ جوڑا،جو مملکت کے لئے سیاسی جواز اور قوم کے بنیادی نظریہ کو تشکیل دیتی ہیں بلکہ حقیقت یہ ہے کہ اسلام ہماری سماجی تشکیل میں بھی اہم کردار ادا کرتا ہے،قرارداد مقاصد میں اسی نظریہ کو ملک کے آئینی طریقہ کار اور حکومتی نظام کے لئے رہنما اصول کے طور پرتسلیم کیا گیا۔یہ بجا کہ منتخب سیاسی رہنماوں کے علاوہ فوجی آمریتوں نے بھی مذہبی عقائد کو سرکاری توثیق اور طاقت کے حصول کے لئے استعمال کیا،اسی کارن ہماری سیاست میں مذہب کی متضاد توضیحات نے جنم لیا جس کے نتیجہ میں ملک کے اندر فرقہ وارانہ تنازعات میں شدت آئی،مذہبی اقلیتوں پر دست درازی اور انتظامی اتھارٹی کی بے اختیاری بڑھتی گئی لیکن دنیا بھر میں جمہوریت کے ذریعے سماجی انصاف کی فراہمی میں ناکامی اور مغربی سیاست کے دہرے معیارات نے ہمارے معاشرہ میں مذہبی تشریحات کے تنازعہ کو کم کیا،دوسرا بنیادی عقائد میں گہری مماثلت کے علاوہ یہاں کے مذہبی فرقوں کے پیغمبر اسلامﷺ کی حرمت کے دفاع پہ متفق ہو جانے کے رجحان نے بھی ہمارے مذہبی تضادات کو ہموار بنانے میں مدد دی،ہمیں امید ہے کہ وحدت کی یہی اساس یہاں مذہبی تضادات کو ہموار بنانے میں مدد دی،ہمیں امید ہے کہ وحدت کی یہی اساس یہاں مذہبی انتہا پسندی کے خاتمہ کے لئے اسلامی جماعتوں کو قومی اور مقامی سیاسی جماعتوں کے ساتھ وفاقی یا صوبائی سطح پر تعاون کے امکان تک پہنچا دے گی۔

مصر کے سیکولر مصنف حسنین ہیکل نے سنہ1960 کی دہائی میں لکھی گئی مشہور کتاب،حیات محمدﷺ ،میں لکھا تھا کہ دنیا میں خدا کے وجود یا عدم وجود پہ کوئی تنازعہ باقی نہیں رہا،اب دنیا فقط محمدﷺ عربی کی حمایت و مخالفت پہ منقسم رہے گی، امر واقعہ بھی یہی ہے کہ اس وقت مغربی طاقتیں لوح انسانیت پہ پیغمبر اسلام کے لازوال اثرات کو مٹانے کی فکر میں سرگرداں ہیں۔حیرت انگیز طور پر جس طرح مسلمان فرانس میں پیغمبر اسلام کے توہین آمیزخاکوں کی اشاعت کے خلاف مزاحمت پہ کمر بستہ ہیں،اسی طرح فرانسیسی ردّعمل بھی عیسائیوں کے لئے”توہین رسالت“کے حق کی توثیق کرتا ہے،مغرب کے اہل دانش فرانسیسیوں کی اس جسارت کو آزدای اظہار کے خوبصورت لبادے سے مزّین کرکے پوری انسانیت کو دھوکہ دینا چاہتے ہیں۔مذہبی تعصب اور نفرت پہ مبنی اسی طرز عمل کی بدولت کچھ عرصہ قبل پیرس کے قریب سکول ٹیچر سیموئیل پیٹی کا اپنی کلاس میں پیغمبر اسلام کے خاکے دکھانے کی پاداش میں سر قلم کر دیا گیا۔

Advertisements
merkit.pk

تاہم بلاد عرب کی سیاسی تاریخ سے قطع نظر برصغیر پاک و ہند میں کئی مقبول تحریکوں کا محرک بننے کے باوجود مذہبی جماعتیں کبھی پاپولر سیاسی حمایت حاصل نہیں کر سکیں،اپنی تمام تر فعالیت اور معاشرتی عوامل پہ گہرے اثرات رکھنے کے الرغم مذہبی تحریکیں عوامی حمایت سے اقتدار کے سنگھاسن تک پہنچ نہیں پائیں۔چنانچہ ٹی ایل پی ہمارے سیاسی تمدن پہ کوئی خاص اثر نہیں ڈالے گی،تجزیہ کاروں کا خیال ہے کہ گزشتہ الیکشن میں سندھ اسمبلی کی دو نشستوں پہ کامیابی اور ملک بھرمیں 2.2 ملین ووٹ لیکر پنجاب میں تیسرے نمبر پہ آنے والی لبیک پارٹی مسلم لیگ نواز کے ووٹ بنک کو نقصان پہنچا سکتی ہے لیکن ہمارے خیال میں نواز لیگ کی سیاسی پراگریس کا تاحال کوئی مداوا نہیں ہو سکتا۔سیاسی منظرنامہ میں آج اور ماضی قریب میں بھی ایسے اشارے ملتے رہے ہیں کہ متوقع عام انتخابات میں حکمراں تحریک انصاف پنجاب میں،ق لیگ،پیپلزپارٹی اورٹی ایل پی کے ساتھ سیٹ ایڈجسمنٹ کرکے نوازلیگ کا مقابلہ کرنے کی کوشش کرے گی،اسی تناظر میں سابق صدر آصف علی زرداری بھی طاہرالقادری سے رابطہ کرکے پنجاب میں اسکی سیاسی حمایت پانے کی کوشش کر رہے ہیں لیکن وقت کے سیاسی حقائق ایسی کسی مساعی کے بارآور ہونے کی تصدیق نہیں کرتے،اس وقت نوازشریف کا سویلین بالادستی کا مزاحمتی بیانیہ مقبولیت کی انتہاوں کو چھو رہا ہے،اس لئے ٹی ایل پی جیسی ابھرتی ہوئی جماعت کو ملامت زدہ پی ٹی آئی سے وابستہ ہو کے اپنی ساکھ کو مجروح کرنے کی بجائے پنجاب میں نوازلیگ اور سندھ میں جے یو آئی کے ساتھ سیٹ ایڈجسمنٹ سے کچھ سیاسی فائدہ مل سکتا ہے۔

  • merkit.pk
  • merkit.pk

Aslam Awan
اس وقت یبوروچیف دنیا نیوز ہوں قبل ازیں پندرہ سال تک مشرق کا بیوروچیف اور آرٹیکل رائٹر رہاں ہوں،سترہ سال سے تکبیر میں مستقل رپوٹ لکھتا ہوں اور07 اکتوبر 2001 سے بالعموم اور 16مارچ 2003 سے بالخصوص جنگ دہشتگردی کو براہ راست کور کر رہاں ہوں،تہذیب و ثقافت اور تاریخ و فلسفہ دلچسپی کے موضوعات ہیں،

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

Leave a Reply