مرزاغالب کی وفات۔۔منصور ندیم

مرزا اسد اللہ بیگ خان، تخلص غالب ، اعزازات نجم الدولہ، دبیر الملک، بہادر نظام جنگ، بلاشبہ اردو زبان کے سب سے بڑے شعراء میں سے ایک سمجھے جاتے ہیں، اردو زبان کے شعراء میں جہاں میر تقی میر کو اگر اٹھارویں صدی، بیسوی صدی میں علامہ محمد اقبال تو انیسویں صدی کا سب سے بڑا شاعر اسد اللہ خان غالب کو ہی تسلیم کیا جاتا ہے۔ مرزا اسد اللہ خان غالب زندگی کے حقائق اور انسانی نفسیات کو گہرائی میں جا کر جس طرح سمجھتے تھے اور پھر جس سادگی سے عام لوگوں کو اپنے اشعار سے بیان کرتے تھے ۔ سنہء ۱۷۹۷دہلی میں پیدا ہونے والے انیسوی صدی کے سب سے بڑے شاعر کے    سفر ِ  زندگی کا قیام اس دنیا میں ۱۵ فروری سنہء ۱۸۶۹ تک رہا۔

مرزا غالب کے اس دار فانی سے کوچ کرنے کے تیسرے دن ۱۷ فروری سنہء ۱۸۶۹ کو دہلی کے ایک مشہور مجلے “اکمل الاخبار” نے 17فروری غالب کی وفات کی خبر کچھ اس مرصع انداز سے شائع کی تھی جو اس عہد کے قارئین، اردوداں طبقے اور صحافیوں کیلئے خاصی دلچسپی کا باعث تھی ۔

Advertisements
julia rana solicitors
julia rana solicitors

“فغاں اس زمانہ غدارے ، آہ روزگار ناہنجارے، ہرروز نیا رنگ دکھاتا ہے، ہردم دام ِغم و الم میں پھنساتا ہے، اس محیط آفت کی موج بلا خیز ہے۔ اس کی رافت سرمایۂ صداقت ، اسکی شکر زہر آلود ، اس کی امید آرزوئے فرسودہ، ہر روز محل حیات کو صرصر ممات سے گزارتا ہے۔ ہر دم محفل سرورسے صدائے ماتم اٹھاتا ہے۔ پھول اِدھر کھلا اُدھر گر پڑا ۔ لالہ لباس رنگین میں یہی داغ دل پر رکھتا ہے۔ غنچہ خون جگر سے پرورش پاتا ہے۔ بلبل نوحہ گرچمن ہے اور مرغ سحر خواں اسیر محن ، کیا عجب گو آسماں درپے آزار ہے۔ بھلا اس سے کیا توقع آسودگی جس کا خود گردش پر مدار ہے۔ دیکھو بیٹھے بٹھائے کیا آفت اٹھائی ہے۔ کس منتخب روزگار کی جدائی دکھائی ہے۔ نخل بردمند سے معانی باد خزاں سے گرایاجو خسرو کے بعد ملک سخن کا خسرومالک رقاب تھا۔ اس کا نام عمر طے ہوا جو میدان سخندان سخنوری کا شہسوار مالک رقاب تھا، اس کا رخش زندگی پہ ہوا ۔ ان حضرت کی کن کن خوبیوں کا ذکر کیا جائے۔ دریاکوزے میں کیونکر سمائے، حسن خلق میں اخلاق کی کتاب ، عمیم الاشفاقی میں لاجواب ، خوبی تحریر میں بینظیر، صافی ضمیر ، جادو تقریر، فارسی زبان میں لاثانی، اردوئے معلیٰ کے بانی، افسوس جس کا شہباز خیال طائر صدرہ شکار ہو، وہ پنجۂ گرگ اجل میں گرفتار ہو۔ اس غم سے سب کی حالت تباہ ہے، روز یہی اس مصیبت میں سیاہ ہے۔ اب توضیح اجمال و تفصیل مقال ہے۔ واضح ہو کہ جناب مرحوم ۲٫۳ ماہ سے صاحب فراش رہے، ضعف ونقاہت کے صدمے سہے، ۸ دن انتقال سے پہلے کھانا پینا ترک فرمایا، اس دنیائے فانی سے بالکل دل اٹھایا، تاآنکہ ۱۵ فروری سنہء ۱۸۶۹ روز دوشنبہ کو دوپہر ڈھلے اس خورشید اوج فضل و کمال کو زوال ہوا۔”

  • julia rana solicitors london
  • merkit.pk
  • julia rana solicitors

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

Leave a Reply